تصویر

0
165
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

آؤ، آؤ یہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھا دیا اور خود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہو گیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں والا وہ پینسٹھ سالہ مصور دوبارہ نشست گاہ کی طرف لوٹا تو وہ آس پاس کی دیواروں کا جائزہ لے چکی تھی وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا تو تیسری دیوار کی طرف گھورنے کا آپشن بھی ختم ہو گیا۔ اس کی نظر دوبارہ دائیں طرف والی دیوار کی طرف اٹھ گئی شاہکار تصویر تھی برتھ آف اپالو؟ اس نے مصور کی طرف سوالیہ دیکھا ہاں مصور کی نظروں نے اس کی نظروں کی متابعت کی مگر کچھ تشنگی ہے سر معاف کیجئےگا۔۔۔ وہ بدمزہ ہوئی کیا تشنگی ہے؟ مصور کی آواز کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی مستی درآئی ’’اپالو‘‘۔۔۔ یونان کا مردوجہیہ، مردانہ وجاہت کا نشان، تصویر کے اندر کامل عریانی کے ساتھ نیم دراز دکھایا گیا تھا کہنی کے بل نیم دراز اپالو کتابی چہرہ، گھونگھریالے بال، سنہری کھال، بھوری آنکھیں، گھٹا ہوا مضبوط بدن، بازوؤں اور رانوں کی مچھلیاں نمایاں، گٹار کے تار کی طرح تنا ہوا پیٹ، کلائیاں اور پنڈلیاں مضبوطی کی گواہی دیتی ہوئی چیتے کے جیسی پتلی کمر، ریڑھ کی ہڈی کی طرف کھنچی ہوئی ناف سب مکمل ہے مگر۔۔۔ ہاں مگر کیا؟؟؟ مصور کی بھاری مخمور آواز ابھری۔۔۔

مگر یہ کہ سر!!!! وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور تصویر کے سامنے جاکر شہادت کی انگلی ’’اپالو‘‘ کے وسط میں رکھ دی یہ کچھ نامکمل میرا مطلب ہے نابالغوں جیسا۔۔۔ آئی مین سر۔ اپالو کے مکمل بالغ وجود کے ساتھ یہ عدم مطابقت ہے وہ چکرا گئی۔۔۔ مصور بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا یہ اس کی معصومیت کے اظہار کیلئے کرنا پڑا۔

عجیب بات ہے معصومیت کے اظہار کیلئے کس علامت کا سہارا لیا آپ نے سر!وہ دوسری طرف مڑگئی مقابل کی دیوار پر اس کی آنکھیں چپک گئیں برتھ آف وینس؟

ہاں!!

پانی میں نہاکر ساحل پر پاؤں دھرتی ہوئی وینس جس کے بدن کی چادر ناف تک ڈھلک آئی تھی اور اوپر کا سارا بدن عریاں تھا اعضاء کے تناسب کا شاہکار۔۔۔ کہ آج تک دنیا میں مقابلہ حسن کے لیے اسی کے بدن کے خطوط کو معیار مانا گیا ہے وہ وینس کی ناف کے اندر کہیں کھوسی گئی۔

- Advertisement -

تمہاری فن پارے کو جانچنے کی صلاحیت کافی اعلیٰ ہے۔

شکریہ سر!

ایک بات کہوں سر میرے دماغ میں ایک عجیب سی تجویز آئی ہے۔

بولو کیا تجویز ہے۔

وینس کے بدن سے زیادہ متناسب اور پرکشش بدن رکھنے والی عورتیں بھی ہیں دنیا میں پھر دنیا کی حسین ترین عورت کا ٹائٹل اسی کو کیوں مل جاتا ہے جو اس کے اعضاء سے مطابقت رکھتی ہو بت پرستی نہ گئی ہمارے اندر سے۔ ہم پتھروں کو معیار بنا لیتے ہیں۔

پتھر کا کیا ہے اس میں؟ ہاں! وہ تو پتھر ہے یہ تو فنکار کو خراج جاتا ہے یہ مونا لیزا، وینس، اپالو، یہ سب کچھ تو مائیکل اینجلو، لیونارڈوانچی، پکاسو، کو کریڈٹ جاتا ہے ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مصور نے طویل وضاحت پیش کی تو اس نے اپنی آنکھیں واپس پھیرلیں معصومیت کا اظہار اور خوبصورتی کا اظہار آمنے سامنے لگی ان دونوں تصویروں کا عنوان یہ ہونا چاہیے ’’حسن اور معصومیت ان کے اظہار میں ہے‘‘

اس نے طنز کیا ادھیڑ عمر مصور اس طنز کو برداشت کر گیا ہاں ان کے اظہار میں حسن اور معصومیت ہے اس میں کیا شک ہے مگران کے استعمال سے معصومیت اور حسن کی لازوال قدریں شکست بھی ہو جاتی ہیں مگرناجائز استعمال سے ان کو آمنے سامنے کیوں لگا دیا آپ نے اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے الگ کر دیا مگر آمنے سامنے کر دیا اذیت رسانی کی انتہا ہے۔

تم سوال بہت پوچھتی ہو کیوں؟

سوال اس لیے پوچھتی ہوں تاکہ خود کوئی گمان کرنے سے بچوں۔ جب سوچنے والے کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملتا تو پھر وہ خود ہی کوئی نہ کوئی جواب ڈھونڈ نکالتا ہے اور بعض اوقات یہ خودساختہ جواب غلط بھی ہوتا ہے اور غلط جواب اگر پختہ ہو جائے تو تقدیر پر بھی اثرانداز ہو جاتا ہے ہم بہت سی باتیں جواب نہ ملنے پر خود ساختہ طور پر طے کر لیتے ہیں اورپھر سزا پاتے ہیں وہ واپس صوفے پر آکربیٹھ گئی۔

میری پینٹنگ بنائیں وہ پراعتماد ہوتے ہوئے بولی۔

تمہاری آنکھوں کو میں پینٹ نہیں کر سکوں گا۔ بھاری آواز گونجی۔

کیوں؟ تم کسی پر اعتبار نہیں کرتیں۔

کرتی ہوں۔

کس پر؟

اپنے آپ پر۔۔۔

یہ کافی نہیں ہے کسی اور پر بھی کرنا پڑےگا خود سے ہٹ کر۔

خود سے ہٹ کر تو قابل اعتبار کوئی بھی نہیں ہے مگر اس اعتبار، نااعتباری کا پینٹنگ سے کیا تعلق ہے؟

بہت گہرا تعلق ہے آنکھ کے تاثر کے بغیر تصویر لایعنی ہے بے معنی اور بےاثر ہے تصویر کا سارا تاثر ہی آنکھ کے اندر تشکیل پاتا ہے وہاں سے وہ پورے چہرے اور پھر پورے سراپا کی طرف پھیلتا ہے اور تصویر جاندار اور زندہ لگنے لگتی ہے دنیا کا کوئی بھی رنگ ساز، رنگ باز، آنکھ کے ہر تاثر کو رنگوں کا چولا پہنا سکتا ہے مگر بےاعتباری کو نہیں بےاعتباری پینٹنگ نہیں ہو سکتی یہ رنگوں کے قابو میں نہیں آتی لہذا تمہاری تصویر بنانا بےکار ہے مصور نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

میں اعتبار کیسے قائم کروں اپنے اندر؟ وہ روہانسی ہو گئی۔ قدم قدم پر عشاق کے قافلے رواں دواں ہیں جتنے دماغ اتنے الفاظ، جتنے منہ اتنی باتیں ایک دوجے سے بڑھ کر عشق و محبت کے دعوے کرنے والے موجود ہیں اب تولفظوں سے بھی اعتبار اٹھ گیا لفظ بھی بےوقعت اور فضول ہو گئے ہیں کوئی انوکھے سے انوکھا لفظ بھی سرخوشی نہیں دیتا گریہ کناں آنکھ کو تو مصور کیا جا سکتا ہے ناں؟

مصور اس کو دیکھتا رہا اوردھویں کے مرغولے اڑاتا رہا کوئی تو ہوگا جو اعتبار بن کر تمہارے دل کی دھرتی میں گڑا ہوا ہے بوڑھے مصور نے آگے بڑھ کرا س کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گرا دیں ہاں ہے اس کی آنکھوں سے پانی ابل پڑا۔

پھر؟

مگر وہ خود سے ہٹ کر نہیں ہے اس کو میں کبھی اپنے وجود، روح ضمیر، وجدان، لاشعور سے الگ نہیں کرسکی مجھ میں بڑی انا تھی مجھے جب لگا کہ میں کہیں گم ہو رہی ہوں اور میری جگہ کوئی اور گھیرتا جا رہا ہے تومیں نے بڑی کوشش کی۔ بڑے ہاتھ پاؤں مارے مگر اسی کوشش میں وہ میرے اندر سماتا چلا گیا اور یہاں شرط یہ ہے کہ خود سے الگ ہوکر کسی پر اعتبار کروں۔ بوڑھا مصور خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی میں چلتی ہوں اس نے ہینڈبیگ کے سٹریپ کو پکڑا ذرا سا رکی اور پھر دروازے سے باہر نکل گئی۔

شام کافی سرد تھی پہاڑوں کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں شائیں شائیں کرتی گزررہی تھیں مگرہال کے اندر ہلکی پھلکی بدن کی ٹکور کرنے والی حرارت تھی۔ ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ مصوری کے موضوع پر کانفرنس تھی تووہ بھی چلا آیا سٹیج کی پشت پر لگی سکرین پر سائیڈ شو میں تصویریں چل رہی تھیں وہ مقرر کی تقریر سے زیادہ ان تصویروں کے سحر میں کھویا ہوا تھا کہ اسے اپنے بائیں طرف سے ہلکی سی خوشبوآئی مفلر کے اندر اچھی طرح لپٹی ہوئی گردن کو اس نے ہلکا سا موڑا تو آنکھیں سیدھی اس کے ماتھے کے ساتھ جا ٹکرائیں اور وہاں سے پھسلیں تو آنکھوں پر اٹک گئیں وہ بھی اس کی طرف دیکھ چکی تھی۔

ہائے کیا حال ہے۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔

ٹھیک ہوں اچھی لگ رہی ہو وہ ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔

کب آئی ہو؟

آج ہی آئی ہوں۔

بتا دیتی!!!!

کیا فرق پڑتا ہے مل تو گئے ہم

ہمسائے جو ہیں ہمسایہ ٹھنڈ میں گرم چادر کی بکل جیسا ہوتا ہے جب دیار غیر میں ملے وہ مسکرائی عجیب سی سرخوشی کے ساتھ اس نے اس کے ہونٹوں کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تمہاری اس لپ اسٹک کا رنگ کون سا ہے؟

جامنی ہے وہ پھر مسکرائی۔

ایک دلنواز سی حدت پھیل کر اس کو گھیرے میں لے رہی تھی وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ساتھ ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے سانسوں کو محسوس کرنا بھی ایک راحت ہے مقرر کیا کہہ رہا تھا اس نے نہیں سنا اس کی ساری حسیات ساتھ والے سانسوں پر مرتکز تھیں جو اس کے سانسوں کے ساتھ مل کر ایک ہالہ بنا رہے تھے درد جو ہروقت بدن کو کاٹتا رہتا تھا تب کہیں سو گیا تھا اس نے مفلر پر ہاتھ رکھا بعض جسموں کی محض موجودگی ہی روح کو سرشار کر دیتی ہے وہ اس وقت سامنے کی طرف متوجہ ہو چکی تھی مگر بیٹھی اس کے ساتھ تھی اس کو اس خیال سے ہی تسکین ہوئی کہ وہ اس کے ساتھ بیٹھی سانس لے رہی ہے۔

سانس لینا بھی کیسی عادت!! بےاختیار اس نے گلزار کی یہ لائن پڑھی۔ جیے جاتے ہیں جیے جاتے ہیں۔

عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔

جیے جانا بھی کیسی عادت ہے وہ مسکرائی۔

تم ہر وقت جس درد کو کاٹتے ہو ناں وہ میری روح کو بھی چھیدتا رہتا ہے وہ سرگوشی میں بولی وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔

جامنی رنگ جب پھیلتا ہے تو شفق کی تصویر بن جاتا ہے جس کے نیچے سمندر بہہ رہا ہو ہاں سمندر۔ ابد اور ازل کے کنارے کہاں ملتے ہیں ازل اور ابد کے احساس کے اندر سکون ہے جامنی رنگ کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے لہر کے اوپر لہر آتی ہے وہ زندہ ہے توانا، جیتا جاگتا شور مچاتا ہوا کف اڑاتا ہوا رواں دواں اس کے اندر حیات ہے وہ دیکھو اس نے انگلی سے سکرین کی طرف اشارہ کیا وہ حیرت سے اس کو تک رہی تھی۔

کیا کہہ رہے تھے تم؟ سکرین پر تو لیونارڈو کی’’دی لاسٹ سپر‘‘ دکھائی جارہی ہے چلو اٹھو کہیں چلتے ہیں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ہال کی سیڑھیاں چڑھ کر وہ باہر آ گئے باہر رات سیاہ اور گھنی تھی وہ ساتھ ساتھ چلنے لگے رات ان کے آس پاس سے ہوکر گذرنے لگی تھی۔

کیسا ہے تمہارا وہ؟

ٹھیک ہی ہوگا میری بہت دنوں سے بات نہیں ہوئی۔

کیوں اتنے عرصے تک لاتعلق کیوں ہو جاتی ہو تم؟

شاید ہم دونوں ایک جیسے ہیں اس لیے۔

مقناطیس کے دو ایک جیسے پول ایک دوسرے کو دور دھکیلتے ہیں اور دو مخالف پول کھینچ کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اس نے قدیم فلسفے کا سرا پکڑا۔

وہ مقناطیس ہے انسان نہیں وہ چڑگئی پتا نہیں کیوں تم لوگوں نے مادی اشیاء کے خواص اور ذمہ داریوں کو انسانی رویوں اور تعلقات کے ساتھ جوڑ لیا ہے لوہے اور پتھروں کی مثالیں لے کر آ جاتے ہو ریاضی کیا کہتی ہے دونفی بھی آپس میں مل جائیں تو اثبات ہے دواثبات آپس میں مل جائیں تو بھی اثبات ہے اور اگرنفی اور اثبات مل جائیں تو بھی نتیجہ وہی ہے اثبات’’جب ہر چیز کا جواب اثبات ہے تو پھر دو مخالف پول والا بکواس کیا ہے اور کیوں ہے اور اس کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے ہونہہ۔۔۔‘‘

تاریکی ان کے آس پاس سے سرک رہی تھی دونوں بہت قریب قریب چل رہے تھے وہ اس کے ساتھ چلتا رہا اس کے بدن کو چھونے کی خواہش اس کے لہو کے خلیوں کے اندر جڑ پکڑ رہی تھی وہ لاتعلقی سے چل رہی تھی عجیب عورت ہے یہ پھیکی، بے رنگ، گہری۔ الگ الگ، آزاد بےربط لفظ اور خیالات اس کے دماغ سے نکل نکل کر ٹھنڈے برفائے ہوئے اندھیرے میں گم ہوتے گئے اس کا مرکز سلامت تھا وہ اپنے مرکز کو بچائے ہوئے تھی سلامت رکھے ہوئے تھی پھیکی، بےرنگ، گہری اور الگ تھلگ وہ جانتا تھا کہ اس کی اس کو چھونے کی خواہش تشنہ تکمیل ہی رہےگی۔

بوڑھا مصور رنگوں کے سٹروک لگا رہا تھا سٹروک پر سٹروک لگائے جارہا تھا رنگ بکھر رہے تھے پھیل رہے تھے وہ سنگی مجسمے کی طرح پتھرائی ہوئی بیٹھی تھی بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں تھا وہ وحشیانہ انداز میں کینوس پر سٹروک لگا رہا تھا رات کے منتشر اور آوارہ ٹکڑے ادھر ادھر کونوں کھدروں، سوراخوں اور نیچی چھت کے گھروں کے اندر پناہ لیے ہوئے تھے دن دھندلایا ہوا تھا سارے رنگ، سبھی رنگ اپنی اپنی شناخت سے و راہی ورا تصویر کے قالب میں ڈھلتے جا رہے تھے۔

اس کی آنکھوں میں اعتبار تو نہیں تھا وہ مرکز کو سنبھالے بیٹھی تھی مصور ہانپتا ہوا تھک ہار کر بیٹھ گیا اور ایک کنج لب کو ذرا سا کھینچ کر اور ایک آنکھ قدرے میچ کر اس نے طنزیہ اس کی طرف دیکھا مصور نے رنگوں کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا آنکھ سے اوجھل پس منظر اور پیش منظر میں اتنے رنگ بھر دیئے تھے کہ ناظر کی آنکھ اس کے مرکز کی طرف جاہی نہ سکتی تھی وہ راستے کے رنگوں کے بہکاوے کی شکار ہو جاتی تھی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر سامنے آئی کینوس پر رنگوں کا سیلاب امڈآیا تھا اس نے ہاتھ آگے بڑھایا نیلے، پیلے، سرخ، سبز، جامنی، کاسنی، سرمئی رنگوں کے دریا اس کے ہاتھوں کے ناخنوں سے پھوٹ بہے بصارت کو رنگوں نے لپیٹ لیا۔

تصویر مکمل تھی۔

مصنف:منزہ احتشام گوندل

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here