بھوک

0
62
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

اتوار کا دن تھا۔ سہ ستارہ انٹر نیشنل ہوٹل میں ایک تقریب میں شرکت کر کے دوستوں سے گپ شپ کرنے کے بعد تقریباً ڈھائی تین بجے گھر پہنچا۔ ہمارے یہاں آدھا دن گذرنے کے بعد اردو اخبارات کا منہ دکھائی دیتا ہے۔ آج کا تازہ اخبار باسی خبریں لئے میز پر منتظر تھا۔ میں نے ایک نظر ڈالنے کی جسارت کی۔ اس میں صرف تنازعات، دہشت گردی کی خبروں کے علاوہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کے گھپلوں اور گھٹالوں کے کارناموں کے علاوہ فلمی صفحہ بھی تھا۔ جن سے ہماری دلچسپی کبھی نہیں رہی۔ ان خبروں کو پڑھ کر نہیں بلکہ صرف سرخیاں دیکھ کر طبیعت اکتانے اور متلانے لگی۔ عموماً دوپہر کے کھانے کے بعد بہت سے لوگ قیلولہ کے نام پر دوپہر کے وقت چکنا چپٹا کھا کر سو جاتے ہیں جس کی بدولت ان کی توندیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ پتہ لگانا دشوار ہو جاتا ہے کہ ان کا سینہ کہاں پر ختم ہوتا ہے اور پیٹ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اسی لئے میں اس کا عادی نہیں ہوا اور ہوتا بھی کیسے کیونکہ مجھے اپنے گھر میں صرف اتوار کے دن کا سورج دیکھنا نصیب ہوتا ہے اور ہفتہ کے چھ دن ڈیوٹی پر گذر جاتے ہیں۔ دوپہر کے وقت اگر چھٹی یا مہلت ملتی تو ممکن تھا کہ میں بھی قیلولہ کے نام پر خراٹے بھرتا اور توند بڑھا لیتا۔ بادلِ نخواستہ یوں ہی تھوڑی دیر اخبار کی سرخیوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اس کے بعد ایک کتاب اٹھاکر پڑھنا شروع کر دیا۔ شام کے پانچ بج رہے تھے، اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ اٹھا کر دیکھا تو وہ شریف کا فون تھا۔ اس نے مجھے پارک میں آنے کے لئے کہا اور فون رکھ دیا۔ بیگم سے ایک پیالی چائے فرمائش کی اور چائے آنے تک میں فریش ہوکر تیار ہو گیا۔ گرم گرم چائے کے گھونٹ حلق میں اتار کر بیگم صاحبہ کو خدا حافظ کہتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر پارک کی طرف نکل پڑا۔

ہمارے شہر میں گاڑی چلانا دل گردے اور جواں مردی کا کام ہے۔ سرکس کرتے ہوئے راستوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں کو ٹریفک سنس بالکل کم ہے سب کے سب بیچ راستوں پر چلنے کے عادی ہیں، گاڑی سوار کو اپنا راستہ بنا کر اپنے آپ کو بچاتے ہوئے گذرنا پڑتا ہے۔ اگر ہارن بجائیں تووہ گاڑی سوار کو ایسے گھورتے ہیں کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ اسے زندہ کھا جائیں۔ اس کے علاوہ راستے اتنے خستہ حال ہیں کہ نازک نازک کمروں کا ذکر ہی کیا اچھی اور موٹی موٹی کمریں بھی لچک جاتی ہیں۔ جس کا تجربہ حال ہی میں میری کمر کو بھی ہوا ہے۔ جس کی بدولت ایک ماہ تک مجھے گاڑی چلانا تو درکنار گاڑی پربیٹھنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔ بہرکیف جوں توں کرکے تھوڑی تاخیر سے میں پارک پہنچا۔

شریف مین گیٹ پر میرا منتظر تھا۔ میں گاڑی پارکنگ کر کے اس کے پاس پہنچ گیا۔ میرے پہنچنے تک وہ سگریٹ کا پیکٹ،ماچس اور تمباکو لئے تیار کھڑا تھا۔ وہ میری ہر ضرورت کا خاص خیال رکھتا ہے۔ شریف میرے بچپن کا ساتھی ہے۔ جس کا پورا نام چمن شریف ہے۔ شاید اسی لئے اسے چمن یعنی پارک سے انسیت زیادہ ہے۔ میں اسے عموماً چمن کہتا ہوں جب کہ مارکیٹ میں وہ شریف صاحب کے نام سے مشہور ہے۔ زندگی کے سفر میں بچپن سے لے کر اب تک سیکڑوں دوست ملے اور بچھڑ گئے لیکن اللہ خیر کرے چمن جیسے دو ست قسمت سے ملتے ہیں جو بھائی سے کم نہیں ہوتے۔ آج جبکہ بھائی بھائی میں اتحاد و اتفاق دیکھنے کو بھی نہیں ملتا ہے۔ ایسے عالم میں اچھے لوگوں کی دوستی ایک نعمت نہ سہی عظیم عطیہ سے کم نہیں ہے۔ میرے خاندانی حالات سازگار تھے اس لئے میں بفضلِ خدا و رسولؐ پڑھ لکھ کر ملازمت کے لائق ہوا اور شریف کو مالی دشواریوں کی باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور کم عمری میں ہی گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ڈھونا پڑا۔ اب وہ ایک تاجر ہے۔ قریبی دیہات میں رہتا ہے اور ہر اتوار کو خریدی کے سلسلہ میں شہر آتا ہے۔ اگر فرصت میسر آئے تو گھر آتا ہے ورنہ ملاقات کی غرض سے کسی ایک مقام پر مجھے بلاتا ہے۔ ادھر ادھرکی بجائے ہم عموماً پارک میں مل بیٹھتے ہیں۔ اس کی ملاقات کا مقصداپنی داستانِ حیات سنانا اور اپنا جی ہلکا کر لینا ہوتا ہے۔ میں بسا اوقات صرف اس کا دل رکھنے کی نیت سے اس کے پاس جاتا ہوں۔

سلام و پیام کے بعد ہم دونوں پارک میں داخل ہوئے۔ پارک میں اتوار کو عموماً لوگ تھوڑی دیر راحت کی سانس لینے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے ہیں اور بہت سے اوٹ پٹانگ اور اوباش قسم کے لوگ بھی مفت ہوا خوری اور ٹائم پاس کی نیت سے آتے ہیں۔ پارک میں بچے مختلف کھیلوں میں مشغول تھے۔ چند بچے گہواروں میں جھول رہے تھے توبعض اوپر سے پھسلتے ہو ئے مزہ لے رہے تھے۔ مائیں اپنے نو نہالوں کو یہ جھولتے، پھسلتے اور کھیلتے ہوئے دیکھ کر خوش ہورہی تھیں۔ ہم آگے بڑھے تو وہاں سمینٹ اور لوہے سے بنی ہاتھی کی سونڈ پر ایک بچہ جھول رہا تھا اور دوسرا اس کی ٹوٹی ہوئی دم پرلٹک رہا تھا۔ پت جھڑ کا موسم ہونے کی وجہ سے پارک میں خزاں کی کیفیت تھی مگر عورتیں انواع و اقسام کے پرفیوم کی خوشبوؤں سے فضا کو معطر کر رہی تھیں۔ درختوں کے سائے دراز ہو رہے تھے مگر ابھی سورج کی تاب میں کمی نہیں آئی تھی وہ اپنی کرنیں سرخ کئے بڑی بڑی عمارتوں سے مغربی گھاٹیوں کی جانب سفر کر رہا تھا۔ لوگ درختوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی ہمارے شہر کی مرغوب غذا منڈ کی، بڑے پکوڑے اور تلی ہوئی مرچیاں کھا رہا تھا تو کوئی تنہا بیٹھا فضا میں سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے اپنا غم غلط کر رہا تھا۔ ہم دونوں آگے چل کر ایک چھوٹے سے پودے کی آڑ میں ہری گھاس تلاش کرکے بیٹھ گئے۔ میں نے سگریٹ جلاتے ہوئے چمن کا حال پوچھا۔

شریف نے نہایت نرم لہجہ میں جواب دیا۔ وہی کم بخت گیس کی شکایت۔ اس عمر میں جینا حرام ہو گیا ہے۔ ہر ایک چیز کو ہاتھ لگاتے ہوئے گیس ہونے کا ڈر ہونے لگتا ہے۔

- Advertisement -

میں نے کہا۔ یہ گیس، بی۔ پی۔ اور شوگر تو اب جیون ساتھی بن گئے ہیں۔ ان امراض سے چھٹکارا تو شاید ممکن نہیں ہے لیکن احتیاط برتنے سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

شریف نے معصومیت سے جواب دیا۔ یہ سب خوش طبیعت لوگوں کا خیال خام ہے۔ ان سے پوچھو جو ان بیماریوں کا شکار ہیں۔

میں نے پھر اس سے کہا۔ آج گاؤں مت جانا ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے اور مکمل تشخیص کروائیں گے۔

ڈاکٹر کا نام سنتے ہی وہ فوراً کہنے لگا۔ میں ہرگز ڈاکٹر کے پاس نہیں جاؤں گا۔ اس لئے کہ میں جب بھی جاتا ہوں وہ اینڈوسکوپی کرتا ہے۔ جس سے میں ڈر تا ہوں۔

ہمارے قریب ہی سیل فون بجنے کی آواز آئی، ہم نے مڑ کر دیکھا۔ دو نوجوان پاس ہی ایک درخت کے سائے میں لیٹے ہوئے ہیں۔ ایک فون پر بڑی اور اونچی آواز میں باتیں کر رہا تھا اور اسے کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔ اس کی آواز پر تمام لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ جب اس نے اپنی بات ختم کی تو ہم اپنی گفتگو میں محو ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک مضحکہ خیز آواز آئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بھاری بھرکم جوان لڑکی اپنا بھدا جسم لئے تنہا چہل قدمی کر رہی ہے۔ جو بظاہر گوشت کا ایک پہاڑ لگ رہی تھی۔ جب بھی وہ ان نوجوانوں کے سامنے سے گذرتی ان کے منہ سے تمسخر بھرے الفاظ نکلتے اور وہ اسے تعجب خیز نظروں سے دیکھتے۔ مگر وہ ان کی پرواہ کئے بغیر سر جھکائے ایک مست ہاتھی کی مانند آگے نکل جاتی تھی۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد فون کی گھنٹی بجتی رہی اور زور زور سے باتیں ہوتی رہیں۔ ہم یہ سوچ کر خاموش رہ گئے کیونکہ آج کل ایسے ہی لوگوں کاراج چل رہا ہے۔

سورج دھرتی پر زعفرانی چادربچھانے لگا۔ درختوں کے سائے اور دراز ہونے لگے۔ اسی دوران ایک چھوٹے سے درخت کے نیچے ایک حسین و جمیل، سرو قد، آہو چشم، سیمیں بدن حسینہ پیازی رنگ کی ساڑی میاچنگ بلاؤز پہنی تنہا دکھائی دی۔ میری نظریں اس پر جم گئیں اور میں نے اپنی پوری توجہ اس پر مبذول کر دی۔ سچ ہے کہ حسین چیزوں پر نظریں ٹہر جاتی ہیں۔ اب مجھے خیال ہی نہیں رہا کہ چمن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے اور مجھے یہ بھی خبر نہیں رہی کہ ان نوجوانوں نے آگے کیا گل کھلائے۔ اس کے نازک نازک ہونٹ، گلابی چہرہ، شانوں پر کھلے لہراتے ہوئے گھنے اور سیاہ بال۔ صراحی دار گردن میں کھلے کھلے اور ابھرے ابھرے ہوئے سینے پر ایک ہلکا سا سونے کا ہار بہت ہی حسین لگ رہا تھا۔ میں نے چمن کو اسے دیکھنے کے لئے کہا۔ وہ اسے دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔

میں نے کہا۔ ہمارے شہر میں اتنی خوبصورت ،حسین و جمیل جوان اور شریف لڑکیاں اس طرح تنہا نہیں بیٹھا کرتی ہیں۔

چمن نے جواب دیا۔ شاید اسے کسی کا انتظار ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے تو اردو شاعری کی روایت الٹی معلوم ہورہی ہے۔ کیونکہ ہماری شاعری میں انتطار کرنا عاشق کی شان ہے تو انتظار کروانا معشوق کی آن ہے۔

چمن ادیبانہ انداز میں کہنے لگا۔ حضرت! یہ اکیسویں صدی ہے اور تم سترہ اٹھارہ صدی کے محبوب کی باتیں کرتے ہو۔ زمانہ بدل گیا ہے اب تمہاری شاعری میں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تم ابھی تک زلفوں اور پلکوں کے علاوہ ہجر، وصال اور انتظار کا مثلث بنائے لکیر کے فقیر بنے شاعری کرتے ہو۔ ذرا اپنے خول سے باہر آکر سوچنا سیکھو اور لکھنے کی کوشش کرو۔ دوسری زبانوں کی شاعری اور ادب کا حال دیکھو۔ ان میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔

میں نے چمن کو خاموش کرتے ہوئے کہا۔ ارے بھائی ! تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ ہماری شاعری کی عظمت و افادیت کو تم سمجھ نہیں سکے۔ ہمارا ادب عالمی ادب میں ایک ممتا زمقام رکھتا ہے۔ اردو غزل کی ایک منفرد پہچان ہے۔ جو ہماری زبان کی آبرو ہے۔ لیکن یہاں اردو شاعری نہیں بلکہ ہندوستانی شاعری کی روایت دکھائی دیتی ہے جہاں لڑکی لڑکے کو پٹاتی ہے۔ جس کی زندہ مثالیں رمبھا، اروشی اورمینکا ہیں جنہوں نے مہان رشیوں اورگیانیوں کی تپیسہ بھنگ کر دی تھی۔

ہم ان باتوں میں محوتھے کہ وہ دوشیزہ ہمارے قریب سے گذری اس کے پرفیوم کی خوشبو نے ہمارے سلسۂ گفتار کو توڑ دیا۔ ہماری نظریں یکلخت اس کی طرف اٹھ گئیں۔ چند لمحوں تک اس کے حسین بدن سے نکلی ہوئی خوشبو فضا کو معطر کرتی رہی۔ وہ چند قدم آگے بڑھی اور مڑ کر ہمیں دیکھنے لگی۔ مجھے محسوس ہوا کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے ہمیں کچھ پیغام دے رہی ہے۔ آنکھوں کی زبان اور آنکھوں کے اشاروں کے معاملے میں میں ہمیشہ جاہل رہا ہوں، اب میں اس کے اشاروں کو کیسے سمجھتا۔ وہ پارک کی مغربی جانب چلی گئی۔ پھر ہم اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ پھر واپس آئی اور اپنی پہلی جگہ پر بیٹھ گئی۔ میں سگریٹ کے کش لینے لگااور چمن تمباکو چبا کر ساری دنیا کے فرقہ پرستوں اور متعصب ذہنیت والوں پر تھوکنے لگا۔ اتنے میں میری نظر اس دوشیزہ پر پڑی۔ وہ ٹکٹکی باندھے ہمیں دیکھ رہی تھی۔

میں نے چمن سے کہا۔ ذرا اس لڑکی کی طرف دیکھو۔ تمہارا تھوکنا بند ہو جائےگا اور تمہارے ہوش اڑ جائیں گے۔

جیسے ہی اس کی نظر دوشیزہ پر پڑی وہ واقعی تھوکنا بھول گیااور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔ مجھے تو دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے۔

میں نے کہا۔ مجھے تو پوری دال ہی کالی نظر آ رہی ہے۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اسے کسی کی تلاش ہے۔ مجھے اس کی آنکھوں ،اس کے نخروں اور اداؤں میں بہت کچھ دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے بعد اس دوشیزہ کی ادائیں بڑھ گئیں۔ اس کی دلفریب اداؤں پر وہاں موجود لوگوں کی نظریں جم گئیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ وہاں سے آکرہمارے پاس والی ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ جہاں ہاتھی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے اطراف بینچ بچھائے گئے ہیں۔ اس کا یہاں بیٹھنا ہی تھا کہ ہر ایک شخص کی امید بڑھ گئی۔ ایک ادھیڑ عمرکے شخص کا حوصلہ اتنا بڑھا کہ وہ دوسروں کی پرواہ کئے بغیر اسے دیکھنے لگا۔ ایک جوان لڑکا سگریٹ کا کش لگاتا ہوا مکھی کی طرح اس کا طواف کرنے لگا۔ ایک مولوی نما حضرت بھی قریب ہی گھاس پر بیٹھے نظروں کا جال بچھاتے ہوئے امیدواروں میں شامل ہو گئے۔ ایک شخص جو اپنی جوان بیوی اور ننھے منے بچوں کے ساتھ آیا ہوا تھاوہ بھی اپنی بیوی کا خیال بچوں اور پارک میں کھڑے مصنوعی شیروں کی طرف مائل کرکے دو ایک چکر اس لڑکی کے قریب لگا نے لگا۔ امیدواروں کاسلسلہ دراز ہوتے ہوئے دیکھ کر ہم تعجب ہو گئے۔ اب ہم اس لڑکی کو دیکھنے کی بجائے اسے دیکھنے والوں کو دیکھتے رہ گئے۔ وہ اب ان تمام کے درمیان میٹھے گڑ کی ایک ڈلیا لگ رہی تھی اور سارے نام نہاد عشّاق مکھیوں کی مانند اس کے اطراف واکناف بھنبھنا اور منڈلا رہے تھے۔ لیکن اس کی نظریں بار بار ہم پر اٹھتی رہیں۔ اتنے میں ایک شخص اسی بینچ پر آبیٹھا جس پر وہ لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ دراصل وہ نشہ میں تھا، اب تک کسی میں اتنی ہمت اور حوصلہ نہ تھا کہ اس کے قریب جا سکے اور اس سے بات کر سکے۔ شرابی کا وہاں بیٹھنا تھا کہ ہمیں سارے لوگ ہماری طرح شریف النفس اور ڈرپوک معلوم ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں وہ جگہ ان لوگوں سے پاک ہو گئی۔ لیکن ہمیں دلچسپی پیدا ہوگئی اس لئے یہ تماشہ مکمل ہونے تک دیکھنے کی آرزو میں مصمم ارادہ کر کے ہم وہیں بیٹھ گئے۔

آسمان پر تاریکی چھا چکی تھی۔ بجلی کے قمقموں سے پارک روشن ہو چکا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں شروع ہو چکی تھیں شام کا پر کیف منظر دلوں کو لبھا رہا تھا۔ آنکھوں کو حسین نظارہ بھی میسر آگیا تھا۔ آج ہمیں پارک میں بیٹھنے کا حقیقی لطف آرہا تھا۔ لیکن ایک ہی سین سے بوریت محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے بہت دیر سے یہی ایک سین دیکھتے دیکھتے ہم بھی بور ہونے لگے اس لئے میں نے چمن سے کہا۔ بھائی میرے ! یہ سلسلہ شاید لامتناہی لگتا ہے، چلو لوٹ چلیں۔

چمن نے کہا۔ کہانی اب عروج پر پہنچنے والی ہے، اتنی دیر سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے تھوڑی دیر اور سہی۔ دیکھیں کیا گل کھلیں گے۔

یہ تماشا دیکھنے اور مزہ لینے کی نیت سے ہم نے اپنی جگہ بدلی اور دور بیٹھ کر ہم اس طرح نظارہ کرنے لگے کہ کسی کی نظریں ہم پر نہ پڑیں ورنہ معاشرہ میں نہ کھایا اور نہ پیا مفت میں ہماری بد نامی اور رسوائی ہو جائے اور ناک بھی کٹ جائےگی۔ اب اگلا سین شروع ہو چکا تھا۔ شرابی کے آنے اور ہمارے وہاں سے اٹھنے کے بعد و ہ بھی وہاں سے اٹھ گئی اور ہمارا تعاقب کرتی ہوئی ہمارے قریب آ پہنچی اور مسلسل ہمیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ حالانکہ اب بھی اسے کئی لوگ دیکھ رہے تھے مگر وہ صرف ہمیں دیکھ رہی تھی۔ اسے اس طرح دیکھ کر ہم سہم گئے اور محسوس ہوا کہ معاملہ گڑ بڑ لگتا ہے اس لئے میں نے چمن کو دیکھے بغیر ہی اس سے کہا۔ شریف صاحب! ہماری شرافت اسی میں ہے کہ ہم یہاں سے رفوچکر ہو جائیں۔ چمن نے حامی بھری۔ دونوں مین گیٹ کی طرف دھیرے دھیرے بڑھنے لگے۔ اس وقت ہم اور وہ لڑکی تقریباً نوے ڈگری کے زاوئیے پر تھے۔ وہ بھی مین گیٹ کی طرف آنے لگی۔ ہمارے ہوش اڑنے لگے، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ہم نے مڑ کر دیکھا، وہ اب ہمارے بالکل پیچھے تھی۔ اب ہماری کیفیت کیا کریں اور کیا نہ کریں والی ہو گئی۔ ذہن متزلزل ہونے لگا، ہاتھ پاؤں کانپنے لگ گئے اور ہم دم بخود رہ گئے۔ اتنے میں چمن نے کہا۔ فوراً موٹر سائیکل نکالو، بھاگ چلیں۔ میں نے سہمی اور گھبرائی آواز میں کہا۔ اگر موٹر سائیکل پر سوار ہوگئی تو۔۔۔ چمن نے کہا۔ اس کا موقع نہ دو اور تم فوراً نکل جاؤ۔

گیٹ سے نکل کر میں نے اپنی موٹر سائیکل نکالی۔ میرا دل اور زیادہ تیز ی سے دھڑکنے لگا، سر پر ہاتھ رکھا تو چاند سا ماتھا گرم ہو چکا تھا، میری بے قراری بڑھ گئی۔ میں نے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو رہی تھی ،میں گھبرا گیا۔ مجھے گمان تھا کہ وہ پچھلی سیٹ پر آبیٹھےگی۔ میں گاڑی اسٹارٹ کرنے کی سعی کرتا رہا۔ گاڑی اسٹارٹ کیسے ہوتی، میں نے بےچینی میں چابی لگانا بھلا دیا تھا۔ وہ گیٹ سے باہر نکل کر سیدھے میری گاڑی کے پیچھے پہنچی، میرے اوسان خطا ہو گئے۔ اتنے میں میرے بازو چمچماتی ہوئی ایک ماروتی کارآکر رکی، اندر سے دروازہ کھلا اور وہ اس میں سوار ہوگئی۔ کار بجلی کی مانندآنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ چمن اب تک دور کھڑا اپنی شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے مزے لے رہاتھا۔ وہ میرے قریب آیا۔ میں نے اپنا ماتھا پونچھا، ہم دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور کافی دیر تک اس معمہ کو سمجھنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ میں نے اپنا ماتھا پھر ایک بار چھو کر دیکھا، وہ ابھی گرم تھا،دل اسی طرح دھڑک رہا تھا اورہاتھ پیر ڈھیلے پڑ چکے تھے۔ میں بہت دیر تک اپنے آپ کو ٹٹولتا رہا۔ گاڑی سے نیچے اترا اور ایک سگریٹ سلگا کر لمبے لمبے کش لینے لگا، کافی دیر بعد ہوش ٹھکانے لگے۔ جان میں جان آتی ہوئی معلوم ہوئی اور تھوڑی راحت محسوس ہوئی۔ اتنے میں چمن کے گاؤں جانے والی بس آ گئی۔ میں اسے بس میں بٹھا کر خدا حافظ کہتے ہوئے موٹر سائیکل پر اپنے گھر لوٹ آیا۔

چونکہ میں Half a mile walk after dinner کا قائل ہوں۔ لہذا اس رات بھی کھانے سے فارغ ہوکر تھوڑی دور چہل قدمی کے لئے گھر سے نکلا۔ چلتے چلتے سگریٹ لینے کی نیت سے ایک بڑے ہوٹل کے پاس والی دکان پر پہنچا۔ سگریٹ جلا کر کش لیتے ہوئے ایک گہری سوچ میں گم تھا۔ اسی اثنا میں میری نظر یکلخت اسی دوشیزہ پر پڑی جو ہوٹل کے سامنے ایک طرف تنہا کھڑی تھی اور نوجوانوں کی ایک ٹولی اس کی طرف نظریں جمائے کھڑی تھی۔ اب وہ پیازی رنگ کی ساری میں نہیں بلکہ گلابی رنگ کی ساری میں ملبوس تھی اور اس کے بال شانوں پر نہیں تھے انہیں لپیٹ کر چونڈہ کا روپ دیا گیا تھا اور ان میں تازہ سفید رنگ کے پھول لگائے گئے تھے۔ جن سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی اور پرفیوم کی خوشبو سے بھی فضا معطر ہو رہی تھی مگر اس کی بو مختلف اور الگ تھی۔ میں چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہا اور کشمکش کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد یہ سوچ کر گھر چلا آیا کہ شاید اس کی بھوک ابھی باقی ہے۔ ایک ایسی بھوک جو کبھی نہ مٹنے والی ہے۔

مصنف:داؤد محسن

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here