مورنامہ

0
154
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’ہندوستان نے راجستھان کے پوکھرن میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا۔ اس ایٹمی تجربے سے اس علاقے کے سارے مور ہلاک ہو گئے تھے۔ افسانہ نگار نے جب یہ خبر پڑھی تو انھیں بہت دکھ ہوا اور اس کہانی کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس افسانے میں مصنف نے اپنے دکھ کا اظہار ہی نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے اس کہانی کا سرا جاتک کتھا اور اپنے بچپن کی یادوں سے ملایا ہے۔‘‘

اللہ جانے یہ بدروح کہاں سے میرے پیچھے لگ گئی۔ سخت حیران اور پریشان ہوں۔ میں تو اصل میں موروں کی مزاج پرسی کے لیے نکلا تھا۔ یہ کب پتا تھا کہ یہ بلا جان کو چمٹ جائے گی۔ وہ تو اتفاق سے اس چھوٹی سی خبر پر میری نظر پڑ گئی ورنہ اس ہنگامہ میں مجھے کہاں پتہ چلنا تھا کہ وہاں کیا واردات گزر گئی۔ ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ کی دھماکہ خیز خبروں کے ہجوم میں کہیں ایک کونے میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی کہ جب یہ دھماکہ ہوا تو راجستھان کے مور سراسیمگی کے عالم میں جھنکارتے شور مچاتے اپنے گوشوں سے نکلے اور حواس باختہ فضا میں تتر بتر ہو گئے۔

ویسے تو میں نے فوراً ہی ایک کالم لکھ کر اپنے دانست میں مور دوستی کا حق ادا کیا اور فارغ ہو گیا۔ مگر فارغ کہاں ہوا۔ اس چھوٹی سی خبر نے میرے ساتھ وہی کیا جو منوجی کے ساتھ ان کے ہاتھ آ جانے والی چھنگلیا جیسی مچھلی نے کیا تھا۔ وہ تو اسے گھڑے میں ڈال کر نچنت ہو گئے تھے مگر وہ پھیلتی چلی گئی۔ منوجی نے اسے گھڑے سے ناند میں، ناند سے کنڈ میں ، کنڈ سے تلیا میں، تلیا سے ندی میں منتقل کیا مگر پھر وہ ندی میں بھی نہیں سمائی ، پھر انہوں نے اسے اٹھا کر سمندر کا رخ کیا تو وہ چھوٹی سی خبر بھی یا وہ واقعہ جسے اخبار والوں نے ایک عالمی سرخی والی دو سطری خبر سمجھا تھا، میرے تصور میں پھیلتی چلی گئی۔

آغاز ان موروں کی یاد سے ہوا جنہیں میں نے جے پور کے ایک سفر کے دوران دیکھا تھا۔ سبحان اللہ کیا ترشا ، ترشایا گلابی شہر تھا۔ اس شہر میں میں نے دوپہر میں قدم رکھا تھا۔ ان اوقات میں تو کسی وجود کا احساس نہیں ہوا تھا لیکن جب دن ڈھلے میں نے اس دلہن ایسے سجے سجائے ریسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر باہر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے پھیلے ہوئے صحن میں فوارے کے ارد گرد چبوترے پر منڈیروں پر مور ہی مور، کتنے سکون کے ساتھ اور کتنی خاموشی سے اپنی نیلی چمکیلی لمبی دموں کے ساتھ ایک شاہانہ وقار کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے۔ ان کی اس چہل قدمی میں شاہانہ وقار کے ساتھ کتنی شانتی تھی۔ اس آن و ہ سارا دیا رمجھے شانتی کا گہوراہ نظر آیا۔ شانتی کا، حسن کا اور محبت کا۔

اگلی شام جب میں اس شہر سے نکلنے لگا تو جس ٹیلے، جس پہاڑی پر نظر گئی وہاں موروں کا یک جھرمٹ نظر آیا۔ اسی طرح خاموش۔ ان کی چہل قدمی میں وہی وقار، ویسی ہی شانتی، تھوڑی ہی دیر میں شام کا دھند لکا پھیل گیا اور پوری فضا موروں کی جھنکار سے لبریز ہو گئی۔ میں نے جانا کہ یہ مسافر نواز میری ہی خاطر یہاں آس پاس کے ٹیلوں اور درختوں پر اترے ہوئے تھے۔ اب وہ اپنے مہمان کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

- Advertisement -

اور اب جب میں نے اس سفر کو یاد کیا تو میری ساری فضائے یاد موروں سے بھر گئی۔ اور میں حیران ہوا کہ اچھا وہاں اتنے موروں سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ جیسے راجستھان کے سارے مور میرے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ہوں مگر اب وہاں کیا نقشہ ہو گا۔ میں دھیان ہی دھیان میں پھر اس دیار کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں حیران و پریشان بھٹکتا پھر رہا ہوں ، نہ کوئی مور دکھائی پڑ رہا ہے نہ ان کی جھنکار سنائی پڑ رہی ہے۔

وہ سب کہاں چلے گئے۔ کس کھوہ میں جا چھپے۔ دور ایک ٹیلے پر نظر گئی۔ ایک نچا کھسٹا مور بیٹھا دکھائی دیا۔ میں تیز قدم اٹھاتا اس طرف چلا۔ مگر میرے پہنچنے سے پہلے اس نے ایک ہر اس آمیز آواز نکالی، اڑا اور فوراً ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

وہ مور اڑ کر کدھر گیا۔ یہاں اکیلا بیٹھا کیا کررہا تھا۔ اس کے سنگھی ساتھی، موروں کے جھرمٹ کے جھرمٹ، وہ سب کہاں گئے۔ وہ اس طرح ویرانی کی تصویر بنا کیوں نظر آ رہا تھا۔ اتنا اجڑا اجڑا، اتنا نچا کھسٹا کیوں نظر آ رہا تھا۔ ویرانی کی اس تصویر سے میرا دھیان ویرانی کی ایسی ہی ایک اور تصویر کی طرف چلا گیا جسے میں بھلا بیٹھا تھا اور جو اس وقت اچانک میرے تصور میں ابھر آئی تھی۔ سمندر کے شفاف پانی میں گھلتا ہوا گاڑھا گاڑھا پٹرول، پانی کی رنگت بدلتی چلی جا رہی ہے۔ پیٹرول کی آلودگی سے کچھ سیاہی مائل نظر آرہا ہے اور اجاڑ ساحل پہ ایک اکیلی مرغابی اس آلودہ پانی میں نہائی ہوئی ساکت بیٹھی حیرت سے سمندر کو تک رہی ہے۔ جو پانی کل تک اس کے لیے امرت کا مرتبہ رکھتا تھا ، آج زہر بن گیا ہے۔ اس کے پر بھاری ہو گئے ہیں کہ اب وہ اڑنے جوگی نہیں رہی اور زہر جیسے نس نس میں اتر گیا ہو۔ عراق امریکہ جنگ کی ساری ہولناکی اس آن میرے لیے اس مرغابی میں مجسم ہو گئی تھی۔ مجھے دکھ ہوا کہ یہ مرغابی اس وقت کتنی اذیت میں ہے اور حیرانی ہوئی کہ آدمیوں نے اس ہنگام جو کچھ ایک دوسرے کے ساتھ کیا، صدام حسین نے عراقیوں کے ساتھ، عراقیوں نے کویتیوں کے ساتھ، امریکہ نے عراقیوں کے ساتھ اس سارے عذاب کو اس غریب مرغابی نے اپنی جان پر لے لیا ہے۔ عجب بات ہے جب پیمبری وقت پڑتا ہے تو بڑے بڑے جان بچا کر نکل جاتے ہیں ۔ کوئی ننھی سی جان اذیت کے اس بار گراں کو اکیلی سنگھوا لیتی ہے۔ اس گھڑی وہ مرغابی مجھے ایک جلیل القدر داستانی پرندہ نظر آئی۔ جیسے اس میں کسی پیغمبر کی روح سما گئی ہو کہ اس زور پر اس نے انسانی امت کا سارا عذاب ایک امانت جان کر اپنے کاندھوں پر لے لیا ہے۔

میری کم نظری تھی کہ میں نے اس مرغابی کے مرتبہ کو نہیں پہچانا۔ احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ مرغابی تو ایک پیمبرانہ شان رکھتی ہے۔ ہمارے عہد کی علامت ہے آدمی اس زمانے میں جو آدمی کے ساتھ کر رہا ہے اور اپنے زعم آدمیت میں جو کچھ فطرت کے ساتھ کر رہا ہے، یہ اس سب کی کہانی سنا رہی ہے۔ مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ مجھے اس پر کہانی لکھنی چاہیے۔ کتنی آسانی سے میں نے اس مرغابی کو فراموش کر دیا۔ شاید اس کی وجہ ہو کہ وہ بیچاری صرف مرغابی تھی۔ اور مور جن پر میں کہانی لکھنے کے لیے بے چین ہوں صرف مور نہیں ہیں۔ فرض کرو کہ اس مرغابی کی جگہ کوئی راج ہنس ہوتا۔ راج ہنس، مگر راج ہنس اب اس دنیا میں کہاں ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اس برصغیرکی وشال دھرتی پر دو پرندے راج کرتے تھے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ پرندوں کا راجہ کون ہے، راج ہنس یا مور۔ اب وہ راج ہنس کہاں ہیں اور وہ موتی ایسی جھیلیں کہاں ہیں جہاں وہ اترا کرتے تھے اور وہ راجکماریاں کہاں ہیں جو اپنے محل کی فصیل پر اتر آنے والے راج ہنس پر عاشق ہو جایا کرتی تھیں اور اسے اپنے آنگن میں اتارنے کے لیے اپنی مالا کے موتی بکھیر دیا کرتی تھیں۔ وہ راج ہنس موتی چگتے تھے اور مانسروور جھیل کے شفاف پانی میں تیرا کرتے تھے۔ اب مانسروور جھیل کہاں ہے۔ لگتا ہے کہ سب جھیلیں خشک ہو گئیں۔ ندیوں کا پانی میلا ہو گیا۔ فضا بارود، دھوئیں، خاک دھول سے اٹی ہوئی ہے۔ نعروں اور دھماکوں کے شور سے آلودہ ہے۔ راج ہنس پاکیزہ فضا اور شفاف پانیوں کی تلاش میں کہیں دور نکل گئے۔ پیچھے بس مرغابیاں اور قازیں رہ گئیں۔ زمانے کا عذاب وہ سہتی ہیں راج ہنس قصہ کہانیوں کی دنیامیں پرواز کرتے ہیں۔

ایک مور تھا جو ابھی تک اپنے طاؤسی وقار کے ساتھ ٹکا ہوا تھا اور ماضی اور حاضر کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب بھی باغوں سے اس کی جھنکار اس طرح آتی ہے جیسے ماضی قدیم سے دیومالائی زمانوں سے تیرتی ہوئی آ رہی ہے۔ راجستھان میں تو مور کی کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی۔ یہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں۔ میں کھنچا چلا جاتا ہوں۔ راجستھان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ میری پستی ہے۔ ساون بھادوں کی بھیگی شاموں میں وہ کتنا غل مچاتے تھے۔ وہ تو بستی کے باہر باغ باغچوں میں جھنکارتے تھے مگر ان کی جھنکار سے ساری بستی گونجتی تھی۔ اور وہ ایک مور جو جانے کدھر سے اڑتا اڑتا آیا اور ہماری منڈیر پر بیٹھ گیا۔ کتنی دیر چپ چاپ بیٹھا رہا۔ میں دبے پاؤں چھت پہ گیا۔ پیچھے سے سرکتے سرکتے منڈیر تک گیا۔ اس کی دم پکرنے ہی کو تھا کہ اس نے جھرجھری لی اور فضا میں تیر گیا۔

’’میرے لال، مور کو تنگ نہیں کیا کرتے، یہ جنت کا جانور ہے‘‘، نانی اماں نے مجھے سرزنس کی۔

’’جنت کا جانور‘‘، میں نے حیران ہو کر پوچھا، ’’پھر یہاں یہ کیا کر رہا ہے؟‘‘

’’ارے بیٹا، اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔‘‘

’’نانی اماں کیا ، کیا تھا مور نے جو سزا بھگت رہا ہے۔‘‘

’’ارے بیٹا، معصوم تو ہے ہی شیطان کی چال میں آ گیا۔‘‘

’’کیسے آگیا شیطان کی چال میں۔‘‘

’’وہ کم بخت بڈھا پھونس بن کے جنت کے دروازے پہ پہنچا۔ بہت منتیں کیں کہ دروازہ کھولو۔ جنت کے دربان بھانپ گئے کہ یہ نحوست مارا تو شیطان ہے۔ انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ مور جنت کی منڈیر پر بیٹھا یہ دیکھ رہا تھا۔ اسے بڈھے پہ بہت ترس آیا۔ اڑ کر نیچے آیا اور کہا کہ بڑے میاں میں تمہیں جنت کی دیوار پار کرائے دیتا ہوں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ شیطان فوراً ہی مور پہ سوار ہو گیا۔ مور اڑا اور اسے جنت میں اتاردیا۔ اللہ میاں کو جب پتہ چلا تو انہیں بہت غصہ آیا۔ باوا آدم اور اماں حوا کو جنت سے نکالا تو مور کو بھی نکال دیا کہ جاؤ لمبے بنو۔‘‘

میں کتنا حیران ہوا تھا۔ بیچارہ مور۔ جنت کی منڈیر پر بیٹھا کرتا تھا۔ اب ہماری منڈیر پر آکے بیٹھ جاتا ہے۔ میں نے نانی اماں سے کہا تو کہنے لگیں، ’’ہاں بیٹے، اپنی منڈیر چھٹ جائے تو یہی ہوتا ہے۔ اب تیری میری منڈیروں پہ بیٹھتا ہے اور کہیں جوٹک کے بیٹھ جائے۔‘‘

منڈیروں، درختوں کے جھنڈ میں، ٹیلے پہ، جہاں بھی پنجے ٹکانے کو جگہ مل جائے، میں جب شراوستی کی راہ سے گزرا تھا تو میں نے اسے ایک ہرے بھرے ٹیلے پہ بیٹھے دیکھا تھا۔ کسی دھیان میں گم ،یا جیسے چپ چاپ کسی کی راہ تک رہا ہے۔ میں شراوستی بہت دیر سے پہنچا تھا۔ مہاتما بدھ کتنی برساتوں پہلے یہاں سے سدھار چکے تھے۔ اب وہ ٹھکانا بھی یہاں نہیں تھا، جہاں وہ برسات کے دنوں میں آ کر باس کیا کرتے تھے۔ بس اب تو اس بستی سے یادگار تھوڑی اینٹیں پڑی رہ گئی تھیں۔ ذراہٹ کے ایک ہرے بھرے شاداب ٹیلے پر شاید اسی سمے کا ایک مور بیٹھا رہ گیا تھا جو گئے سمے کو اس سمے کی شرادستی کو اپنی آنکھوں میں رمائے بیٹھتا تھا۔ اور کتنے سکون سے بیٹھا تھا۔ اس ایک دم سے اجڑی ہوئی شراوستی کی ساری فضا میں جیسے شانتی رچ گئی تھی۔

میں شراوستی میں زیادہ دیر نہیں رکا۔ مجھے واپس دلی پہنچنا تھا۔ دلی کی وہ شام بہت اداس تھی۔ کم از کم بستی نظام الدین میں تو اس کا یہی رنگ تھا۔ ابھی پچھلے دنوں کتنے خانہ برباد قافلہ در قافلہ یہاں سے نکلے تھے۔ اب خاموشی تھی۔ اور برسات کی یہ شام بستی نظام الدین میں کچھ زیادہ ہی خاموش تھی۔ کچھ احاطے کے بیچ غالب کی قبر اجڑی اجڑی تھی۔ احاطے کے گرد کتنی اونچی اونچی گھاس کھڑی تھی۔ اس بیچ سے میں گزر رہا تھا کہ پیچھے سے ایک مور نے مجھے پکارا۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ دکھائی تو نہیں دے رہا تھا مگر اس کی پکار پھر سنائی دی۔ عجب پکار تھی جیسے ہزار صدیاں مل کر مجھے پکاررہی ہوں۔

ہزار صدیوں کے کنارے پر پہنچ کر میں ٹھٹکا۔ اس مور کی آواز تو مجھے یہیں تک لے کر آئی تھی مگر اب صدیوں کے اس پارسے موروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ میں حیران، یامولا! یہ مور کون سے باغ سے بول رہے ہیں۔ میں نے قدم بڑھایا اور ایک نئی حیرانی نے مجھے آ لیا۔ یہ کون سا نگر ہے۔ فصلیں بادلوں سے باتیں کرتی ہوئی۔ فصیلوں کے گردا گرد پھیلے ہوئے باغ، قسم قسم کے پھل۔ رنگ رنگ کی چڑیاں، باغ چڑیوں کی چہکار سے گونج رہے ہیں۔ ساری چہکار پر چھائی ہوئی دو آوازیں۔ کوئل کی کوک اور موروں کی جھنکار۔ ارے، یہ تو پانڈوؤں کا نگر ہے۔ اندر پت۔ یہ تو میں بہت دور نکل آیا۔ مجھے واپس چلنا چاہیے۔

بہت گھوم پھر لیا۔ بہت موروں کو دیکھ بھال لیا۔ کن کن وقتوں کے کس کس نگر کے موروں کو دیکھا۔ ان کی جھنکار سنی۔ اب مجھے مورنامہ لکھنا چاہیے مگر مجھے گھر واپس ہونے سے پہلے راجستھان کا پھر ایک پھیرا لگا لینا چاہیے۔ شاید وہ مور جو سراسیمگی کے عالم میں یہاں سے اڑ گئے تھے، واپس آ گئے ہوں۔

مور واقعی اچھی خاصی تعداد میں واپس آ گئے تھے۔ مگر عجب ہوا کہ مجھے دیکھ کر وہ سخت ہراساں ہوئے اور چیختے چلاتے ٹیلوں اور درختوں کی شاخوں سے اڑے اور فضا میں تتر بتر ہو گئے۔ بس اسی آن مجھے احساس ہوا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔ کوئی دوسرا میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ میں نے اپنے بائیں نظر ڈالی۔ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہیں یہ تو اشو تتھاما ہے۔ کور و کشیتر کا مہا پاپی۔ یہ یہاں کہاں اور میرے ساتھ کیوں چل رہا ہے۔ مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ میرے ساتھ لگ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ جب اندر پر ستھ سے پلٹاہوں تو کورو کشیتر کے پاس سے گزرا تھا، وہیں سے یہ منحوس شخص میرے ساتھ ہو لیا ہوگا مگر کورو کشیتر میں تواب سناٹا تھا۔ نہ آدمی نہ آدم زاد۔ یہ وہاں کیا کر رہا تھا۔ کیا تب سے وہیں بھٹک رہا ہے۔

جنگ آدمی کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔ اشوتتھاما کو دیکھو اور عبرت پکڑو۔ درونا چاریہ کا بیٹا، باپ نے وہ عزت پائی کہ سارے سورما کیا کورو کیا پانڈو، اس کے سامنے ماتھا ٹیکتے تھے، چرن چھوتے تھے۔ بیٹے نے باپ سے ورثے میں کتنا کچھ پایا۔ مگر یہ ورثہ اسے پچا نہیں۔ اس جنگ کا سب سے ملعون آدمی آخر میں یہی شخص ٹھہرا۔

کہتے ہیں کہ سورماؤں کے استاد درونا چاریہ کے پاس و ہ خوفناک ہتھیار بھی تھا جسے برہم استر کہتے ہیں۔ دیکھنے میں گھاس کی پتی، چل جائے تو وہ تباہی لائے کہ دور دور تک جیو جنتو کا نام و نشان دکھائی نہ دے۔ بستی زد میں آجائے تو دم کے دم میں راکھ ڈھیر بن جائے۔ درونا نے اس ہتھیار کا راز بس اپنے ایک ہی چیلے سورما کو منتقل کیا تھا۔ ارجن کو، جو اس کا سب سے چہیتا چیلا تھا۔ جنگ بھی کیا ظالم چیز ہے۔ کورو کشیتر کے میدان میں استاد اور چیلا ایک دوسرے کے مقابل لڑ رہے تھے مگر دونوں نے قسم کھائی تھی کہ برہم استر استعمال نہیں کرنا ہے کیونکہ اس کے چلنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔

درونا نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے اشوتتھاما کو برہم استرکا گر سمجھا دیا تھا مگر سختی سے تاکید کی تھی کہ کسی حال میں اسے استعمال کرنا نہیں ہے مگر جب درونا جنگ میں مارا گیا تو اشو تتھاما کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں تھا۔ جنگ کے آخری لمحوں میں وہ جان پہ کھیلا اور برہم استر چلا دیا۔ جنگ کے آخری لمحوں سے ڈرنا چاہیے۔ جنگ کے سب سے نازک اور خوفناک لمحے وہی ہوتے ہیں۔ جیتنے والے کو جنگ کو نبٹانے کی جلدی ہوتی ہے۔ ہارنے والا جی جان سے بیزار ہوتا ہے۔ تو وہ خوفناک ہتھیار جو بس دھمکانے ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں، آخری لمحوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پھر بیشک شہر جل کر ہیرو شیما بن جائے دل کی حسرت تو نکل جاتی ہے۔ جنگ کے آخری لمحوں میں دل کی حسرت کبھی جیتنے والا نکالتا ہے، کبھی ہارنے والا۔ کوروکشیتر میں آخر میں دل کی حسرت اشوتتھاما نے نکالی اور برہم استر پھینک مارا۔

تب سری کرشن ، ارجن سے بولے، ’’ہے جناردھن، درونا کے مورکھ پتر نے تو برہم استر پھینک مارا۔ مجھے جیو جنتو سب نشٹ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس استر کا توڑ تیرے پاس ہے۔ سو جلدی توڑ کر اس سے پہلے کہ سب کچھ جل کر بھسم ہو جائے۔‘‘

تب ارجن نے اپنا برہم استر نکالا اور اشو تتھاما کے توڑ پر اسے سر کیا۔ اور کہتے ہیں کہ جب ارجن کا بان چلا تو ایسی بڑی آگ بھڑکی کہ تینوں لوگ اس کے شعلوں کی لپیٹ میں آ گئے۔ اس کی دھمک اس بن تک بھی پہنچی جہاں ویاس رشی بیٹھے تپ کر رہے تھے۔ انہوں نے تپسیا بیچ میں چھوڑی۔ ہڑ بڑا کر اٹھے اور اڑ کر کوروکشیتر پہنچے۔ اشو تتھاما اور ارجن کے بیچ آن کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر چلائے کہ ڈشٹو! یہ تم نے کیا انیائے کیا۔ ساری سرشٹی جل کر بھوبھل بن جائے گی۔ جیو جنتو کا وناش ہو جائے گا۔ اپنے اپنے استر واپس لو۔

ارجن نے اس مہان آتما کے چرن چھوئے۔ ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہو گیا اور فوراً ہی اپنا استر واپس لے لیا۔

پر اشوتتھاما ڈھٹائی سے بولا کہ، ’’ہے مہاراج، میں نے تو استر چلا دیا۔ اسے واپس لینا میرے بس میں نہیں ہے۔ بس اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ اس کی سیما بدل دوں۔ سواب یہ استر پانڈوؤں کی سینا پہ نہیں گرے گا، پانڈوؤں کی استریوں پہ گرے گا جسے گربھ رہا ہے اس کا گربھہ گر جائے گا جس کی کوکھ میں بچہ پل رہا ہے وہ بچہ مر جائے گا۔ پانڈو سنتان کا اس پرکار انت ہو جائے گا۔‘‘

اس آن سری کرشن جی کلس کر بولے، ’’ہے درونا کے پاپی پتر، تیراوناش ہو۔ تونے بالک ہتّیا کا پاپ کیا ہے۔ میں تجھے شاپ دیتاہوں کہ تو تین ہزار برس اس طور جئے گا کہ بنوں میں اکیلا مارا مارا پھرے گا۔ تیرے زخموں سے سدا خون اور پیپ ایسی رسا کرے گی کہ بستی والے تجھ سے گھن کھائیں گے اور دور بھاگیں گے۔‘‘

میں بھی تو اس سے دور ہی بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ تو سائے کی طرح میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ یا اللہ میں کدھر جاؤں، کیسے اس نحوست سے اپنا پیچھا چھڑاؤں۔ اچانک ایک خیال آیا کہ میرا بائی کی سمادھی یہیں کہیں ہے۔ وہاں جاکر چھپ جاؤں۔ پھر یاد آیا کہ ارے ہاں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ بھی تو اسی نواح میں ہے۔ اگر اس درگاہ میں پہنچ جاؤں تو پھر تو سمجھو کہ اس کی زد سے بچ گیا۔ وہاں درگاہ میں اسے کون گھسنے دے گا۔ بس اس طرح کے خیال مجھے آ رہے تھے لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس سے آنکھ بچا کر کیسے نکلوں، جس راہ جاتا وہ پر چھائیں کی طرح ساتھ ساتھ چلتا۔ ادھر موروں نے شور مچا رکھا تھا۔ کتنی ہر اس بھری آوازوں میں چلا رہے تھے، یعنی وہ مور جو بچے رہ گئے تھے۔

ادھر پانڈوؤں کے گھروں سے عورتوں کے بین کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ وہاں مرے ہوئے بچے پیدا ہو رہے تھے اور ارجن کے گھر میں تو قیامت مچی ہوئی تھی۔ سبھدرا کس درد سے بین کر رہی تھی۔ اس کی کوکھ کا جنا ‘ابھی منیو’پہلے ہی کوروکشیتر میں کھیت ہو چکا تھا۔ اسے رو دھو کر اس نے بہو سے آس لگائی تھی کہ وہ پوت جنے گی۔ اس پوت سے ارجن کے اندھیرے گھر میں اجالا ہو گا اور پانڈوؤں کے سنتان آگے چلے گی مگر ہوا وہ جو اشو تتھاما نے کہا تھا۔

اترا بیہوش پڑی ہے۔ بچہ مرا ہوا پیدا ہوا ہے۔ پانڈوؤں کے کسی گھر میں اب اجالا نہیں ہوگا۔ برہم استر نے ان کی اتریوں کی کوکھوں کو اجاڑ ڈالا ہے۔ مگر سبھدرا نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔ بھائی کا وعدہ اسے یاد ہے۔ کرشن نے وعدہ کیا تھا کہ بھینا، تیری بہو کی کوکھ کو اجڑنے نہیں دوں گا۔ تو لو انہوں نے اوتار ہونے کے ناتے مردہ بچے میں جان ڈال دی ہے اور بتا دیا ہے کہ یہ بالک بڑے ہو کر ہستناپور کے سنگھاسن پہ بیٹھے گا۔ پانڈوؤں کا نام روشن کرے گا۔ مگر اس مرے ہوئے بچے نے زندہ ہو کر عجب سوال کیا۔ جب سنگھاسن پہ بیٹھا اور ویاس جی اشیرواد دینے کے لیے بنوں سے نکل کر آئے اور اس کے دربار میں براجے تو اس نے گلاب کیوڑے کے پانی سے چلمچی میں ان کے پاؤں دھوئے پھر چرن چھوئے اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ ’’میرے پرکھ، آ گیا ہو تو ایک پرشن پوچھوں۔‘‘

’’پوچھ بیٹھا۔‘‘

’’ہے مہاراج، کوروکشیتر میں میرے سب ہی بڑے موجود تھے، ادھر بھی اور ادھر بھی۔ اور دونوں ہی طرف گنی گیانی بدھیمان موجود تھے۔ پھر انھیں یہ سمجھ کیوں نہ آئی کہ یدھ مہنگا سودا ہے۔ سب کچھ اجڑ جائے گا، وناش ہو جائے گا۔‘‘

ویاس جی نے لمبا ٹھنڈا سانس بھرا، بولے، ’’پتر، یدھ میں اچھے اچھے مانو کی مت ماری جاتی ہے۔ اور ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔‘‘

اور رشی جی ترنت اٹھ کھڑے ہوئے۔ جن بنوں سے آئے تھے الٹے پاؤں انہیں بنوں میں چلے گئے۔‘‘

رشی لوگ ان بھلے وقتوں میں ہزاروں برس کے حساب سے زندہ رہتے تھے۔ ارجن کا پوتا ، رشی نہیں تھا، اسے سانپ نے ڈس لیا اور وہ مرگیا مگر اس نے ویاس جی سے جو سوال کیا تھا اس سوال نے ویاس جی سے زیادہ عمر پائی۔ میں جب راجستھان میں بھٹک رہا تھا تو یہ سوال مجھے ملا تھا، جہاں اشوتتھاما بھٹکتا پھر رہا تھا وہا ں یہ سوال بھی آس پاس بھٹکتا دکھائی دیا۔ اس نے بھی میرا بہت پیچھا کیا۔ یہ سمجھ لوکہ میں دو سایوں کے بیچ چل رہا تھا۔

پہلے میں اشوتتھاما کو دیکھ کر حیران ہوا تھا کہ اچھا اس مورکھ کے ابھی تین ہزار برس پورے نہیں ہوئے ہیں۔ پھر جب پریکشھت والے سوال سے مڈھ بھیڑ ہوئی تو میں اور حیران ہوا کہ اچھا یہ سوال بھی ابھی تک چلا آ رہا ہے۔

بلکہ مجھے لگا کہ اب یہ سوال زیادہ گمبھیر ہو گیا ہے۔ مانو پوری پاک بھارت دھرتی پر منڈلا رہا ہے جیسے کسی کے سر پر تلوار لٹکی ہوئی ہو۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ یہ جواب تو نہ ہوا، ویاس جی نے سوال کو ٹالا تھا، جواب نہیں دیا تھا، تب ہی تو وہ تب سے فضا میں بھٹکتا پھر رہا ہے اور جواب مانگ رہا ہے۔ یک نہ شد د وشد۔ میری جان کے لیے اشو تتھاما کم تھا کہ یہ سوال بھی میری جان کو لگ گیا۔

خیر میں پہلے اشو تتھاما سے تو اپنی جان چھڑاؤں۔ کتنی مرتبہ اسے غچہ دینے کی کوشش کی۔ اچانک راہ بدل کر دوسری راہ پر ہو لیا۔ سمجھا کہ اسے پتہ نہیں چلا مگر تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ وہ تو پھر میرے آس پاس چل رہا ہے۔

میں نے سوچا کہ یہ میرا کتنا پیچھا کرے گا مجھے تو اپنے دیار واپس چلے جانا ہے۔ یہ اس دیار کی مخلوق ہے۔ حد سے حد سرحد تک میرا پیچھا کرے گا۔ آگے اسے کون جانے دے گا۔ پھر بھی میں نے کوشش کی کہ اس سے آنکھ بچا کر نکل جاؤں۔ بعد میں اسے پتہ چلے کہ میں یہاں سے نکل گیا ہوں اور اس کی زد سے باہر ہوں۔

میں واقعی اس سے آنکھ بچا کر نکل آیا تھا۔ کیسی تڑی دی۔ اس کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں چلا کہ میں کب وہاں سے نکلا اور کب سرحد پار کی۔ اپنی سرحد میں قدم رکھنے کے بعد اطمینان کا لمبا سانس لیا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ اس بدروح سے میں نے نجات پائی۔ مجھے ‘بیتال پچیسی’ کی کہانی یاد آئی مگر وہ تو کہانی تھی۔ اس طرح تو کہانیوں ہی میں بھوت جان کو چمٹا کرتے ہیں مگر میرے ساتھ تو واقعی ایسا ہوا۔ خیر بلا سے پیچھا چھوٹا۔ اب میں نچنت تھا۔ سوچ رہا تھا کہ میں اب جگ جگ کے موروں سے مل لیا ہوں۔ کس کس نگر کے مور کی جھنکار سنی ہے۔ اب میں اطمینان سے گھر بیٹھ کر مورنامہ لکھوں گا۔ دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ جن جن موروں کو دیکھا تھا وہ سب ایک دم سے میرے تصور میں منڈلا نے لگے۔ ان کی شیریں جھنکار سے میرا سامعہ گونج گیا۔ پھر مجھے لگا کہ جیسے میں جگت مور کے سائے میں چل رہا ہوں۔ جگت مور جس کی دم کھڑی ہو کر پنکھے کی شکل بن گئی ہے اور ساری فضا پر محیط ہو گئی ہے۔ جگت مور رقص کر رہا ہے۔

میں جب اپنے گھر کے قریب پہنچا ہوں تو اچانک مجھے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ کا احساس ہوا۔ جیسے کوئی دبے پاؤں میرے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ میں نے دفعتہ پلٹ کر دیکھا اور میرے قدم سو سو من کے ہو گئے۔ اشوتتھاما میرے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ یہ کم بخت تو یہاں بھی آ گیا۔ اب میں کیسے اس سے چھٹکارا پاؤں گا۔ تب میں رویا اور میں نے گڑ گڑا کر پالنے والے سے پوچھا کہ اے مرے پالنے والے، اے مرے رب، اس پریت کے تین ہزار سال آخر کب پورے ہوں گے۔ کب میں اپنا مورنامہ لکھ پاؤں گا۔

مأخذ : شہر زاد کے نام

مصنف:انتظار حسین

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here