شادی مرگ

0
314
urdu-story
- Advertisement -

جب تدبیروں کے تمام مراحل ناکام ثابت ہوئے تو شاہ جی نے تقدیرکا سہارا لیا۔ اب انھوں نے سیاست دانوں نیتاؤں، سرکاری افسروں اور وزیروں کے گھروں دفتروں کے چکرلگانا ترک کرکے گوشہ عافیت اختیارکر لیا۔ دفتر سے سیدھے گھر آجاتے اور اردو، انگریزی زبانوں میں شائع ہونے دالے معمے بھرنا شروع کر دیتے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے لاٹری کے ٹکٹ بھی خریدنا شروع کر دیئے۔ اپنی آمددنی کا پانچ فیصدی یعنی پچیس روپیے ماہوار وہ اسی دھندے میں لگانے لگے۔ہر بار جب معمے یالاٹری کے نتائج کی تاریخ سامنے آجاتی تو ساری رات شاہ جی ایسے خواب سجانے لگتے جن سے ان کی نیند تقریبا اڑسی جاتی، لیکن دس بییں، حد یہ ہے ک انعامات کی رقم کبھی پچاس روپے سے آگے ہی نہیں بڑھی اوراس طرح ایک سال سے زیاده بیت گیا۔دیوالی دسہرے کے موقع پر ایک صوبائی لاٹری نے پچیس لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تو شاہ جی نے ماہواری کوٹہ اسی کے ٹکٹ کی خرید پر لگا دیا اور جب لاٹر ی کے نتیجے میں پچیس دن باقی رہ گئے تو انھوں نے پچیس دن کا چلہ کھینچ کر دن رات جلالی و ظیفے پڑھنا شروع کر دیئے۔ دفتر جانا ترک کر کے اپنے مکان کے ایک تنگ و تاریک کمرے میں شب و روز گزارنے لگے ۔ چلے سے پیشتر ان کے احباب، اعزام ،اقارب اور آل اولاد نے انہیں کسی نہ کسی طرح سمجھایا کہ لاٹریاں ایک طرح سے جوئےاور قمار بازی کا ہی حصہ ہیں اور جب دینی اور مذہبی احکام ایسے افعال کے سراسر خلاف ہیں تو انہیں اس راہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ پر دستک دینامناسب نہیں ہے ، لیکن شاہ جی نے سنی کی ان سنی کردی اور اب وہ تھے اور نیم فاقہ کشی کی حالت میں وظیفے اور دعائیں بیسویں دن ان کی جسمانی صحت ہی خراب نہیں ہوئی بلکہ تھوڑا بہت ذہنی توازن بھی خراب ہوگیا ۔ چہرے سے پژمردگی ٹپکنے لگی اور آنکھوں کے حلقے سیاہ ہو گئے اور گالوں میں گڈھے نظر آنے لگے ۔ زیادہ تر وہ اس طرح بڑبڑاتے رہتے گویا وه روحوں سے باتیں کررہے ہوں رات کو جب کبھی نیند آتی اوروہ جھو نپڑوں میں محلوں کے سنہرے خواب دیکھتے پچیس لاکھ کا بجبٹ بناتے اوراس پر نظرثانی کر کے اکثراسے منسوخ کر دیتے کبھی وہ کسی فیکٹری کھولنے کاخیال کرتے کبھی رفاہ عام کی خاطرنصف رقم کا منصوبہ بناتے ۔ عبادت گاہوں کے لئے رقم مخصوص کرتے ۔ ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کی فہرست ذہن میں تازہ رکھتے جنہوں نے انہیں دھو کے دیئے ، ان کے ساتھ مکروفریب کی چالیں چلیں ،ضرورت کے وقت ان کی درخواستوں اورمطالبوں کو نظرانداز کر دیا۔ بہرحال عبادت کے ساتھ ساتھ ان کا ذہن منصوبوں اور انتظامات کا مرکز بن چکا تھا۔ انہیں بھرپوریقین تھا کہ جب قسمت میں ہوتا ہے تو پروردگار چھپر پھاڑ کر زرومال سے گھر بھر دیتا ہے۔ خدا کے یہاں دیر ہو سکتی ہے اندهیر نہیں۔

قمار بازی اور عبادت کے رشتوں کو جوڑتے ہوئے وہ سوچا کرتے کہ جب خدا عرب ممالک کے تمام افراد کو بغیرکسی مشقت اور محنت کے دولت اور سرمائے سے نواز سکتا ہے تو ان پر التفاف کی بارش کیوں نہیں ہوسکتی معموں کے لیے ان کا خیال یہ تھا کہ یہ ذہنی مشقت کے طالب ہیں۔ اس لئے انہیں جوا قرار دینا دقیا نوسی بات ہے اور لاٹری کے لئے ان کا جوازیہ تھا کہ صوبائی حکومتیں اس کی آمدنی رفاہ عام کے لئے صرف کرتی ہیں۔ہسپتال بنائے جاتے ہیں، یتیم خانے کھوئے جاتے ہیں ۔ بیواؤں اورضعیفوں کے لئے امدادی مرکز قائم کیے جاتے ہیں۔ سرکار کا ایسے کاموں میں امداد کرنا کسی بھی صورت میں قمار بازی کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔بہرحال وہ دن آہی گیا جس کے لئے شاه جی نے شب روز ایک کر دیئے تھے ۔نتائج دیکھنے کے لئے اخبارکا مطالعہ کیا گیا اورحسن اتفاق کہ جس نمبرکا ٹکٹ شاہ جی کے پاس تھا وہی پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا ۔ ٹکٹ مذکورہ کا نمبر جی جی ۹۴۳۸۱تھا – شاہ جی نے اس پہلے انعامی ٹکٹ کا مقابلہ اپنے خرید شدہ کٹ سے کم از کم دس بار کیا۔ اور ہر بار ان کے دل کی دھڑکن پہلے سے زیادہ تیز ہوتی گئی آخر کار اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی مدرسے بھی ٹکٹ کا مقاب کرایا اور جب انہیں مکمل طور پر یقین ہو گیا کہ وہ پچیس لاکھ کے مالک بن چکے ہیں تو ان کے اعصاب پر رعشہ طاری ہو گیا۔ اورپھر انھوں نے نقاہت کے عالم میں اپنے کمرے میں جا کر لحاف اوڑھ لیا۔ان کے لواحقین نے یہ سمجھا کہ وہ آنے والی رقم کا خاموشی کے ساتھ تخمینہ بنارہے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے۔کہ شاہ جی اتنی لمبی مدت سے عبارت میں مصروف تھے اور نیم فاقہ کشی کی وجہ سے بے حد نحیف ونزار ہو چکے ہیں۔اب ان کا اچھی طرح آرام کرلینا ہی ان کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ لیکن صبح آٹھ بجے کے سوئے ہوئے شاہ جی شام کو سات بجے تک نہ اٹھے توان کی بیوی کوتشویش ہوئی۔ انھوں نے اپنے شوہر کے لئے انوا واقسام کے کھانے پکا رکھے تھے اور وہ چاہتی تھیں کہ آج سب ساتھ مل کر ہی دستر خوان پر بیٹھیں کھائیں پئیں اورجشن مسرت منائیں۔ لیکن جب شاہ جی کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہواکہ وہ ایسی نیند میں مستغرق ہیں جواب قیامت کے دن ہی کھل سکتی ہے شاہ جی شادئی مرگ کا شکاربن چکے تھے۔اپنے شوہرکو مرده پاکر بیوی نے رونا چیخنا اور چلانا شروع کر دیا۔پل بھرمیں خوشی اور مسرت کے قلعے اوندھے منہ جا پڑے اور ساراگھرماتم کدہ بن گیا۔

شاہ جی کی موت کے تیسرے دن جب انعانی ٹکٹ کی رقم حاصل کرنے کے لئے اگلی کارروائی کی گئی تومعلوم ہوا اخبار میں کتابت کی غلطی سے ۴ کا ہندسہ ایک لکھ دیا گیا تھا۔ لیکن تصویر کے اس بھیانک رخ کا ایک اور رخ بھی ہے جس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ لیکن یہ واقعہ ہندوستان کا نہیں، بلکہ انگلستان کا ہے ۔ اور شاہ جی کی طرح زمان حال کا نہیں بلکہ چالیس پچاس برس اس پرانی داستان کا ٹکڑا ہے جب ہندوستان انگریزوں کا محکوم تھا اور ہندوستانی باشندے مقامی لاٹریوں کے رواج سے ناآشنا تھے۔ ان دنوں ڈربی لاٹری میں حصہ لینا عام طور پر ہررئیس گھرانے کے لئے ضروری سا ہو گیا تھا۔ اسی لاٹری میں ایک بار ایک بمپر پرائز ایک کروڑ پونڈ ۱۴ کروڑروپے کا تھا جو سوئے اتفاق سےکسی انگریز کارپینٹر کے نام نکلا۔ یہ شخص جس کا نام شاید ہیملٹن تھا۔ لندن کا ایک غریب اور ناآسودہ کار باشندہ تھا اور انتہائی گندی بستی میں رہتا تھا۔ لاٹری کے منتظمین نے جب محسوس کیا پہلا انعام پانیوالا انتہائی نادار اورمفلس ہے تو ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہیملٹن اچانک دولت کا اتنا وسیع خزانہ پاکر شادی مرگ کا شکار ہوسکتا ہے تو انھوں نے اپنے ملک کے ایک عظیم ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ کارپینٹر مذکور کو اس طرح سے یہ خوشخبری دے کہ وہ خوشی کے مارے مرنہ جائے ۔

ماہرنفسيات نے منتظمین کو یقین دلایاکہ وہ اس فرض کو اس طرح انجام دے گا شادی مرگ کے خدشات پیدا ہی نہیں ہوسکتے۔ اپنے فن کے نشے میں سرشاروہ اس بڑھئی کے پاس پہونچا اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس نے ہیملٹں سے دریافت کیا۔ کیا تم نے ڈربی کا ٹکٹ لیا ہے ؟ جی بے شک اگر تمہیں ایک لاکھ پونڈ کا انعام مل جائے توکیا کروگے؟میں اپنے روزگار کوجدید ترین اوزار سے آگے بڑھاونگا۔اور اگر دس لاکھ پونڈ ملے تو؟ ماہرنفسیات نے دریافت کیا‘‘تومیں ایک عظیم کارخانہ قائم کر دوں گا ۔بڑھئی کا جواب تھا۔اس کے بعد ماہر نفسیات نے رفتہ رفتہ انعام کی رقم بڑھا بڑھا کر بڑھئی سے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں دریاقت کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اصل رقم تک پہونچ گیا۔ اور کہنے لگا ۔۔اگر تمہیں ایک کروڑ یونڈ کا پہلا انعام مل جائے تو کیا کیا کرو گے؟آدھی رقم تم کو دیدوں گا ۔بڑھئی نے برجستہ جواب دیا۔ اتنا سنتے ہی ماہرنفسیات پر غشی کا عالم طاری ہوگیا اور چند منٹوں کے اندر اندر اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔یہ رخ فرسا منظر دیکھ کر بڑھئی بے چین اور مضطرب ہوگیا اوراس نے اس معاملہ کوجب آگے بڑھایا تو اس کے تعجب کی کوئی انتہانہ رہی جب اسے اصل واقعات سے آگاہ کیا گیا۔ اب یہ کہنے کی بھی ضرورت ہے کہ بڑھئی نے اپنا انعام حاصل کرنے کے بعد فورا ہی نصف رقم یعنی سات کروڑ روپے ماہرنفسیات کے پسماندگان کو ادا کردی حالانکہ اس بارے میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

مصنف :انعام الکبیر

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -
- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here