ہائے کیا پر فریب سازش ہے

0
159
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

ہائے کیا پر فریب سازش ہے

شہر کا شہر نذر آتش ہے

جام جمشید زیر گردش ہے

دیکھتے جائیے نمائش ہے

عام ظلم و ستم کا چرچا کیوں

- Advertisement -

خاص لطف و کرم کی بارش ہے

پوچھتی ہے زبان خنجر کی

کیا ابھی زندگی کی خواہش ہے

خوف و دہشت کے سونے جنگل میں

صبر و ہمت کی آزمائش ہے

عقل کے دشمنوں کو کیا کہیے

علم کے مخزنوں پہ بندش ہے

کیا ابھی سانس لے رہے ہو ظفرؔ

جی حضور آپ کی نوازش ہے

مأخذ : ٹک ٹک دیدم

شاعر:ظفر نسیمی

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here