سمجھوتہ

0
176
Urdu Story Afsana
- Advertisement -

حویلی کی نیچی دیوار کی پرلی طرف جانے کس کی پگڑی کاطرہ لہرایا کہ نوری ایک دم سہم کر جھاڑی کے پیچھے دبک گئی۔ سات کوس دور ایک گاؤں وتہ خیل سے وہ پیدل چلتی آرہی تھی۔ اور ان سات کوسوں میں اٹھتے ہوئے ہر ایک قدم کےساتھ اس کا دل بے شمار بار دھڑکا تھا۔ لیکن آسمانی رنگ کے اس طرے کو دیکھ کر اس کا دل اس زور سے اچھلا کہ وہ نالی میں گرتی گرتی بچی۔ اور یہ دیکھ کر اللہ کا شکر بجالائی کہ جھاڑی کا پھیلاؤ بہت کافی تھا۔ اور اس نے اپنے آپ کو بخوبی چھپالیا تھا۔ کچھ دیر وہ دم بخود ہوکر پڑی رہی۔ اس کابس چلتا تو اپنے دل کی دھڑکن کو بھی روک لیتی۔ کیونکہ اس کی دھک دھک سے وہ ڈر رہی تھی۔ جب اطمینان ہوگیا کہ نزدیک کوئی نہیں تو وہ تہمد جھاڑتی ہوئی اٹھی۔ نالی کی پرلی طرف گراہواکمبل اٹھایا اور جھاڑیوں کی آڑ سے باہر آگئی۔ حویلی کی نیچی دیوار کی طرف ایک بار پھر دیکھا۔ اس سے پرے دور تک ایک ریتلی سڑک تھی اور وہی پگڑی والا سائیکل گھسیٹتا ہواآہستہ آہستہ جارہا تھا۔ اس کی پشت دیکھ کر نوری سمجھ گئی کہ وہ اس کے گاؤں کا نہیں ہوسکتا۔ 

کہیں نزدیک سے رہٹ چلنے کی آواز سنائی دی، تو اس نے چونک کر منھ پھیرا۔ ذرا فاصلے پر رہٹ چل رہا تھا۔ کھیت کی کچی مینڈوں پر ہوتی ہوئی وہ آگے بڑھی۔ بارہ تیرہ سال کا ایک ننگ دھڑنک چھوکرا بیلوں کو ہانک رہا تھا۔ بیلوں کے قدم ذراسست پڑتے تو وہ ’’ہا ہا ہش ہش‘‘ چلا تا ہوا ان کے پیچھے دوڑنے لگتا۔ نالے کے آگے ایک چھوٹا سا گڑھا تھا، اس کے اردگرد کچی منڈیر سی بنادی گئی تھی۔ اس کے اندر پانی جمع ہو رہا تھا اور وہاں دو ادھیڑ عمر کی عورتیں نہارہی تھیں۔ گیلے کپڑوں کے پاس پڑی ہوئی سفید صابن کی ٹکیہ کو ایک کوا، اٹھانے کی سعی کر رہا تھا۔ ’’شی شی‘‘ کہہ کر اس نے کوے کو اڑادیا۔ اور کمبل کو گھٹنوں پر رکھ کر منڈیر پر بیٹھ گئی۔ ایک عورت نے مڑ کر دیکھا اور پھر نہانے میں مصروف ہوگئی۔ دوسری بولی، ’’لڑکی! کہاں سے آرہی ہے؟‘‘ 

’’بہت دور سے اماں۔‘‘ 

دونوں نے ایک بار پھر اسے گھور کر دیکھا۔ نوری کچھ سہم سی گئی۔ اسے یہاں نہ آنا چاہیے تھا۔ یا اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کیا عجب کہ یہی اسے پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ یا اس کی کھوج کے لیے یہی نشان ثابت ہوں۔ ’’اللہ‘‘ اس نےغیرارادی طور پر ایک گہرا سانس لیا اور پہلی عورت آگے رکھے ہوئے کپڑے کو نچوڑتے ہوئے بولی، ’’کون ہوتی ہے تو؟ یہ گہرے سانس کیوں لے رہی ہے؟‘‘ 

اس کا جی تو چاہا کہ اٹھ کر بدکی ہوئی گھوڑی کی طرح بھاگ کھڑی ہو۔ لیکن اسے اس سوال میں کچھ ہمدردی کی بو آئی۔ گھر میں اس کی ماں نے ماں بننا منظور نہ کیا تھا باپ نے آنکھیں پھیرلی تھیں۔ اور بھائی ذبح کرڈالنے کی دھمکیا ں ہی دے سکے جھوٹی شان اور گندے وقار کی خاطر وہ اپنی اس نوری کو قربان کرنے پر تل گئے تھے جسے انہوں نےاپنے ارمانوں کی آنچ پرپکایا تھا۔ اور وہ اتنی بڑی ہوگئی تھی۔ باپ کہتا تھا ، ’نوری مرگئی تو میں سارے گھر کو ختم کردوں گا۔ اس کی ایک ایک خواہش پوری کرو۔ دل مانگتی ہے تو وہ بھی نکال کر اسے دے دو۔ میری نوری کی جان بچ جائے۔ مجھے اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ بکواس کرتا تھا وہ رذیل کمینہ؟ اب کیا نوری نوری نہ تھی کہ یوں گھسیٹ کر لے چلاتھا۔ کیا دوسروں کی سب مرگئی تھیں اور ایک میں ہی رہ گئی تھی؟ 

- Advertisement -

آخر آشی اور رحمتاں میں کون سے کیڑے لگے تھے کہ الو کا پٹھا انہیں پسند نہ کرتا تھا۔ اللہ! تو مجھے پیدا ہی نہ کرتا۔ یا جس وقت راضی نامہ طے پایا تھا تو مجھے اس دنیا سے ہی اٹھالیتا۔۔۔ کیا تو بھی ان پانچ شرم کی شرط پر راضی تھا؟ تجھے اپنی ایک ناچیز بندی پر رحم نہ آیا۔۔۔ ربا! اگر یہی تیرا بھی فیصلہ تھا تو مجھے رد کرنے کی طاقت کیوں دے رہا ہے۔ کیوں نہیں میرے دل سے عباس کو کھینچ لیتا؟ یہ ماں بھائی باپ ۔۔۔ سب کے سب کیوں خود غرض اور کمینے نظر آتے ہیں۔۔۔ ان کا خون کیوں جل سڑگیا ہے۔۔۔؟ ربا۔۔۔ ربا۔ 

بوڑھی نے پاس آکر اس کے سرپر ہاتھ رکھ دیا۔ 

’’میں دیکھتی ہوں کہ تو کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہے۔ بتادے تو کون ہے؟‘‘ 

’’اماں۔۔۔‘‘ اس کا دل بھر آیا، اور گھٹنوں پر رکھے ہوئے کمبل پر سرپٹک دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ دونوں عورتیں ہکی بکی کھڑی تھیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ ایک عورت نے گیلے کپڑوں کے ڈھیر کو اٹھائے ہوئے کہا، ’’میں جاتی ہوں اور رضیہ کے ابا کو بھیجتی ہوں۔‘‘ یہ سن کر نوری نے سراٹھایا اور منت کرکے بولی، ’’اللہ کا واسطہ! کسی کو نہ بلاؤ۔ کسی کو پتہ لگ گیا تو میرے قتلے کرڈالیں گے میں بہت دکھی ہوں۔‘‘ 

’’تو پھر بتاتی کیوں نہیں۔ شاید ہم تیری کچھ امداد کرسکیں۔‘‘ 

’’میں مدد نہیں چاہتی اماں! مجھے عباس کا گھر بتادو۔ وہ کہہ گیا تھا کہ وہ یہاں سکول میں پڑھاتا ہے۔ مجھے اس کے پاس جانا ہے۔‘‘ 

’’تو پھر سیدھی اس راہ پر ہولے۔ وہ جو سامنے درختوں کے جھنڈ میں، وہاں سے پتہ ملے گا۔ پر وہ تیرا کون ہوتا ہے؟‘‘ 

’’وہ میرا کچھ نہیں لگتا۔ بہت سال پہلے ہمارے خاندان کے ایک آدمی نے قتل کیا تھا اور سرکار نے اس شرط پر اسے پھانسی نہ دی تھی کہ مقتولین کے رشتہ دار ہمارے خاندان کی پانچ لڑکیاں بیاہ لے جائیں گے۔ چار بیاہی جاچکی ہیں اب میرے ابا کی باری ہے۔ میں ابا کی اکلوتی لڑکی ہوں۔ اور سب گھر والے مجھے قربانی کے گھاٹ پر بھیجنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ لیکن میں اس حرامی کی کبھی نہ بنوں گی۔ اس نے ہمیشہ میری بے عزتی کی ہے۔ کتنی بار وہ سٹوں میں چھپ چھپ کر بیٹھا ہے۔‘‘ 

یہ سب کچھ اس نے اس تیزی سے کہا کہ وہ عورتیں بیچ میں بول نہ سکیں۔ ان کے منھ کھلے رہ گئے۔ اور وہ اٹھی اور مینڈوں پر تھرکتی پگڈنڈی کا موڑ کاٹ گئی۔ 

رہٹ کی دوسری طرف دور تک کھیت ہی کھیت لیٹے ہوئے تھے۔ جوار کے اونچے اونچے سٹے ہوا میں جھوم رہے تھے۔ کھیتوں کے کنارے کنارے جابجا کیکر کے درخت، سرکے پودے اور چھوٹی چھوٹی لیکن گھنی اور خاردار جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ پرلے کھیت کے درمیان دوچار بیریاں پاس پاس سرجھکائے کھڑی تھیں۔ انہیں دور سے دیکھ کر ایک جوہڑ کا گمان ہوتا تھا۔ جسے سرکنڈوں اور سرکے پودوں نے ڈھانپ دیا ہو۔ 

بچوں کے ہنسنے کی آواز سن کر وہ ایک مینڈ پر چڑھ گئی اور اچک کر دیکھا۔ بیریوں کے سائے میں چارپائی پر کوئی پڑا سورہاتھا۔ پاس ہی دوعورتیں جوار کے سٹے کوٹ رہی تھیں اور بیریوں کی پرلی طرف دوچھوٹے چھوٹے بچے بیریوں پر پتھر پھینک رہے تھے۔ 

تلاش کا سلسلہ دنیا میں ازل سے جاری ہے۔ ہر ایک جاندار کسی نہ کسی چیز کی تلاش میں سرگرداں ہے لیکن پتہ نہیں چلتا۔ سفر لمبا ہوجاتا ہے۔ انسان تھک جاتا ہے۔ اور تھک کر گرپڑتا ہے۔ لیکن پھر بھی سفر جاری ہے۔ وہ سوچنے لگی۔ ہم کیوں تڑپتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے دلوں کے اندر تسلی اور اطمینان کیوں نہیں بھردیا؟ آج عباس نہ ہوتا تو وہ کہاں جاتی؟ اس کا دل کمزور نہ ہوتا تو وہ کیوں کسی کی صورت، آنکھیں، گھنگریالے بال اور چوڑا چکلہ سینہ قبول کرتی۔ رب کرے میرا دل کالا پڑجائے۔ اسے تمیز کرنی مشکل ہوجائے۔ وہ اپنےگھروالوں سے چھپ کر آرہی تھی۔ کوئی ایسا ٹونہ چلے کہ وہ سب کچھ بھول جائے۔ جیسے کچھ ہوا نہیں۔ اور وہ گھر لوٹ جائے اور ماں باپ کے دل میں یہ خیال تک نہ پیدا ہو کہ میں بھاگ گئی تھی۔۔۔ لیکن یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ میرے دل میں یہ نفرت کیوں پیدا ہوگئی ہے۔ ماں باپ کو گالیاں دینے کو دل کیوں مجبور ہو رہاہے؟ اُف! میرا جی چلانےکو کیوں چاہتا ہے؟ کیا میں پاگل تو نہیں ہوگئی۔۔۔ ربا! مجھے سمجھا۔ مجھے اتنی توفیق دے کہ میں ابھی واپس چلی جاؤں۔ 

اور نوری رک گئی اور پیچھے مڑ کر دیکھا اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا، ’’کیا وہ واپس چلی جائے؟‘‘ اس کے منھ سے بے اختیار ایک ہوک سی نکلی اور وہ سٹوں کے درمیان ایک تنگ سی پگڈنڈی پر ہولی۔ پتوں کی کھڑکھڑاہٹ اور سٹوں کی سرر سرر کی آوازوں کے درمیان ایک چیخ سی سنائی دی۔ جیسے کوئی پھوڑا اچانک پھٹ پڑے اور بہہ نکلے۔ 

’’میرے محبوب! خربوزوں کی مرجھائی ہوئی کیاریوں کی طرف زندگی بھاگی جارہی ہے۔ چاچا رمضان کنویں کی نئی مال دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔‘‘ 

وہ ایک منڈیر پر چڑھ گئی۔ پرلی طرف ایک آدمی نے سرپر گھاس کا گٹھا اٹھا رکھا تھا۔ وہی کان پر ہاتھ رکھے فضا میں مستی گھولنے کی کوششیں کررہا تھا۔ 

’’میرے محبوب! حویلی کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کو پھر سے تعمیر کیا جارہا ہے۔‘‘ 

’’مزدور کیچڑ میں بےدلی سے ناچ رہے ہیں۔‘‘ 

’’میرے محبوب! چاچا رمضان کا پوتا مجھے بسر بسر دیکھتا ہے۔‘‘ 

’’اس کے ہونٹوں کی ہنسی مجھے کاٹنے کو دوڑ تی ہے۔‘‘ 

’’میرے محبوب! تمہاری پرچھائیں مجھے طاق پر دھڑکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔‘‘ 

’’ہوا میں گھلی ہوئی شہنائی کی آواز سن رہی ہوں۔‘‘ 

’’میرے محبوب! بھوسے کے صندوق میں مرغی انڈے سے رہی ہے۔‘‘ 

’’بچے ایک نئی شرارت سوچ رہے ہیں۔‘‘ 

’’میرےمحبوب! میرا باپ مجھے گالیاں دے رہاہے۔‘‘ 

’’کاش مجھے بھی دق ہوجاتا۔‘‘ 

گانے والا دور ہوتا گیا۔ اس کی آواز بھی مٹتی گئی۔ یہاں تک کہ پتوں کی کھڑکھڑاہٹ اور سٹوں کی سرر سرر میں مدغم ہوکر رہ گئی۔ اور وہ پیچ درپیچ پگڈنڈیوں پر ہوتی ہوئی اچانک ان عورتوں کے درمیان جانکلی۔ چلتے ہوئے موسل رک گئے۔ بچے بھی منھ کھولے نزدیک کھڑے تھے۔ اس نے تیزی سے سوال کیا۔ 

’’وہ یہاں کے سکول میں پڑھاتا ہے۔ ماسٹر ہے آپ جانتی ہیں اسے؟‘‘ 

یہ سن کر انہوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا۔ لڑکی نے چارپائی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ ’’چاچا، چاچا۔۔۔‘‘ دوسری عورت لڑکی کی شاید ماں تھی ۔ پاس ہی زمین پر سٹے بچھاکر بولی، ’’آؤ بیٹھو۔۔۔ اس کا کوئی نام نشان؟‘‘ 

’’عباس نام ہے اس کا۔۔۔ سامنے کے دودانت ٹوٹے ہوئے ہیں۔ گھنگریالے بالوں والا۔‘‘ چارپائی پر لیٹا ہوا بوڑھا اٹھ بیٹھا۔ لڑکی بولی، ’’اماں! فیضو کے استاد ہی کو پوچھتی ہو؟‘‘ 

’’اے ہاں۔۔۔ اس کاگھر تو پاس ہی ہے۔‘‘ اور بوڑھا چارپائی پر سے ٹانگیں لٹکا کر بولا۔ ’’او فیضے! اسے استاد کے گھر پہنچادے۔ جالڑکے جا۔‘‘ وہ شاید کسی بیرکی تاک میں وہاں سے چلاگیا تھا۔ فیضو کو ساتھ لے کر وہ کھیت سے باہر نکلی تو بولی، ’’تیرا نام فیض محمد ہے؟‘‘ 

’’ہاں۔۔۔‘‘ اور منھ میں انگلی ڈال کر گھور گھورکر اسے دیکھنے لگا۔ 

’’اپنے استاد کا گھر اچھی طرح جانتا ہے؟‘‘ 

’’بہت دور ہے ان کا گھر؟‘‘ 

’’اس وقت وہ کیا کر رہے ہوں گے؟‘‘ 

’’کہیں باہر تو نہیں گئے ہوئے؟‘‘ اس نے لڑکے سے کئی سوالات کیے لیکن جواب میں وہ محض سرہلادیتا، اور اس کے ماتھے پر پڑے ہوئےبالوں کو وہ پیچھے پلٹ کر بولی، ’’ان کے گھر میں کوئی عورت تو نہیں رہتی؟‘‘ اس نے اسی طرح انگلی چوستے ہوئے آہستہ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہ گھر ہے ان کا بیری والا۔۔۔‘‘ اور خود مڑا ، اور بھاگ گیا۔ 

وہ کھلے ہوئے طاق کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ اندر چھوٹے سے صحن میں چارپائی پر ایک شخص ننگے بدن صرف ایک تہمد لپیٹے عینک لگائے بیٹھاکچھ کھا رہا تھا۔ نگاہ اٹھی تو ہکا بکا ہوکر رہ گیا۔ وہ اندر چلی گئی اور دونوں اتنے والہانہ طور پر لپٹے کہ اس کشمکش میں نوری کے بندے نے اس کے کانوں کو زخمی کرڈالا۔ کمبل ہاتھ سے پرے جاپڑا اور عینک اس کے بندوں سے الجھی الجھی رہ گئی۔ وہ عباس تھا! 

اس نے ہنستے ہوئے اس بے تابی کے ساتھ ’’نوری‘‘ کہا کہ اس کی ساری امیدیں اور محبت اس ایک لفظ نوری میں آکر بیٹھ گئی۔ اس کے گھنگریالے بالوں کی لٹیں اس کے ماتھے پر پڑی لہرا رہی تھیں۔ اس کے سر کے بالوں، پپوٹوں، ننھی ننھی مونچھوں اور ننگے سینے پر اگے ہوئے بالوں پر گرد جمی ہوئی تھی۔ ہنستے وقت اس کے گالوں میں دونوں طرف ’’چھوٹے چھوٹے گڑھے‘‘ پڑجاتے تھے۔ 

’’رستے میں تمہیں بہت تکلیف ہوئی ہوگی؟‘‘ 

’’تکلیف کی نہ پوچھیے۔ یہی غنیمت سمجھیے کہ جان بچاکر آگئی۔‘‘ 

اور ایک دھڑاکے کے ساتھ دروازے کے دونوں پٹ کھل گئے اور بے تحاشا ایک برچھا عباس کے سینے میں گھس گیا۔ مارنے والا اس کا بھائی تھا۔ پھر اس نے نوری کو چوٹی سے پکڑ کر کھینچا اور تھپڑ اور لاتیں مار مارکر ادھ موا کردیا۔‘‘کمینی۔۔۔! مجھے معلوم تھا کہ تو یہاں ہوگی۔ ’’

مأخذ : جو عورت ننگی ہے

مصنف:رام لعل

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here