پہرےدار

0
113
Urdu Afsana Stories
- Advertisement -

کہانی کی کہانی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسکی بیوی اسکول میں پڑھاتی ہے اور وہ خانگی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ ہر وقت گھر میں رہنے کی وجہ سے اس کا نام پہریدار پڑگیا ہے۔ ایک دن اخبار میں کوئی کہانی پڑھ کر اس نے بھی ایک کہانی لکھی اور اخبار میں اشاعت کے لیے بھیج دی۔ اس کی کہانیاں چھپنے لگیں اور اس کے ساتھ ہی اس کی زندگی بھی بدلتی چلی گئی۔

مسز رابرٹس گرل اسکول میں معلمہ تھیں۔ رہی ہوں گی کبھی اس قابل کہ کسی نے ان پر نظر ڈالی ہو۔ مگر اب تو ان کی صورت میں اور ایک چغادری مینڈک میں کوئی فرق نہ تھا۔ چہرے پر چھوٹی سی چپٹی ناک، موٹی سی گردن ذرا آگے کو نکلی ہوئی، چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں، مگر پیٹ اور اس کے اوپر کا حصہ ارے توبہ! معلوم ہوتا لبنیوں کو الٹ کر کرب کے مٹکے پر رکھ دیا ہے۔ اس حصے سے بھی نمایاں تو وہ ابھری ہوئی بڑی بڑی آنکھیں تھیں، جن میں ممکن ہے کبھی غمزہ و ادا کے دشنے پنہاں رہے ہوں مگر جن میں اب مست و برتری کی مستقل جھلک کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ اس برتری کا خواہ کسی اور پر اثر ہو یا نہ ہو لیکن اس رفیق حیات سے، جو نہ جانے کیوں زندگی کا ساتھی بن گیا تھا ان نینوں کی آب اب بھی پانی بھرواتی تھی اور ان بچیوں سے لرزہ اندامی کا خراج بھی لے لیتی تھی۔ جنہیں ان کے درجہ میں پہنچ کر ان کی ’’مامتا‘‘ سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا تھا۔ گھر میں بچے بھی خواہ باپ کا کہا نہ مانیں، لیکن ان کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔ وہ جس طرح اسکول میں حکومت کرتی تھیں اسی طرح گھر پر۔ کیا مجال کہ کوئی کام بغیر ان کے حکم کے ہو جائے یا کوئی پروگرام بغیر ان کی منظوری کے چل جائے۔ ’’پرنس کیتا برائے بیت تھے ۔ بیت کے اصلی معنوں میں۔ یعنی گھر کی دیکھ بھال کے لیے! صرف پہریدار! اسکول سے پلٹنے پر ان سے باقاعدہ پوچھ گچھ ہوتی۔ کون کون سا کام پایا، کون کون سا ناتمام رہا۔ آخرالذکر کے لیے سبب بھی مفصل بیان کرنا ضروری تھا۔ ڈانٹ سننا بھی۔’’ بس تم تو پردہ دار بیویوں کی طرح بیٹھے بیٹھے پلنگ کے توڑتے ہو۔ لاکھ سمجھا جاؤ، بتاجاؤ مگر کبھی کوئی کام ٹھیک طور پر نہیں ہوتا۔ میں آخر کن باتوں کو دیکھوں، اسکول میں اپنی جان کو پیٹوں اور ٹیوشنوں پر بھی اور اس پر بھی جب گزروں تو ان نوکروں کی نگرانی کروں۔ یہ تو مجھ سے ناممکن ہے۔

مسکین میاں میں اتنا دم نہ تھا کہ وہ جواب دے سکے۔ کسی زمانے میں وہ جوان تھا اور خوبصورت بھی اور چار پیسے کمانے والا بھی۔ لیکن اس زمانے میں اس مسماۃ کی محبت زوروں پر تھی۔ انہوں نے محبوب کو شوہر بنایا۔ پھر اس سے اس کا کام چھڑوایا۔ آخر دو سو روپے مہینہ کے قریب کس لیے کماتی تھی؟ ان کے دماغ میں یہ خیال گھر تھا کہ ان کے شوہر کی طرح کے بانکے جوان کی ہر عورت بھوکی رہتی ہے۔ اس لیے بالکل اسی طرح پردہ میں ساری دنیا سے الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔ جس طرح مسلمان شرفا اپنی بیویوں کو رکھتے ہیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی اسے اپنی نظروں سے پوشیدہ نہ ہونے دیتی۔ لیکن وہ تو لڑکیوں کے اسکول کا معاملہ تھا، وہاں وہ دھنستے نہ پاتا۔ اس لیے شوہر کا کام تھا کہ انھیں اسکول تک ساتھ ساتھ جاکر پہنچا آئے۔ پھر گھر پر آکر بچوں کو دیکھے۔ امورخانہ داری کا انتظام و انصرام کرے۔ ساڑھے تین بجے پھر اسکول جاکر انہیں لے آئے۔ پھر ٹیوشنوں پر جہاں کہیں وہ جائیں ساتھ ساتھ جائے اور گھنٹہ دو گھنٹہ جب تک وہ پڑھاتی رہیں باہر بیٹھا مکھیاں مارا کرے۔

شروع شروع میں تو میاں نے بھی یہ ساری مصیبتیں اور ذلتیں محبت کی بدولت خوشی خوشی برداشت کر لیں۔ پھر آہستہ آہستہ عادت سی پڑ گئی۔ بیوی کی اطاعت و خوشنودی و نگرانی اس کی طبیعت ثانیہ بن گئی۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس کا نام ہی پہریدار رکھ دیا۔

مسز رابرٹس کو مطلقاً اب اس پہرے چوکی کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن انہیں اس میں مسرت ملتی تھی کہ وہ ان کی جنس پر حکومت جتانے والی ایک ہستی کو محکوم بنائیں اور سہیلیوں سے یہ کہیں کہ ’’میں کیا کروں ان کی طبیعت کو کہ اب بھی ان کا مجھے گھورنے سے جی ہی نہیں بھرتا۔ نہ جانے کیوں اب بھی انہیں یہ شک رہتا ہے کہ میں کسی کے ساتھ بھاگ جاؤں گی، بس جہاں میں نے باہر جانے کا نام لیا اور وہ دم کی طرح میرے ساتھ لگ گئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک خاص قسم کی ہنسی ہنستی تھیں جو بلی کی اس خر، خر سے مشابہ ہوتی تھی جو پیٹھ سہلانے پر اس کے منہ سے نکلتی ہے۔

- Advertisement -

اور بےچارہ رابرٹس؟ اس نے اس تکلیف کو ہمیشہ محسوس کیا جو ایک بےسہارے کے دل میں ہر وقت کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے۔ وہ بیوی کے ٹکڑوں پر پڑا تھا۔ وہ اسی کی کمائی کھاتا تھا، وہ اسی کا دیا ہوا پہنتا تھا، اس کے اپنے بچے اسے باپ کی جگہ ملازموں کا جمعدار سمجھتے تھے۔ وہ بھی کبھی کبھی اس طرح جھڑک دیتے تھے جیسے وہ بس اپنی ماں ہی کے بچے ہیں۔ ان امور سے گھبراکر وہ تنہائی میں قلم و دوات لے کر بیٹھ جاتا اور نہ جانے کیا کیا لکھ ڈالتا۔ روزانہ کے حالات، کوئی نیا واقعہ، کوئی مضحک بات، کوئی رقت آور حکایت یا مینڈک خانم کا کوئی نیا حکم۔

ایک دن چند ایسے لوگوں سے گفتگو کے سلسلے میں جن کے ہاں میڈم کی آمد و رفت تھی یہ معلوم کرکے کہ ہندوستان کی بعض زبانوں کے رسالے اور اخبار اپنے لکھنے والوں کو معاوضہ میں خاصی اچھی رقمیں دیتے ہیں۔ اس کے دل میں بھی طبع آزمائی کا خیال پیدا ہوا اور اس نے کئی کئی ہفتے اس خیال کو دماغ میں الٹ پلٹ کر ہر گوشے سے دیکھا اور بالآخر ایک دن اس نے جرأت کر ڈالی۔ ایک چھوٹی سی کہانی لکھ ہی لی۔ یوں تو ڈائری لکھنے میں اس کا قلم کافی تیز چل لیتا تھا مگر وہ اپنی تسکین کے لیے لکھی جاتی تھی۔ یہ تحریر اخبار میں بالمعاوضہ شائع کرانے کے لیے تھی۔ ہر لفظ پر غور کرتا رہا۔ مناسب ہے، نامناسب ہے عبادت کے سیال کو دیکھتا رہا۔ نوک پلک سے درست ہے یا نہیں، جملوں کو دہراتا رہا چست ہیں کہ سست۔ غرض وہی کہانی جو آدھے گھنٹے میں اپنی ڈائری میں کھینچ دی جاتی تھی۔ پورے ایک ہفتہ میں لکھی گئی۔ اب فکر ہوئی کس نام اور پتہ سے بھیجی جائے۔ اگر میڈم نے کہیں سن گن پالی تو بس نصیحتوں کاایک دفتر کھل جائےگا۔ ڈانٹ پر ڈانٹ پڑےگی۔ اس لیے اس نے ’’گمنام‘‘ فرضی نام رکھا اور جواب پوسٹ ماسٹر کے ذریعہ منگایا۔ پہلی ہی کہانی منظور کر لی گئی اور بڑی شان سے شائع ہوئی۔ پوسٹ ماسٹر کے ذریعہ تیس روپے کا منی آرڈر بھی ملا اور دوسری کہانیوں کی فرمائش بھی۔ پہریدار کی مسرت و خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ ان تیسوں روپیوں کو لے کر سڑک پر یہ چیختا ہوا اچھلتا چلے کہ ’’دیکھو میں نے اتنے روپے خود کمائے ہیں، اپنی قوتِ بازو سے اور بےمنت غیرے!‘‘ لیکن وہ اپنے جذبات پر قابو رکھنے کا عادی ہو گیا تھا۔ اس نے پوسٹ ماسٹر سے مل کر اپنے فرضی نام کا ایک لیٹر بکس رکھوایا۔ منی آرڈر وصول کرنے کے مستقل انتظام کیا اور ان کی فیس دے کر بقیہ روپے سیونگ بنک میں اپنے نام جمع کرا دیے۔

اب وہ لکھنے لگا، مہینہ میں چار چھ کہانیاں اس کی اوسط تھی۔ کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی لکھتا اور تقریباً ڈیرھ سو روپے ماہوار کمانے لگا۔ ادھر تو خاموشی سے یہ ساری رقم سیونگ بینک میں جمع ہوتی رہی اور ادھر ادبی دنیا میں ایک نئے ستارے کے ظہور سے ایک خاصی چہل پہل پیدا ہو گئی۔ لوگوں نے سوانح بھی دریافت کرنا شروع کیے اور فوٹو بھی طلب کیے۔ چنانچہ ہر طلب گار کو اس نے یہی لکھا کہ ’’خود مجھے گمنامی پسند ہے اور میری صورت دوسروں کے لیے ناپسندیدہ۔ اس لیے پردہ اِخفا ہی میں رہنا زیادہ مناسب ہے۔‘‘ اس جواب کی اشاعت نے اور بھی کاوش و تلاش بڑھا دی اور اس کی جنس پر شبہ ہونے لگا۔ کہیں کوئی پردہ والی خانم تو نہیں کہ سوانح و تصویر شائع کرانے سے قاصر ہے۔ دلچسپی بڑھی۔ ملک کے ایک بڑے اخبار نے اس سوال کو اچھال دیا۔ میڈم نے بھی اسے دیکھا۔ ان کو اس نئے لکھنے والے کی کہانیاں دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ حکم ہوا وہ رسالے اور اخبار تلاش کر لاؤ جن میں وہ شائع ہوئی ہیں۔ اصل تو ہر ایک کی اس کے پاس بھی موجود تھی۔ بعض چیزیں مطبوعہ صورتوں میں بھی تھیں۔ مگر انھیں ملاحظہ کے لیے پیش نہ کر سکتا تھا۔ غرض تلاش و جستجو سے مختلف رسالے اور اخبار جمع کرکے حاضر کیے، پڑھے گئے اور ان پر مہر پسندیدگی بھی لگ گئی، مگر طعنے بھی دیے گئے۔ ’’کاش تم ایسا لکھ سکتے۔ کاش تم ہی وہ چھپے رستم نکلتے، مگر تمہیں تو سلیقہ سے بات کرنا بھی نہیں آتا۔ تم بھلا کیا ایسی چیزیں لکھ سکتے ہو۔‘‘

وہ سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا۔ پہلے جب کچھ نہ تھا جب بھی سن لیتا تھا۔ اب تو بہت کچھ تھا، خود پر اعتماد تھا، خیال کمتری روز بروز گھٹتا جا رہا تھا۔ اب کیوں نہ خاموش رہتا۔‘‘

لیکن اس کی خاموشی ناظرین کی نگاہوں میں اس کی قدروقیمت بڑھاتی رہی۔ مطابع نے مجموعے مانگنے شروع کیے۔ سال میں دو مجموعے نکلے، بڑے اچھے ریویو ہوئے۔ مطبع والوں کے تجارتی گروں سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کے دام تو کچھ کم ہی ملے، لیکن افسانوں کا معاوضہ بڑھا۔ ادھر بینک میں بھی سرمایہ بڑھا۔ مطبع والوں کا تقاضا ہوا کہ اب آپ کے قلم سے ناول ملنا چاہیے۔ اسے بھی خیال ہوا واقعی ’’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے۔‘‘ پلاٹ پر غور کرتا رہا۔ رہ رہ کے یہی جی چاہتا اپنی ہی ڈائری سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے ہی سوانح لکھ ڈالو۔ چنانچہ داغ بیل ڈال دی اور کتربیونت کرنا شروع کر دیا۔ وہاں ایک اخبار والے کو خبر ملی کہ ناول تیار ہو رہا ہے۔ اس نے قسط وار اشاعت کے حقوق لے لیے۔ اس نے اسے منظور کیا۔ اب ناول کا ایک باب تیار کرنا ہر ہفتے ضروری ہوا۔

ایک دفعہ کئی دن میڈم کے کاموں میں لگا رہا۔ کچھ اپنی طبیعت ناساز تھی، کچھ بچوں کی۔ غرض چار دن کچھ نہ لکھ سکا۔ پانچویں دن ایک باب ختم کرکے بھیجنا ضروری تھا۔ صبح سے پریشان پریشان سا رہا۔ فکر یہی تھی کہ میڈم کسی طرح اسکول جائیں تو قلم اٹھایا جائے۔ انہیں اسکول جاکر فراغت پائی اور لڑکوں کو گھر سے ہنکاکر لکھنے بیٹھ گیا۔ مگر قلم نے ساتھ نہ دیا۔ لاکھ لاکھ کوشش کرتا ہے مگر اشہب قلم نہیں چلتا۔ وہ اٹھا اور اس نے پانی پیا اور پان کھائے، پھر کرسی پر بیٹھا کہ اب شاید قلم چلے ،مگر چند سطریں لکھنے کے بعد پھر وہی حالت ہو گئی۔ دماغ پر جو زیادہ زور دیا تو نیند آنے لگی۔ میز پر سر رکھا اور سو گیا۔

میڈم نے اسکول میں بڑا انتظار کیا۔ جب پہریدار نہ آیا تو حد درجہ غصہ میں تانگے پر بیٹھ کر چلی آئیں کہ فرض سے اغماض پر کس طرح گوشمالی کی جائے۔ گھر جو پہنچیں کو ڈرائینگ روم میں نہ پایا۔ مختلف کمروں میں دیکھ ڈالا۔ بالآخر وہ اس کباڑخانے میں میز پر سر رکھے سوتا ملا جو مختلف طرح کی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کے لیے مخصوص تھا۔ بےحد غصہ آیا۔ جگہ نکالی ہے۔ اس نے آرام کرنے کی۔ بالکل اس انداز سے وہ آگے بڑھی جس انداز سے ایک سپاہی مفرور ملزم کو گرفتار کرنے بڑھتا ہے۔ موٹا بھدا ہاتھ کندھے پر رکھ کر جھنجھوڑنا تھا۔ دفعتاً میز پر پھیلے ہوئے کاغذات پر نظر پڑی۔ پڑھنے لگیں۔ ایں یہ کیا معاملہ ہے۔ پہریدار کو نہ جگایا۔ حود بھی ایک پاس والی ٹوٹی کرسی پر سنبھل کر بیٹھ گئیں اور میز سے ایک ایک پرزہ اٹھاکر پڑھنے لگیں۔ جیسے جیسے پڑھتی جاتی تھیں حیرت بڑھتی جاتی تھی۔ قلم وہی ہے، انداز نگارش وہی ہے، لیکن لکھنے والا پہریدار کیسے ہو سکتا ہے۔ اس میں بات کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ یہ ان تخئیلی چیزوں کا خالق کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر بھی رعب چھا گیا۔ دبے پاؤں اٹھیں اور آہستہ آہستہ میز کا دروازہ کھولا۔ ایک موٹا سا رجسٹر دکھائی دیا۔ اسے اٹھاکر میز پر رکھا اور پڑھنا شروع کیا۔ روزانہ کے واقعات تحریر دکھائی دیے۔ ذکر بھی تھا۔ اپنا بھی اور بچوں کا بھی۔ تفتیش ہوئی۔ دیکھوں کہیں میرے خلاف بھی کوئی بات لکھی ہے۔ تقریباً سو ورق پلٹنے کے بعد ایک جگہ ایک کارٹون ساملا۔ ایک چھوٹا سا پتلی ٹانگوں والے بوٹ کی تصویر کھینچی تھی۔ اس کی پیٹھ پر ایک بڑا سا گبرو اس طرح بیٹھا دیا تھا کہ بیچارہ بوٹ پسا جاتا تھا۔ نیچے لکھا تھا۔ ’’میڈم اور میں!‘‘

میڈم کا غصہ آخری حد تک پہنچ گیا۔ انہوں نے اب کے شانہ پکڑکر جھنجھوڑا۔ پہریدار نے آنکھیں کھولیں۔ دیکھا تو سر پر کھڑی ہیں۔ ڈائری سامنے کھلی ہے اور تصویر پر کلمہ کی انگلی ہے۔ اس کی بالکل وہی حالت ہوئی جو اس بچے کی ہوتی تھی جسے میڈم شرارت کرتے بچشم خود دیکھ لیتی تھی۔ وہ کانپنے لگا۔

میڈم نے گرج کر پوچھا۔ ’’یہ تم نے بنائی ہے؟‘‘

اس نے جھینپ کر ڈائری اٹھالی۔ ’’آپ بھی کہاں مذاق کی باتوں کا خیال کرنا۔ اس نے بات ٹالنے کے لیے کہا۔

’’ہاں یہ سب مذاق ہی تو ہے۔ تم گھر کے نجی حالات لکھ لکھ کر اخبارات میں چھپواتے ہو اور میں جب پوچھتی ہوں کہ ان کا لکھنے والا کون ہے تو کیسے بھولے پن سے کہتے ہو میں کیا جانوں!‘‘ وہ اپنی تیز گرجتی ہوئی آواز میں بولیں۔

’’تو کیا کرتا میں؟ وہ سب ناول لکھنے پر مصر تھے۔ یہاں کوئی پلاٹ ذہن میں نہ آتا تھا۔ کہا لاؤ آپ بیتی لکھ ڈالوں۔‘‘ اس نے دفاع میں کہا۔

’’لیکن یہ نہ سوچا کہ اس رسوائے کے بعد میں کسی کو کیسے منہ دکھا سکوں گی اور یہ سب بدلہ ہے اس محبت کاجس کی بدولت میں نے اپنا سب کچھ تم پر نثار کیا۔‘‘

وہ ایک بار پلٹ پڑا۔ اس نے میڈم کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ ’’کتنا خرچ کیا ہوگا تم نے مجھ پر اس وقت تک؟‘‘

وہ ذرا جھلا کر بولیں۔ ’’ہزاروں!‘‘

اس نے دوسرا دروازہ کھولا اور سیونگ بنک کی کتاب نکالی۔ ’’تو لو اس میں ڈھائی ہزار ہیں۔ یہ سب تمہارا ہے اورمیں آیندہ سے تمہارا اور اپنا خرچہ خود دوں گا۔‘‘

اس نے میز پر پاس بک زور سے پھینکی اور پاؤں پٹکتا باہر چلا۔ میڈم نے جلدی سے پاس بک نکالی۔ کھول کر دیکھا تو واقعی اس میں ڈھائی ہزار روپے جمع تھے۔ وہ اسے کلیجے لگا کر پکارتی ہوئی لپکیں۔ ’’ڈیر! سنو تو، تم تو خواہ مخواہ مذاق کی بات کا برا مان گئے!‘‘

مأخذ : میلہ گھومنی

مصنف:علی عباس حسینی

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here