دیا جلے ساری رات

0
114
Urdu Story Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’یہ محبت کو ایک نئی شکل میں پیش کرتی کہانی ہے۔ تراونکور میں کشتی میں بیٹھ کر سمندر میں گھومتے ہوئے کب شام ہوگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ شام رفتہ رفتہ رات میں تبدیل ہوتی گئی اور کشتی آگے بڑھتی رہی۔ کنارے سے بہت دور نکل آنے پر اس نے پاس ہی میں ایک دوسری کشتی کو دیکھا، جس سے ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی۔ کشتی جب پاس آئی تو پتہ چلا کہ اس میں ایک عورت سوار ہے جو پاس کے ایک درخت پر دیا جلا کر واپس چلی گئی۔ اس نے اپنے ملاح سے اس عورت کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ عورت گزشتہ تین سال سے اپنے اس محبوب کا انتظار کر رہی ہے جومر چکا ہے۔ اسے راستہ بتانے کے لیے وہ ہر رات اس درخت پر دیا جلا کر جاتی ہے۔‘‘

جہاں تک نظر جاتی تھی ساحل کے کنارے ناریل کے پیڑوں کے جھنڈ پھیلے ہوئے تھے، سورج دور سمندر میں ڈوب رہا تھا اور آکاش پر رنگا رنگ کے بادل تیر رہے تھے، بادل جن میں آگ کے شعلوں جیسی چمک تھی اور موت کی سیاہی، سونے کی پیلاہٹ اور خون کی سرخی۔

ٹراونکور کا ساحل اپنے قدرتی حسن کے لئے ساری دنیا میں مشہور ہے، میلوں تک سمندر کا پانی زمین کو کاٹتا، کبھی پتلی نہروں کے لہریے بناتا کبھی چوڑی چکلی جھیلوں کی شکل میں پھیلتا ہوا چلا گیا۔ اس گھڑی مجھ پر بھی اس حسین منظر کا جادو دھیرے دھیرے اثر کرتا جا رہا تھا، سمندر شیشے کی طرح ساکن تھا مگر پچھمی ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا آیا اور سمندر کی سطح پر ہلکی ہلکی لہریں ایسے کھیلنے لگیں جیسے کسی بچّے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلتی ہے، دور۔۔۔ بہت دور۔۔۔ کوئی مچھیرا بانسری بجا رہا تھا، اتنی دور کہ بانسری کی پتلی دھیمی تان پھیلے ہوئے سنا ٹے کو اور گہرا بنا رہی تھی۔

میرا ناؤ والا بھی اس سحر آفریں ماحول سے متاثر معلوم ہوتا تھا، جیسے ہی ہماری لمبی پتلی کشتی ناریل کے جھنڈوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی کھلے سمندر میں آئی، اس نے چپو پر سے ہاتھ ہٹالئے، سمندر کی طرح وہ بھی خاموش تھا۔ کشتی نہ آگے جا رہی تھی نہ پیچھے، لہروں کی گود میں دھیرے دھیرے ڈول رہی تھی، فضا اتنی حسین، اتنی شانت، اتنی خواب آور تھی کہ ذرا سی حرکت یا دھیمی سی آواز بھی اس وقت کے طلسم کو توڑنے کے لئے کافی تھی۔ کشتی ڈول رہی تھی، کشتی والا چپ چاپ ٹکٹکی باندھے سورج کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہا تھا، میں خاموش تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہوا بھی سانس روکے ہوئے ہے، سمندر گہری سوچ میں ہے اور دنیا بھی گھومتے گھومتے رک گئی ہے۔

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کوئی لون کے قصبے کو، ہم بہت دور چھوڑ آئے تھے، اب تو ساحل کے کنارے والے ناریل کے جھنڈ بھی نظر نہ آتے تھے اور دور سے آتی ہوئی ٹرین کی سیٹی کی آواز ایسی سنائی دیتی تھی جیسے کسی دوسری دنیا سے آرہی ہو، ایسا لگتا تھا جیسے اس چھوٹی سے کشتی میں بہتے بہتے ہم کسی دوسرے ہی سنسار میں جا نکلے ہوں۔ یا بیسویں صدی کی دنیا اس کے تمدّن اور ترقی کو بہت دور چھوڑ آئے ہیں اور کسی پچھلے یگ میں پہنچ گئے ہوں جب انسان کمزور تھا اور قدرت کے ہر مظہر کے سامنے ماتھے ٹیکنے پر مجبور تھا۔ یہاں سمندر گہرا تھا اور آکاش اونچا تھا بہت اونچا اور سمندراور آکاش کے درمیان ایک ننھی سی، کمزور سی، حقیر سی کشتی ڈول رہی تھی، اور چھوٹا سا، ادھ ننگا کشتی والا، ایسا لگتا تھا جیسے کسی پرانے زمانے سے بھٹک کر ادھر آنکلا ہو، جب انسان نے ناؤ بنانا اور چپو چلانا سیکھا ہی تھا۔

- Advertisement -

سورج کی آتشیں گیند سمندر کی سطح پر ایک پل کے لئے ٹھٹکی اور پھر دھیرے دھیرے پانی میں ڈوب گئی، پھر اس کی آخری کرنیں بھی مغربی آسمان پر گلابی غازہ ملتے ہوئے رخصت ہوگئیں اور تھوڑی دیر بعد ہی موت کی پر چھائیں کی طرح گہرا اندھیرا آسمان اور زمین دونوں پر چھا گیا، اتنا گہرا اندھیرا کہ میرا دم گھٹنے لگا، میں کشتی والے سے کہنے ہی والا تھا کہ کوئی لون واپس چل کہ کچھ دیکھ کر میں ٹھٹک گیا اور حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ منظر تھا ہی اتنا عجیب، کیا دیکھتا ہوں کہ دور سمندر میں ایک چراغ بہتا ہوا چلا جا رہا ہے۔

’’وہ کیا ہے؟‘‘ آخر کار میں نے کشتی والے سے پوچھا۔ پیچھے مڑ کر اس انوکھے چراغ کو دیکھے بغیر ہی وہ بولا، ’’ابھی آپ خود ہی دیکھ لیں گے، صاحب۔‘‘ نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگا کہ یہ کہتے وقت اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ وہ کشتی والا تھا، سچ مچ عجیب ہی آدمی، شکل سے نہ جوان لگتا تھا نہ بڈھا، ٹرا و نکور میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی تو تقریباً ہر ایک ہی بول سکتا ہے، مگر وہ اچھی خاصی ہندوستانی بھی بول لیتا تھا، ایک اور درجہ بھی تھی، میں مسافروں سے بھری ہوئی دوسری بڑی بڑی کشتیوں میں سیر کرنا نہ چاہتا تھا، میں سکون اور خاموشی چاہتا تھا، چیخ پکار اور ہنگامہ نہیں، کوئی باتونی کشتی والا مل جاتا تو بے کار بک بک سے سارا مزا کر کراکر دیتا۔

’’صاحب! یہ دیکھو، صاحب وہ دیکھو، یہ لائٹ ہاؤس دیکھو، ووہ ٹاپو دیکھو، صاحب کتنے دن ٹھیروگے، صاحب یہاں سے کہاں جاؤگے؟ صاحب تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ صاحب بیوی بچوں کو ساتھ نہیں لائے۔۔۔؟‘‘ مگر میرا کشتی والا میری طرح خاموشی پسند تھا، گھنٹہ بھر میں اس نے مشکل سے دو چار باتیں کی ہوں گی، چپ چاپ بیٹھا چپو چلاتا رہا اور اس تمام عرصہ میں اس کے بارے میں سوچتا رہا تھا، اتنا بڈھا تو نہ تھا پھر اس کے چہرے پر یہ جھرّیاں کیسے پڑیں، اس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں یہ دکھ کی پر چھائیاں کیوں تھیں؟ وہ اتنا خاموش کیوں تھا جیسے زندگی سے بالکل تھکا ہوا اور بیزار ہو، جیسے دنیا کے سارے دکھ سکھ اس پر گزر چکے ہوں اور اب وہ ووہاں پہونچ گیا ہو جہاں نہ دکھ ہے نہ سکھ ہے، صرف ایک گہری، اتھاہ مایوسی ہے اور اکتاہٹ ہے۔

ہاں تو میں نے اس سے پوچھا، ’’وہ کیا ہے؟‘‘ اور اس نے پیچھے مڑ ے بغیر جواب دیا، ’’ابھی آپ خود ہی دیکھ لیں گے صاحب۔۔۔‘‘ جیسے اسے پہلے ہی سے معلوم ہو کہ میں کس انوکھے نظارے کی طرف اشارہ کر رہا ہوں اور پھر اس نے ہماری کشتی کو دھیرے دھیرے اسی طرف کھینا شروع کر دیا جدھر اندھیرے سمندر میں وہ روشنی بہتی ہوئی جا رتھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک اور کشتی چلی جا رہی ہے جسے ایک اکیلی عورت کھے رہی ہے اور اس کشتی میں ایک لالٹین رکھی ہے، جس کی روشنی دور سے میں نے دیکھی تھی۔ اتنی رات کو اندھیرے سمندر میں وہ کہاں جا رہی تھی اور کیوں؟ کیا وہ سچ مچ کی کشتی تھی یا صرف میرے تخیل کا ہیولے ٰ جو اس طلسمی اندھیرے ماحول میں ابھر آیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے مانجھی نے اپنی کشتی کو عورت کی کشتی سے کافی فاصلے پر رکھا، تاکہ ہم اندھیرے میں چھپے رہیں اورہمیں نہ دیکھ سکے، مگر لالٹین کی روشنی کے دائرے میں وہ اچھی طرح نظر آرہی تھی۔ ایک میلی سی ساڑھی میں لپٹی ہوئی دبلی پتلی عورت تھی مگر اس وقت چہرہ ساڑھی کے آنچل میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی کشتی بیچ سمندر میں ایک جگہ رک گئی۔ جہاں ایک ڈوبے ہوئے درخت کا ٹھنٹھ پانی سے باہر نکلا ہوا تھا۔

سمندر میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایسے کتنے ہی ٹھنٹھ آسمان کی طرف انگلی اٹھائے کھڑے تھے، مگر اس درخت پر ایک لالٹین بندھی ہوئی تھی، جس میں اب اس عورت نے تیل ڈالا اور پھر دیا سلائی جلا کر اسے روشن کیا، جیسے ہی وہ لالٹین جلی اس کی روشنی میں میں نے اس عورت کاچہرہ دیکھا، جس پر سے آنچل اب ڈھلک گیا تھا۔ وہ چہرہ مجھے آج تک اچھی طرح یاد ہے، میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ پیلا، بیمار چہرہ، پچکے ہوئے گال، دھنسی ہوئی آنکھیں۔ بال پریشان اور دھول سے اٹے ہوئے ہاتھ جس سے وہ لالٹین کی بتی کو اونچا کر رہی تھی کمزوری سے کانپ رہا تھا، مگر اسی لالٹین کی طرح وہ چہرہ بھی ایک اندرونی روشنی سے منّور تھا۔

نیلے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں ایک عجیب چمک، انتظار کی چمک، امید کی چمک، اعتقاد کی چمک، ایسی چمک جو بھجن کرتے وقت کسی جوگن کی آنکھوں میں ہوسکتی ہے، کسی شہد کی آنکھوں میں یا کسی محبت کرنے والی آنکھوں میں جو اپنے عاشق سے بہت جلد ملنے کا انتظار کر رہی ہو! ضرور وہ بھی اپنے محبوب کی منتظر تھی، کم سے کم مجھے اس کا یقین ہوگیا میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی کشتی گھمائی اور جس خاموشی سے آئی تھی اسی طرح دھیرے دھیرے چپّو چلاتی ہوئی ایک ٹاپو کی طرف چلی گئی، جہاں ستاروں کی روشنی میں ماہی گیروں کے جھونپڑے دھندلے دھندلے نظر آ رہے تھے۔ اب وہ گا رہی تھی، ملیالی زبان کا کوئی لوک گیت، انجانا مگر پھر بھی جانا بوجھا جس کے الفاط کو میں نہ سمجھ سکتا تھا مگر ایسا لگتا تھا، جیسے یہ گیت میں نے پہلے بھی کسی اور زبان میں سنا ہو۔

’’وہ کیا گا رہی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اور مانجھی نے جواب دیا، ’’یہ ہم لوگوں کا پرانا گیت ہے صاحب! عورتیں اپنے پریمیوں کے انتظار میں گاتی ہیں، میں ساری رات دیا جلائے تیری باٹ دیکھتی رہی ہوں، تو کب آئے گا ساجن؟‘‘ اور مجھے اپنے ہاں کا لوک گیت دیا جلے ساری رات، یاد آگیا جو ہمارے ہاں عورتیں بھی ایسے موقعہ پر ہی گاتی ہیں۔ ’’کیا ساری دنیا کی عورتوں کے من میں سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے؟‘‘ میں نے سوچا اور پھر مانجھی سے کہا، ’’تو اسی لئے وہ یہاں لالٹین جلانے آئی تھی؟ تاکہ اس کا پتی یا پریمی رات کو لوٹے تو اندھیرے سمندر میں راستہ نہ کھو بیٹھے؟‘‘

مانجھی نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے پھر سوال کیا، ’’کیا اس کا پریمی آج کی رات آنے والا ہے؟‘‘ اندھیرے میں مانجھی کی آواز ایسی آئی جیسے وہ کسی بڑے دکھ کے احساس سے بوجھل ہو۔ ’’نہیں وہ نہیں آئے گا، نہ آج رات، نہ کل رات۔ وہ مر چکا ہے، کئی برس ہوئے مر چکا ہے۔‘‘ میں نہ سمجھ سکا اور تعجب سے پوچھا، ’’کیا مطلب؟ کیا اس عورت کو نہیں معلوم کہ اس کا پریمی مر چکا ہے اور اب کبھی نہ لوٹے گا۔‘‘

’’وہ جانتی ہے۔۔۔ شاید، مگر وہ مانتی نہیں، وہ اب تک انتظار میں ہے۔۔۔ اس نے امید نہیں چھوڑی۔۔۔‘‘

اور کئی برس سے وہ ہر رات یہاں آتی ہے اور یہ لالٹین جلاتی ہے، تاکہ اس کے پریمی کی کشتی اندھیرے میں راستہ پا سکے۔ میں نے کہا، مانجھی سے نہیں اپنے آپ سے، اب مجھے احساس ہورہا تھا کہ آج میں نے اپنی آنکھوں سے امر پریم کی ایک جھلک دیکھی ہے، ایسا پریم جو قصّے کہانیوں میں پڑھنے میں آتا ہے، زندگی میں کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔ میری افسانہ نگاری کی حس دفعتاً بیدار ہوگئی تھی، اور ایک سوال کے بعد دوسرا سوال کر کے میں نے مانجھی کی زبانی پوری کہانی سن لی۔

یہ کہانی پریم کہانی بھی تھی اور ہندوستان کی جنگِ آزادی کی ایک روح پرور داستان بھی۔ سن ۱۹۴۲ء میں جب سارے ملک میں انقلابی طوفان آیا تو ٹراونکور کے عوام، طالب علم، مزدور، کسان یہاں تک کہ مانجھی اور ماہی گیر بھی، اپنے جمہوری حقوق کے لئے راجہ شاہی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، کوئی لون کے کئی ہزار مانجھیوں نے ہڑتال کی اور اعلان کر دیا کہ ہم کام پر نہیں جائیں گے، چاہے اس سمندر کا رنگ ہمارے خون سے لال ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ان پڑھ مانجھی کی زبانی یہ جوشیلے الفاظ سن کر میں نے پوچھا، ’’مانجھیوں کی طرف سے یہ اعلان کس نے کیا تھا؟‘‘

’’اس نے، صاحب، اس نے!‘‘

’’اس نے؟ کس نے؟‘‘

’’کرشنا نے، صاحب، ہم مانجھیوں کا لیڈر وہی تو تھا۔۔۔ تھا تو ذات کا مانجھی اور ہماری طرح کشتی ہی چلاتا تھا، مگر اسکول میں پڑھا ہوا تھا، اور کئی سال ٹریونڈرم شہر میں رہا تھا، جہاں اس نے بڑے بڑے لیڈروں کی تقریریں سنی تھیں، وہ خود بھی لیڈروں کی طرح بھاشن دے لیتا تھا، صاحب، بڑا خوبصورت اور تگڑا جوان تھا، کوئی لون سے اس ٹاپو تک تین میل تیر کر اپنی رادھا سے ملنے آیا کرتا تھا۔۔۔‘‘

’’کرشنا اور رادھا! رادھا اور کرشنا! یہ تو بالکل کہانی ہی بن گئی۔‘‘ میں نے تعجب سے کہا۔

’’اصل میں اس کا نام رادھا نہیں ہے صاحب، مگر کرشنا اسے رادھا رادھا کہہ کر ہی پکارتا تھا، سواور بھی اسے رادھا ہی کہنے لگے، رادھا اور کرشنا سب مانجھی کہتے تھے، ایسا سندر جوڑا دور دور ڈھونڈے سے نہ ملے گا، جب ان دونوں کی منگنی ہوئی تو سب ہی خوش ہوئے سوائے۔۔۔‘‘ اور اتنا کہہ کر وہ رک گیا، اور کچھ دیر پھیلی ہوئی خاموشی میں صرف اس کے چپّو چلنے کی آواز آتی رہی۔

’’سوائے؟‘‘ میں نے لقمہ دیا۔

’’سوائے ان کے جو خود رادھا کو بیاہنا چاہتے تھے۔‘‘ اور یہ کہہ کر ایک بار پھر وہ خاموش ہوگیا۔

’’یہ رادھا۔۔۔‘‘ میں نے گفتگو کا سلسلہ پھر چلانے کے لئے کہا، ’’یہ رادھا آٹھ برس پہلے کافی خوبصورت رہی ہوگی؟‘‘

ایک ٹھنڈی سانس لے کر وہ بولا، ’’خوبصورت؟ بہت خوبصورت، صاحب۔ آس پاس کے گاؤں میں کیا کوئی لون میں بھی کوئی لڑکی اتنی سندر نہیں تھی، ناریل کے پیڑ کی طرح لمبی اور دبلی، مچھلی جیسا سڈول اور چمکدار جسم تھا اس کا، اور اس کی آنکھیں۔۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔ اس سمندر کی ساری گہرائی اور ساری خوبصورتی تھی ان میں۔۔۔‘‘

میں نے سوچا، کہانی سے ہٹ کر ہم شاعرانہ مبالغوں میں پھنستے جا رہے ہیں، مجھے رادھا کی خوبصورتی کے بیان میں اتنی دلچسپی نہ تھی جتنی کرشنا کے انجام میں، اس لئے میں نے ’’اور پھر کیا ہوا؟‘‘ کہہ کر گفتگو کا رخ پھر واقعات کی طرح پھیرنا چاہا۔

’’پھر کیا ہونا تھا صاحب! کرشنا کی اس جوشیلی تقریر کے بعد تو پولیس اس کے پیچھے ہی پڑ گئی۔ اس کے لئے بڑے بڑے جال بچھائے انھوں نے مگر وہ ان کے ہاتھ نہ آیا، چھپ کر کام کرتا رہا، پولیس والے دن بھر اس کی تلاش میں مارے مارے پھرتے مگر انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ہر رات کو اسی اندھیرے سمندر میں تیرتا ہوا وہ رادھا سے ملنے اس کے ٹاپو تک جاتا اور سویرا ہونے سے پہلے پھر تیرتا ہوا واپس آ جاتا۔ اور سب پولیس کا ٹھٹھا اڑاتے اور کہتے ہمارا کرشنا کبھی ان پولیس والوں کے ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔‘‘

’’تو سارے مانجھی کرشنا کے طرفدار تھے؟‘‘

’’ہاں صاحب سبھی اس کے ساتھی تھے سوائے ان کے۔۔۔‘‘ اور پھر ایک بار پھر اس کی زبان رک گئی۔

’’سوائے کن کے؟‘‘

’’جو رادھا کی وجہ سے اس سے جلتے تھے صاحب۔‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

’’چاند ڈھلتا گیا صاحب، اور جب اندھیری راتیں آئیں تو ہر رات کو اپنے کرشنا کو راستہ دکھانے کے لئے سمندر کے بیچ میں رادھا یہ لالٹین جلانے لگی، ہر شام کو وہ اسی طرح سے جیسے وہ آج آئی تھی، کشتی میں اس جگہ آتی اور لالٹین جلا کر واپس ہو جاتی۔‘‘

میں نے اب پیچھے مڑ کر اندھیرے سمندر میں اس ننّھی روشنی کو ٹمٹماتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بار پھر بہادر کرشنا اپنے مضبوط بازؤوں سے پانی کو چیرتا ہوا اپنی رادھا سے ملنے جا رہا ہے۔

’’اور پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ایک رات رادھا نے لالٹین جلائی مگر وہ بجھ گئی اور جب کرشنا رات کو تیرتا ہوا آیا تو اس کو راستہ دکھانے کے لئے کوئی روشنی نہ تھی۔‘‘

’’کیوں کیا ہوا؟ کیا کوئی طوفان آیا؟‘‘

’’ہاں یہی سمجھئے کہ ایک طوفان آیا۔۔۔ مگر یہ طوفان سمندر میں نہیں ایک بے ایمان آدمی کے من میں اٹھا تھا، اس نے اپنی قوم کو دغادی اور لالٹین بجھا کر اپنے دوست کی موت کا باعث ہوا۔‘‘

’’مگر کیوں؟ کوئی انسان ایسی کمینی اور بے کار حرکت کیسے کر سکتا ہے؟‘‘

’’محبت کی خاطر۔ کم سے کم وہ یہی سمجھتا تھا صاحب، پر اس کی محبت اندھی تھی، محبت کیا ایک بیماری تھی، پریم نہیں ایک پاگل پن تھا۔ وہ جانتا تھا کہ رادھا کرشنا کے سوا کسی دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی، سو اسی نے کرشنا کو، اپنے دوست کو قتل کر دیا۔۔۔‘‘

’’تو کرشنا ڈوبا نہیں قتل کیا گیا؟‘‘

’’اس رات کو وہ لالٹین بجھانا کرشنا کو قتل کرنے کے برابر ہی تھا صاحب۔ پر قاتل کو یہ نہیں معلوم تھا کہ کرشنا کی موت سے اس کا کوئی بھلا نہ ہوگا۔ بلکہ اس کا بھیانک جرم بھوت بن کر اس کے من میں ہمیشہ منڈلاتا رہے گا، اس کا دن کا چین اور رات کی نیند اڑا دے گا۔‘‘

اب ہماری کشتی کوئی لون کی بندرگاہ کے پاس پہونچ گئی تھی اور میں کہانی اور اس کے سب کرداروں کا انجام جاننا چاہتا تھا۔

’’سو اس رات کرشنا ڈوب کر مر گیا، پھر کیا ہوا؟‘‘

’’کرشنا کے بغیر مانجھیوں کا ایکانہ رہا، پولیس کے ڈر سے انھوں نے ہڑتال ختم کردی۔‘‘

’’اور رادھا؟ جب اس نے کرشنا کی موت کی خبر سنی تو اس نے کیا کیا؟‘‘

’’آج تک اسے کرشنا کی موت کا یقین ہی نہیں آیا، بات یہ ہے کہ کرشنا کی لاش آج تک سمندر سے نہیں نکلی، سو آج تک ہر شام کو رادھا ویسے ہی کشتی میں آتی ہے، لالٹین جلاتی ہے، اور واپس جا کر رات بھر اپنے جھونپڑے کے سامنے بیٹھی کرشنا کا انتظار کرتی رہتی ہے۔‘‘

’’اور اس غدّار کا کیا ہوا؟ وہ پاجی اس نے کرشنا کو موت کے گھاٹ اتارا اور اپنے لوگوں اور ان کی جنگِ آزادی کے ساتھ غدّاری کی، اس کا کیا حشر ہوا، وہ اب کیا کرتا ہے؟‘‘

مانجھی نے میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیا، پیٹھ موڑے، کندھے اور سر جھکائے وہ چپ چاپ بیٹھا چپّو چلاتا رہا، مگر اس کی خاموشی میں اس کے مجرم ضمیر کی دھڑکن تھی، اس وقت ساری کائنات پر سناٹا چھایا ہوا تھا، موت کی طرح گہرا سنّاٹا۔ مگر ریل کی سیٹی نے مجھے چونکا دیا، میں اسی رات کو کوئی لون کو خیرباد کہنے والا تھا۔ کشتی سے اترنے سے پہلے میں نے ایک بار پھر سمندر کی طرف نگاہ کی، آسمان پر اب ہزاروں ستارے جگمگا رہے تھے، مگر ایک ستارہ اندھیرے سمندر کے بیچ میں چمک رہا تھا، یہ رادھا کی لالٹین تھی، جو اس کے کرشنا کا انتظار کرتی رہے گی۔۔۔ آج رات۔۔۔ اور کل رات۔۔۔ اور پھر پرسوں کی رات۔۔۔ رادھا کی محبت کی طرح ہمیشہ چمکتا رہے گا، اس لئے کہ یہ امید کا ستارہ ہے۔

مأخذ : دلچسپ کہانیاں

مصنف:خواجہ احمد عباس

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here