جسم کی پکار

0
120
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

اسلم کی آنکھ دیر سے کھل چکی تھی لیکن وہ دم سادھے ہوئے بستر پر پڑا رہا۔ کمرے کے اندر بھی اتنا اندھیرا نہ تھا جتنا کہ باہر۔ کیوں کہ دنیا کہا سہ کے کا فوری کفن میں لپٹی ہوئی تھی تاہم اکا دکا کوئے کی چیخ پکار اور برف پر رینگتی ہوئی گاڑیوں کی مسوسی ہوئی آواز اسے جتلا رہی تھی کہ سویرا ہو گیا۔

وہ چپ پڑا رہا۔ مبادا اس کے آغوش میں سوئی ہوئی بےخبر عورت جاگ نہ جائے۔ دھندلکے میں وہ اس کے مرمریں جسم کی نزاکتوں کو دیر تک دیکھتا رہا۔

یہ جسم جو آج تک اس کے لیے راز سربستہ رہا اور ہمیشہ رہےگا۔ وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھا اور یہ دوری کبھی عبور نہ ہو سکے گی کیونکہ یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔ شام کو وہ اس شہر سے رخصت ہو جائےگا۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ زمان و مکان ان دونوں کے درمیان سات سمندروں اور نہ جانے کتنے سالوں کی دیواریں کھڑی کر دیں گے اور آہنی نقاب اتنی ہی حوصلہ شکن ہوگی جتنی ان دونوں کے جوان جسموں کی دوری۔

اسلم کا دماغ پھر اسی حیرت میں اور دل اسی وسوسہ میں مبتلا ہو گیا جن کی ادھیڑ بن میں وہ مہینوں سے گرفتار تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں اس نے اپنی روح کو اس عورت کی روح سے ہم آہنگ پایا تھا۔ اس کا آوارہ تخیل دونوں روحوں کو رقص گاہوں میں سیر کناں پاتا تھا۔دونوں کے دلوں کا احساس ایک تھا اور دونوں کے دماغ ایک دوسرے کے ہمدم لیکن ان کے اجسام ان مچھلیوں کی طرح تھے جو ایک حوض میں تیرتی ہوئی بھی الگ الگ تڑپتی رہتی ہیں اور ایک دوسرے سے آشنا نہیں ہوتیں۔

اکثر دونوں جسم ایک دوسرے کو پکارتے تھے ان کے دل زور سے دھڑکتے ان کے سانس پھول جاتے۔ رگوں میں ارتعاش پیدا ہو جاتا۔ لہورقص کرتا ہاتھ مچلتے حسرت سے ایک دوسرے کو بھینچتے اور نوچتے لیکن یک بیک ان کے کھلے ہوئے آغوش بند ہو جاتے۔ عورت کے جسم سے کوئی راز ٹھنڈے پانی کی طرح ٹپکتا اور جسم کی پکار کو سرد کر دیتا۔

- Advertisement -

کتنی راتیں انہوں نے اسی طرح بسر کی تھیں۔ اس کلفت کے باوجود انہیں ایک دوسرے کی قربت عزیز تھی۔ جب اپنی ناکام کاوشوں کے بعد اسلم کا جسم تھک چکتا تو وہ چپ چاپ اپنی محبوبہ کے خوابیدہ سینے کے اتار چڑھاؤ کو محسوس کرتا اور اس عجیب و غریب محبت کی نوعیت کو سمجھنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا۔

ایسا نہیں تھا کہ عورت کی نسلی تحت الشعور کو اس کے انجان جسم سے جھجک ہو۔ اسلم کی گردن پر وہ بوسہ اب تک دہک رہا تھا۔ جو پہلی صحبت شبانہ میں ثبت ہوا تھا اور اس کی ہرہر رگ عورت کے سیمیں بازوؤں کے شکنجہ میں کسی ہوئی تھی۔ ایسا بھی نہیں کہ عورت کی خواہش مردہ ہو چکی ہو۔ وہ ایک تندرست حیوان کی طرح جوانی کے رس میں ڈوبی ہوئی تھی۔

پھر یہ کیا چیز تھی۔ اس نے کتنی بار امیلیا سے پوچھا تھا کہ ان کی زندگی کا وہ تیسرا اور نہ معلوم عنصر کیا تھا۔ یہ سوال منہ سے نکلتے ہی امیلیا کو ہنستا ہوا چہرہ اداس ہو جاتا اور وہ بات ٹال جاتی اور کبھی جھوٹ موٹ افلاطونی دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی کہ اسلم کی محبت ابھی خام ہے کیونکہ اس کا مدار شہوت پر ہے۔

اسلم دل میں بہت جزبز ہوتا۔ حوا کی بیٹیوں سے وہ اتنا واقف تونہ تھا۔ کیا اس نے یورپ کی گلیوں میں اپنی جوانی کو دونوں ہاتھوں سے نہیں لٹایا تھا؟ کیا وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ توپوں اور طیاروں کی گھن گرج میں اگر کوئی آوار سنائی دیتی ہے تووہ جوان جسموں کا بےآواز کورس ہے۔ اس کی اپنی روح کو کتنی عورتوں کی مسکراہٹوں اور آنسوؤں نے داغ دار کیا تھا اور اب وہ ایسی چھلنی ہو چکی تھی کہ اس میں بڑے بڑے سنگریزے بھی نہیں رک سکتے تھے۔

کتنی بار امیلیا کے اس لاینحل رویہ نے اسلم کو بیزار کیا اور وہ اسے جھڑک کر غصہ کی حالت میں کسی رقص گاہ یا شراب خانہ میں جا بیٹھا۔ عورتوں کے جھوٹے پیار اور شراب کے جھوٹے نشہ سے اس نے اپنی بے قراری اور بیزاری کو سکون دینا چاہا لیکن جب کبھی رات بیتے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اس نے امیلیا کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا پایا۔ اس کی آنکھوں میں ملامت کا شائبہ بھی نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی خاموش التجاء ہوتی کہ اسلم شرم سے عرق عرق ہو جاتا اور اپنی نفس پرستی پر اسے غصہ آنے لگتا۔

اسلم کی حیرانی کی انتہار نہ رہی تھی اس نے بازار کی ان کثافتوں کو محض اس لیے چھوا تھا کہ اس عورت سے انتقام لے۔ جیسے کوئی ضدی بچہ اپنی ماں کو دق کرنے کے لیے گندی نالی میں لوٹنے لگے لیکن امیلیا پر اس بےراہ روی کا کوئی اثر نہ ہوا تھا اور اس کی۔۔۔ پراسرار چتون میں کوئی فرق نہ آتا تھا۔

آج صبح کے دھندلکے میں لیٹے لیٹے اسلم یہ سب سوچتا رہا اور اس کے خودغرض جسم نے پھر پوچھا کہ اس محبت کا حاصل کیا تھا۔

ہولے ہولے اندھیرا چھنتا جاتا تھا۔ بادل اور کہا سہ کی غلافی تہوں کو چیر کر سورج کی مدھم روشنی فضا میں تیرنے لگی تھی۔ اسلم چپکے سے اٹھا اور لبادہ اوڑھ کر کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔

یورپ میں آج اس کا آخری دن تھا۔ بفرض محال وہ دوبارہ اس سرزمین کو واپس بھی آیا تو وہ خود بھی بدل جائےگا اور یہ یورپ بھی نہ رہےگا۔ یہ اونچے اونچے مکان اور ان میں گنگناتی ہوئی رنگ رلیاں!! ان کا نشان تک باقی نہ رہے گا۔ اسلم کادل بھر آیا اور اپنی روایتی سردمہری کے باوجود وہ رو پڑا۔ اس نے اس یورپ سے نفرت کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی دولت پرستی اور حیوانیت کو وہ دن میں کئی بار کوسا کرتا تھا۔ وہاں کی عورتوں نے اسلم کو لطف پہنچایا تھا لیکن اس کی عزت حاصل نہ کر سکی تھیں۔ یورپ کے قیام میں ہر روز اس کی روح کو زلزلہ کے سے جھٹکے لگے تھے اور وہ جانتا تھا کہ اس رنگارنگ سطح کے نیچے لاوے کا دریا بہہ رہا ہے جو جانے کس آن ابل پڑے۔ یورپ کے انتشار و اضطرار، ہیجان و ہنگامہ کی وجہ سمجھنے سے وہ قاصر تھا اور اس کے اس سوال کا جواب کوئی نہ دے سکا تھا کہ یہ بھاگم بھاگ، یہ دھکم دھکا کس لیے؟ تیز دوڑنے سے آدمی اپنی بے چینی کو بھول سکتا ہے لیکن اسے یوں سکون تو نہیں مل سکتا۔

پھر اس زندگی کا کون سا پہلو اسے عزیز تھا جس کی یاد میں وہ رو رہا تھا۔ جس طرح کسی پیارے کی قبر سے جدا ہوتے ہوئے کوئی بے اختیار رو پڑے۔

کیا وہ اس لیے رو رہا تھا کہ یورپ میں اسے اپنی غلامی کے احساس نے نہیں ستایا اور کسی نے اس کی خودداری کو جھٹکا نہیں لگایا اور یا وہ اس لیے رو رہا تھا کہ واپس جاکر پھر اس پستی اور جہالت کی دنیا میں رہنا ہے، جہالت اور پستی اور اوہام کے دلدل میں جہاں جتنا ہاتھ پاؤں مارو، اتنا ہی پیچھے دھنستے جاؤ۔ اسلم نے دل ہی دل میں کہا معلوم نہیں، ان میں سے کون سی بات سچی ہے اور کون سی جھوٹ۔ لیکن میں شاید اس عورت کی جدائی سے ہراساں ہو رہا ہوں جس نے مجھے خوشی اور غم کی انتہا سے آشنا کیا اور اچانک یہ خیال بجلی کی طرح اسلم کے دل میں کوند گیا کہ اب تک کسی عورت نے اسے گہرا زخم نہیں دیا تھا۔ اداسی اور بے قراری ہاں، تردد اور پریشانی وہ بھی سہی۔ مگر غم، گہر ا غم جو برف کے تودے کی طرح دماغ و دل پر مسلط ہو جاتا ہے اور ایک عمر تک بوند بوند ٹپک ٹپک کر انسان کے جوش عمل کو سرد کرتا رہتا ہے، وہ غم مجھے اس سوئی ہوئی عورت نے دیا ہے اور اب میں اس سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔

اس مسلسل کرب سے نجات حاصل کرنے کی امید موہوم لے کر اسلم اپنے دیس لوٹ رہا تھا۔ مہینوں وہ اسی روح فرسا کش مکش میں الجھا رہا تھا۔ کوہ آتش فشاں پر لرزتے ہوئے یورپ میں اس عورت کی خالی آغوش اور یا اپنا دیس جہاں جسمانی اور روحانی غلامی کے سوا اگر کچھ تھا تو ان قدیمی بندھنوں سے لڑنے کا جذبہ۔

باہر بیمار سی دھوپ پھیلنے لگی۔ پلنگ پر ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دی اور کسی کی اداس آواز نے کہا، ’’پیارے! یہاں آؤ۔‘‘ اسلم آکر پلنگ پر بیٹھ گیا اور اس نے اپنے روئیں روئیں پر امیلیا کی نگاہوں کا بوسہ محسوس کیا۔

پھر وہ اٹھی اور جلدی سے لبادہ کا تسمہ لپیٹتے ہوئے بولی، ’’تم بھی تیار ہو جاؤ۔ گاڑی تو چار بجے جاتی ہے نا؟ تمہارے ساتھ آخری بار ذرا سیر ہو جائے۔‘‘

دونوں نے چپ چاپ منہ دھویا۔ کپڑے بدلے اور ہاتھ میں ہاتھ دئیے ہوئے سڑک پر نکل آئے۔

’’آؤ باغ کی طرف چلیں۔۔۔ نہیں، باغ میں ان دنو ں سوکھے پیڑوں کے سوا کیا ہوگا۔۔۔ خیر یونہی ٹہلیں۔ کسی جگہ جانا کیا ضرور ہے۔‘‘

اور ہر گام پر انہیں اپنا ماضی یاد آیا۔ وہ خاموش تھے لیکن انہیں ساری پچھلی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ اس جگہ بارش سے بچنے کے لیے پیڑ کے نیچے کھڑے ہو گئے تھے۔ اسلم نے سگریٹ سلگانے کے لیے جیب سے ماچس نکالی وہ ہاتھ سے چھوٹ کر کیچڑ میں گر گئی اور اسلم بے جلا سگریٹ ہونٹوں میں دبائے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ہمسایہ لڑکی نے اپنے بیگ سے ماچس نکال کر کہا، ’’یہ لیجئے‘‘ یہ ان کی ملاقات کی ابتدا تھی۔

اور لو، اس نکڑ پر وہ پھول والی اب بھی کھڑی ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہی شرارت ہے۔ کئی مہینے گزر گئے، دونوں اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔ مالن نے سفید پھولوں کا گچھا ان کی طرف بڑھا کر کہا تھا، ’’محبت کے پھول‘‘ دونوں ہنس پڑے۔ اسلم نے وہ گچھا لیا اور امیلیا کے بالوں میں ٹھونس دیا اس پر وہ شرما کر بولی، ’’جانتے ہو آج کے دن یہ پھول عاشق اپنی محبوبہ کو دیتے ہیں۔‘‘

’’تو پھر مضائقہ کیا ہے؟‘‘

’’لیکن ہم تو اس منزل سے گزر چکے ہیں۔ ہم دوست ہیں۔‘‘

ان کے مرغوب کیفے کے سامنے وہی جانا پہچانا ملازم پیٹر اپنی سفید موچھوں کو تاؤ دیتا کھڑا ہے۔ ان دونوں کو دیکھتے ہی اس کا چہرہ کھل جاتا ہے۔ سلام کر کے وہ بے پوچھے ان کے لیے میز ٹھیک کرنے لگتا ہے اور اندر جا کر پکارتا ہے، ’’موسے یندو کے لیے چائے۔‘‘ روز یہی ہوتا ہے اور روز کی طرح دونوں ہنس پڑتے ہیں۔

چائے پیتے وقت بھی دونوں کچھ نہیں کہتے۔ یا تو جو کچھ انہیں کہنا تھا وہ سال بھر کی مدت میں کہہ سن چکے اور یا جو کچھ کہنا ہے اس کے بیان کا سلیقہ انہیں نہیں آتا۔

کیسی عجیب بات ہے کہ آج کے بعد ان پر جو بادل سایہ کریں گے ان کے رنگ مختلف ہوں گے۔ انہیں جو ہوا پنکھا جھلےگی اس کی لہک بھی الگ ہوگی اور اس وقت اسلم اپنے کو اس خیال سے باز نہ رکھ سکا کہ وہ دونوں ایک قالب کبھی نہیں ہوئے اور وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ جس واحد عورت نے اسے غم محبت دیا اسے وہ جانتا ہے۔

نہ وہ یہ چاہتی ہے کہ اسلم ہمیشہ یہیں رہے۔ بلکہ اس کے اصرار ہی نے اسلم کو اپنے وطن کی طرف منتقل کیاہے۔ نہ وہ اسلم کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ درخت کی طرح انسان بھی ایک خاص مٹی کا عادی ہوتا ہے اور اگر اس کی جڑ کھود دی جائے تووہ مرجھا جاتاہے۔

یہ خاموشی انہیں کھائے جاتی ہے۔ خاموشی کے دوران میں جسم کی پکار سنائی دیتی ہے جو ایک دھیمی سرگوشی سے شروع ہوکر اپنی لے کو بڑھاتی ہوئی ایک دردناک چیخ میں مبدل ہو جاتی ہے۔ اسے بھولنے کے لیے وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتے ہیں لیکن گفتگو کے موضوع کتنے بےمعنی اور محدود ہیں۔ موسم کی اداسی، راہ چلتوں کی بے مقصد چلت پھرت اور چائے کی بدمزگی کے علاوہ وہ اور کوئی موضوع چھیڑتے ہوئے ڈرتے ہیں اور حیرت کا مقام ہے کہ وہ جس شے سے ڈرتے ہیں وہ ان کا اپنا جسم ہے۔

اور وقت ہے کہ گزرتا چلا جاتا ہے۔ یا وقت نہیں بلکہ ہم خود گزرتے جاتے ہیں۔ گویا ہم پتنگوں کی طرح وقت کی جلتی ہوئی لو پہ گرتے ہیں اور فنا ہو جاتے ہیں۔

امیلیا کا بےجان جسم بدستور حرکت کرتا رہا لیکن ہر آن بیتے ہوئے دن اسے آواز دیتے رہے۔ دوسرے صبح کو آئینہ کے سامنے بیٹھے بیٹھے وہ انتظار کرتی رہی کہ کسی کے جانے پہچانے ہاتھ اس کی آنکھوں کو بند کر لیں گے۔ چائے پیتے وقت وہ اس شکایت کی منتظر رہی کہ چائے بہت ہلکی ہے اور ریڈیو کی موسیقی اسے جانے والے کی طنزیہ تنقید کے بغیر بالکل بے رس معلوم ہوئی۔ آسمان کا نکھرا ہوا نیلاپن اسے کھائے جارہا تھا۔ کون اسے اب کس دور دیس کے نیلے آکاش لمبے چوڑے میدانوں اور گھنے گھنے جنگلوں کے افسانے سنائےگا؟

اسے بند بند میں، رگ و پے میں ایک قسم کی کیمیائی تبدیلی کا احساس ہوا۔ اس کا ذہن جو یوں رسا تھا اب سوچنے سے انکارکرنے لگا۔ پپوٹے آپ ہی آپ آنکھوں پر ڈھلنے لگے۔ ہاتھ پاؤں یوں نڈھال ہو گئے گویا کسی بہت بڑی مہم سے واپس آئے ہیں۔ گویا وہ سال بھر سے بہت بڑا بوجھ اٹھائے چل رہی ہو اور یہ نیچے اترنے کی بجائے پاش پاش ہوکر اس کی ہستی میں محلول ہو گیا ہے اور اب اس کی ہستی خود اس کے لیے بار ہو گئی ہو۔

امیلیا سوچنے لگی کہ کیسی عجیب بات ہے ، یہ کیسی محبت تھی جو گھن کی طرح ہم دونوں کی شخصیتوں کو چاٹنے لگی۔ ان دونوں کی باہمی کشش کا مقناطیس ممکن ہے وہی نوائے سوختہ ہو جو ان جسموں سے نکل کر کبھی غزل اور کبھی نوحہ گاتی ہے۔ لیکن شروع میں تو وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کی محبت کا مرکز درد انسانی ہے جو خودی کے بندھنوں کو توڑ کر ساری مظلوم انسانیت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

امیلیا کے کانوں میں اسلم کی پرجوش تقریریں گونج اٹھیں۔ اس کی آتشیں تحریروں کے خیال سے اس کا بجھا ہوا دل دہک اٹھا۔ اسے یاد آیا کہ اول اول کسی بیکار یا بھکاری کو دیکھ کر اسلم کی آنکھوں سے کیسی چنگاریاں نکلا کرتی تھیں۔ کھاتے کھاتے ان کے تصور سے نوالہ اس کے گلے میں اٹکا کرتا تھا۔ اسپین ہو یا چین، ہندوستان ہو یا جاوا، اس کا دردمند دل سب کے دکھ کو یکساں سمجھتا تھا۔ امیلیا کو وہ دن یاد آیا جب اسپینی جمہوریوں کے جلوس میں وہ جھنڈا لیے چل رہا تھا اور پولیس اسے پکڑ کر حوالات لے گئی تھی۔ روتے روتے امیلیا کا برا حال ہو گیا تھا۔ لیکن اسلم نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ تمہارے آنسو مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔ نسل و قوم یا رنگ و مذہب کے اوہام اسے چھو کر بھی نہ گئے تھے اور وہ ان کی نوعیت کو سمجھنے سے اچھوتے بچوں کی طرح قاصر تھا۔

اس وقت تک امیلیا مرد کی محبت تو دور رہی اس کی شخصیت سے بھی ناواقف تھی۔ پہلی مرتبہ اس نے ایک ایسے مرد کو دیکھا جس میں آسمان کی سی وسعت تھی اور جب وہ اس کے سائے تلے آکر کھڑی ہوئی تو وہ اسی طرح متحیر ہو گئی جیسے کہر آلود شمال کا انسان گرم ممالک کی دھوپ میں۔ مگر بہت جلد اس کی نسوانی جبلت نے بتلا دیا کہ یہ مرد عورت کے پیار کا پیاسا ہے۔ اس پیاس نے اسے بہت سے کنوئیں جھنکوائے ہیں اور اس پیاس کو بھولنے کے لیے اس نے خیالات اور تصورات کا ایک طلسم کھڑا کر لیا ہے۔ انسانی ہمدردی کا نقاب پہن کر یہ پیاس دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر کسی کو ڈھونڈ رہی ہے۔ امیلیا کو دیکھتے ہیں اسلم نے اپنی مشعل پھینک دی، نقاب اتاردی اور اس کے جسم کو اپنی گرفت میں لینا چاہا۔

یہ تگ و دو آہستہ آہستہ شروع ہوئی اور پھر اس کی شدت بڑھ گئی۔ امیلیا کا دماغ جو ابھی ابھی جاگا تھا مبہوت ہو گیا لیکن ان نے جسم کو بے بس نہ ہونے دیا۔ امیلیا یہ کبھی نہ بھولی کہ اس مرد کے جذبات اس کے پاس امانت ہیں اور جب کبھی اس کے اپنے جسم نے جواب دینے کی کوشش کی، امیلیا نے اس کی آواز کو سختی سے کچل دیا۔

اس مرد میں وہ جو بگولوں کی سی دیوانگی تھی، امیلیا کو اسی سے محبت تھی اور وہ کسی قیمت پر اس دیوانگی کے سودے کے لیے تیار نہ تھی۔

اب چلتے پھرتے، سوتے جاگتے امیلیا سوچا کرتی ہے کہ اس کی یہ مزاحمت صحیح تھی یا غلط۔ دونوں کی زندگی تشنہ رہ گئی۔ دونوں شاید باقی عمر ماضی کا غم آگیں بار اٹھائے زندہ رہیں گے۔

لیکن اگر ایسا نہ ہوتا اگر وہ اپنے عاشق کے جسم کی پکار کو سن لیتی تو کیا ہوتا۔ ناشپاتی کے نازک پھولوں کو ہتھیلی پر مسلتے ہوئے امیلیا نے کہا کہ دو ہی باتیں ہو سکتی تھیں۔ دوسری عورتوں کی طرح وہ شاید مجھ سے بھی جلد دب جاتا اور یا لوہے کی طرح میرے جسم کے مقناطیس سے چپک کر رہ جاتا۔ دونوں صورتوں میں اس کے خیال و عمل کی آگ بجھ جاتی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے اور پھر ہماری محبت حال و مستقبل میں زندہ نہ رہتی۔ بلکہ ماضی میں مدفون ہوتی۔

اور اب امیلیا نے ہزارویں مرتبہ اپنے آپ سے پوچھا کہ اب کیا ہوگا اس لیے آج کیا کرتا ہوگا۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی روح کے ریگستان میں کسی گم کردہ راہ کی طرح بھٹک رہا ہو اور یا وہ دراصل کلو کساں اور نتھو مزدور (اسلم نے کچھ ایسے ہی مضحکہ خیز نام گنائے تھے) کو نئی دنیا کا پیغام سنا رہا ہو۔

اور میں۔۔۔؟ امیلیا نے اپنے آپ سے پوچھا کہ میں کیا ہوں۔ ہندسہ کے بغیر صفر کی قدر کیا ہے۔ مرد بغیر عورت۔۔۔ جسم بغیر جسم۔ روح بغیر روح۔

اس کے دل پر اداسی اور گرانی سی رہتی ہے۔ اس کا دل باربار مچلتا ہے کہ کاش! وقت اس مدت کو حرف غلط کی طرح مٹا دے اور پھر بازگشت کرکے وہیں پہنچ جائے جہاں رم جھم برکھا میں پیڑ تلے اس نے اسلم کی سگریٹ سلگائی تھی۔ اگر ایسا ہوا تو وہ اسلم کے جمے ہوئے قدموں کو ڈگمگانے نہ دےگی اس کے ایمان پر غبار نہ آنے دےگی۔

مگر وقت ہے کہ گزرتا جاتا ہے۔۔۔ یا وقت نہیں بلکہ ہم خود گزرتے جاتے ہیں۔۔۔

مصنف:اختر حسین رائے پوری

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here