پراسرارمکان

0
344
urud-story
- Advertisement -

یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب میں مشرقی افریکہ میں انجینئیر تھا مجھے ہرغیر قطی چیز اور اس کے وجود ہی سے انحراف تها مگراس واقعہ کے بعد مجھے اپنی رائے بدلنی پڑی۔دوران ملازمت مہینوں کی ارض پیمائی اور دیگرمتعلقہ کاموں میں دن رات مصروف رہنے کے بعد حفظان صحت کے پیش نظرتبدیلی آب ہوا کے لئے میں نے ایک ماہ کی چھٹی لے لی اور ممباسہ سے کچھ دور ایک مکان بغیردیکھے ہی کرایا پرلے لیا۔ مجھے امید تھی کہ یہ مقام سر سبزد وشاداب اور پرفضا ہو گا مگر جس دن میں اپنی مال کے ساتھ وہاں پہنچا توطبعیت گھبرا گئی مکان کے اردگرد ایک پرہول سناٹا تھا۔ خار دار جھاڑیوں اور بے ترتیب دشوارگزارپگڑنڈیوں کے درمیان ایک کھنڈرنما مکان تھا جس کی پرانی اور اونچی اونچی دیواریں بڑے بڑے دروازے اورکھڑکیاں جن میں موٹی موٹی لوہے کی سالاخیں لگی ہوئی تھیں اور ہرکمرہ جالوں اور دھول سے اٹا پڑا تھا۔ اس وحشت کودو بالا کرنے کے لئے کئی کمروں میں چھوں سے بے شمارچمگادڑیں لٹک رہی تھیں جو بار بار آپس کی چھیڑسےچیں چیں کرنے لگتی تھیں۔ مکان مالک غالبا ہماری آمد کا منتظر تھا۔ جیسے ہی ہم گیٹ کے پاس پہونچے لوہے کا مضبوط دروازه چرمراہٹ کے ساتھ کھلا اور جوچیز ہم نے وہاں کھڑی دیکھی اس سے میں چونک سا گیا اور ماں کے منہ سے ایک ہلکی چیخ نکل گئی ۔ ہمارا استقبال ایک انسانی ہڈیوں کا ڈھانچہ کر رہا تھا جو سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی ۔پچکے ہوئے گال،روکھے سوکھے ہاتھ،بیک نظر قبر سے نکلا ہوامردہ معلوم دے رہا تھا۔ لباس اور وضع قطع سے عربی نثراد معلوم ہو رہا تھا۔ اوریہی مالک مکان، باورچی نوکرسب کچھ تھا جب اس نے خوش آمدید کہتے ہوئے دانت نکا لے توایسے لگا جیسے کھوپڑی میں دانت جگمگا رہے ہیں ہم سحرزدہ اس کے ساتھ اندر چلے اور وہ آگے عکسی پیکرکی طرح سفید لبارہ میں جیسے ہوائیں تیررہا تھا۔ مکان رومنزلہ تھا کسی وقت اس میں عیش و عشرت کی ہما ہمی رہی ہوگی مگراب توکھنڈرمعلوم دے رہا تھا۔ بہر حال نچلے حصے میں ایک بڑا کشادہ ہال تھا اور اس سے محلق دو کمرے تھے میں نے ان دونوں کمروں کا انتخاب کیا۔ اس انتخاب پر مالک مکان نے ایک دولمحہ کے لئے حیرت و استعجاب سے مجھے دیکھا اور چپ ہوگیا۔ میں اس کی اس حرکت کو اس وقت بالکل نہ سمجھ سکا۔ دونوں کمروں کے درمیان ایک چوبی دروازہ تھا۔ اورہر کمرے میں ایک بڑی کھڑکی جس کے آہنی چوکھٹے میں موٹی موٹی لوہے کی سلاخیں زنگ آلود ییوست تھیں۔ معلوم ہورہاتھا۔جیسے ان کمروں میں کئی مدت سے یہ کھڑکیاں بند پڑی تھیں۔ جب مالک مکان نے بدوقت تمام کھڑکی کھولی توایک عجیب طرح کی بد بوکمرہ میں پھیل گئی کھڑکی سے باہر خاردار جھاڑیاں اور بے ترتیب خود رد پودے آبپاشی سے بے نیازروکھے سو کھے پڑے تھے۔ مکان کا بالائی حصہ بھی عجیب وغریب تھا اس میں کئی کمرے تھے اورہر کمرے میں قدیم زمانے کے میز کرسی پلنگ وغیرہ گرر آلود بے ترتیب رکھے ہوئے تھے ۔ ایک کمرے میں دیوار سے لگا ہوا صوفہ سیٹ تھا۔ اور سنگھاردان کے آئینہ پر گرد آئی تھی۔ وہاں پہنچنے کے لیے چوڑی چوڑی پتھر کی سیڑھاں طے کرنی پڑتی تھیں اورپھرایک مقفل مضبوط آہنی دروازہ تھا۔ہرکمرے میں دھول اڑتی تھی۔ چونکہ مکان کرایہ پرلیا جا چکا تھااور چند ہفتے کے قیام کے لئے یہیں رہنا مناسب سمجھا گیا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد میں نے ماں کے ساتھ جلد ہی کھانا کھالیا اور ہم دونوں اپنے اپنے کمرون میں سونے کے لیے چلے گئے سونے سے پہلے میں نے دونوں کمروں کی کھڑکیاں ایک بار پھراچھی طرح بند کر دیں اور دروازہ اندر سے بند کرلیا او پهرمیں جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔نہ معلوم میں کتنی دیر تک سو یارہاکہ یک بیک جاگ پڑا۔ مجھے اپنے ہی کمرہ میں کسی کے چلنے کی آہٹ سنائی دی میں اٹھا بیٹھا اور آہٹ بند بوگئی ملحقہ ہال سے البتہ کسی کے کھسرپھسر کرنے کی آواز آ رہی تھی ۔ اور اس کے ساتھ ہی کوئی عورت سسک رہی تھی۔ پھر یک بیک کوئی وزنی چیزگری اورپھراس کے گھسٹنے جانے کی آواز آنے لگی۔ میں نے سوچا مکان پراناہے۔چوہوں کا ہونا ناگزیر ہے مگر اب میرے کمرہ سے باہر بھی کسی کے چلنے کی آوازبھی صاف صاف سنائی دے رہی تھی۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ چورگھس آئے ہیں۔ میں نے فوراتکیہ کے نیچے سے ریوالور نکالا بسترسے کود پڑا اور تا ریکی میں ٹٹولتا ہوا دروازہ کے کواڑ کرلے اور تیزقدم باہرنکل آیا وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ ایک طویل خموشی تھی اور مکان کے جنوبی حصہ میں کہیں توچیخ رہا تھا میں نے ہال کے اندر جھا نکا اکثر کھڑکیاں کھولی ہوئی تھیں اور ان سے چاندنی چھن رہی تھی پھر میں بالائی حصہ میں گیا وہاں بھی ایک ویران ہوئی تھی جب میں ایک کمرہ میں داخل ہوا تو ٹارچ کی روشنی سے ایک ہنگامہ بپا ہوگیا۔ چمگادڑوں کے ایک ہجوم نے مجھے گھیر لیا۔ اپنے پر بھڑ بھڑاتے ہوئے میرے گرد چکر کاٹنے لگے۔ ان کی شعلہ بار سرخ آنکھیں ٹارچ کی روشنی میں بڑی ہیبتناک معلوم دے رہی تھیں۔ میں تیز قدم نیچے اتر آیا اور اپنے کمره میں واپس آگیا۔ اور تھوڑی دیر کے بعد جب سویا تو دھوپ نکل آئی تھی اور میری میز پر گرم گرم کافی کی پیالی بھاپ اگل رہی تھی۔ناشتہ پر میں نے ماں سے رات کے واقعات سے متعلق کچھ نہیں کہا۔ وہ تو رات بھر سکون سے سوئی رہی تھیں۔ ناشتہ کے بعد میں نے ایک بار پھردن کی روشنی میں سارے مکان کا معائنہ کیا پر پروہاں کچھ بھی نہ تھا جو چیز جہاں پہلے تھی وہیں تھی ۔ اس کے با وجود مجھے اطمینان حا صل نہ ہوا۔ رات کے کھانے کے بعد ہم خاموش اپنے کمرے میں چلے گئے بڑی دیرتک مجھے نیند نہ آئی رات سائیں سائیں کرتی آہستہ قدم گزررہی تھی میں نے گھڑی دیکھی۔ گیارہ بچ رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آپ ہی آپ نیند کی آغوش میں چلاگیا لیکن جلد کسی وزنی چیز کے گرنے کی آوازنے مجھے جگا دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی کسی عورت کے سسکنے کی آواز آئی۔ آواز میرے کمرہ کے اندر ہی کھڑکی کے قریب آ رہی تھی۔ میں بستر سے اٹھاٹارچ کی روشنی میں کھڑکی دیکھی ۔ وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اسی وقت باہرسے کسی کے مضحکہ،خیز قہقہہ لگانے کی آواز آئی میں نے کواڑ کھول دیئے اور باہر تنگ سے ہوتا ہوا اپنی کھڑکی کے بیرونی حصہ کے پاس آگیا۔ وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ ایک خموشی تھی البتہ سامنے جھاڑیوں میں سرسراہٹ سنائی دینے لگی ۔ میں نے سوچا سانپ ہوں گے با پھر شب بیدار کیڑے پھرمیں اپنے کمرہ میں آ گیا اور بستر پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ گھڑی دیکھی ایک بج رہا تھا۔ اب بسترپردراز ہو کر سونے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ یک بیک میں پسینہ میں شرابور ہوگیا میرے کمرے کی کھڑکی کے پت کسی کے دھکا مارنے پر زور سے کھلے اور جیسے بی میری نظرادھرگئی تومیں جیسے عارضہ کا بوس میں مبتلا ہوگیا۔ میں بد ترین قسم کی بدبو پھیل گئی۔کھڑکی سے باہر چاندنی میں یک بیک سیاہ بڑی گیند ابھری جو آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سیاہ اور تنو مند ننگ دھڑنگ انسان کا بالائی حصہ کمرتک ابھرا۔ اب یہ سیاہ گیند جو ایک مہیب سرکا نمونہ اختیارکرچکی تھی اس میں سے دو شعلہبار آنکھیں کمرہ میں کسی کوڈھونڈ رہی تھیں۔ ٹھیک کھڑکی کے نیچے ہی کمرہ کی نیم تاریکی میں ایک جوان عورت دکھائی دی جو ہاتھ اٹھائے نہایت عاجزی سے رحم کی در درخواست کر رہی تھی میں نے چاہا کہ اس عفریت کوریوالورکا نشانہ بناوں مگر میرا دایاں ہاتھ ہنوز میرے قابومیں نہ تھا۔ اس دیوہیکل کا بدن کسی لیس دارتیل کے ملے جانے سے چاندنی میں چمک رہا تھا۔ آخر اس نے لڑکی کودیکھ لیا اور اس کے دونوں پٹھے دار مضبوط ہاتھ حرکت میں آ گئے۔ اس نے آن کی آن میں کھڑکی کی سلاخیں اکھیڑ کر رکھ دیں۔ اب لڑکی کی حالت قابل رحم تھی۔ وہ سرکوگھٹنے میں دئیے سسک رہی تھی۔ اورادهراس شیطان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ پھرمیرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھلانگ لگا کر کھڑکی میں سے ہوتا ہوا اندرآ گیا۔ اور درندے کی طرح جھپٹ کر لڑکی کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اور دست درازی پر آسادہ ہو گیا لڑکی چلانے لگی۔ ساتھ ہی میرے بے جان بازو میں یک بیک جان آگئی میں نے ریوالور نکالا اور اسے نشانہ بنا دیا وہ عفررت ایک دھماکے کے ساتھ گرپڑا۔ خاموشی چھا گئی بہت دیر تک میں حواس باختہ اسی طرح بیٹھا رہا۔ پھر اپنے بستر سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس گیا۔ وہاں کچھ بھی تو نہ تھا۔ کچھ بھی نہیں حتی کہ کوئی نشان تک نہیں کھڑکی اپنی سلاخوں سمیت صحیح وسالم تھی۔ نہ وہ لڑکی تھی اور نہ وہ شیطان۔ کمرے سے باہرکہیں گیدڑوں کے غول نے شور مچانا شروع کر دیا تھا۔ مجھے پھر نیند نہ آئی میں صبح تک اسی طرح بسترپر بیٹھا رہا۔صبح میں نے ماں سے کچھ نہ کہا مگروہ کچھ ہیبت زدہ سی تھی میں نے سوچا آج کی رات سویا ہی نہیں جائے اور اس خونی ڈرامہ یا خواب کو شروع ہی سے دیکھا جائے۔ اس رات میں جاگتا رہا میری نظر مجھے یک بیک ایک بوکا احساس ہوا جورم بدم شدت اختیار کر رہی تھی مگر مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا۔نہ وہ روتی بسورتی لڑکی اور نہ وہ ریوہیکل البتہ کھڑکی سے باہر کسی کے دھماکے کے ساتھ گرنے کی کسی کے سسکنے کی آواز تھوڑی دیر تک آتی رہی۔ناشتہ پر ہم نے مالک مکان سے کہہ دیا کہ ہم آج یہ مکان چھوڑ رہے ہیں۔ ماں کے دہشت زدہ چہرہ پر طمانیت کی دمک لہرانے لگی۔ادھر مالک مکان نے بھی تعجب کا اظہارنہ کیا اس نے صرف اتنا کہا وہ آپ کمرا بندل لیجئے سب ٹھیک رہے گا، جب میں سے پوچھا وہ کیوں تواس کی دھنسی ہوئی آنکھیں مجھ پرتھوڑی دیر تک جی رہیں پھراس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان بھری اور کہا جس کمرے میں آپ ٹھرے ہیں اس میں برسوں پہلے دوخون ہوئے تھے میں نے جب تفصیل چاہی تو اس نے کہا ۔ اس مکان کا پہلا مالک ایک امیرعرب تھا او یہ مکان اسی کا بنایا ہوا ہے۔ اس وقت یہ مکان دن رات عیش وکامرانی کی آماہ گاہ تھا۔ آئے دن مہمانوں کی شانداردعوتیں ہوتیں۔ رقص وسرور کی محفلیں منعقد ہوتیں۔ ہنسی اور قہقہوں کے فوارے چھوٹتے رہتے اس مکان سے ایک میل دور غریبوں کی بستی تھی۔ اس میں زیادہ تر آدارہ اور چور گرہ کٹ قسم کے لوگ بستے تھے۔ ایک دوگھرشرفا کے بھی تھے انہیں میں نے ایک گھر کی جوان لڑکی اس امیرکے گھر کام کرتی تھی ، وہ صبح آتی اور سرشام واپس ہو جاتی ۔ اسی بستی میں ایک بد معاش مسٹٹر بھی تھا وہ اس جوان لڑکی کو اپینی ہوس کا شکار بنانا چاہتا تھا۔ اسے باربار چھڑتا اوروہ ہرباراپنا جسم چراتے کسی طرح بچ کر نکل جاتی، اس بدمعاش کی کمرسے ایک تیزچھری برابر لٹکتی تھی۔ اس نے لڑکی کوقتل کر دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔مالک مکان نے پھرمیزسے سعراحی اٹھائی اور سارپانی حلق میں انڈیل لیا پھراستین سے منہ صاف کر کے ایک کرسی کو اپنی طرف گھسیٹ کراس پر بیٹھ گیا۔ پھرکہنے لگا ۔ ایک دن امیر کے گھرایک شاندار رقص و سرور اور کھانے کی دعوت تھی بہت سے مہمان آگئے تھے۔ لڑکی کو کام سے فارغ ہو نے میں کافی دیر ہوگئی ۔سارے مہمان جا چکے تھے اس وقت ایک بج رہا تھا۔ لڑکی جب جانے کے لئے تیار ہوئی تو عرب نے اسے منع کیا بھی کہ رات زیادہ ہے صبح چلی جانا۔ مگر لڑکی کو اپنے بوڑھے والدین کا خیال تھا. وہ چل پڑی۔ رات تاریک تھی ۔ ادھر بوندا باندی بھی شروع ہوگئی تھی۔ قریب ہی گیدڑ چلانے لگے تھے ۔ وہ سہم گئی۔ اب بھی اپنے مکان سے کافی دور تھی۔اس نے اب آگے قدم بڑھانا قرین مصلحت نہیں سمجھا۔ وہ سہی سہی مالک مکان کی طرف چلی جا رہی تھی کہ کہیں سے دہ بدمعاش آگیا اور اسے اپنی بانہوں میں لینا ہی چاہنا تھا کہ وہ کسی طرح پچ کربھاگ نکلی۔ بدمعاش اس کے تعاقب میں تھا۔ آخر کار لڑکی کسی طرح مالک مکان کے مکان میں داخل ہوگئی۔ اور جو کمرہ سامنے پڑا اس میں گھس گئی ۔ اور اندر سے کواڑبند کر لئے۔ اس بدمعاش نے جب دیکھا کہ لڑکی نے دروازہ کرلیا ہے تووہ کھڑکی کے پاس پہونچا۔لڑکی تاریکی میں ایک طرف ڈری ہوئی دہکی بیٹھی تھی اس نے کھڑکی کی چوبی سلاخیں توڑ پھینکیں اور اندر کود پڑااور بے تحاشا اس بیکس لڑکی کواپنی بانہوں میں جکڑلیا لڑکی بے بس تڑپ رہی تھی۔ اورادھروہ آپے سے باہرہوا جارہا تھا لڑکی کی نظریک بیک بدمعاش کی کمر پڑی جہاں چھڑی لٹک رہی تھی۔ اس نے چھری چھین لی۔ اور قبل اس کے کہ بدمعاش کوئی مدافعت کی صورت کرے اس نے پوری قوت سے چھری بدمعاش کے سینے میں گھونپ دی۔ بدمعاش کو اس اچانک حملے کی توقع ہی کہاں تھی۔ ادھرضرب کاری تھا۔ اس نے فورا اپنی آہنی گرفت سے لڑکی کی گردن مروڑکر رکھ دی ادھرلڑکی مرگئی اور ادھر بدمعاش نے بھی تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ ہاں تو یہی وہ کمرہ ہے جہاں وہ واقعہ ہوا تھا۔اس کے بعد مالک مکان امیر عرب کی مالی حالت روبہ زوال ہونے لگی حتی کہ وہ رفتہ رفتہ کنگال ہوگیا اور کوڑیوں کے مول اس مکان کو میرے ہاتھ فروخت کردیا میں نے مکان حاصل کرنے کے بعد فورا ہی مکان کی تمام کھڑکیوں کی مرمت ارسرنوکی چوبی سلاخوں کی جگہ آہنی سلاخیں لگادیں۔ اس حادثہ کے بعد اس میں کوئی کرایہ دار آنہیں رہا تھا۔میں نے اس مکان میں چندماہ قیام کیا مجھے علم تھا کہ اس کمرے میں رات گئے وہ خونی ڈرامہ کبھی ہفتوں مہینوں بعد کھیلا جاتا ہے میں نے اس مکان کو تالا ڈالديا۔ہم نے اسی دن اس مکان کو چھوڑ دیا اور ممباسہ کے ایک آرام دہ ہوٹل میں جو ایک سرسبز اور پر فضا مقام پر تھا چھٹی کے باقی دن بڑے سکون اور آرام سے گزار دیئے۔

مصنف :رونق دکنی

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here