آؤ بات تو سنو!

0
164
Urdu Drama Stories
- Advertisement -

(ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرنے کی آواز سنائی دیتی ہے)

کشور: ٹائپ کرتے ہوئے خط کے آخری الفاظ بولتا ہے۔

PLease Note That The Payment of Rs 24/8/- AND. Not Rs: 49/4/= Will Be Made To You in Due Course.

Yours Faithfully,

Copy to A ccountant For Information

- Advertisement -

کشور: ٹائپ رائٹر کی گرفت سے کاغذ آزاد کرتا ہے اور اطمینان کا سانس لیتا ہے) شکر ہے۔۔۔ یہ پہاڑ سا کام بھی آخر ختم ہو ہی گیا۔

لاجونتی: (کشور کی بیوی) بڑا اپکار کیا ہے مجھ پر (زور سے رومال کے ساتھ ناک صاف کرتی ہے۔

کشور: (التجائیہ لہجے میں لڑتی کیوں ہو بابا‘ لڑتی کیوں؟۔۔۔ دفتر کے انکھوا سے ایک روز چھٹکارا ملتا ہے تو تم بھنبھنانا شروع کر دیتی ہو۔۔۔ جینے بھی دو گی یا کہ نہیں۔

۔۔۔دفتر کا تھوڑا سا کام باقی رہ گیا تھا۔ کیا ختم نہ کرتا؟

لاجونتی: ناک صاف کرنے کے بعد) دفتر کا تھوڑا سا کام باقی رہ گیا ۔۔۔ یہ بہانے میرے ساتھ نہ چلیں گے جی۔۔۔ اٹھوارے میں ایک دن اتوار کا ملتا ہے کہ گھروالوں کا دو گھڑی جی بہلایا جائے اور تم ہو کہ اس د ن بھی یہ نگوڑی مشین لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ سچ کہتی ہوں کسی روز اس کو اُٹھا کر باہر پھینک دُوں گی۔

کشور: (مشین پر ڈھکنا رکھتا ہے) لاجونتی میں جانتا ہوں کہ پانچ سال دفتر میںYours Faith fullyاور Yours Obedientiy ٹائپ کرتے کرتے میری مردانہ شجاعت بالکل سرد پڑ گئی ہے‘ پر میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ تم اس مشین کو ہاتھ نہ لگا سکو گی۔

لاجونتی: (رونی صورت میں ناک صاف کرتے ہوئے) کیا میرا اتنا حق بھی نہیں رہا۔

کشور: بڑی مصیبت تو یہ ہے کہ تم ذرا سی بات پر بھی آنسو بہانا شروع کر دیتی ہو۔۔۔

ارے بھئی‘ تم ایک بار نہیں لاکھ بار اس کو ہاتھ لگا سکتی ہو‘ میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ تم اسے باہر نہیں پھینک سکتی ہو۔۔۔ تم سے اتنی بھاری چیز اٹھائی بھی جائے گی۔

لاجونتی: مجھے زکام نے نڈھال کر دیا ہے ورنہ ابھی تمہیں اپنی طاقت کا امتحان دے دیتی ۔

(ناک صاف کرتی ہے)۔

کشور: ارے تمہیں تو زُکام ہو رہا ہے؟

لاجونتی: زکام ‘ نزلہ‘ کھانسی‘ ۔۔۔ آپ کے طفیل سبھی کچھ ہے

کشور: یہ تو بڑی بات ہے۔۔۔ کسی ڈاکٹر کو دکھا دینا چاہیئے۔۔۔ میں جاتا ہوں‘ ڈاکٹر ہیم چند رکو بُلاتا ہوں۔۔۔

لاجونتی: کہاں بھاگ چلے۔۔۔ آؤ بات تو سُنو!

کشور: کہو۔

لاجونتی: مجھے تمہارے ڈاکٹر نہیں چاہئیں۔۔۔ میں دیسی دواپیوں گی۔

کشور: بولو کون سی دوا لاؤں۔

لاجونتی: دو پیسے کا بنفشہ‘ ایک پیسے کے عناب‘ ایک پیسے کی الائچی‘ ایک پیسے کی دارچینی اور تھوڑا سا شہد خالص۔

کشور: بس!

لاجونتی: آؤ بات تو سُنو‘ تم تو بس بھاگے جارہے ہو۔۔۔ یہ تو دوا ہوئی‘ واپس آتے ہوئے۔ کپڑے دھونے کا چھتری مارکہ صابن بھی لیتے آنا‘ تمہارے سب رومال میلے پڑے ہیں اور دیکھو اُسی دکان سے ایک آنے کا سوڈا بھی خریدلینا‘ ساتھ ہی اپنی گرم چادر بھی دھو ڈالوں گی۔

کشور: بہت اچھا۔۔۔ تو میں چلا۔

لاجونتی: ذرا ٹھہر و۔۔۔کھوپرے کے تیل کی ایک بوتل بھی لگے ہاتھوں لیتے آنا۔۔۔ اور ہاں چاء بھی تو ختم ہو گئی ہے ‘لپٹن کی سبز لیبل والی پڑیا ضرور لے آنا۔۔۔ اور ایک روپے کے دانے دار شکر۔

کشور: کچھ اور بھی یاد کر لو۔

لاجونتی: دیا سلائی کا ایک بنڈل۔۔۔ اور کاسٹرائل کی ایک بوتل۔۔۔ میں کہتی ہوں جلاب لے ہی لوں۔

کشور: بس‘بس اب میں چلا اس اتوارکے لیئے اتنی ہی چیزیں کافی ہیں۔

(دروازے کی طرف چلنے کی آواز سُنائی دیتی ہے۔ دروازہ کھولا جاتا ہے اور بند کر دیا جاتا ہے)

کشور: گوپو۔۔۔گوپو۔

(سیڑھیوں پر سے اُترنے کی آواز سُنائی دیتی ہے)

گوپال: بھیا جی آپ نے بُلایا ہے۔

کشور: ہاں بھئی میں نے ہی بُلایا ہے۔۔۔ میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں‘ اب تو کہیں کھیل کُود میں نہ لگ جائیو‘ سکول کا سارا کام میرے آنے تک ختم ہو جانا چاہیئے۔

گوپال: وہ تو میں کر ہی رہا ہوں۔۔۔ پر آپ باہر جا رہے ہیں نا؟

کشور: ہاں‘ہاں۔

گوپال: تو جغرافیہ عالم حصّہ اول آج آپ کو لانا ہی پڑے گا۔ اسکول میں تو سب لڑکوں نے خرید لیا ہے۔

کشور: لیتا آؤں گا۔۔۔ اب تو جا اور اپنا کام کر‘ شاباش۔

گوپال: ایک رف کاپی دو دستے والی دو پنسلیں‘ریلیف کے تین نب اور ایک چپل دس نمبر کی۔۔۔ضرور لیتے آئیے گا۔

(سیڑھیوں پر چڑھنے کی آواز)

کشور: (اپنے آپ سے) پر یہ ساری فہرست یاد کس کو رہے گی؟

کشور کا باپ کھانستا ہوا آتا ہے)

کشور کا باپ: کشور‘ تو یہاں کھڑا کیا سوچ رہا ہے؟

کشور: کچھ نہیں پتا جی‘ بازار سے کچھ چیزیں لانا ہیں‘ سوچ رہا تھا کوئی شے بُھول نہ جاؤں۔

کشور کا باپ: بھاگے کیوں جارہے ہو‘۔۔۔ اِدھر آؤ‘بات تو سُنو۔۔۔یہ جو تم ہر روزاوکا سا کھاتے ہو‘ یہ کس مرض کی دوا ہے‘ اس عمر میں تمہارا حافظہ اس قدر کمزور ہو گیا ہے جب میری عمر کو پہنچ گئے تو جانے کیا حال ہو گا تمہارا (کھانستا ہے) اگر یہی بات ہے تو نوٹ بک میں لکھ لیا کرو۔۔۔ تمہیں یاد رہے نہ رہے۔۔۔ مشکل سا نام ہے اسے لکھ ہی لو تو اچھا ہے۔۔۔سرپ منے ڈکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا اچھا ٹانک ہے۔۔۔۔۔۔ اور ایک سیر تمباکو خمیرہ۔۔۔ اور میرے کالے شو کے تسمے۔۔۔ اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ بس یہی تین چیزیں‘ پریاد سے لیتے آنا۔

کشور: کوئی اور چیز؟

کشور کا باپ: ارے ہاں۔۔۔ دو آنے کا پوست اور دانتوں کیلئے منجن۔۔۔ بس (کھانستا ہوا چلا جاتا ہے)۔

کشور: کشور‘ اب تو یہاں سے بھاگ۔۔۔کوئی اور مصیبت نہ آجائے۔

(فرش پر کشور کے چلنے کی آواز۔۔۔ دروازہ کھولا جاتا ہے پھر بند کیا جاتا ہے‘)

کشور: (اطمینان کا سانس لے کر) شکر ہے۔۔۔ گھر سے باہر تو نکل آیا۔

(دروازہ کھلنے کی آواز)

پڑوسن: میں کہہ رہی تھی یہ کشور بابو کی آواز ہے‘ پر میری کملا مانتی ہی نہ تھی۔۔۔ ہاں تو کشور بابو آپ کے بھیا آج بیمار ہیں اور سنتو دو دن کی چھٹی لے کر اپنے گاؤں چلا گیا ہے میں پرسوں اُن سے کہہ بھی رہی تھی کہ گھر میں آٹا دو وقت کے لیئے بھی پُورا نہ ہو گا‘ پر اُنہوں نے ایک نہ سُنی۔۔۔ اب دیکھئے ‘ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہوں۔۔۔ بھاجی تر کاری سب تیار ہے اور روٹیاں پکانے کے لیئے آٹا ہی نہیں۔۔۔ آپ باہر جارہے ہیں نا؟۔۔۔

کشور: (تھکے ہوئے لہجے میں) باہر ہی جا رہا ہوں۔

پڑوسن: تو پھر کوئی تکلیف کی بات نہیں۔۔۔ اور ہمسایوں کا کام تو ویسے بھی خوشی سے کرنا چاہیئے۔۔۔یہ سولہ روپے ہیں۔

(روپوں کی کھنکھناہٹ)

پڑوسن: اور یہ آنہ۔۔۔پندرہ روپے میں ایک بوری آٹے کی اور ایک آنہ اُس کی اُٹھوائی۔۔۔ ایک روپے کے چاول۔۔۔میں اب چلتی ہوں۔۔۔چولہے پر دودھ دھرا ہے کہیں اُبل نہ جائے۔

(دروازہ بند کرنے کی آواز)

کشور: کوئی باقی رہ گیا ہے اور جسے کچھ منگوانا ہو۔۔۔ میں جارہا ہوں(بلند آواز میں)

(دروازہ کھلنے کی آواز)

وہی پڑوسن: میں سمجھ رہی تھی کہ آپ چلے گئے ہوں گے۔۔۔ جب میں اندر گئی تو یاد آیا کہ آپ کے بھائی صاحب کے لیئے دوا منگانی ہے۔۔۔ یہ لیجئے نسخہ ۔۔۔ اور ایک روپیہ۔۔۔

(دروازہ بند کرنے کی آواز)

چار گھنٹے کے بعد

(دروازہ کھلنے کی آواز)

نرائن: کشور تم ہو۔۔۔ آؤ بھئی آؤ۔۔۔کیسے آنا ہوا؟۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ کیا۔۔۔کوئی شادی بیاہ رچایا ہے جو اس طرح لدے پھندے آرہے ہو۔

کشور: (ہانپتے ہوئے) میں ایک ضروری کام سے آیا ہوں۔

نرائن: کہو‘کہو کیا کام ہے۔۔۔ پر تم کچھ تھکے تھکے دکھائی دیتے ہو۔

کشور: تمہارے پاس چوہے مارنے والی گولیاں ہیں کیا؟

نرائن: ہیں!

کشور: مجھے تین چار لادو‘ پر اتنی بڑی نہ ہوں جو حلق سے نیچے نہ اُتریں۔

نرائن: (حیرت میں)کیا کہا؟

کشور: (چڑ کر) میں کیا کہوں گا؟۔۔۔ کیا میں کچھ کہنے کے قابل رہا ہوں۔۔۔ میں تو بوجھ اُٹھانے والا خچر ہوں۔۔۔ گدھا ہوں۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوں۔۔۔ پینے کے لیئے تھوڑا سا پانی۔۔۔ میرا حلق سُوکھ گیا ہے نرائن۔۔۔ اُف اُف ۔۔۔کیا زندگی ہے۔۔۔ پر ماتما کے لیئیمجھے چوہے مارنے کی تین چار گولیا ں لادو۔۔۔ میں جانا چاہتا ہوں۔

نرائن: کشور‘کشور۔۔۔تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔پارسلوں اور پڑیوں کا یہ بوجھ تو ہلکا کرو۔۔۔کرسی پرذرا بیٹھ کے دم تو لے لو۔

کشور: تم مجھے گولیا ں لادو۔۔۔ پر ماتما کے لیئے تم مجھے گولیاں لادو‘ اور ایک گلاس پانی۔

نرائن: تم یہ کیا کہہ رہے ہو کشور؟

کشور: اگر تم نہیں لا دو گے تو میں بازار سے لے لوں گا۔۔۔ کوئی اور دوست مجھ پر یہ مہربانی کر دے گا۔۔۔ نرائن کسی نہ کسی طرح میرا خاتمہ ضرور ہو جانا چاہیئے۔

نرائن: ہولے ہولے بات کرو کشور۔۔۔ کہیں میری وائف نہ سُن لے۔

کشور: تمہاری وائف سُن لے‘ میری اپنی وائف سُن لے۔۔۔ساری دنیا کی وائفیں سُن لیں۔۔۔ مجھے تم گولیاں دے دو۔

نرائن: میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔

کشور: کیا ہو گیا ہے؟۔۔۔تم۔۔۔تم ۔۔۔ نرائن تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔کیا مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔کیا میرے ساتھ ابھی کچھ اور ہو گا۔۔۔ میرا سانس پھول رہا ہے کاندھے شل ہو گئے ہیں۔ دماغ کے پُرزے اُڑ گئے ہیں۔ اور تم کہتے ہو کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ دفتر میں چھ دن مکھیوں کی بھنبھناہٹ ٹائپ رائٹروں کی مسلسل آواز یہ کرو‘ وہ نہ کرو کی رٹ اور اتوار کو یہ مصیبت۔۔۔بیوی کو زکام ہو گیا ہے بھائی کا جوتا پھٹ گیا ہے غسل خانے کاپلستر اڑگیا ہے درزی نے بیوی کی چولی سینے پر ڈھیلی اور کاندھوں پر چست بنائی ہے اُس کے کان کھینچوں‘ یا پڑوسن کے لیئے آٹے کی بوری لاؤں۔۔۔یہ دیکھو۔۔۔ اس پڑیا میں بنفشہ عناب ‘الائچی‘دار چینی اور نہ جانے کیا کیا بلا بندھی ہے۔۔۔یہ سوڈا۔۔۔یہ دس نمبر کی چپل۔۔۔اور یہ۔۔۔اور یہ۔۔۔بوتل کے تیل کا ایک کھوپرا۔۔۔نہیں۔۔۔تیل کی کھوپری کی ایک بوتل۔۔۔۔دیکھ لو‘ دیکھ لو۔۔۔دماغ کتنا پریشان ہے۔۔۔ یہ‘یہ ۔۔۔ہاں ہاں کھوپرے کے تیل کی ایک بوتل۔۔۔ اور یہ رف کاپی دو دستے والی۔۔۔ سرپ منے ڈکس‘۔۔۔جغرافیہ اوّل حصّہ عالم۔۔۔پنسلیں۔۔۔کاسٹر آئیل کی ایک بوتل۔۔۔دیا سلائی کا ایک بنڈل۔۔۔کالے شوکے تسمے‘لپٹن کی سبز لیبل والی پڑیا‘شکر اور یہ کپڑے دھونے کا صابن مارکہ چھتری نہیں۔۔۔صابن دھونے کا چھتری مارکہ کپڑا۔۔۔لعنت جو کچھ بھی ہے۔۔۔ اور باہر مزدور کھڑا ہے‘ اُس کے سر پر آٹے کی بوری اور ایک روپے کے چاول ۔۔۔بتاؤ‘پر ماتما کے لیئے بتاؤ۔۔۔ کیا میں ہمدردی کا مستحق نہیں کیا مجھے چوہے مارنے والی گولیاں نہیں کھا لینا چاہئیں۔

نرائن: ٹھہر و‘ٹھہر و‘ مجھے سوچنے تو دو۔۔۔ مجھے سوچنے تو دو۔۔۔ تمہیں چوہے مارنے والی گولیاں چاہئیں نا؟۔۔۔پر میں یہ کیسے دے سکتا ہوں۔۔۔شاید آئندہ اتوار مجھے ہی ان کی ضرورت ہو۔۔۔وہ بھی تو شاپنگ کا ارادہ کر رہی ہیں۔

کشور: تم میری مدد نہیں کر سکتے تو پر ماتما کے لیئیہمدردی کا اظہار ہی کر دو۔۔۔یا کیا میں اس کے لائق نہیں؟

نرائن: مجھے تم سے پوری ہمدردی ہے۔

کشور: کیا تمہیں یقین ہے کہ تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔

نرائن: ہاں ہاں کیوں نہیں۔

کشور: نہیں نہیں تمہیں میرے ساتھ ہمدردی ہونی چاہیئے۔۔۔ اچھا‘اچھا۔۔۔ میں اب رخصت چاہتا ہوں مجھے دانتوں کا منجن اور پوست خریدنا ہے۔

نرائن: تم اب سیدھے گھر جاؤ گے نا؟

کشور: ہاں سیدھا گھر ہی جاؤں گا۔

نرائن: یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ کیسے ہو سکے گا۔۔۔خیر ۔۔۔مسٹر کنشی رام کو تم اچھی طرح پہچانتے ہونا؟

کشور: ہاں‘ہاں۔

نرائن: اُن سے میرا پر نام کہنا۔

کشور: کہہ دوں گا۔

نرائن: ارے بھئی بھاگ کہاں چلے۔۔۔ ادھر آؤ بات تو سُنو۔

کشور: ۔۔۔کیا ہے؟

نرائن: اور ۔۔۔

کشور: اور۔۔۔

نرائن: یہ طوطا بیلجیئم کا ہے۔۔۔راسے کس کو کہتے ہیں‘ بہت جلد باتیں سیکھ لیتا ہے اسی لیئے تمہاری بھابی اسے پسند نہیں کرتی۔ ایک روز بھولے سے میں نے اُسے نالائق کہہ دیا‘ اب یہ نالائق ہر روز اُسے نالائق کہتا رہتا ہے۔۔۔ اب جھگڑا اس بات کا ہے کہ یا تو میں اس طوطے کو رکھوں یا اُس کو۔

کشور: بات معقول ہے۔

نرائن: میں یہ چاہتا ہوں کہ ا سے گھر میں نہ رکھوں۔۔۔تمہیں تکلیف تو ہو گی۔۔۔اس پنجرے کو اُنگلی سے لٹکا کر لے جاؤ اور مسٹر کانشی رام کے گھر پہنچا دو۔۔۔اور۔۔۔

کشور: اور۔۔۔؟

نرائن: اور یہ اوورکوٹ جو اُنہوں نے منگا بھیجا تھا

کشور: اور تیل کا وہ کنستر جو تم اُن سے مانگ کر لے آئے تھے۔

نرائن: وہ کون سا؟

کشور: اور سویاں بنانے کی وہ مشین جو تمہیں مرمت کے لیئے مستری کے پاس بھیجنا تھی۔

نرائن: میرے پاس تو کوئی ایسی مشین نہیں۔۔۔ میں ابھی تک سنگر مشین ہی کی قسطیں اد انہیں کر سکا۔

کشور: اور وہ اسباب جو میرے کاندھوں پر لدوا کے اسٹیشن بھیجنا تھا۔

نرائن: کون سا اسباب؟۔۔۔پر تم میری طرف یوں گُھور گُھور کے کیوں دیکھ رہے ہو۔

کشور: کہاں ہے طوطے کا پنجرہ۔۔۔لاؤ‘لاؤ ادھر ۔۔۔کہاں ہے اوورکوٹ۔۔۔ میں طوطے کو کچا چبا جاؤں گا۔۔۔ اوور کوٹ کی صدری بنا دُوں گا۔۔۔(ہنستا ہے زور زور سے ہنستا ہے) میں تمہاری طرف گھور گھور کے کیوں دیکھ رہا ہوں؟۔۔۔(ہنستا ہے)بول میاں مٹھو۔۔۔کھوپرے کے تیل کی ایک چپل۔۔۔کاسٹرائیل حصہ اوّل۔۔۔کالے شو کا ایک شہد۔۔۔رف کاپی کی دو پنسلیں۔۔۔بول میاں مٹھو اتوار کی جے !(ہنستا ہے)

فیڈ آؤٹ (ماخوذ)

مصنف:سعادت حسن منٹو

مزید ڈرامے پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here