ایک مرد

0
130
Urdu Drama Stories
- Advertisement -

پہلا منظر

زنانہ کالج کے ہوسٹل کا ایک کمرہ۔۔۔۔۔۔ مختصر سازو سامان، لیکن ہر چیز سلیقے اور قرینے سے رکھی نظر آتی ہے۔ کمرے کے دو حصے ہیں ایک آگے، دوسرا پیچھے ۔بیچ میں دیوار ہے لیکن اس میں دو بڑے بڑے بغیر کواڑوں کے دروازے ہیں ان میں سے ایک کمرے کا دوسرا حصہ نظر آتا ہے اور وہ کھڑکی بھی دکھائی دیتی ہے جو دوسری طرف میدان میں کھلتی ہے۔ کمرے کے دوسرے حصے میں پلنگ بچھا ہے اس کے پاس تپائی رکھی ہے۔ کھڑکی کے پاس آرام کرسی پڑی ہے۔ کمرے کے پچھلے حصے یعنی پیش نظر میں سنتوش ایک کرسی پربیٹھی ،دوسری کرسی پرٹانگیں رکھے کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔۔۔۔۔۔ اس دروازے پر جو ہوسٹل کی غُلام گردش کی طرف کھلتا ہے دستک ہوتی ہے۔

سنتوش: آجاؤ۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھلا ہے۔

(دروازہ کھلتا ہے۔ سنتوش کی سہیلی عذرا داخل ہوتی ہے)

عذرا: کیا پڑھ رہی ہو؟

- Advertisement -

سنتوش: کچھ کہنا ہو تو فوراً کہہ دیا کرو۔۔۔۔۔۔ تمہیدیں نہ باندھا کرو۔۔۔۔۔۔ بولو کیا چاہتی ہو؟

عذرا: نوج تم سے کوئی بات کرئے۔۔۔۔۔۔ ہر وقت منہ سجائے بیٹھی رہتی ہو۔

سنتوش: میں گھر سے یہاں پڑھنے آئی ہوں، تفریح کرنے نہیں آئی۔

عذرا: جی!

سنتوش: جی!

عذرا: جی۔۔۔۔۔۔ ایک صرف آپ گھر سے یہاں پڑھنے آئی ہیں باقی سب تفریح کی غرض سے آئی ہیں۔۔۔۔۔۔ ایسی سڑی بات کرتی ہو کہ جی چاہتا ہے تم سے لڑنا شروع کردُوں۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارے چہرے پر جو سنجیدگی اور متانت کا غلاف چڑھا رہتا ہے ایک ہی جھٹکے میں اُتار دُوں۔

سنتوش: تین برس گزر جانے پربھی تمہارا یہ ارادہ مضبوط نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ؟

عذرا: تمہارا سر۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اُس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہوتا ہے؟ وہ کیوں ہوتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ہر بات میں قانون کی ایک پخ لگی رہتی ہے۔ وجہیں دریافت کی جارہی ہیں۔ اسباب تلاش کیئے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔ جانے اُس شریف آدمی کا کیا حال ہوگا جو تم سے شادی کرنے کی حماقت کریگا۔

سنتوش: جو احمقوں کا ہوتا ہے۔

عذرا: سووہ کوئی احمق ہی ہوگا جو تم سے شادی کریگا۔۔۔۔۔۔ یہ میری بات اچھی طرح نوٹ کرلو۔۔۔۔۔۔ تم عقلمند ہوگئی ہو کہ کسی دوسرے کی عقل تم سے برداشت نہ ہوسکے گی۔

سنتوش: عذرا دیکھو۔ میرا وقت ضائع نہ کرو۔ مجھے یہ سارا چیپٹر زبانی یاد کرنا ہے۔ جو کہنا ہے کہہ ڈالو اور جاؤ۔

(کرسی پرسے ٹانگیں ہٹا لیتی ہے۔ عذرا اس کرسی پربیٹھ جاتی ہے)

عذرا: توبہ۔۔۔۔۔۔ تم تو یہ چاہتی ہو کہ ادھر بٹن دباؤ اور ادھر ساری بات نکل کر باہر آجائے۔۔۔۔۔۔ بھئی مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا۔ میں تو اپنی عادت کے مطابق آہستہ ہی سب کچھ بتاؤں گی۔ تم بیٹھی پروٹسٹ کرتی رہو۔

سنتوش: لے اب جو کہنا ہے کہہ بھی ڈالو۔

عذرا: ایک خط آیا ہے۔

سنتوش: گھر سے۔۔۔۔۔۔شادی وادی کی بات؟

عذرا: نہیں۔۔۔۔۔۔ اباجی دوسری شادی کرکے مجھے تو بالکل بھول ہی گئے ہیں اب اگر میں انہیں لکھوں۔’’ ابا جی میرا جی چاہتا ہے کہ لاماؤں کی سرزمین تبت میں چلی جاؤں اور وہاں کسی خانقاہ میں راہبہ بن جاؤں تو وہ یقیناً خوش ہو کر جواب دیں گے۔’’بیٹا یہ تمہارا خیال بہت ہی مبارک ہے۔‘‘

سنتوش: (ہنستی ہے) اس قدر نااُمید نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ ہاں تو خط اگر گھر سے نہیں آیا تو کہاں سے آیا ہے؟

عذرا: جانے کہاں سے آیا ہے۔ پتا تو درج نہیں۔۔۔۔۔۔ لفافے پر میرا نام ہے لیکن خطاب ہوسٹل کی تمام لڑکیوں سے کیاگیا ہے۔۔۔۔۔۔ میں بھولی صرف خوبصورت لڑکیوں کے نام۔

سنتوش: لکھنے والا کون ہے؟

عذرا: ایک مرد

سنتوش: بالغ یا نابالغ؟

عذرا: معلوم نہیں۔ لیکن تحریر سے کافی بلوغت ٹپکتی ہے۔

سنتوش: نام؟

عذرا: وہ ایک مرد۔

سنتوش: اور ہمارے ہوسٹل میں بارہ لڑکیاں ہیں۔

عذرا: بارہ نہیں تیرہ۔

سنتوش: تیرہ کیسے۔

عذرا: ایسے کہ اتفاق سے تم بھی لڑکی ہو۔

سنتوش: تو ایک مرد نے ہم تیرہ لڑکیوں کے نام یہ خط بھیجا ہے۔

عذرا: غلط۔۔۔۔۔۔ صرف ان کے نام جو اپنے آپ کو خوبصورت سمجھتی ہوں۔

سنتوش: اس کا مطلب؟

عذرا: (اپنے بلاؤز میں سے ایک خط انگلیوں کی مدد سے نکالتی ہے) تم یہ خط پڑھ لو۔

(خط سنتوش کو دے کر باہر جانے لگتی ہے)

سنتوش: تم کہاں چلیں؟

عذرا: صفیہ کو بلا لاؤں۔

سنتوش: صفیہ حسن کو۔

عذرا: نہیں دوسری صفیہ کو۔۔۔۔۔۔ صفیہ حسن تو بیاہی ہوئی ہے۔(وقفہ) سنتوش میں کہتی ہوں ہوسٹلوں میں صرف بیاہی ہوئی عورتیں داخل کرنی چاہئیں۔

سنتوش: کیوں؟

عذرا: اس لیئے کہ ہوسٹل ہسپتالوں سے زیادہ ملتے جلتے ہیں اور تم جانتی ہو کہ بیاہی ہوئی عورتیں اکثر بیمار رہتی ہے(ہنستی ہے۔۔۔۔۔۔ اب ذرا تم بھی ہنس دو)

سنتوش: کسی کے کہنے پر میں کبھی نہیں ہنس سکتی۔

عذرا: تو جہنم میں جاؤ۔۔۔۔۔۔!

(چلی جاتی ہے)

سنتوش: (خط پڑھتے ہوئے) ہاں۔ جاؤ۔ پر جلدی واپس آجانا۔

(کچھ دیر تک سنتوش خط پڑھنے میں مصروف رہتی ہے)

ورشا: (آواز باہر سے آتی ہے) میں اندر آسکتی ہے۔

(ورشا اور عذرا دونوں اندر داخل ہوتی ہیں)

عذرا: آؤ۔ آؤ۔ ورشا آؤ۔۔۔۔۔۔ دیکھو تم یہاں بیٹھو۔ میں ابھی آتی ہوں۔

ورشا: کیا بات ہے؟۔۔۔۔۔۔ بڑی گھبرائی ہوئی ہو۔

(کرسی پربیٹھ جاتی ہے)

عذرا: سنتوش سے پوچھو۔ وہ تمہیں سب کچھ بتا دے گی۔

(چلی جاتی ہے)

ورشا: یہ خط بڑی دلچسپی سے پڑھا جارہا ہے۔

سنتوش: (سرگوشی میں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے) عذرا گئی۔

ورشا: گئی۔۔۔۔۔۔کیا بات ہے؟

سنتوش: بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک شرارت سوجھی ہے۔

ورشا: شرارت؟

سنتوش: ہاں! شرارت۔ عذرا اور دوسری لڑکیاں ہمیشہ شکایت کرتی تھیں کہ میں بہت سنجیدہ اور متین ہوں۔ سو کل بیٹھے بیٹھے مجھے ایک شرارت سوجھی۔۔۔ کوئی سُن تو نہیں رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں تو میں نے ایک شرارت کی اور یہ خط لکھ کرعذرا کے نام ڈال دیا۔۔۔۔۔۔ اب عذرا اس میں بڑی دلچسپی لے رہی ہے۔

میں تمہیں پوری بات سناتی پرکوئی آجائیگا۔۔۔۔۔۔ یہ خط پڑھ لو( خط اس کے حوالے کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور اُٹھ کھڑی ہوتی ہے)

ورشا: میں تمہارا مطلب نہیں سمجھی۔

سنتوش: مجھے خود معلوم نہیں کہ خط لکھنے سے میرا مطلب کیا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن دیکھو ورشا کسی سے کہنا نہیں ورنہ سارا لطف جاتا رہے گا۔

ورشا: (خط پڑھتے ہوئے) یہ تمہیں کیا سُوجھی؟

سنتوش: دراصل ورشا میں اپنی سنجیدگی اور متانت سے تنگ آگئی ہوں جی چاہتا ہے کہ اب کوئی ہنگامہ ہو۔

ورشا: (توقف کے بعد)۔۔۔۔۔۔ خط دلچسپ ہے۔

(غلام گردش سے تیز قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے اور فوراً ہی عذرا آٹھ، دس لڑکیوں کے ہمراہ اندر داخل ہوتی ہے)

عذرا: ہے نا۔۔۔۔۔۔ میں ان سب سے ابھی ابھی یہی کہہ رہی تھی۔

عذرا: (لڑکیوں سے) آجاؤ۔ سب کی سب اندر چلی آؤ۔۔۔۔۔۔ اختری تمہارا یہ خیالی پن مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔ چلی آؤ۔۔۔۔۔۔ تمہیں اپنی ناک کی کیل سے جتنا پیار ہے اگر اتنا ہی مجھ سے ہوتا تو۔۔۔۔۔۔

اختری: تم ہروقت میری اس کیل کے پیچھے پڑی رہتی ہو۔

عذرا: میں پوچھتی ہوں کہ بھلاکوئی یہ بھی زیوروں میں زیورہے۔۔۔ اچھی بھلی ناک میں کیل گاڑ دی جاتی ہے اس کے ساتھ کیا تصویر لٹکاؤ گی۔

(کئی لڑکیاں ہنستی ہیں)

عذرا: (ہنستے ہوئے) آؤ۔ بھئی آؤ۔۔۔۔۔۔ مذاق برطرف۔ اختری کی کیل سے یہ خط زیادہ اہم ہے۔

(کچھ لڑکیاں کھڑی رہتی ہیں کچھ کرسیوں اورمیزوں پر بیٹھ جاتی ہیں)

ورشا: اہم وہم تو خاک بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ کوئی مرد ذرا سی بات کہہ دے توتم اسے خواہ مخواہ اہمیت دینا شروع کردیتی ہو۔۔۔۔۔۔ جانے نگوڑا کون ہے کون نہیں ہے۔

عذرا: تو چھوڑو۔۔۔۔۔۔ خط میرے حوالے کرو۔ اتنی دلچسپی سے کیوں پڑھ رہی ہو۔ کتنی بھولی بنتی ہے۔ چہرے پر بالوں کی لٹیں ہر وقت یوں لٹکائے رکھتی ہے جیسے میری بنو کو دنیا کا کچھ پتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ لاؤ خط مجھے دو(خط چھین لیتی ہے)

صفیہ: (آگے بڑھ کر)۔۔۔۔۔۔ یہ تم دونوں نے لڑنا کیوں شروع کردیا۔۔۔۔۔۔ یہاں بلایا ہے تو کچھ ہمارے پلے بھی پڑے۔

عزت: تم اب اپنا تھرکنا بند کرو۔۔۔۔۔۔ تو بہ چلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے توڑے لے رہی ہے۔۔۔۔۔۔ چلو اب خط سناؤ۔

عذرا: تمہیں سننے کی کیا ضرورت ہے۔ اس عینک میں سے تو تم لفافوں کے اندر کا مضمون بھی پڑھ لیا کرتی ہو۔

(بہت سی لڑکیوں کا شور۔۔۔۔۔۔ خط سنایا جائے۔ خط سنایا جائے)

عذرا: (تقریر کے انداز میں)۔۔۔۔۔۔ خاموش۔۔۔۔۔۔ خاموش۔۔۔۔۔۔ ورشا تم سنتوش سے کیا کُھسر پُھسر کررہی ہو؟ خاموش رہو۔۔۔ بہنو۔ میں نے تمہیں سنتوش کے کمرے میں اس لیئے بُلایا ہے کہ مجھے آج ایک مرد کی طرف سے یہ خط وصول ہوا ہے۔

عزت: (خوش ہو کر)۔۔۔۔۔۔ ایک مرد کی طرف سے۔

نرملا: اتنی خوش کیوں ہوتی ہو؟

عذرا: خاموش۔۔۔۔۔۔ اس میں خوشی وشی کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔ جو خط وصول ہوا ہے۔ میں آپ کو سنا دیتی ہوں خوشی اور غمی کا فیصلہ بعد میں کیا جائے! سرلا اور بملا تم دونوں بہنیں مجھے یوں گھور گھور کے کیوں دیکھ رہی ہو؟

سرلا اوربملا: (دونوں) نہیں تو۔۔۔۔۔۔

عزت: عذرا۔ تم خط سناؤ۔

عذرا: لو سنو۔۔۔۔۔۔(خط کا کاغذ کھولتی ہے)۔۔۔۔۔۔ ہوسٹل کی تمام خوبصورت لڑکیو۔۔۔۔۔۔(لڑکیوں کی سرگوشیاں)

عذرا: رشیدہ تم غور سے سُنو۔۔۔۔۔۔ہوسٹل کی تمام خوبصورت لڑکیو۔۔۔

(اضطراب کی آوازیں)

عذرا: یہ کیا ہورہا ہے؟

خورشید: رشیدہ کہتی ہے۔ میں اب یہاں نہیں بیٹھوں گی۔

سنتوش: عذرا تم نے اسے کیوں چھیڑا۔۔۔۔۔۔ کیا ہے بیچاری کی شکل میں۔ تم سے تو لاکھ درجے اچھی ہے۔

صفیہ: تم خط سُناؤ جی۔ یہ بیکار کی باتیں کیا لے بیٹھی ہو۔

عذرا: ہوسٹل کی تمام خوبصورت لڑکیو۔۔۔۔۔۔ میری دُعا ہے کہ شادی کے بعد بھی تمہاری خوبصورتی برقرار رہے۔

عزت: آدمی شریف معلوم ہوتا ہے

(چند لڑکیاں ہنستی ہیں)

عذرا: تم ضرور لفظ شادی سے گھبراؤ گی۔ تم میں سے بعض میں یہ گھبراہٹ اصلی ہوگی اور بعض میں مصنوعی۔ مرد مصنوعی اور اصلی گھبراہٹ پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ضرور گھبراؤ۔۔۔۔۔۔ لیکن کاش تم شادی کے بعد بھی گھبرا سکتیں۔

اختری: ہے ہے۔۔۔۔۔۔ یہ نگوڑا کس قسم کا آدمی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا اوٹ پٹانگ لکھا ہے۔ گھبراؤ۔۔۔۔۔۔ ضرور گھبراؤ۔

خورشید: گھبرائے تمہاری بلا۔۔۔۔۔۔ تم تو اس دن کے انتظار میں۔۔۔۔۔۔

اختری: چپ کر موئی زبان دراز۔۔۔۔۔۔

عذرا: خاموش۔۔۔۔۔۔ہاں تو آگے لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ خط میں صرف خوبصورت لڑکیوں کو لکھ رہا ہوں۔

(سرگوشیاں)

صفیہ: کیوں خوبصورت لڑکیاں اس مردوے کی خالہ کی خل جچی لگتی ہیں۔

اختری: تم کیوں چڑتی ہو؟

عذرا: (خط پڑھتے ہوئے) یہ خط میں صرف خوبصورت لڑکیوں کو لکھ رہا ہوں اس کا جواب اگر مجھ سے طلب کیا جائے تو میں کہوں گا۔

سورن لتا: کیا کہے گا؟

عذرا: کہ عورت میں جسے دنیا میں بڑے بڑے کام سرانجام دینا ہوتے ہیں خوبصورتی کا ہونا اشد ضروری ہے اگر عورت خوبصورت نہیں تو وہ ایسا کمرہ ہے جس میں کوئی روشندان نہ ہو۔

سرگا: آگے کیا لکھا ہے؟

صفیہ: آگے لکھا ہے تمہارا سر۔۔۔۔۔۔ ذرا اس کی طرف دیکھو۔ اختر کتنی دلچسپی لے رہی ہے۔ وہ موا گالیاں دے رہا ہے ہمیں۔۔۔۔۔۔ اور یہ مزے سے سُن رہی ہے۔

عذرا: خوبصورتی ازدواجی زندگی کے تنفس کے لیئے اشد ضروری ہے، یہ خط پڑھنے کے بعد تم میں سے اکثر اپنے آپ سے سوال کرینگی۔’’کیا میں خوبصورت ہوں۔‘‘

اختری: صفیہ تو ضرور کرئے گی۔

صفیہ: پہلے میں اس یوسف کو نہ دیکھوں گی جو لوگوں کی خوبصورتی ماپتا پھرتا ہے

(تین چار لڑکیوں کی ہنسی)

عذرا: تم میں سے اکثربے وقوف لڑکیاں آئینے کی گواہی طلب کریں گی۔

صفیہ: (غصیّ میں اُٹھ کھڑی ہوتی ہے) عذرا:اس سے کہو کہ منہ سنبھال کر بولے۔

(عذرا اور تین چار لڑکیوں کی ہنسی)

سنتوش: آرڈر۔۔۔۔۔۔آرڈر

عذرا: (خط پڑھتے ہوئے) اپنے حافظہ پر زور دے کر ایسے واقعات تلاش کرینگی جن میں کسی نے کبھی ان کی خوبصورتی یا بدصورتی کا فیصلہ کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ سچ پوچھو تو عورت اپنی خوبصورتی یا بدصورتی کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔ اسکی خوبصورتی با بد صورتی کا فیصلہ کرنے والے ہم ہیں یعنی مرد۔

صفیہ: گدھے کہیں کے۔

سنتوش: تم بہت جلد بگڑ جاتی ہو۔

ورشا: (ہنس کر) اس قدر غصّہ

صفیہ: غصہ کیوں نہ آئے۔۔۔۔۔۔ بات ہی ایسی ہے۔۔۔۔۔۔ نامعقول کہیں کا۔۔۔۔۔۔ خیر بتاؤ آگے کیا لکھتا ہے؟

عذرا: تمہارے گالوں پر زخم کا نشان جو بظاہر بدصورت معلوم ہوتا ہے کسی مرد کی نگاہوں میں تمہاری خوبصورتی کا باعث ہو سکتا ہے(صفیہ اپنے گال کے داغ کو چھپا لیتی ہے) تمہارا توتلا پن۔ تمہارا تھوڑا سا لنگڑا کرچلنا۔ تمہارا ضرورت سے زیادہ بھولا پن جس سے شاید تمہارے ماں باپ نالاں ہوں۔ تمہارا ٹوٹا ہوا دانت تمہاری شکن آلود پیشانی، تمہارے موٹے ہونٹ جنکی بدصورتی کے متعلق دل ہی دل میں تم نے کئی بار سوچا ہوگا تمہیں خوبصورت بنانے میں بیش از بیش حصہ لے سکتے ہیں۔

رشیدہ: (طنز کے ساتھ) تمہارے مڑے ہوئے دانت تمہاری تنگ پیشانی تمہارا کٹاہوا بازو۔ تمہاری پھولی ہوئی توند۔ تمہاری گاجربرابر چوٹی اور تمہاری سوجے ہوئے نتھنے۔ تمہیں خوبصورت بنانے میں بیش از بیش حصہ لے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے تو یہ کوئی سڑی دیوانہ معلوم ہوتا ہے۔

عذرا: آگے سنو۔۔۔۔۔۔ ہم آرٹسٹ ہیں یہی وجہ ہے کہ قدرت تمہیں صرف ہمارے پاس بھیجتی ہے ہم تمہاری نوک پلک نکالیں تمہیں خوبصورت بنائیں تمہارے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ تم خوبصورت ہو۔ اگر ہم نہ ہوتے تو بہت ممکن ہے چاند اور تارے تم پر بازی لے جاتے مگر چونکہ ہم ہیں اس لیئےآسمانوں اور زمینوں کی تمام خوبصورتیاں نوچ کر ہم نے تمہارے قدموں میں ڈال رکھی ہیں۔

صفیہ: محض بکواس ہے۔

نرملا: خاموش بھی رہو۔

سرلا: اس کی للّو تو بس چلتی رہتی ہے۔

عذرا: تم اس ہوسٹل میں چار دیواری میں قید ہو۔ فلسفے ،ہندسے اور معاشیات کی یہ موٹی موٹی کتابیں رٹتی رہتی ہو، تم میں سے کچھ فلسفے کی تیز شیشوں والی عینک ہروقت اپنی ناک پر چڑھائے رکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ فلسفہ ولسفہ محض ڈھکوسلا ہے زماں و مکاں کی بحث بالکل لایعنی ہے۔ معاشیات کے اصول کسی کام کے نہیں۔۔۔۔۔۔ دنیا کے نظام پر صرف ایک چیز حکومت کرتی ہے صرف ایک چیز اور وہ عورت اور مرد کی ازلی دوستی ہے۔

اختری: (بیخودی کے عالم میں) ازلی دوستی ہے۔

عذرا: تم مردوں سے دُور کیوں رہتی ہو؟۔۔۔۔۔۔ نہیں دُور ہی رہو۔ اس لیئے کہ تم دور رہنے پر زیادہ قریب آجاتی ہو مگر تم دُور رہ کر خود کو قریب محسوس نہ کیا کرو اس لیئے کہ تمہارا یہ احساس اس قربت کا سارا لُطف خراب کردیتا ہے۔ اس احساس سے صرف مرد ہی لطف اندوز ہوں تو اچھا ہے۔

صفیہ: دوری اور نزدیکی کا یہ گورکھ دھندا خوبصورت ہے۔

عذرا: (شاعرانہ انداز میں)۔۔۔۔۔۔ رات کو سوتے وقت جب تمہارے کنارے دماغ فلسفے۔ معاشیات اور الجبرا و فلسفّہ کی دھند سے آزاد ہوں تو اپنے کمرہ کی لطیف فضا میں جو تمہارے وجود سے اور بھی لطیف ہو جاتی ہے کچھ دیر کے لیئے سوچنا کہ مرد کیا ہے۔۔۔۔۔۔ جب صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں کالج جانے کیلئے زبردستی تمہاری مندی ہوئی آنکھیں کھولتی جائیں گی اور تمہارا دل و دماغ نیند کی دُھنکی ہوئی رُوئی میں لپٹا ہوگا تو اس وقت بھی نیم غنودگی کی حالت میں سوچنا کہ مرد کیا ہے(خورشید انگڑائی لیتی ہے۔۔۔۔۔۔ اندھیری یا چاندنی راتوں میں جب تمہیں ہر شے پُر اسرار دکھائی دے گی اور ایک بے نام سا اضمحلال تم پر طاری ہوگا۔ اس وقت بھی تم اپنے نرم سیر دماغ سے پوچھنا’’ مرد کیا ہے‘‘

عزت: (بیخود ہو کرتالی بجاتی ہے) بہت خوب۔ بہت خوب

ورشا: سنتوش بھئی کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔۔ فقرہ بہت خوبصورت۔۔۔۔۔۔ اندھیری یا چاندنی راتوں میں جب ہر شے پُر اسرار دکھائی دے گی اور ایک بے نام سا اضمحلال تم پرطاری ہوگا۔ اس وقت بھی اپنے نرم سیر دماغ سے پوچھنا ’’مرد کیا ہے؟‘‘۔۔۔۔۔۔ بہت اچھا فقرہ ہے۔

سنتوش: (آہستہ) ورشا۔۔۔۔۔۔ چُپ؟

عذرا: ہوسٹل کی خوبصورت لڑکیو۔۔۔۔۔۔ وہ جو پھولوں میں نت نئے رنگ بھرتا ہے وہی تمہاری جوانیوں میں رنگ بھرے۔۔۔۔۔۔ اگر تم اس خط کا جواب دینا چاہو تو لکھ کر اس بڑے پتھر کے نیچے رکھ دینا جو تمہارے ہوسٹل کی عمارت میں کام نہیں آسکا تھا اور جو اب باہر سڑک کے پاس بیکار پڑا ہے۔۔۔۔۔۔ راقم ایک مرد۔

سرلا: (افسوس کے ساتھ) خط ختم ہوگیا۔

صفیہ: کیا کوئی ناول پڑھ کے سُنایا جارہا تھا تمہیں۔

عذرا: خاموش۔۔۔۔۔۔ بہنو خط آپ نے سُن لیا۔ اب بتاؤ ہمیں کیا کرنا چاہیئے ۔ سنتوش تمہاری کیا رائے ہے؟

بہت سی لڑکیاں: ہاں پہلے سنتوش اپنی رائے ظاہر کرئے۔

سنتوش: رائے؟۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں کیا رائے دُوں۔۔۔۔۔۔ تم جو فیصلہ کرو گی مجھے منظور ہوگا۔

عزت: عذرا۔۔۔۔۔۔ میری رائے میں اس خط کا جواب ضرور دینا چاہیئے۔

اندھیری یا چاندنی راتوں میں صبح اٹھنے وقت یا رات کو سوتے وقت اپنے آپ سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ مرد کیاہے۔۔۔۔۔۔ میں سب جانتی ہوں کہ مرد کیا ہے۔

عذرا: بتاؤ مرد کیا ہے؟

عزت: مرد وہ جانور ہے جو کان رکھنے پر بھی دُودھ نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔ جیسا چمگاڈر۔

صفیہ حسن: مجھے تمہارا یہ مذاق پسند نہیں آیا۔

عزت: اس لیئے کہ تم اسی قسم کی ایک چمگاڈر سے بیاہی ہو۔

(چند لڑکیاں ہنستی ہیں)

بملا: میرا اور سرلا کا خیال ہے کہ اس خط کا جواب ایسی ہی میٹھی زبان میں دینا چاہیئے۔

اختری: تو اتنی شکر تم دونوں بہنوں کی زبان میں ہے۔

عذرا: کمل تم خمیرے آٹے کی طرح پھیلی ہوئی کیا سوچ رہی ہو؟ کچھ تم بھی بولو۔

کمل: میرے سر میں درد ہورہا ہے۔

عزت: اسپرین کھاؤ۔

عذرا: (خورشید کے پاس جا کر) خورشید تم ان معاملوں میں بڑی ماہر ہو۔ بتاؤ ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

خورشید: (تنک کر) مجھے یوں چھیڑ خانی اچھی نہیں لگتی عذرا۔۔۔۔۔۔(لہجہ بدل کر اختری سے) اختری۔خُدا کی قسم جب سے اس نے یہ خط سُنایا ہے میرا دل ڈر کے مارے دھک دھک کررہا ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے بڑی دہشت ہوتی ہے ایسی باتوں سے۔

اختری: (مصنوعی سنجیدگی کے ساتھ) میں تم سے کئی بار کہہ چکی ہوں کہ اپنے دل کا علاج کراؤ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ شادی کے روز مارے دہشت کے بند ہی ہو جائے۔

(تین چار لڑکیوں کی ہنسی)

عذرا: نرملا تمہارا کیا خیال ہے؟

نرملا: میں اس معاملہ میں اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں

عزت: رفریجریٹر میں رکھ چھوڑو

(چند لڑکیاں ہنستی ہیں)

عذرا: ورشا۔۔۔۔۔۔ میری بھولی بھالی ورشا تمہارا کیا خیال ہے؟

ورشا: میرا خیال ہے کہ صفیہ سے پوچھا جائے۔

عذرا: بولو صفیہ تمہاری کیا رائے ہے؟

صفیہ: تم کہو گی کہ مجھے مردوں سے خدا واسطے کا بیر ہے مگر سچ پوچھو تو اس خدا واسطے کے بیر کے بغیر کام بھی نہیں چل سکتا۔ میری رائے ہے کہ ہم سب مل کر ایک محاذ بنالیں۔ اس مرد کا کھوج لگائیں۔ جب کھوج لگ جائے تو سب مل کر اس پر حملہ کردیں۔۔۔۔۔۔ اگر آدمی اتفاق سے شریف نکل آیا تو ہم اسے معاف کردیں گے۔۔۔۔۔۔ معاف کردینے میں اور ہی لطف ہے۔

عذرا: تمہارا مطلب ہے کہ ہم اسے ما ریں؟

صفیہ: یقیناً یہی میرا مطلب ہے۔

سرلا اور بملا: (دونوں بیک زبان) یہ صریحاً ظلم ہے۔

عزت: مجھے بھی اس سے اتفاق نہیں۔۔۔۔۔۔ ممکن ہے بیچارے کے کہیں چوٹ آجائے تو بالکل ڈائن قصائن ہے۔

صفیہ: میں نے اپنی رائے ظاہر کردی۔ مانو نہ مانو تمہارا اختیار ہے۔

عذرا تمہارا خیال کیا ہے؟

سرلا: ہاں عذرا سے پوچھو اس کا کیا خیال ہے؟

عذرا: تم سب کی رائے طلب کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ خط کا جواب نہیں دینا چا ہیئے۔ لیکن دینا بھی چاہیئے اس لیئے کہ یہ ضروری ہے سو اس کے لیئے ایک راستہ ہے کہ یہی خط اس پتھر کے نیچے رکھ دیا جائے۔۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے تمہارا عزت۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ طریقہ سب سے بہتر رہیگا۔یعنی اس میں کوئی قطعی جواب نہیں ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔

عزت: تمہارا خیال درست ہے۔

عذرا: جنہیں یہ بات پسند ہے وہ اپنا ہاتھ کھڑا کردیں۔

(چند لمحات سرگوشیاں ہوتی ہیں پھر سب لڑکیاں اپنا اپنا ہاتھ کھڑا کردیتی ہیں)

عذرا: سب راضی ہیں۔۔۔۔۔۔ سنتوش۔۔۔۔۔۔ تم نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا؟

سنتوش: میں سمجھتی تھی کہ میں نے کردیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ لو۔۔۔۔۔۔(ہاتھ کھڑا کردیتی ہے)

عذرا: تو یہ طے ہے۔۔۔۔۔۔ میرا پہلا پیریڈ خالی ہے میں ابھی جا کر یہ خط اس پتھر کے نیچے رکھ دیتی ہوں۔

سرلا: لیکن شام کے چھ بجے پھر جاکے دیکھنا۔ ممکن ہے کوئی نئی بات۔۔۔

(گھنٹے کی آواز)

بہت سی لڑکیاں: چلو۔۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔۔۔ اب بھاگو۔۔۔۔۔۔

(لڑکیاں دروازے کی طرف بھاگتی ہیں صرف ورشا اور سنتوش کمرے میں رہ جاتی ہیں)

سنتوش: (جب ساری لڑکیاں باہر چلی جاتی ہیں تو آہستہ سے)ورشا۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہوگا؟

ورشا: (ہنس کر) کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ مجھے تو تمہاری اس شرارت میں کچھ مزا نہیں آیا۔

سنتوش: عذرا اس پتھر کے نیچے خط رکھ آئے گی۔

ورشا: تم ایک گھنٹہ پہلے وہاں جا کر نکال لینا۔۔۔۔۔۔ اس میں گھبرانے کی بات ہی کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ چلو اب چلیں۔

سنتوش: چلو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دونوں چلی جاتی ہیں)۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا منظر

(ہوسٹل کا وہی کمرہ جو ہم پہلے منظر میں دکھا چکے ہیں۔ کلاک چھ بجاتا ہے۔ آہستہ آہستہ پردہ اُٹھتا ہے اور سنتوش اضطراب کے ساتھ ٹہلتی دکھائی دیتی ہے چند لمحات کے بعد ایک دم دروازہ کھلتا ہے)

سنتوش: (پلٹ کرکون؟

(ورشا اندر داخل ہوتی ہے)

ورشا: کیا بات۔ اس قدر پریشان کیوں ہو؟ خط لے آئی ہو وہاں سے؟

سنتوش: لے آئی ہوں۔۔۔۔۔۔ لو پڑھ لو۔

ورشا: صبح پڑھ تو لیا تھا۔

سنتوش: نہیں یہ دوسرا ہے۔

ورشا: کیا کوئی اور لکھا ہے؟

سنتوش: نہیں۔ یہ سچ مچ کسی مرد کا لکھا ہوا ہے۔

ورشا: ہائیں۔ یہ کیا ہوا؟

سنتوش: کیا معلوم۔۔۔۔۔۔ میں وہاں گئی تو پتھر کے نیچے میرے خط کے بجائے یہ کاغذ پڑا تھا۔

(نیا خط ورشا کو دیتی ہے)

ورشا: (خط لے کر بیٹھ جاتی ہے)۔۔۔۔۔۔ اُس عورت کے نام جس نے ایک مرد کی دلی کیفیات بڑی کامیابی سے بیان کیں(سنتوش سے) تو وہ بھانپ گیا۔

سنتوش: ظاہر ہے۔

(پھر اضطراب کے ساتھ ٹہلنا شروع کردیتی ہے)

ورشا: کیا لکھا ہے؟(پڑھتے ہوئے) اتفاق ۔ ہاں۔ اتفاق سے تمہارا لکھا ہوا خط جو دل سے کم نازک نہیں۔ پتھر کے نیچے دبا ہوا ملا۔ میں نے اس کو نکالا اور پڑھا۔

سنتوش: آہستہ پڑھو!

ورشا: وہ مرد یقیناً خوش قسمت ہوگا جسے تمہاری رفاقت نصیب ہوگی۔۔۔۔۔۔ اگر میں عورت ہوتا اور یہ خط واقعی کسی مرد کی جانب سے مجھے ملتا تو کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ میں کیا کرتا؟(اپنی طرف سے) کوئی ضروری نہیں(پھر خط پڑھتی ہے) تمہارے خط کا ایک ایک لفظ ایک ایک پنکھڑی ہے جو مجھے تمہاری ہی سانس کے زیرو بم سے لرزاں نظر آئی۔۔۔۔۔۔ آدمی شاعرمعلوم ہوتا ہے۔

سنتوش: آگے پڑھو!

ورشا: میں پہلے عورت کو ایک حل نہ ہوسکنے والا معّما سمجھتا تھا۔ مگر تمہارے اس خط نے یہ مشکل آسان کردی ہے۔ تمہارا خط۔ خط نہیں بلکہ عورت کی وہ انگڑائی ہے جس کے کھچاؤ نے نسوانیت کے سارے خطوط میرے سامنے نمایاں کردیئے ہیں میں خوبصورت نہیں۔۔۔۔۔۔ اس بات کا احساس مجھے ہمیشہ دکھ دیا کرتا تھا پر اب تمہارا خط پڑھ کرمجھے ڈھارس ہوئی ہے کہ مجھے خوبصورت بنانے والی کوئی نہ کوئی ہستی اس دنیا میں ضرور موجود ہے اور وہ ہستی عورت کے سوا اور کون ہوسکتی ہے؟۔۔۔۔۔۔ میں اس خط کا جواب نہیں چاہتا اس لیئے کہ وہ بھی اس پتھر کے نیچے رکھ دیا جائیگا۔۔۔۔۔۔ راقم۔ ایک مرد۔

سنتوش: اِدھر کونے پر کچھ اور بھی لکھا ہے(ورشا کو خط کا کونہ دکھاتی ہے)

ورشا: (پڑھتی ہے) میں اپنے آپ کو چھپانا نہیں چاہتا۔ تم مجھے چھ بجے کے بعد پتھر کے آس پاس ٹہلتا دیکھ لو گی۔۔۔۔۔۔ چھ تو بجے چکے ہیں اور تمہاری اس کھڑکی میں سے تو سب کچھ نظر آتا ہے۔ وہ۔۔۔۔۔۔ وہ پتھر پڑا ہے۔

(کھڑکی میں سے باہر کوئی نظر نہیں آتا)

سنتوش: آہستہ بولو کوئی سُن لے گا۔

ورشا: اگر اتنا ڈر تھا تو یہ خط وہاں سے اٹھایا ہی نہ ہوتا۔

سنتوش: اُٹھالیا تو بعد میں خیال آیا۔

ورشا: تمہارا کیا خیال ہے۔ یہ خط کون لکھ سکتا ہے؟

(اُٹھ کھڑی ہوتی ہے اور کھڑکی کی طرف دیکھتی ہے)

سنتوش: کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔ زیادہ حیران کرنے والی بات تو یہ ہے کہ اس پتھر کے نیچے اس کا ہاتھ کیسے پہنچ گیا۔۔۔۔۔۔ کیسی کیسی جگہ ان لوگوں کا ہاتھ پہنچ جاتا ہے۔

ورشا: خط اچھا ہے۔

سنتوش: ہاں بُرا نہیں۔۔۔۔۔۔ پر ورشا کسی سے کہیو مت۔۔۔۔۔۔ اور دیکھو میں کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ہاں تو ایسا نہ کریں کہ اس پتھر ہی کو یہاں سے اُٹھوا دیں؟

ورشا: اس سے کیا ہوگا؟

سنتوش: ٹھیک ہے اس سے کیا ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ ورشا؟

ورشا: کیا؟

سنتوش: اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ میرا خط اس کے پاس ہے۔

ورشا: اور اس کا تمہارے پاس

سنتوش: اس سے کیا ہوتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا خط مجھے واپس مل جائے۔۔۔۔۔۔ ورشا۔۔۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔۔۔ اُدھر دیکھو۔

کھڑکی میں سے دُور ایک مرد دکھائی دیتا ہے۔

ورشا: ہاں۔ ہاں ایک مرد۔ شاید وہی۔

(ورشا کمرے کے دوسرے حصے کی طرف جانا چاہتی ہے)

سنتوش: کھڑکی کے پاس مت جاؤ۔ یہیں سے دیکھو(اُسے روک لیتی ہے اور آپ اُدھر کا رخ کرتی ہے)

ورشا: مجھے روکتی ہو اور آپ جارہی ہو۔

سنتوش: نہیں تو۔۔۔۔۔۔ لو میں بیٹھ جاتی ہوں ادھر سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ جاتی ہے۔ لیکن نظریں کھڑکی کی طرف لگی رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔ورشا اچھی طرح سے نظر نہیں آتا۔

ورشا: تمہاری نظر کمزور ہے۔

سنتوش: (اپنے آپ پر جھنجھلا کر) عینک نہ جانے کب لگواؤں گی۔

ورشا: صاف نظر آتا ہے یہاں سے

سنتوش: (اُٹھ کر اشتیاق بھرے لہجہ میں) کیسا ہے؟

ورشا: ٹھہرو! مجھے اچھی طرح دیکھ لینے دو۔۔۔۔۔۔ ہیٹ پہنے ہے۔

سنتوش: یہ تو میں بھی دیکھ سکتی ہوں۔

ورشا: ہیٹ پہنے ہے قد چھوٹا ہے۔

سنتوش: نہیں ورشا۔ اتنا چھوٹا نہیں۔

ورشا: بھئی۔۔۔۔۔۔ میں تو اسے چھوٹا ہی کہوں گی۔ عورتوں کے لیئے اتنا قد ٹھیک ہے۔ پر مرد تو کچھ اونچے ہی ہونے چاہئیں۔

سنتوش: اتنی دھوپ میں کھڑا ہے۔

ورشا: پیٹھ ہماری طرف ہے۔

سنتوش: ہاں یہ سوچنے کی بات ہے۔۔۔۔۔۔ اِدھر منہ کیوں نہیں کرتا

ورشا: اُسے کیا معلوم کہ تمہارا کمرہ اس طرف ہے۔

سنتوش: ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ پر ہوسٹل کی عمارت تو ادھر ہے اسے ادھر ہی دیکھنا چاہیئے۔

ورشا: ممکن ہے شرماتا ہو۔

سنتوش: ورشا۔ اُسے یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا۔

ورشا: کیوں؟

سنتوش: بڑی بدنامی کی بات ہے۔۔۔۔۔۔ اگر کسی کو پتا لگ جائے تو۔۔۔۔۔۔ بھئی میرا دل دھک دھک کررہا ہے(ورشا کا ہاتھ اٹھا کر اپنے دل پر رکھتی ہے)

ورشا: اس کو نہ دیکھو کھڑکی بند کردو۔

سنتوش: یہ بھی تو نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔ہوا۔۔۔۔۔۔ہوا۔۔۔۔۔۔ہوا بند ہو جائے گی۔

ورشا: (شرارت کے ساتھ) ہاں ٹھیک کہتی ہو۔۔۔۔۔۔ سانس لینا دشوار ہو جائے گا۔

سنتوش: کب ادھر منہ کرے گا۔۔۔۔۔۔ ورشا تم بھی مجھے کچھ نہیں بتاتی ہو۔(مرد اسی طرح پیٹھ کیئے کھڑا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ دروازے میں سے چپکے عذرا اندر داخل ہو کرسنتوش اور ورشا کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے)

ورشا: کیا بتاؤں تمہیں۔

عذرا: (ایک دم)۔۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ اس کا رنگ کیسا ہے؟(دفعتاًسنتوش اور ورشا چونکتی ہیں اور کہتی ہیں کون۔۔۔عذرا)۔۔۔۔۔۔ ناک نقشہ کیسا ہے۔ٹھوڑی کیسی؟ ہونٹ کیسے ہیں۔ لباس کیسا ہے۔ طبیعت کیسی ہے۔ تو یہ سب باتیں کوئی مجھ سے پوچھے۔

سنتوش: (کھسیانی ہنسی)۔۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔ کہ کیسی باتیں؟

عذرا: یہی معصوم باتیں کہ وہ کیسا ہے۔ کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ بھئی ایسی باتیں معلوم کرنی ہی پڑتی ہیں۔

سنتوش: میں تمہارا مطلب نہیں سمجھی۔(ایک طرف ہٹ جاتی ہے)

عذرا: اس کی کیا ضرورت ہے؟

سنتوش: جانے کیا اوٹ پٹانگ بکتی ہو۔

عذرا: ایسے بُتّے کسی اور کو دو۔۔۔۔۔۔ خط لکھ کر مقّررہ وقت پر جب کوئی مرد بڑے بڑے پتھروں کے پاس ٹہلتا ہو تو کیسے معلوم نہیں ہو جاتا کہ بات پگھلنے والے موم کی ہے(ہنستی ہے) گھبرا کیوں گئیں؟

سنتوش: (گھبرا کر) کیسا خط۔۔۔۔۔۔ پتھر۔۔۔۔۔۔کونسا پتھر۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ میں، کہاں ہے وہ مرد؟۔۔۔۔۔۔دیکھ لو۔۔۔(مرد ایک طرف ہٹ جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے)

عذرا: تمہاری کھڑکی کے پاس چلا آئے گا گھبراتی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔ میری بھولی بھالی ورشا تمہارا کیا خیال ہے؟

ورشا: تم جانو اور یہ جانے۔بھئی مجھے کچھ پتا نہیں۔

دیوارپر لٹکی ہوئی تصویر دیکھنا شروع کردیتی ہے۔

عذرا: تمہاری مرضی

(کھڑکی پر دستک ہوتی ہے)

عذرا: لووہ آگیا۔

سنتوش: (سخت گھبرا کر) اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔ عذرا پرماتما کیلئے کچھ کرو۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں ورشا۔۔۔۔۔۔ورشا۔۔۔۔۔۔ یہ بیٹھے بٹھائے کیا ہوگا؟(پھر دستک ہوتی ہے)

عذرا: ورشا اور عذرا کیا کرئے۔۔۔۔۔۔ اب اس سے ملو۔

سنتوش: مگرعذرا میں نے اسے نہیں بلایا۔۔۔۔۔۔ پہلا خط میں نے شرارت کے طور پر لکھا تھا۔ لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ سچ مچ کوئی مرد پتھر سے نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔ اب پرماتما کے لیئیکچھ کرو۔

عذرا: بھئی میں کچھ نہیں کرسکتی۔

(دستک۔ٹک۔ٹک۔ٹک)

آواز: (کھڑکی میں سے آتی ہے) کیا میں سامنے آسکتا ہوں؟

عذرا: آجاؤ۔

سنتوش: یہ تم نے کیا غضب کیا؟

(بھاگنے لگتی ہے۔ لیکن عذرا اُسے پکڑ لیتی ہے)

عذرا: خاموش ہو۔

(چند لمحات مکمل خاموشی میں گزرتے ہیں۔پھر ایک دم صفیہ کھڑکی میں سے نظر آتی ہے مردانہ کپڑے پہنے)

صفیہ: (شرارت کے ساتھ)آداب عرض کرتا ہوں

سنتوش: کون؟صفیہ!

عذرا: صفیہ نہیں۔۔۔۔۔۔ ایک مرد

صفیہ: بھئی سنتوش۔اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ یہ مجھے مردوں کا لباس پہنا کر پتھر کے پاس کھڑا کرنے والی عذرا ہے۔

سنتوش: تو۔۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔ یہ خط۔۔۔۔۔۔؟

عذرا: میں نے لکھا تھا۔۔۔۔۔۔ جس طرح پہلا خط تم نے لکھا تھا۔

(سب قہقہے لگاتی ہیں)

(بہت سی لڑکیاں ایک دم اندر داخل ہوتی ہیں اور شورمچانا شروع کردیتی ہیں۔ سنتوش ان میں گھر جاتی ہے)

پَردہ

مأخذ : کتاب : افسانے اور ڈرامے اشاعت : 1943

مصنف:سعادت حسن منٹو

مزید ڈرامے پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here