ٹیرس پر بیٹھی شام

0
108
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’یہ ایک ادھیڑ عمر کے پروفیسر کی کہانی ہے، جواپنا مقالہ لکھنے کے لیے سمندر کے سامنے ایک فلیٹ میں رہتا ہے۔ اس فلیٹ کے آگے ایک ٹیریس ہے، جس کا ایک راستہ سمندر کے کنارے تک جاتا ہے۔ اس ٹیریس پر ہر شام ایک لڑکی گھومنے آتی ہے۔ اس لڑکی کو لبھانے کے لیے پروفیسر نوجوان لڑکوں کے ساتھ کچھ ایسے کرتب کرتا ہے کہ اپنی گردن کی ہڈی تڑوا بیٹھتا ہے۔‘‘

’’او، ہیلو!‘‘

دھک! پروفیسر کا نیتکر (KANETKAR) کا دل لمحہ بھر کو جیسے رکا۔ پھر دگنی رفتار سے دھڑک اٹھا اور خون کا دباؤ ان کے چہرے پر غیر مرئی سرخی دوڑا گیا۔۔۔ وہ آ گئی تھی۔۔۔ جسے ’ہیلو‘ کہہ کر پکارا گیا تھا۔ اس نے کیا جواب دیا اور کیا باتیں ہونے لگیں، پروفیسر کا نیتکر نے وہ سب نہیں سنا۔ ان کی تمام قوتیں اس کی موجودگی کے اثر سے گویا سلب ہو گئی تھیں۔ کانونٹ زدہ لہجے میں اس کے بات کرنے کا، اس کی مترنم ہنسی کا، اس کے لہجے کی شہد جیسی مٹھاس کا احساس گویا ان کے سارے وجود پر چھا گیا تھا۔

پیڈ پر رواں ان کا قلم اچانک رک گیا تھا اور کاغذ سے ذرا اوپر ان کے آدھے مڑے ہاتھ میں بے جان سا لٹکا تھا۔ لمحہ بھر کا نیتکراسی طرح آواز پر کان لگائے بیٹھے رہے، پھر انہوں نے آہستہ سے آنکھیں اٹھائیں، اس کی آواز بالکل سامنے سے آرہی تھی لیکن کھڑکی کے باہر سیمنٹ کا جنگلہ، جسے ان کا دوست ٹیرس (Terrace) کہہ کر پکارتا تھا، خالی تھا۔ پروفیسر کا نیتکر کی نگاہیں ٹیرس کے پارد اور کے ساحل کی ریت، اس پر سیر کو آنے والے لوگوں، نالے کی پلیا کے قریب جمناسٹک کے کھیل دکھانے کو تیار بےفکرے نوجوانوں، سمندر کی اٹھتی ہوئی لہروں یا افق پر ڈوبتے ہوئے آفتاب۔۔۔ کہیں پر نہیں ٹکیں، قلم میز پررکھ کر وہ اٹھے، وہیں کھڑے کھڑے انہوں نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔۔۔ وہ ٹیرس پر ہی بیٹھی تھی۔ کھڑکی کے سامنے نہیں۔ ذرا سی بائیں طرف ترچھے کو! کھڑکی کا پٹ ساحل سمندر سے آنے والی ہوا کے دباؤ سے تھوڑا بند ہو گیا تھا۔ پورا کھل جاتا تو اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی ذرا سا دائیں طرف کو جھک کر وہ اسے دیکھ سکتے تھے۔

پروفیسر صاحب نے چاہا کھڑکی پوری کھول دیں۔ تبھی ایک غلط انداز سی نگاہ اس نے ان کی طرف پھینکی۔ ان کا سارا خون جیسے ان کے چہرے کی طرف امنڈ آیا۔ دل بڑے زور سے دھڑکنے لگا۔ انہیں کھڑکی کھولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ کرسی پر بیٹھ گئے اور نگاہیں انھوں نے دائیں طرف ٹیرس سے ہٹاکر نالے کی پلیا کے ادھر اکٹھے ہونے والے لڑکوں پر جما دیں، جنہوں نے اپنے کپڑے اتار کر ٹیرس کے پاس رکھ دیے اور لنگوٹ لگا کر یا نیکر میں پہن کر کودنے پھاندنے کو تیار تھے۔

- Advertisement -

نہ جانے شہر میں کوئی سرکس آیا تھا یا کوئی اسکاؤٹس ریلی ہو رہی تھی۔ لڑکے روزشام کو شاید مل یا کارخانے بند ہونے پر یہاں ساحل سمندر پر آکر اکٹھا ہوتے اور نہایت پھوہڑ آمیزی سے پرامڈ (Pyramid) بناتے، رکاوٹیں رکھ کر لمبی چھلانگیں لگاتے اور دوسرے کھیل کھیلتے۔ پروفیسر کانیتکر نوعمری میں خود اپے کالج کے جمناسٹک ٹیم کے چیمپین تھے۔ پیرالل بارز (Parallel bars) یا ہوریزنٹل بارز (Hori zontal bars) پریوں قلابازیاں کھاتے، جیسے انہوں نے کڑی مشق سے وہ سب نہ سیکھا ہو، بلکہ پیدائش سے ہی ویسا کرتے آئے ہوں۔ رومن رنگز (Roman Rings) پر جھومتے ہوئے قلابازیاں لگاکر وہ رنگز پکڑ لیتے تھے۔ وہ ہارس ورک (Horse Work) میں میں ماہر تھے۔ لمبی چھلانگ میں ان کا ریکارڈ تھا۔ جب وہ اس کمرے میں آئے تھے تو چند دنوں تک روز شام کو کچھ لمحہ دروازہ کھول کر وہیں کھڑے کھڑے ان نوجوانوں کا کھیل دیکھا کرتے۔

لیکن اس وقت ان کی نظر زیادہ دیر تک وہاں نہیں رکی۔ ساحل سمندر پر لڑکوں کے عین اوپر تصور ہی میں انہیں اسی کی شبیہ ٹیرس پر بیٹھی دکھائی دی۔ انہوں نے آنکھیں وہاں سے ہٹالیں، قلم اٹھا لیا اور ذہن کو سب طرف سے ہٹاکر بظاہر نہایت یکسوئی سے پہلے کی طرح لکھنے لگے۔ لیکن اتنے انہماک سے وہ کیا لکھ رہے ہیں، انہیں کچھ معلوم نہیں تھا۔ ان کے کان لگاتار باہر ٹیرس پر ہونے والی باتوں کی طرف لگے رہے۔ باتوں پرنہیں، صرف اس شہدیلی آواز اور بار بار اس کے گلے میں اٹھ کر مٹ جانے والی شیریں ہنسی کی طرف! کسی نازک سے فوارے میں سے رک رک کر آنے والی باریک سی پھوہار جیسی وہ ہنسی بار بار ان کے وجود کو جیسے سرتا پا شرابور کر جاتی تھی۔

جس لمحے اس نے ان کی طرف وہ غلط انداز نگاہ ڈالی تھی، پروفیسر کا نیتکرنے دیکھا تھا کہ آج اس نے اسکرٹ نہیں پہنی، بلکہ گہرے نیلے رنگ کی ریشمی قمیص اور سفید کیمرک کی شلوار پہن رکھی ہے اور ہمیشہ اس کے کندھوں پر لہرانے والے وہ اس کے کٹے بال بوفے ہیر اسٹائل میں اس سرپر ڈمرو جیسے سجے ہیں۔ اس کافی اونچے اٹھے ہوئے جوڑے کی وجہ سے اس کی گوری گردن اور بھلی لمبی لگتی تھی۔ پروفیسر کا نیتکر کو لحظہ بھر کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ مصر کی کوئی شہزادی پرانے زمانے کی تصویروں سے نکل کر ٹیرس پر آ بیٹھی ہے۔۔۔ انہوں نے دائیں ہاتھ سے برابر قلم چلاتے ہوئے بائیں ہاتھ سے کھڑکی کا پٹ پورا کھول دیا اور میز سے شیشے کا پیپرویٹ اٹھاکر کواڑ اور چوکھٹے کے درمیان رکھ دیا۔۔۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے آنکھ نہیں اٹھائی اور پورے انہماک سے لکھتے رہے۔

وہ برابر قلم چلاتے رہے لیکن انہیں یہ احساس بنا رہا کہ وہ سامنے باہر ٹیرس پر بیٹھی ہے۔ جیسے کوئی آنکھ بھر کر بجلی کے بلب کو دیکھ لے اور پھر آنکھیں بند کرنے پر بھی اس کا خاکہ اسے دکھائی دیتا رہے۔ اسی طرح نگاہیں اٹھائے بغیر بھی اس کی شبیہ برابر انہیں دکھائی دے رہی تھی۔ سر کو زور سے جھٹکا دے کر انہوں نے لکھی ہوئی سطریں پڑھیں، کاٹ دیں اور پھر دوبارہ انہماک سے لکھنے لگے۔ لیکن اتنے انہماک کے باوجود وہ کیا لکھ گئے۔ انہیں کچھ نہیں معلوم ہوا۔ ان کے کان اسی آواز اور اسی ہنسی پر لگے تھے اور اس کی موجودگی گویا ان کے سارے احساس پر چھائی تھی۔ ہار کر انہوں نے ادھر نگاہ اٹھائی۔ کھڑکی کی چوکھٹ نے اسے عین درمیان سے کاٹ دیا تھا۔ اس کے جسم کا صرف آدھا حصہ انہیں دکھائی دے رہا تھا۔ جبھی ذرا سی بائیں طرف جھک کر اس نے وہی غلط انداز نگاہ ان پر ڈالی۔ پروفیسر کانیتکر نے اچکچا کر آنکھیں جھکا لیں اور مصروف ہوتے ہوئے میز سے اٹھے۔

پہلے ان کے دل میں آیا کہ وہ دروازہ کھول کر کچھ لمحہ چوکھٹ میں جا کھڑے ہوں۔ ان کے دوست نے انہیں دروازہ کھول کر بیٹھنے سے منع کیا تھا۔ کیوں کہ سمندر سے آنے والی سیلی، نمکین ہوا کا زور بائیں دیوار پر پڑتا تھا جس سے دیوار کے اس حصے کا ڈسٹمپر ماند پڑ رہا تھا۔ لیکن شام اس قدر حسین اور رنگین ہوتی تھی کہ کھڑکیوں سے سمندر کا پورا نظارہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے خواہ وہ دن بھر دروازہ بند رکھیں، لیکن شام کو عموماً اسے کھول دیتے تھے اور کام کرتے کرتے کچھ لمحے چوکھٹ میں جاکھڑے ہوتے تھے۔ مگر اس وقت یہ احساس کہ سامنے وہ ٹیرس پر بیٹھی ہے ان کے راستے کی رکاوٹ بن گیا۔ انہیں یوں بے باکی سے اس کے سامنے جا کھڑے ہونے میں جھجھک محسوس ہوئی۔ وہ کچھ لمحہ کمرے میں ہی باہر کے دروازہ سے اندر کے دروازہ تک، چکر لگاتے رہے۔ بار بار ان کادل دروازہ کھولنے کو ہوتا لیکن پھر دروازہ کھولنے کے بجائے وہ واپس چل پڑتے۔

آخرکار، گویا نہایت مجبور ہوکر، انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا اور ان کے جسم میں ایک جھرجھری سی پیدا کر گیا۔ لیکن باہر کی طرف ذرا بھی دیکھے بغیر وہ پلٹ آئے اور آکر کوچ میں دھنس گئے۔ ٹانگیں انہوں نے پھیلا لیں اور دونوں باہیں سرکے اوپر سے لے جاکر ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساتے اور چٹخاتے ہوئے زور کی انگڑائی لی۔ لیکن وہ بیٹھے نہیں رہ سکے۔ دوسرے ہی لمحے وہ پھر اچھل کر اٹھے۔ اتنی عمر میں بھی ایک ہی جست میں وہ اٹھ سکتے ہیں، اس احساس سے ان کا دل خوشی سے معمور ہو گیا۔ ان کی یہی چستی پھرتی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے پچاس سال کی عمر گزر جانے پر بھی ’ڈی فل‘ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا کالج یونیورسٹی میں تبدیل ہونے جا رہا تھا اور ان کے پرنسپل نے انہیں رائے دی تھی کہ اگر وہ اس دوران میں کسی طرح ڈاکٹریٹ کر لیتے ہیں تو وہ ہی اپنے شعبہ کے صدر بن جائیں گے۔ ورنہ کوئی جونیر ان کے اوپر آ بیٹھےگا۔

پروفیسر کانیتکر نے کبھی برسوں پہلے ’ڈی فل‘ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تھیسس کا مضمون بھی منظور کرا لیا تھا۔ لیکن ملازمت، بیوی بچوں، نصاب کے بورڈ کی ممبری اور میٹنگوں نے انہیں وہ سب بھلا دیا تھا۔ اب انہوں نے پرانے کاغذوں سے تھیسس کا خاکہ نکالا تھا اور ایک نوجوان کی سی تندی کے ساتھ کمر کس، اسے مکمل کرنے میں جٹ گئے تھے۔۔۔ کولہاپور میں ضروری کتابیں اور دوسرے مسالے کی فراہمی مشکل تھی۔ ان کے دوست نے ان کی یہ مشکل پوری کردی تھی۔ جب وہ پچھلی بار کولہا پور گیا تھا اور پروفیسر کانیتکر نے اس کے سامنے اپنی مشکل رکھی تھی۔ تب اس نے دادر بیچ (Dadar Beach) کے اپنے اس پرسکون اور تنہائی بھرے کمرے کا ذکر کیا تھا، جہاں وہ اپنے فلیٹ کے شور شرابے سے دور سمندر کی ٹھنڈی ہوا کا لطف لیتا ہوا کام کیا کرتا تھا۔

اس کی فلم کمپنی دو مہینے کے لیے کشمیر کی شوٹنگ پر جا رہی تھی اور اس نے پروفیسر کانیتکر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دو مہینے اس کے ہاں بمبئی میں قیام کریں۔ کار اور ڈرائیور وہ ان کے لیے چھوڑ جائےگا۔ وہ جس لائبریری میں جانا چاہیں گے ڈرائیور انہیں لے جائےگا۔ وہ کتابیں اکٹھی کر لیں اور کمرے میں چپ چاپ بیٹھ کر اپنا تھیسس مکمل کریں۔ کھانا انہیں ڈرائیور پہنچا دےگا اور چائے شام کو وہیں کمرے میں بنا دیا کرےگا۔ انہیں کسی طرح کی تکلیف نہ ہوگی۔ وہ بغیر کسی پریشانی کے پوری یکسوئی سے کام کر سکیں گے۔۔۔ اور پروفیسر کانیتکر چلے آئے تھے۔

پروفیسر کانیتکر پردے کے پیچھے گئے۔ وہاں چھوٹی الماری پر رکھے آئینے میں انہوں نے ایک نظر ڈالی۔ صبح سے کام کرتے کرتے ان کے چہرے پر ہلکی سی تھکان کی لکیریں ابھر آئی تھیں۔ قلم کو انہوں نے الماری پر رکھا۔ صابن دانی اور تولیہ اٹھاکر عقب کادروازہ کھول، وہ باتھ روم گئے۔ واش بیسن میں منھ دھوتے ہوئے پروفیسر کانیتکر کی آنکھوں میں اپنے ساتھی پروفیسروں کی صورتیں گھوم گئیں اور ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔ ان کے کتنے ہی ساتھی پچاس کی عمر کو پہنچتے پہنچتے موٹے، منحنی، تھل تھل، پل پل ہو گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنا چھریراپن برقرار رکھا تھا۔ فربہ تو وہ ضرور پہلے کی بہ نسبت کچھ زیادہ ہوگئے تھے۔ لیکن اب بھی وہ موٹے نہیں چھریرے ہی لگتے تھے، اس کی اصل وجہ وہ ورزش تھی جو وہ برسوں سے باقاعدہ کرتے آ رہے تھے۔ ادھر کچھ عرصے سے ان کی وہ عادت چھوٹ گئی تھی۔ ان کا جسم کچھ ڈھیلا پڑگیا تھا لیکن ان کی چستی بدستور برقرار تھی اور کام کرنے میں وہ نوجوانوں کو مات دیتے تھے۔

اچھی طرح رگڑ کر تولیے سے منھ پونچھتے ہوئے وہ کمرے میں واپس آئے۔ الماری پر رکھی شیشی میں سے ذرا سی وینشنگ کریم لے کر انہوں نے منھ پر ملی اور آئینے کے سامنے بال سنوارے۔۔۔ گول چہرہ، گھنگھرالے کھچڑی بال، گہری احساس بھری آنکھیں، موٹے مردانہ ہونٹ۔۔۔ اس چہرے پر ابھی کافی کشش باقی تھی۔۔۔ اس کمرے میں کام کرتے ہوئے انہیں مشکل سے پندرہ دن ہوئے ہوں گے کہ اس لڑکی نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ یہ اس کی آواز کی مٹھاس تھی یا ہنسی کا شہد، جس نے پہلی بار ان کا من موہ لیا تھا۔ اس کا تجربہ انہوں نے نہیں کیا۔ وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ایک شام وہ بہت مگن ہوکر اپنا کام کر رہے تھے کہ ان کی کھڑکی کے نیچے دو لڑکیاں آ کھڑی ہوئیں اور باتیں کرنے لگیں۔ ان میں سے ایک نے ان کی توجہ اپنی طرف منعطف کر لی۔ کام کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا۔ دونوں لڑکیاں ٹیرس کے چکر لگاتی ہوئی بار بار کھڑکی کے پاس رک جاتی تھیں اور ہر بار ان کا دھیان بٹ جاتا تھا۔

یہ بلڈنگ، جس میں ان کے دوست نے وہ چھوٹا سا کمرہ لے رکھا تھا، سمندر ترنگ کے نام سے مشہور تھی۔ پانچ منزلہ عمارت تھی۔ کیڈل روڈ پر اسپتال کے بالکل سامنے۔ سڑک سے داخل ہوں تو بھی ہزاروں عمارتوں ہی کی طرح دکھائی دیتی تھی۔۔۔ سامنے احاطے میں نہ سڑک پکی تھی نہ فرش۔۔۔ لیکن بلڈنگ کے ارد گرد اور عقب میں بیس ایک فٹ چوڑی کشادہ جگہ تھی، جس میں کنکریٹ کی سلوں سے فرش بندھا تھا۔ بلڈنگ کی پچھلی طرف اس کی پوری لمبائی تک ساحل کے برابر سیمنٹ کا جنگلہ تھا جس کا اوپری حصہ چوڑا اور چمکیلا تھا۔ یہ ٹیرس یوں تو بلڈنگ کی طرف سے چار فٹ اونچی تھی لیکن سمندر کی طرف سے اس کی بلندی دس بارہ فٹ تھی۔ اس کے وسط میں ایک چھوٹا سا گیٹ تھا، جس سے ساحل پر اترا جا سکتا تھا۔ پروفیسر کانیتکر کے دوست کا کمرہ بلڈنگ کی بائیں طرف کے فلیٹ میں کونے کا کمرہ تھا جس کے دونوں طرف کھڑکیاں تھیں۔ چونکہ کاریں، وہاں نہیں آتی تھیں، اس لیے شام کو بلڈنگ کے لڑکے لڑکیاں اور کبھی عورتیں وہاں ٹیرس کے ساتھ سیر کیا کرتی تھیں، کبھی اتر کر ساحل پر چلی جاتی تھیں اور کبھی ٹیرس پر آکر بیٹھ جایا کرتی تھیں۔

وہ لڑکی جب گھوم کر بائیں طرف سے آتی تو پروفیسر کانیتکر کے کان کھڑے ہو جاتے، پھر جتنی دیر تک اس کی باتوں یا ہنسی کی آواز آتی وہ اور کچھ نہ کر پاتے۔ اس کی ہنسی نہایت چھوٹی، نہایت شیریں، نہایت دھیمی اور نہایت پرکشش تھی۔ ایک بار جو اس ہنسی نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ اسی کے ہو رہے۔ جتنی دیر ان کی کھڑکی کے قریب کھڑی باتیں کرتی، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کی سماعت میں سما جاتیں۔ جب وہ چل دیتی تو کچھ لمحے انہیں اپنے شعور کو پھر اپنے راستے میں لانے میں صرف کرنے پڑتے۔ اپنے حواس کو درست کر، بڑی کوشش سے یکسو ہوکر وہ قلم چلانے لگتے جبھی بائیں طرف سے وہی شہد بھری ہنسی پھر سنائی دیتی اور ان کا قلم وہیں رک جاتا۔۔۔ جب وہ ان کی کھڑکی کے پاس آکر رکی تھی، ان کے دل میں آیا تھا کہ باہر دروازہ کھول کر اسے ایک نظر دیکھ لیں، لیکن انہیں جرأت نہیں ہوئی۔

جب باہر شام کافی گہری ہو گئی تو وہ اٹھے تھے۔ انہوں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تھا۔ ہوا کے زور سے وہ کھٹاک سے جا کر بائیں طرف دیوار سے نہ لگے، اس لیے ہاتھ سے اسے تھامے تھامے انہوں نے بڑی احتیاط سے اسے بائیں دیوار سے لگا دیا تھا۔ پھر انہوں نے اس طرف نظر دوڑائی تھی، جہاں ان کی کھڑکی کے پاس دیوار کے سہارے دونوں لڑکیاں کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ نیم تاریکی میں انہوں نے صرف یہی دیکھا کہ دونوں نے اسکرٹ پہن رکھی ہے۔ ایک سترہ، اٹھارہ سال کی معلوم ہوتی تھی، دوسری بارہ تیرہ سال کی۔ اس سے زیادہ وہ کچھ اور نہیں جان سکے۔ نہ وہ ان کے چہرے پہچان سکے اور نہ وہ ان کے بلاؤزوں یا اسکرٹوں کے رنگ۔ لمحہ بھر ان کی طرف نظر ڈال کر وہ سیڑھیاں اتر گئے اور ٹیرس کے پاس جا کھڑے ہوئے۔ لڑکیاں ان کے باہر آتے ہی کھسک گئیں۔ پل بھر پروفیسر کانیتکر جیسے سمندر کی تاریکی کو ہانپتے ہوئے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے لمبی سانس لی اور خراماں خراماں ٹیرس کے ساتھ گھومنے لگے۔ سامنے افق پر ابھی تک روشنی کی دو ایک دھندلی لکیریں پھیلی ہوئی تھیں۔ جس سے نیچے دور سمندر کسی جہاز یا کشتی کی روشنی رہ رہ کر جھلملا جاتی تھی۔

ٹیرس کے ساتھ گھومتے ہوئے پروفیسر کانیتکر کبھی دکھن کی طرف دور درلی پوائنٹ تک نیم دائرے میں چمکتی ہوئی روشنیوں کو دیکھتے، کبھی مڑکر شمال میں باندرہ کے ریلوے پل کی چمکتی بتیوں پر نظر جماتے۔ لیکن ان روشنیوں سے ہٹ کر ان کی نگاہیں بار بار بائیں طرف ’سمندر ترنگ‘ کی سبھی کھڑکیوں کا جائزہ لے لیتیں کہ نہ جانے کس کھڑکی میں وہ آواز یا وہ ہنسی سنائی دے جائے۔ وہ دیر تک ٹیرس کے ساتھ گھومتے رہے تھے۔ ایک مرتبہ بغل کے فلیٹ میں، جس کے ڈرائنگ روم کا دروازہ پیچھے کو کھلتا تھا، ا سکرٹ والی ایک لڑکی دکھائی دی۔ انہیں لگا تھا کہ وہی لڑکی ہے۔ وہ کئی بار اس فلیٹ کے سامنے سے گزرے تھے، اس لڑکی سے ان کی نگاہیں بھی چار ہوئیں۔ اگرچہ وہ خوبصورت بھی تھی، انہیں لگا کہ وہ نہیں ہے، کیوں کہ ایک بار بھی تو وہ اس طرح سے نہیں ہنسی۔۔۔ مایوس ہونے کے باوجود وہ دیر تک وہیں چکر لگاتے رہے تھے۔

لیکن ان دس پندرہ دنوں میں اگرچہ انہوں نے اس سے اچھی طرح آنکھیں نہیں ملائی تھیں، مگر وہ اسے پہچان گئے تھے۔ وہ اسی فلیٹ کے سندھی کرائے دار کی لڑکی تھی، جس سے ان کے دوست نے وہ کمرہ لے رکھا تھا۔ اس فلیٹ کا سمندر کی طرف کھلنے والا کمرہ تو ان کے دوست ہی کے پاس تھا۔ وہ سندھی ادھر کے حصے میں رہتے تھے جس کا دروازہ عمارت کے سامنے کی طرف تھا۔ وہ لڑکی شاید گھوم کر عقب میں آیا کرتی تو بھی ایک دومرتبہ باتھ روم جاتے یا وہاں سے آتے ہوئے انہوں نے اسے اپنی ممی یا پاپا سے باتیں کرتے سنا تھا۔ وہ ہنسی بھی انہیں سنائی دی تھی اور ایک دو مرتبہ تو انہوں نے اسے، انہیں دنوں میٹرو میں لگی فلم کے گانے کے بول گنگناتے سنا تھا۔ وہ باتھ روم سے ہاتھ منھ دھوکر آئے تھے، دروازہ ذرا کھلا تھا کہ اس کی تان سنائی دی، ’’آواز میں نہ دوں گی۔۔۔ ’’آواز میں نہ دوں گی۔۔۔‘‘ پروفیسر کانیتکر کو لگا جیسے وہ انہیں سنا کر وہ مصرع دہرا رہی تھی۔ کبھی کبھی وہ عین کھڑکی کے سامنے ٹیرس سے لگ کر کھڑی ہو جاتی اور کسی نہ کسی سے باتیں کرتی ہوئی اپنی غلط انداز نگاہوں سے انہیں پریشان کیا کرتی۔

اور آج وہ شلوار قمیص پہن کر، اپنی لمبی گوری گردن تیکھے نکیلے چہرے اور اس ڈمر والے جوڑے کے ساتھ مصر کی شہزادی بنی ان کے سامنے ٹیرس پر آکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ آئینے میں اپنے چہرے کی کشش کا جائزہ لیتے ہوئے اس سریلی تان کا خیال آ جانے سے انہوں نے دل ہی دل میں کہا، ’’ہانک میچ دینار لاڑ کے۔۔۔ ’’ہانک میچ دینار۔۔۔‘‘ یعنی آواز میں ہی دوں گا میری جان، آواز میں ہی دوں گا۔

اپنی اس شوخی سے دل ہی دل میں ندامت محسوس کرنے کے باوجود، وہی مصرع امنگ سے گنگناتے ہوئے انہوں نے کنگھی رکھ کر بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ ان کے سامنے اپنی جوانی کے دن گھوم گئے۔ ان کی شخصیت میں کیسی کشش تھی۔ کیسے نوجوان لڑکیاں ان کی طرف کھینچی چلی آتی تھیں۔۔۔ ایک کے بعد ایک متعدد چہرے ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔ پھر ایک چہرہ ان کے ذہن میں نقش ہو گیا۔۔۔ چہرہ جو ان کے گھر میں ان کی بیوی کی شکل میں آکر بس گیا تھا۔۔۔ جس نے ان کے دل پر اپنی شخصیت کی ایسی چھاپ چھوڑی کہ دوسرے تمام چہروں کے نقش بھی وہاں باقی نہ رہے۔۔۔ لیکن دوسرے لمحہ وہ چہرہ بھی ماند پڑ گیا اور ٹیرس پر بیٹھی اسی شہزادی نے اس کی جگہ لے لی۔

اس لڑکی نے، اس کی شہد بھری آواز نے، اس کی ہنسی نے انہیں ایک بار پھر نوجوان بنا دیا تھا۔ اس کی اس غلط انداز نگاہ نے نہ جانے ان کی رگوں کو کیسی چستی و توانائی عطا کر دی تھی کہ گزشتہ کئی دنوں سے وہ اپنے آپ کو یکسر بدلا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں یہ لگا کہ ان کے بال اب اتنے گھنے نہیں رہے، لیکن ان کے سر پر گنجے پن کو اپنا قبضہ جمانے میں ابھی برسوں درکار تھے۔ اطمینان سے مسکرا کر اپنی ٹائی کی ڈھیلی گرہ انہوں نے کسی، قلم اٹھایا اور پھر کمرے میں گھومنے لگے۔ ’’ہانک میچ دینا رلاڑ کے، ہانک میچ دینار!‘‘

قلم ان کے دائیں ہاتھ میں تھا۔ اس ہاتھ کی کلائی کو انہوں نے بائیں ہاتھ سے باندھ رکھا تھا اور دونوں ہاتھ ان کی کمر پر تھے۔ کچھ جھکے ہوئے عجیب سی مسرت میں وہ کمرے میں گھومے اور دل ہی دل میں گنگنائے جا رہے تھے، ’’ہانک میچ دینار لاڑ کے، ہانک میچ دینار۔۔۔!‘‘ یہ جذبہ ان کے دل میں کچھ عجیب سی امنگ بھر رہا تھا کہ پچاسواں سال پورا کرنے پر بھی وہ ایک بالکل انجان خوبصورت لڑکی کو اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔۔۔ کالج میں ان کی طالبات کبھی ان کے قریب آجاتی تھیں تو وہ بانہوں میں لے کر پیار بھی کرلیتے تھے، چونکہ ادھر ان کی عمر بڑھ گئی تھی، وہ انہیں بڑے بھائی یا باپ جیسا سمجھتی تھیں، کچھ اور قریب آ جاتی تھیں، تو ان کی اپنی لڑکی کی طرح انہیں ’’آواجی، بھاؤجی‘‘ کہہ کر پکارنے لگتی تھیں اور وہ اپنے بڑھاپے سے تقریباً سمجھوتا کر چکے تھے۔ کبھی جب ان کی سانس پھولنے لگتی، کمر میں، انگلیوں کے پوروں میں، گھٹنوں کے جوڑوں میں درد ہونے لگتا تو وہ ہنس کر اپنے بڑھاپے کو کوسا بھی کرتے۔۔۔

لیکن اس لڑکی نے، اس کی ان نگاہوں نے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ ان کی کشش ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ آئینے میں انہوں نے دیکھا تھا، ان کے چہرے پر ایک بھی جھری نہ تھی، گلے پر گوشت ضرور کچھ ڈھیلا پڑ گیا تھا اور دو ایک جھریاں بن رہی تھیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ٹائی کی گرہ کچھ زیادہ کس جانے کی وجہ سے وہ جھریاں بن گئی ہیں۔ پھر انہیں اپنے چہرے پر کچھ ایسی چمک دکھائی دی، جو کولہا پور کے گھٹے گھٹے بند ماحول میں کبھی دکھائی نہ دی تھی۔۔۔ اسی طرح دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ کمرے میں چکر لگاتے رہے، وہ دروازے تک جاتے لیکن بغیر نظر اٹھائے جیسے گہری فکر میں غلطاں وہاں سے واپس پلٹ آتے۔ ہر بار ان کے دل میں آتا کہ اسے ایک نظر دیکھ لیں۔ لیکن وہ نگاہ نہ اٹھاتے۔ جب وہ تین چار چکر اسی طرح لگا چکے تو انہیں یقین ہو گیا کہ اب دروازے میں جا کر کچھ لمحہ کھڑے ہونا فطری معلوم ہوگا تو وہ دروازے میں جاکر مڑے نہیں اور چوکھٹ کے سہارے کھڑے ہو گئے اور فضا میں دیکھتے ہوئے قلم کے پچھلے سرے سے کنپٹی کو یوں سہلانے لگے جیسے کسی گہرے فکر میں محو ہوں۔

وہ اسی طرح پاؤں پر پاؤں رکھے انہیں ہلاتی ہوئی ٹیرس پر بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ بات کرنے والا شاید نیچے ساحل پر اتر گیا تھا۔ پروفیسر صاحب کی نظریں فضا میں بھٹکتی ہوئی اس کے پیروں پر جا ٹکیں۔ اس نے نائلن کی سفید چپل پہن رکھی تھی۔ اس کی سفید جالی تو انہیں اتنی دور سے دکھائی نہ دے رہی تھی۔ یہی معلوم ہوتا تھا کہ چپل کا تلا ان گورے نازک پیروں سے جڑا ہوا ہے۔ کچھ لمحہ وہ اپنی نظر وہیں جمائے رہے تاکہ لگے وہ اس کے پیروں کو نہیں دیکھ رہے، اپنی سوچ میں غلطاں یوں ہی فضا میں نظر جمائے ہیں، پھر کچھ جھجک کر ان کی نظر کیمرک کی سفید دودھیا شلوار اور گہری نیلی ریشمی قمیص پر سرکتی ہوئی اس کے چہرے کی طرف بڑھی لیکن وہاں رکی نہیں۔ وہ انہیں کی طرف گھور رہی تھی۔ ان کی نظریں اس کے ڈمرو جیسے جوڑے سے پھیلتی ہوئی مغرب کے افق پر جا ٹکیں۔

غروب ہوتے ہوئے آفتاب نے اپنی کرنیں سمیٹ لی تھیں۔ افق پر جہاں سمندر اور آسمان ہم آغوش ہو رہے تھے، ہلکی سی دھند چھائی تھی اور سورج کی بڑی سی سندوری تھالی اس کے اوپر معلق دکھائی دیتی تھی۔ لیکن وہ لمحہ بہ لمحہ غیرمرئی طور پر نیچے اتر رہی تھی۔ پروفیسر کانتیکر کے دیکھتے دیکھتے وہ سنہری تھالی اس دھند میں اتری اور لچک کر بڑی سی نارنگی جیسی ہو گئی۔ اس نارنگی کا نچلا حصہ سمندر کی سطح کو چھو رہا تھا۔ وہیں سے اس کا عکس ایک سنہرے مینار سا جوار پر آئے سمندر کی لہروں پر لرزتا ہوا کنارے تک آ گیا تھا۔ پروفیسر کانتیکر کی نگاہ ایک بار افق سے کنارے تک اور کنارے سے افق تک اسی کانپتے سنہرے مینار پر پھسلتی آئی اور لوٹ گئی، سورج کے ڈوبنے کے ساتھ ساتھ اس مینار کی چمک ماند پڑ رہی تھی اور لہروں کی سیاہی بڑھ رہی تھی۔

دور افق پر پہلے ایک کشتی کے بادبان دکھائی دیے، پھر دوسری کے، پھر تیسری کے۔۔۔ ڈوبتے سورج کی روشنی میں وہ بادبان پروفیسر کانیتکر کو یادوں کے آسمان میں چمک اٹھنے والے مسرت آگیں خاکوں سے لگے۔۔۔ دور جہاں باندرہ کی پہاڑی سمندر میں کافی آگے بڑھ آئی تھی، سمندر کی تہہ پایاب تھی۔ جوار کے پہلے ریلوں میں لگاتار وہاں جھاگ کی لکیریں بن مٹ رہی تھیں اور یہ جھاگ سمندر کی سطح پر کئی جگہ بگلوں کی قطاروں سی بڑھتی کنارے پر آکر سفید سفید لکیر بناتی ہوئی مٹ جاتی تھی۔ جوار ابھی ابھی شروع ہو رہا تھا۔ ہر لہر کے ریلے کے ساتھ ساحل کا کچھ اور زیادہ حصہ بھیگ جاتا، پروفیسر کانیتکر کچھ لمحہ تک جوار کو بڑھتے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے کنکھیوں سے اس لڑکی کی طرف دیکھا۔

اس کا دھیان ان کی طرف نہیں تھا۔ ادھر کو پیٹھ کیے وہ کنارے پر نگاہیں جمائے تھی۔ پہلے انہیں محسوس ہوا کہ شاید وہ شام کے وقت ساحل پر اکٹھا ہونے والوں میں سے کسی شناسا کو ڈھونڈ رہی ہے۔ مگر یہاں ساحل پر اتنی بھیڑ نہیں تھی۔ دو فرلانگ آگے کیڈل کورٹ کے ساحل پر خوب رونق تھی لیکن سمندر ترنگ کے سامنے ساحل پر بہت کم لوگ تھے۔ جو تھے وہ بھی آ جا رہے تھے۔ بھیل پوڑی والی ایک ہتھ گاڑی کھڑی تھی، جہاں چار چھ لوگ بھیل پوڑی کھا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب کو ساحل پر کوئی بھی ایسا چہرہ دکھائی نہ دیا جو اس کی توجہ کا مرکز ہو سکے۔ آہستہ آہستہ وہ کمرے کی سیڑھی سے اترے اور اس لڑکی سے کچھ فاصلے پر اس کے پیچھے ٹیرس پر جا کھڑے ہوئے۔ ان کے قدموں کی آواز کا اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ وہ اسی طرح اپنے خیال میں محو بیٹھی رہی۔ تب انہوں نے اس کی نگاہوں کا پیچھا کیا۔ انہیں پتہ چل گیا، وہ نہایت انہماک سے مزدور نوجوانوں کا کھیل دیکھ رہی تھی۔

لمحہ بھر کے لیے وہ بھی ان لڑکوں کا کھیل دیکھنے لگے۔ ان لوگوں نے ایک نیا کھیل شروع کیا تھا۔ دو لڑکے نم ساحل سے ذرا ادھر ریت پر چت لیٹ گئے۔ ایک، جو تھوڑا لمبے قد کا تھا، ٹیرس کے پاس آکر وہاں سے بھاگا۔ لیٹے ہوئے لڑکے کے پاس آکر اور ایسے اچک کر کہ اس کے ہاتھ بمشکل تمام زمین کو چھو پائے، اس نے قلابازی لگائی اور ان بیٹھے ہوئے لڑکوں کے پار دھم سے گیلی ریت پر جاگرا۔

’غلط!‘ پروفیسر صاحب نے دل ہی دل میں کہا، اسے قلابازی لگا کر یک دم سیدھے کھڑے رہنا چاہیے، یوں دھم سے نہیں گرنا چاہیے اور ان کے جی میں آیا جاکر اسے ٹھیک سے قلابازی لگانا سکھائیں۔۔۔ دوسری بار اس نوجوان نے تین لڑکوں کو لیٹنے کو کہا، تیسری بار چار کو۔۔۔ پروفیسر صاحب ذرا سا کھانسے، لیکن ان کے وجود سے بالکل بےخبر وہ لڑکی نہایت غور سے ان نوجوانوں کا کھیل دیکھ رہی تھی۔۔۔ تب جانے انہیں کیا ہوا، وہ تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے، کچھ آگے جا کر انہوں نے بائیں ہاتھ کو ذرا سا ٹیرس پر رکھا، کسی نوجوان کی جمناسٹ کی طرح اوپر سے صاف کود گئے اور بارہ فٹ نیچے ریت پر سیدھے پاؤں کے بل جا کھڑے ہوئے۔ اتنی بلندی سے کودنے پر ان کے گھٹنے ذرا جھکے، انہیں لگا، لڑکھڑا جائیں گے، لیکن دوسرے ہی لمحہ وہ سنبھل کر سیدھے کھڑے ہو گئے۔

اس طرح دوڑنے اور اتنی بلندی سے کودنے کی وجہ سے ان کی سانس پھول گئی۔ خون کا دوران ان کے سر کی طرف بڑھا اور لحظہ بھر کے لیے انہیں لگا کہ وہ چکر کھاکر گر جائیں گے، لیکن اپنی قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے وہ کچھ لمحہ اسی طرح خاموش کھڑے رہے۔ ان کی سانس درست ہوئی تو ان کاجی ہوا اوپر نگاہ دوڑائیں، مگر اپنی خواہش کو انہوں نے قابو میں رکھا اور آہستہ آہستہ لڑکوں کی جانب بڑھ چلے۔ وہ لڑکے اپنا کھیل چھوڑ کر انہیں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ جس صفائی سے پرفیسر کانیتکر کودے تھے، ظاہر ہے وہ اس سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اسی لیے جب وہاں پہنچ کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ وہ انہیں ٹھیک سے قلابازی لگانا سکھاتے ہیں تو وہ تیار ہو گئے۔

قلم ابھی تک پروفیسر صاحب کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اسے انہوں نے بڑے لڑکے ہاتھ میں تھمایا، ان چار لڑکوں کو، اسی طرح لیٹنے کو کہا، جوتے اور موزے اتارے، پتلون کی مہری کو موڑکر کچھ اوپر چڑھا لیا اور نیچے کو نظر جھکائے اطمینان سے ٹیرس تک گئے۔ وہاں سے مڑ کر وہ بھاگتے ہوئے آئے اور دوسرے لمحہ قلابازی لگا کر چاروں لڑکوں کے پار، ریت پر پیروں کے بل جا کھڑے ہوئے۔ لمحہ بھر کو انہیں محسوس ہوا کہ پیچھے گر جائیں گے۔ مگر دوسرے پل وہ سنبھل گئے۔ وہ مزدور لڑکا قلابازی لگاتا تھا تو دھم سے چوتڑوں کے بل ریت پر جا گرتا تھا۔ لیکن پروفیسر صاحب کے گھٹنے بھی نہیں جھکے، وہ یک دم سیدھے کھڑے رہے۔ ہلکا سا چکر انہیں ضرور آیا، کمر میں بھی انہیں کچھ اکڑاؤ محسوس ہوا، لیکن اس عمر میں اپنی اس کامیابی پر انہیں فخر بھی کم نہیں ہوا۔

اسی لمحہ انہوں نے مڑ کر ٹیرس کی طرف دیکھا۔ انہیں لگا کہ وہ لڑکی ایک ٹک انہیں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کی نظروں کے لمس سے ہی ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور انجانی مسرت کی وجہ سے ان کے جسم کا لہو ان کے دماغ کی طرف دوڑ چلا۔ لگ بھگ نشے میں، وہ لیٹے ہوئے لڑکوں کے اوپر سے گھوم کر واپس آئے اور انہوں نے باقی دو لڑکوں کو بھی وہاں جاکر لیٹنے کا حکم دیا۔ دونوں لڑکے (وہ بھی جو خود قلابازی لگا رہا تھا) وہاں اوروں کے ساتھ جا کر لیٹ گئے۔ تب پروفیسر کانیتکر بڑے غرور سے چلتے، ریت پر ایڑیوں کا دباؤ دیتے، لگ بھگ جھومتے ہوئے ٹیرس تک آئے۔ بجلی کی سی رفتار سے مڑے اور گولی کی طرح بھاگتے ہوئے آکر لیٹے ہوئے لڑکوں کے پاس سے کودے۔۔۔ لیکن تبھی نہ جانے کیا ہوا، قلابازی ان سے نہیں لگی۔ وہ سیدھے لڑکوں کے پار جاکر سر کے بل گرے۔ ان کی گردن ٹیڑھی ہو گئی اور ان کے جسم کا نصف حصہ بے جان سا چت لڑکوں پر جا گرا۔

سنہری نارنگی سمندر میں یکسر ڈوب گئی تھی۔ افق میں سمندر کی سطح پر ایک ذرا سا سنہراتل دکھائی دے رہا تھا۔ ’سمندر ترنگ‘ کی کسی اوپری منزل سے کوئی لڑکا ساحل سمندر پر بھیڑ جمع ہوتی دیکھ کر بھاگتا آیا اور عقب میں آکر اس نے ٹیرس پر بیٹھی ہوئی لڑکی سے پوچھا، ’’وہاٹ ہیپنڈ؟‘‘ (What Happened)

’’دیٹ سلی اولڈ مین۔‘‘ لڑکی نے پروفیسر کانیتکر کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہیز بروکن ہز نیک اوور دیر۔‘‘

That silly old man has broken his neck over there) وہ بیوقوف بڈھا۔ اس نے وہاں اپنی گردن تڑوالی ہے۔)

لڑکا بھاگتا ہوا ساحل پر اتر گیا۔ لڑکی نہایت بے نیازی سے وہیں ٹیرس پر بیٹھی ہوئی پاؤں جھلاتی رہی۔ افق میں گہرا سندوری الاؤ جل اٹھا، جس کی لپٹیں آہستہ آہستہ مغربی سمت پر چھا گئیں۔ اچانک سمندر کی سطح پر لہریں روپہلی ہو گئیں اور جو کشتیاں پہلے دکھائی نہیں دیتی تھیں، ان کے خاکے نظر آنے لگے۔ لڑکی نے بھیڑ سے نگاہیں ہٹا لیں اور سمندر کے بیچ ایک کشتی پر کھڑے ملاحوں کے سلہوت دیکھنے لگی، جو سمندر کی روپہلی لہروں پر گویا منقوش دکھائی دے رہے تھے۔ ٹیرس پر بیٹھی ہوئی وہ لڑکی شام کے وسیع کینوس پر انہیں کی طرح تصویر سی نقش دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ اس شام ہی کی طرح بے نیاز اور بےپروا!

مأخذ : ٹیرس پر بیٹھی شام

مصنف:اوپندر ناتھ اشک

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here