تصور میں بھی جس کی جستجو کرتا ہے دل میرا

0
161
Urdu Ghazal Poetry
- Advertisement -

تصور میں بھی جس کی جستجو کرتا ہے دل میرا

اسی سے ہجر میں بھی گفتگو کرتا ہے دل میرا

ندامت سے گناہوں پر جو روتی ہیں کبھی آنکھیں

انہی پاکیزہ اشکوں سے وضو کرتا ہے دل میرا

تری یادوں کے خنجر ذہن کو جب چاک کرتے ہیں

- Advertisement -

اسے جھوٹی تسلی سے رفو کرتا ہے دل میرا

جسارت دیکھنے کی جس کو کوئی بھی نہیں کرتا

اسی سے دودو باتیں روبرو کرتا ہے دل میرا

گزارے تھے جو مدہوشی کے عالم میں کبھی ساحلؔ

انہی لمحوں کی پھر سے آرزو کرتا ہے دل میرا

شاعر:عبدالحفیظ ساحل قادری

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here