دو خط

0
152
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’دو دوستوں کی کہانی، جو کالج سے نکلنے کے ایک عرصہ بعد ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ اس درمیان ان دونوں کی شادی ہو چکی ہوتی ہے۔ مگر انہیں جس طرح کے جیون ساتھی ملے ہیں ان سے وہ اس قدر تنگ آ چکے ہیں کہ ان کے پاس ایک دوسرے کے حالات پر ہنسنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔‘‘

اسلم اور ذاکر اپنی فطرت کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے تھے، لیکن اپنے زمانۂ تعلیم میں جو اسکول اور کالج ملاکر پورے آٹھ سال کازمانہ تھا، دونوں اس قدر اتحاد و اتفاق، اس درجہ یکجہتی دیکر نگی کے ساتھ رہے، کہ بسا اوقات خود انھیں بھی تعجب ہوتا تھا کہ یہ کیا بات ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اسلم، کے سر کے بالوں سے لے کر جن کے چھلوں نے کبھی اس کی پیشانی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ پاؤں تک جن سے حریری موزے کبھی جدا نہیں ہوئے، معہ اپنی تمام نفاست پسندیوں اور نزاکت مآبیوں کے اپنے خیالات و جذبات کی ایک مرئی تصویر تھا، لیکن افسوس ہے کہ وہ خود مقالاً شاعرنہ تھا کہ اپنی ان کیفیات کو ظاہر کر سکتا اور جو شاعر تھے انھوں نے کبھی اس طرف توجہ نہ کی یہ سمجھ کر کہ جو کچھ نظر آتا ہے صرف صنعت وسطح ہے اور حقیقت و عمق سے بالکل دور۔

بدقسمتی سے اس کا ساتھی ذاکر جو واقعیت سے بڑی حد تک آگاہ تھا۔ اس درجہ بے حس، خشک اور عملی انسان تھا کہ اس کے دماغ ہی میں کبھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ شعریت کسے کہتے ہیں اور اس کی علامتوں کا ظہور کب اور کس طرح ایک انسان میں ہوا کرتا ہے، وہ دنیا کے ہر معاملہ کو ’’دو اور دوچار‘‘ کے نظریہ سے دیکھنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں ’’حادثہ و اتفاق‘‘ بھی کوئی چیز نہ تھا۔

اگر قوس قزح اسلم کو اپنی جانب اس لیے متوجہ کرلیتی تھی، کہ وہ اس کی رنگینیوں کے امتزاج میں ایک غیرمحسوس موسیقی پاتا تھا تو وہ ذاکر کو بھی اپنی طرف مائل کر لیتی تھی مگر صرف اس لیے کہ اس طرح اسے سوچنے کا موقعہ ملتا تھا کہ سپید رنگ تجزیہ کے بعد سات رنگوں میں کیوں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سیکڑوں ہی بار دونوں نے ایک ساتھ قوس قزح کو دیکھا ہوگا۔ لیکن نہ کبھی ذاکر کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اس میں موسیقی کا وجود سے آیا اور نہ اسلم نے کبھی اس پر غور کیا کہ یہ رنگ کیوں پیدا ہوئے، دونوں میں بحث بھی ہوتی تھی تو کوئی نتیجہ نہ نکلتا، کیونکہ ذاکر ہمیشہ یہی کہتا کہ موسیقی کا تعلق سامعہ سے ہے، باصرہ سے نہیں اور اسلم جھنجھلاکر کہہ اٹھتا کہ اگر یہ تمام رنگ سپید رنگ کے اجزا ئے ترکیبی تسلیم کر لیے جائیں تو بھی آپ کو اور ہمیں کیا۔

- Advertisement -

جب کبھی رات کو دوران گفتگو میں اسلم آنکھوں کی قسمیں شمار کرنے لگا اور ہر ایک کی خصوصیت کا ذکر کرتا تو ذاکر پوچھتا کہ ’’یہ تم جو آنکھ کی ذہنی و فرضی تقسیم کرکے اس کو مخمور، نیم خواب، رسیلی، کٹیلی اور خدا جانے کیا کیا کہتے ہو، مجھے یہ بتاؤ کہ ان سب سے یکساں نظر آتا ہے یا نہیں۔ اگر ان کی بینائی میں کوئی فرق نہیں تو سب ٹھیک ہیں، ورنہ مجھے تو وہ گول سی چھوٹی آنکھ چاہیے جس کی بینائی درست ہو۔ اسلم یہ سنتا اور نہایت بیزاری کے ساتھ ’’اونھ‘‘ کرکے دوسری طرف کروٹ لے لیتا اور پھر کوئی بات نہ کرتا۔

الغرض فطرتاً یہ دونوں بالکل متضاد واقع ہوئے تھے، لیکن چونکہ دونوں کے ضمیر نہایت صاف تھے اس لیے باوجود اس اختلاف ذوق کے دونوں میں ہمدردی بھی بہت پائی جاتی تھی۔

کالج چھوڑنے کے بعد عرصہ تک یہ دونوں ایک دوسرے سے بےخبر رہے، لیکن جب ان کی شادی ہو گئی اور شادی کو بھی کچھ زمانہ گزر گیا تو دونوں کو ایک دوسرے کی جستجو ہوئی اور اس جستجو کی کامیابی کا نتیجہ صرف دو خط تھے جنھیں ہم یہاں درج کرتے ہیں،

پیارے ذاکر۔ میں کس قدر بے چین ہوں کہ تم ہو اور تم سے اپنا درد دل کہوں، ہرچند تم کبھی دردِ دل کے قائل نہیں ہوئے لیکن مجھے یقین ہے کہ سن لینے کے بعد تم بھی اس کو صحیح تسلیم کر لوگے۔

تمہیں یاد ہوگا کہ شادی کے متعلق جب کبھی میرے تمہارے درمیان گفتگو آئی، میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے نزدیک شادی نام ہے دو روحوں کے اتحاد کا، دو طبیعتوں کے اتصال کا اور دو فطرتوں کے امتزاج کا۔ اس طرح کہ دونوں کا تشخص مٹ جائے اور ان کا جدا کرنا اسی طرح دشوار ہو جس طرح شیر سے شکر کا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ تم اس بات پر کس طرح مسکرا دیا کرتے تھے اور دوسرے وقت اس کی تردید یہ کہہ کر کر دیا کرتے تھے کہ ’’بیوی بھی دنیا کی دوسری اشیاء محسوسہ کی طرح ہے اور اس سے متعلق ہونے والے فوائد بھی ہمارے حواس ظاہری سے وابستہ ہیں۔‘‘

خیر، وہ وقت بحث و مخالفت ظن و قیاس کا تو گزر گیا اور اس لیے اب اس کاذکر بھی فضول ہے اور نہ عہد ماضی کاافسانہ سنانے کے لیے اس وقت تمہیں مخاطب کر رہا ہوں۔ عملی زندگی میں آیا ہوں، اس لیے اسی کی کہانی سنو اور بتاؤ کہ میں کیا کروں۔

کالج چھوڑنے کے بعد جب میں وطن واپس آیا، تو والدین کو شادی کی فکر ہوئی اور جس وقت عزیزوں میں یہ بات پھیلی تو ہر طرف سے پیغام آنے لگے۔ یقیناً اس وقت میں ایک نوع کا پندار اپنے اندر محسوس کرتا تھا اور ہر پیغام میرے لیے ایک نئی لذت لے کر آتا تھا، یہاں تک کہ بعض وقت یہ جی چاہنے لگتا کہ کیوں نہ ان سب کو قبول کر لیا جائے، اس سے مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ میں خود بھی اس وقت شادی کے لے کس درجہ بیتاب، یعنی ’’موزوں‘‘ ہو رہا تھا، لیکن جب انتہائی سنجیدگی سے غور کرتا، یعنی جب میں ’’تم‘‘ ہو جاتا تو پھر خود ہی ایک ایک کو رد کردیتا، کیونکہ حقیقتاً ان میں سے کسی کو ایسا نہ پاتا تھا، جو صحیح معنی میں میرے جذبات محبت و پرستاری کی قدر کرنے والی ہو، چونکہ میرے والدین اس مسئلہ میں میری مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کرنا چاہتے تھے اور میں نے اس وقت تک اپنی مرضی کا اظہار نہ کیا تھا، اس لیے کوششیں ہوتی رہیں، بات ٹلتی رہی، یہاں تک کہ گرمی آ گئی اور میں چچا کے پاس کشمیر چلا گیا۔ میرے قیام کے لیے انھوں نے ڈل میں ایک مخصوص کشتی کا انتظام کر دیا تھا، چونکہ ابھی موسم کی ابتدا تھی اس لیے میری کشتی کے آس پاس اور کسی کی کشتی لنگرانداز نہ ہوئی تھی۔ میں اپنی اس تنہائی سے بہت مسرور تھا اور نہایت حرص کے ساتھ یہاں کے مناظر سے لطف اٹھا رہا تھا۔

میرے قیام کو ایک ہفتہ سے زائد زمانہ نہ ہوا تھا کہ وہیں ایک اور ہاؤس بوٹ آ گیا جس میں دہلی کا ایک خاندان مقیم تھا، میں اپنی اس کبیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا، جو اس وقت میرے دل میں پیدا ہوئی، لیکن دودن نہ گزرے تھے کہ مجھے اس کبیدگی کی سزا کشتی کے جھروکوں سے کھڑکی کی جھلملیوں سے اور کبھی کبھی کھل جانے والے ریشمیں طرف نقاب سے ملنے لگی۔ پھر یہ تعزیر اگر اسی جگہ ختم ہوجاتی تو بھی غنیمت تھا، مگر خدا اس وقت سے بچائے جب عورت کسی سے انتقام لینے پر تل جائے، مجھے ستایا جانے لگا، ہارمونیم کی صدا سے، ہلکے ہلکے سروں کی موسیقی سے، دھیمی دھیمی آوازوں سے اور ان قہقہوں سے جنھیں فضائے کشمیر میں کوئی شخص ضبط نہیں کر سکتا۔

افسوس ہے کہ میں افسانہ مرتب کرنا نہیں جانتا ورنہ حقیقت یہی ہے کہ ان دنوں میری زندگی کا ایک ایک لمحہ ایسا تھا جس سے کہانیاں پیدا ہو رہی تھیں اور میری ہر صبح و شام ایک جدید افسانہ لے کر رونما ہوتی تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ چند دنوں میں میرے مراسم بھی اس خاندان سے پیدا ہو گئے اور رفتہ رفتہ انھوں نے ایسی عجیب و غریب صورت اختیار کر لی کہ موسم ختم ہونے سے قبل ہی ایک رات اسی کشتی میں میری شادی اس ستانے والی سے ہو گئی۔ چونکہ اس زمانہ میں مجھے پوری طرح اس کا یقین ہو گیا تھا کہ اگر کوئی خاتون میری مرضی کے مطابق ہو سکتی ہے تو صرف یہی ہے اس لیے میں اس رشتہ سے بہت مسرور تھا اور میرے والدین بھی میری اس مسرت کی وجہ سے کم مسرور نہ تھے، میں یہ لکھنا بھول گیا کہ شادی سے قبل میرے والد بھی آ گئے تھے اور بعد کو جب تمام مراحل طے ہو گئے تو انھوں نے والدہ کو بھی بلا لیا تھا۔

اچھا اب سمجھ لو کہ کشمیر میں شادی ہو گئی، موسم ختم ہو گیا اور میں اپنی بیوی کو لے کر گھر پہنچ گیا، لیکن اسی کے ساتھ مجھے بتا دینا چاہیے کہ میری بیوی میں وہ کون سی صفات تھیں جن کی بنا پر میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس سے بہتر انتخاب ناممکن ہے۔ چونکہ تم کو میرے فلسفۂ جمالیات سے پوری آگاہی ہے، اس لیے تمھیں سمجھ لینا چاہیے کہ جو کچھ میں نے پسند کیا ہوگا وہ میرے معیار کے مطابق ہوگا۔ لیکن اس خیال سے کہ ممکن ہے تم بھول گئے ہو۔ مختصراً بیان کرتا ہوں۔ شادی سے قبل جو مجسمہ میں نے اپنی رفیق زندگی کا قائم کیا تھا، وہ یونان کے اس عہد زریں کا مجسمہ تھا جب مقصد فطرت صرف حسن کا پیدا کرنا تھا اور اسی کے ساتھ پرستاری حسن کو عام کردینا۔ ایک سانچہ میں ڈھلی ہوئی چمپئی رنگ کی مورت ’’کانماھی وردو یاسمین تجمد فنحت جسماً بشریا‘‘ (گویا گلاب اور یاسمین کے افشردہ کو منجمد کرکے کسی بت ساز نے جسم بشری تیار کیا ہے) سر سے پاؤں تک لوچ ہی لوچ۔ اعضا کے لحاظ سے سراپا تناسب و موزونیت ہر ہر ادا سے نشہ بخش و سحر انگیز۔ ذہنیات کے اعتبار سے یکسر برق جوالہ۔ تاثرات کے لحاظ سے بالکل چھوئی موئی اور محبت کی پذیرائی میں ہمہ تن درد، آہ اور کراہ۔

پھر یقیناً یہ میری انتہائی خوش کامی تھی کہ نسیمہ (میری بیوی کا نام) کے ہر خدوخال کو میں نے اپنی ذہنی تصویر کے مطابق پایا اور نہیں کہہ سکتا کہ چند مہینہ کس فردوس میں بسر ہوئے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں اسے لطف و انبساط کی زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں اور فطرت مجھ پر کبھی نامہربان نہ ہوگی، لیکن جب والدہ کا دفعتاً قلب کی حرکت بند ہوجانے سے انتقال ہوا اور میری آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ اس وقت تک میری جتنی زندگی بسر ہوئی تھی وہ صرف واہمہ و خیال تھی اور حقیقی زندگی اب شروع ہوتی ہے۔

چونکہ والد بہت مقروض تھے اور جائداد کی آمدنی کم ہو گئی تھی، اس لیے میرے اوپر جس طرح دفعتاً بلاؤں کا نزول ہوا، وہ ناقابل بیان ہے، قرض خواہوں کے تقاضے، مہاجنوں کی نالشیں، مصارف کی زیادتی، آمدنی کا فقدان، یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرا گلا گھنٹ رہا ہے، لیکن جان نہیں نکالتا، سوائے اس کے کوئی تدبیر نہ تھی کہ جائداد فروخت کرکے قرض کے بار سے سبکدوش ہوں اور پھر ملازمت کی تلاش کروں۔ چنانچہ میں نے اس پر عمل کیا اور ایک گو نہ ان مصائب سے نجات حاصل کرکے، ۷۵ روپیہ ماہوار کی ملازمت کر لی، ہرچند اول اول یہ انقلاب میرے لیے سخت سوہان روح تھا، لیکن رفتہ رفتہ میں عملی زندگی کے تمام مصائب کا خوگر ہو چلا اور کوشش کی کہ کسی طرح نسیمہ کو بھی ان کا عادی بناؤں، لیکن میں اس میں کامیاب نہیں ہوا اور اس ناکامی نے مجھے اتنا صدمہ پہنچایا کہ اس سے قبل کے صدمات کو بھی بھول گیا۔

اب ضرورت اس بات کی تھی کہ میں اور وہ دونوں گذشتہ خواب کے خیال کو دل سے محو کردیتے، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن نسیمہ اس پر راضی نہیں ہوتی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی شریعت کی تمام ادائیں جو میرے لیے کسی وقت بہترین لذتیں تھیں، اب سخت تکلیف دہ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری طرح وہ بھی عملی زندگی کے جھگڑوں میں مبتلا ہو جائے، لیکن وہ اس پر راضی نہیں، میری عسرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی غریبوں کی طرح زندگی بسر کرے، لیکن اس کا دیباو حریر، قاقم و سنجاب نہیں چھوٹتا، میرا حال متقاضی ہے کہ وہ گھر کا کام خود کرے اپنے ہاتھوں سے چیزوں کو رکھے، اٹھائے، لیکن وہ اپنے ہاتھوں کی نرمی سے خائف ہے، ڈرتی ہے کہ کہیں اس کے جسم کا ریشم خراب نہ ہو جائے، میں چاہتا ہوں کہ وہ معاملات پر غور کرے، پریشانیوں میں مجھے تسکین دے، اقتصاد کو پیش نظر رکھے، لیکن شاعری اور موسیقی کا ذوق (جو انسان کو لازماً مسرف بھی بنا دیتا ہے) اس کے اندر اس قدر رچ گیا ہے کہ ایک لمحہ کے لیے وہ اس سے جدا ہونا نہیں چاہتی۔ میں کسی حال میں ہوں لیکن اس کو اپنے مطالعہ شعر سے کام، میں کسی مصیبت میں ہوں لیکن وہ اپنے ہارمونیم سے مشغول، گھر میں کھانے کو ہو یا نہ ہو لیکن ان کے لیے گراموفون کے تازہ ریکارڈ مہیا کرنا واجب، مجھ پر کوئی فکر مسلط ہو، لیکن انھیں وہی طلب پرستاری، مجھے محبت و عشق کے نام سے نفرت ہو گئی ہے اور وہ اب تک یہی چاہتی ہیں کہ لیلیٰ و مجنوں کی حکایت تازہ رہے، خدا کے لیے بتاؤں کیا کروں اور کیونکر ان کی فطرت کو بدل دوں۔

تم کہا کرتے تھے کہ عملی زندگی میں شعر و شاعری، لطافت و ادبیت کام نہیں دیتی، میں ہنسا کرتا تھا لیکن اب معلوم ہوا کہ جو کچھ تمھارا خیال تھا وہ ایک حقیقت ہے اور اس کو اولاً نظرانداز کرنے سے میرے اوپر یہ مصیبت نازل ہوئی اگر میں اپنے خاندان ہی میں کسی غریب لڑکی سے نکاح کر لیتا تو یقیناً آج میں بہت اطمینان سے ہوتا، کیونکہ حقیقتاً بیوی وہی ہے جو شوہر کے حالات کے لحاظ سے اپنے مزاج میں تبدیلی پیدا کر لے اور شوہر کو اپنے ذوق کے لحاظ سے اسباب فراہم کرنے پر مجبور نہ کرے۔

اب دفتر کا وقت آ گیا ہے اور شیروانی میں بٹن ٹانکنا ہیں اس لیے مجبوراً قلم ہاتھ سے رکھ کر سوئی تاگہ سنبھالتا ہوں اس خط کی رسید آ جائےگی تو باقی افسانہ لکھوں گا۔

بدنصیب

’’اسلم‘‘

بھائی اسلم! تمھارا خط ملا جس کو پڑھ کر بے اختیار ہنسی آ گئی (باور کرو کہ آج کامل دوماہ کے بعد میرے لب ہنسی سے آشنا ہوئے ہیں اور ڈر لگا ہوا ہے کہ کہیں بیوی نہ دیکھ رہی ہوں اور اس کا مطالبہ شروع ہو جائے) اس میں کلام نہیں کہ تمھارا حال قابل رحم ہے، اس لیے نہیں کہ تمھاری بیوی اس قدر شاعر و لطیف الخیال واقع ہوئی ہیں (کیونکہ بیوی کی غیر ادبیت اور عدم شعریت اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے) بلکہ صرف اس لیے کہ تمھارے والد کے انتقال نے تمہیں غیرمعمولی افکار دنیا میں مبتلا کردیا جس کے لیے تم حقیقتاً پیدا نہ ہوئے تھے۔

جس طرح مجھے تمہارا حال سن کر حیرت ہوئی، اسی طرح تم بھی میری کیفیت معلوم کرکے تعجب کروگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ طالب علمی کے زمانہ میں جس طرح تمہارا قائم کیا ہوا خیال غلط نکلا، اسی طرح میرا نظریہ بھی ہر اعتبار سے صحیح نہ ثابت ہوا۔

میری شادی کا واقعہ، تمہارے واقعۂ نکاح کی طرح کوئی افسانہ نہیں بلکہ نتیجہ ہے چند مسلمات کا جن کو میں نے اپنے ذہن میں جگہ دے رکھی تھی، میں نے ہمیشہ یہی خیال کیا کہ جس طرح مرد کے اوپر کچھ فرائض گھر سے باہر کی زندگی کے ہیں اسی طرح عورت کو بھی گھر کے اندر بعض ذمہ داریاں سر پر لینی چاہئیں، یعنی جس صورت سے مرد کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے، اسی طرح عورت بھی بیکار بیٹھنے کے لیے وجود میں نہیں آئی۔

چونکہ میرے والد کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اس لیے بیوی کا انتخاب مجھی کو کرنا پڑا اور بہت تحقیق کے بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ یوپی کے حصہ میں کسی ایسی عورت کا ملنا دشوار ہے جو میرے نقطۂ نظر سے عمل پسند ہو، البتہ پنجاب میں ممکن ہے کیونکہ جسم و اعضا کی طرح ان کا دماغ بھی نزاکت پسند نہیں ہوتا اور شعریت کا تو خیر وہاں وجود ہی نہیں۔ چنانچہ میں نے یہ فیصلہ کر لینے کے بعد ہی محلہ کے ایک غریب گھر میں پیغام بھیج دیا اور ایک مہینہ کے بعد شادی بھی ہو گئی، کیونکہ میں نے جس سادگی سے عقد کرنا چاہا تھا اس سے زیادہ سادگی ان لوگوں کو ملحوظ تھی۔

تم جانتے ہو کہ جمالیات کے باب میں مجھے مطلقاً درک حاصل نہیں ہے اس لیے صورت شکل کے لحاظ سے میں کوئی تنقید نہیں کر سکتا، لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کو صورت بری نہیں تھی، یعنی کم از کم مجھے ناگوارنہ تھی اور یہی میرا انتہائی معیار حسن کے متعلق تھا، جسم و قواء کے لحاظ سے بیشک وہ قابل ذکر چیز تھیں اور ہیں، اس میں کلام نہیں کہ اعضا کا صحت و توانائی کے لحاظ سے مکمل پرورش یافتہ ہونا اور ان کے نشونما میں کسی چیز کا حارج نہ ہونا، ہرشخص کا فطری حق ہے، لیکن شادی کے بعد ہی اول مرتبہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ عورت کے باب میں اس فطری حق کو ذرا ضعیف ہو جانا چاہیے، کیونکہ مرد عورت کے درمیان جہاں اور باتیں مایہ الامتیاز ہیں وہیں اعضا کی ساخت بھی ہے۔

اول اول چند دن تک تو صحت و توانائی کا یہ عظیم الشان مجسمہ مجھے بہت عجیب و غریب معلوم ہوا اور گھر کی ہر وہ چیز جس کی قسمت میں اس بار کا برداشت کرنا لکھا تھا، اپنی اپنی جگہ فریاد کرنے لگی، لیکن میں نے اس کی پرواہ نہ کی اور رفتہ رفتہ اپنی بینائی میں اتنی وسعت پیدا کر لی کہ وہ سما سکیں۔ اپنے مشاغل کے لحاظ سے میں نے ان کو یکسر عمل پایا، گھر کی ایک ایک چیز کی نگرانی، ہروقت ان کی دیکھ بھال، حساب کتاب، مصارف کا اندازہ، میری ضروریات کا لحاظ، وقت پر ہرچیز کا فراہم کرنا۔ ان کے معمول وظائف زندگی تھے اور ہیں، لیکن اسلم خدا کی قسم میں اب ان سب باتوں سے گھبرا اٹھا ہوں، اس اہتمام و انتظام کی زندگی سے پریشان ہوں اور جی چاہتا ہے کہ سارے نظام میں بےترتیبی پیدا ہو جائے اور ایک لمحہ کے لیے تو میں اپنے کو آزاد سمجھ سکوں۔

حالت یہ ہے کہ اگر میں اپنے اختیار سے گھر کا ایک تنکا بھی اِدھر سے ادھر کرنا چاہوں تو نہیں کر سکتا، اول اول تو انھوں نے اپنے اس اقتدار کا ثبوت اس طرح دیا کہ جہاں میں نے کوئی چیز اٹھائی، انھوں نے خاموش برہمی کے ساتھ پھر اٹھاکر اس کی جگہ پر رکھ دی۔ لیکن جب رفتہ رفتہ حجاب دور ہوکر بدقسمتی سے بےتکلفی کا دور شروع ہوا، تو پھر زجر و توبیخ، چین جبیں، جھڑکی سبھی کا صرف مجھ پر ہونے لگا، یہاں تک کہ اب مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ خلاف وقت بیمار پڑجاؤں۔

میری شادی کو دو سال کا زمانہ گزر گیا ہے لیکن باور کیجیے کہ وہ چینِ پیشانی جو اول دن میں نے ان کے چہرہ پر پائی تھی آج تک قائم ہے، خندہ یا قہقہہ تو خیر بڑی چیز ہے، میرے گھر میں اب تبسم کا بھی گزر نہیں۔ وہ تو خیر کیا مسکرائیں گی، واللہ، مجھے بھی اب یاد نہیں رہا کہ مسکراہٹ کی ابتدا چہرہ کی کن عضلات سے ہوتی ہے۔

صبح اٹھ کر نماز پڑھنا، تلاوت کرنا، چائے تیار کرانا، میرے کپڑے دیکھنا، دفتر کے وقت کھانا کھلاکر کپڑے پہناکر مجھے دفتر بھیج دینا پھر بچہ کی نگہداشت کرنا، اس کے کپڑے سینا، وقت ملے تو کروشیا کو لے بیٹھنا، شام کو پھر کھانے کے انصرام میں مصروف ہو جانا، رات کا کھلاکر حساب کتاب کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ان کے روز کے مشاغل ہیں جو کبھی ایک لمحہ کے لیے انھیں اس امر کی اجازت نہیں دیتے کہ میری سنیں اور اپنی کہیں، بعض دفعہ ایک ایک ہفتہ گزر جاتا ہے کہ وہ نہ مجھ سے بات کرتی ہیں اور نہ میں ان سے، اس میں شک نہیں کہ یہ تمام مشاغل ایک عورت کے فرائض میں داخل ہیں۔ لیکن یہ طلسم خاموشی کیسا، اس روزۂ مریم کے کیا معنی، خوش نصیب ہوتا ہے میرے لیے وہ دن جب رشید (میرا بچہ) کسی بات پر مچل جاتا ہے اور انھیں اسے سمجھانے یا خفا ہونے کے لیے آواز نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

میری بیوی کو ضرورت کے لحاظ سے کافی لکھنا پڑھنا آتا ہے، لیکن ان کے ذوقِ ادب کا یہ عالم ہے کہ مسدس حالی بھی موزوں نہیں بڑھ سکتیں، ہرچند بعض بعض بحروں کے شعر مثلاً تمہیں یاد ہوگا غالب کی وہ غزل ’’کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا۔‘‘ میں بھی موزوں نہیں پڑھ سکتا، لیکن یہاں تمام خبریں ایک وزن اختیار کر لیتی ہیں، جنھیں وزن شعری سے توخیر کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا، لیکن وہ نثر بھی نہیں ہوتیں۔ خدا جانے کس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر الفاظ نکلتے ہیں کہ مجھ سا بےحس انسان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک دن میں نے کہا کہ آخر آپ کو شعر پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ماری جاتی ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک پورے چھ ماہ ہو گئے ہیں جو کبھی کسی نظم کی کتاب کو اٹھاکر بھی دیکھا ہو، گویا وہ اس بلا سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی رہی تھیں۔

پرسوں صبح کو پاس کے مکان میں گراموفون بج رہا تھا، پیارے صاحب کاایک ریکارڈ ’’رس کے بھرے تورے نین‘‘ چڑھا ہوا تھا، میں چائے پی رہا تھا اور وہ بیٹھی ہوئی دیکھ رہی تھیں کہ کہیں کوئی بات خلاف قاعدہ تو مجھ سے سرزد نہیں ہوتی، دفعتاً یہ گانا سن کر بول اٹھیں (کچھ خوش تھیں) کہ ’’یہ رس کے بھرے نین کیسے ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے ہنسی کو ضبط کرکے پوچھا ’’تمھیں نہیں معلوم‘‘ اس پر کہنے لگیں کہ ’’جب آنکھ میں آنسو بھر آتے ہوں گے تو اس کو ’’رس بھری‘‘ کہتے ہوں گے‘‘۔ اب ہنسی کا ضبط کرنا میرے اختیار سے باہر تھا، وہ کچھ برہم ہوئیں لیکن برس نہیں پڑیں اور پھر دوسری تفسیر یہ بیان فرمائی کہ ’’کیا جب میٹھی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اسے رس بھری کہتے ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی ہنسی کے مارے میرے ہاتھ سے پیالی چھوٹ پڑی اور سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ’’بیگم خدا کے لیے آئندہ تم کسی غزل یا گانے کے سمجھنے کی کوشش نہ کیا کرو اور جو سمجھا بھی کرو تو دل ہی دل میں، کیونکہ مجھ میں اس تفسیر کے سننے کی تاب نہیں۔ اگر دو چار مرتبہ تم نے اپنے دماغ پر ایسا ہی زور دیا تو میرا دم نکل جائےگا۔‘‘

اردو اچھی طرح بول لیتی ہیں لیکن قیامت ہو جائےگی وہ یہ کہنا نہ چھوڑیں گی کہ ’’میں نے دیکھا ہوا ہے‘‘، ’’اس نے کھایا ہوا ہے‘‘ میں نے بیس دفعہ سمجھایا کہ اردو میں جتنے لفظ مذکر ہیں ان کی جمع کا خاص قاعدہ ہے اس لیے تم انھیں واحد ہی بولا کرو لیکن وہ جب کہیں گی یہی کہیں گی کہ ’’بچہ کی گالیں پھٹ گئی ہیں‘‘، ’’یہ تاریں کہاں سے آئی ہیں‘‘۔ اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا نہیں کہ مجھے ان باتوں سے تکلیف ہوتی ہے، بلکہ صرف یہ دکھاتا ہے کہ وہ اپنی وضع و ادا کی نہایت سختی سے پابند ہیں اور دنیا کی کوئی کوشش انھیں ان اصول سے ہٹا نہیں سکتی، اس لیے ان کے مزاج میں جو خشونت و سختی، لب و لہجہ میں ہوکر خشگی اور فطرت میں جو کھرکھرا پن ہے اس کے دور ہونے کی مجھے کوئی توقع نہیں ہے اور میری زندگی اس قدر بےلطفی سے میسر ہو رہی ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔

میں لاکھ عملی انسان سہی، لیکن کام سے تھک جانے کے بعد آدمی فطرتاً تفریح و لطف کی جستجو کرتا ہے اور یہی میرے لیے مفقود ہے، دل سے وہ میری ہزار ہمدرد ہوں، لیکن ان کی نشست و برخاست، ان کی رفتار گفتار اور ان کی ہر ہر ادا سے تو ’’ٹپکے ہے بیاباں ہونا۔‘‘ جہاں سوائے آندھی، خاک اور خشکی کے کچھ نظر نہیں آتا۔

تم اپنی بیوی کی ضرورت سے زیادہ ادبیت و شعریت سے نالاں ہو، میں اپنی بیوی کی حد درجہ خشکی و وحشت سے بیزار ہوں۔ ممکن ہے تم میں یہ سنکر کوئی خاص کیفیت پیدا نہ ہو، لیکن میں تو واللہ تمہاری پریشانیاں سن کر تم پر رشک کرنے لگا۔

کیا کروں اختیار میں نہیں ورنہ بہترین علاج ہماری تمہاری پریشانیوں کایہ تھا کہ نسیمہ (تمہاری بیوی) اور اقبال (میری بیوی) دونوں کو چور چور کرکے ان کے اجزا کو باہم خوب ملادیا جاتا اور پھر اس مادہ سے دوعورتیں معتدل مزاج و صحت کی بنائی جاتیں۔ لیکن چونکہ یہ اختیار میں نہیں ہے اس لیے اب سوائے صبر کے کوئی چارہ کار نہیں ہے، یہ نتیجہ ہماری تمہاری افراط و تفریط کا ہے اور اخیر تک اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا ہے۔

تمہارا مخلص

ذاکر

مصنف:نیاز فتح پوری

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here