ایک پاگل کہانی

0
127
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا!

یہ عجیب و غریب کہانی میں نے دس برس قبل لکھی تھی۔ ان برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ منظر، چہرے، نظریات، خیالات، حالات، الغرض بہت کچھ۔۔۔

تو آج میں زمانۂ طالب علمی کے اواخر میں لکھی اپنی اس کہانی کو نئے تقاضوں کے پیش نظر دوبارہ لکھ رہا ہوں اور ان برسوں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہ گیا۔ تو آغاز کرتے ہیں۔۔۔

’’جواد چوہدری ایک ایسا امیر زادہ تھا، جسے فوزیہ نامی شریف، غریب اور گھبرائی ہوئی لڑکی سے محبت ہو گئی۔۔۔‘‘

کہانی کا ابتدائیہ بہت ہی غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ اس میں تبدیلی ازحد لازم ہے، کیوں کہ اب میں ناتجربے کار بچہ نہیں رہا اور سماجی ناہم واریوں کو بہ خوبی سمجھنے لگا ہوں۔ تو اب (تبدیل شدہ) ابتدائیہ کچھ یوں ہے:

- Advertisement -

’’جواد چوہدری ایک ایسا بیوقوف امیر زادہ تھا، جسے فوزیہ نامی بہ ظاہر شریف اور غریب معلوم ہونے والی ایک انتہائی شاطر لڑکی سے محبت ہو گئی۔‘‘

اب آگے بڑھتے ہیں۔۔۔

’’جواد کے اس فیصلے سے اس کی کزن صبا کو، جو اس سے چپکے چپکے محبت کرتی تھی، شدید دھچکا لگا۔ وہ ٹوٹ گئی اور اپنے ہی بکھیرے ہوئے وجود کی کرچیوں سے زخمی ہو گئی۔۔۔‘‘

یہ خیال بھی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ حالات بدل گئے ہیں اور میں بہ شعور ہو گیا ہوں۔ تو اب اسے یوں لکھا جائے:

’’جواد کے اس احمقانہ فیصلے سے اس کی دور کی لالچی کزن صبا کو، جو اس کی دولت سے چپکے چپکے اور اس سے علی الاعلان محبت کرتی تھی، بدترین دھچکا پہنچا۔ اپنے اکلوتے امیر کبیر ماموں زاد کی حماقت نے اس کے جذبات اور منصوبوں کو توڑ دیا اور پھر اپنے منصوبے کی کرچیوں سے اس نے فوزیہ کو زخمی، بلکہ قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔‘‘

تو یوں اے پڑھنے والے، میں نے دس برس قبل لکھی جانے والی کہانی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس خیال کے تحت کہ اس کی روح سے چھیڑ خانی نہیں کروں گا۔

اور تبدیلی کے اس عمل کے دوران میں نے تجزیہ کیا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں، جو لمحۂ موجود میں مجھ سے اس تبدیلی کا تقاضا کر رہے ہیں؟

پہلا معاملہ جو میرے سامنے آیا، وہ یقینی طور پر دس برس قبل بہ طور کہانی نگار میری ناتجربہ کاری تھی۔زمانۂ طالب علمی کی سفاک معصومیت کے سبب میں خیال کرتا تھا کہ ’’محبت ایک عظیم جذبہ ہے!‘‘

تاہم ان دس برسوں میں مَیں نے جانا کہ ’’محبت فقط ایک قدیم، بوسیدہ جذبہ ہے، جسے آج صرف احمق سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ ’ایکسپائر‘ ہو چکا ہے اور اب اس کا استعمال نقصان دہ ہے۔‘‘

اور میرا یہ خیال تجربے کی قوت سے مالا مال ہے۔ کیوں کہ ان دس برسوں میں تین بار، تین مختلف طبقات کی لڑکیوں سے میرا تعلق قائم ہوا اور ہر بار طبقاتی دیواروں نے محبت کے نرم مکھن پر گرم چھری پھیر دی۔

ہما مجھ سے شدید محبت کرتی تھی اور میں دعوے دار تھا کہ میں بھی اسے چاہتا ہوں۔ وہ اپنی بڑی سی کار میں مجھے شہر بھر میں گھماتی، اپنے کریڈٹ کارڈ سے شاپنگ کرواتی اور اپنی پاکٹ منی سے غیرملکی ریسٹورنٹ کا ذایقہ چکھاتی۔

میں اس کے ساتھ بہت خوش تھا اور اسی خوشی میں ایک آدھ بار ہمارے درمیان جسمانی تعلق بھی قائم ہوا، جس کے بعد نہ جانے کیوں، اس نے شادی کی گردان شروع کر دی۔

اس کی ضد سے مجبور ہو کر میں نے اپنے والدین کو اس کے امیر باپ کے گھر بھجوا دیا اور توقع کے عین مطابق امیر باپ نے غریب باپ کو ذلیل کیا!

غریب باپ واپس اپنے غریب خانے پہنچا اور اپنے نالائق بیٹے پر برس پڑا۔

دوسری جانب امیر باپ نے اپنی سپوتری کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی عاید کر دی۔

مجھے بہت دکھ ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ہما کے باپ نے میرے باپ کو ذلیل کیا اور اس لیے بھی نہیں کہ اس نے رشتے سے انکار کر دیا، فقط اس لیے کہ ہما کی آزادی پر لگنے والی قدغن نے مجھے بڑی گاڑی، غیرملکی کھانوں اور منہگے ریسٹورنٹس سے محروم کر دیا!

اس تجربے کے بعد میں نے جانا کہ کس طرح امیر، غریبوں کو ان کی غربت کا احساس دلاتے ہیں اور اس تجربے کے بعد میں نے یہ بھی جانا کہ محبت ایک خطرناک جذبہ ہے۔

اس جذبے کے بداثرات سے بچنے کی کوشش میں مَیں اپنی خالہ زاد کی گود میں جاگرا، جس نے ممتا کے جذبے کے تحت 151 جو ہر متوسط طبقے کی لڑکی میں بہ درجہ اتم پایا جاتا ہے 151 میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔ اس عمل سے مجھے عجیب سے تسکین ملی۔

اس کے پاس مجھے دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، ماسوائے اپنی متوسط طبقے کی محبت کے!

میں نے اپنی خالہ زاد کی محبت کو اس کے جسم سمیت قبول کیا اور ہما کا غم غلط کرنے میں مصروف رہا اور جب بیماری ختم ہوگئی، میں نے دوا کا استعمال ترک کر دیا!

خالہ زاد کے اداس چہرے پر حیرت کی کوکھ سے جنم لینے والے کئی سوالات تھے، تاہم میں نے جواب دینا مناسب نہیں جانا کہ کچھ سوال، جواب کے حصول کے بعد اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ تاہم مجھے دکھ تھا۔۔۔

مجھے دکھ تھا کہ میرے دکھی تجربے کی ’’شاہد‘‘ بننے کے باوجود وہ خود محبت میں گرفتار ہو گئی۔ خالہ زاد سے جدا ہونے کے بعد مجھ پر محبت نامی جذبے کا بھونڈا پن کھلتا گیا۔

تیسری عورت شہر کے ایک انتہائی بااثر کاروباری شخص کی، تنہائی میں مبتلا بیوی تھی، جس کی این جی او میں میں کمپیوٹر آپریٹر کی حیثیت سے ملازم تھا۔ میں نے اس ادھیڑ عمر عورت کو اپنی محبت کا یقین دلایا، اس کی تنہائی کا ساتھی بنا۔ اس کے قریب گیا اور اس سے تعلق قائم کیا۔

خود سے پندرہ سال بڑی عورت کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا عمل اگرچہ مکروہ معلوم ہوتا ہے، تاہم عملاً یہ عمل اتنا قبیح نہیں۔ خصوصاً جب اس میں محبت کا بیمار احساس شامل ہو۔۔۔

اس کی محبت خاصی تجربےکار اور پختہ تھی اور میری محبت انتہائی بیمار۔۔۔ سو جلد ہی وہ مجھ سے کترانے لگی۔ میں نے اس کی حرکات کو برا نہیں جانا، بس چند آسایشوں کا تقاضا کیا، جنھیں مجھ سے جان چھڑانے کے لیے بہ خوشی پورا کر دیا گیا۔

یوں محبت کا تیسرا تجربہ مکمل ہوا اور میں نے جانا کہ محبت ایک قدیم، خبیث اور مضر جذبہ ہے۔

بس، اس کے بعد میں نے محبت سے توبہ کی اور غریب طبقے کی ایک شریف معلوم ہونے والی لڑکی سے شادی کر لی۔ یوں تین مختلف خواتین سے تعلق کا تجربہ لیے، میں حجرۂ عروسی میں داخل ہوا، اس یقین کے ساتھ کہ میں اس معاملے میں خاصا تجربے کار ہوں۔ اس کے بعد جو بیتا، وہ ایک الگ کہانی ہے!

خیر، محبت کے مذکورہ تجربات نے میرے خیالات کو یک سر بدل گیا۔ سو میں نے اپنی تحریرکردہ کہانی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم محبت کے تین عجیب وغریب، ناکام تجربات ہی اس دس سالہ قدیم کہانی کی تبدیلی کے محرک نہیں تھے، اس میں میری ناکامیوں کا بھی خاصا عمل دخل رہا، جنھوں نے کہانی میں داخل ہو کر کہانی کی روح کو جھنجھوڑ دیا۔

تو واپس کہانی کی جانب پلٹتے ہیں، جو نئے تقاضوں کے تحت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔

تو کہانی کا مرکزی کردار (دس سال قبل لکھی جانے والی کہانی میں) اپنی محبت، یعنی غریب فوزیہ کے سامنے اظہار محبت کرتا ہے۔ ان کی محبت پاکیزہ ہوتی ہے، یعنی جسمانی تعلق سے محروم!

غریب فوزیہ بھی امیر جواد سے شدید محبت کرتی ہے، تاہم خودداری کے جذبے کے تحت یہ شرط عاید کردیتی ہے کہ جواد اپنے باپ کی دولت سے دست بردار ہو جائے۔۔۔

یہ خیال مجھے بہت ہی سطحی اور عامیانہ لگا، سو میں نے اس حصے کو تبدیل کرکے یوں کر دیا:

’’غریب اور چالاک فوزیہ جواد کو بیوقوف بنانے کے لیے یہ شرط عاید کر دیتی ہے کہ وہ اپنے باپ کی دولت سے دست بردار ہوجائے۔ گوکہ اس کا مطلب قطعی یہ نہیں ہوتا!‘‘

دس سال قبل لکھی جانے والی کہانی کی اختتامی سطروں میں جواد کی کزن صبا، فوزیہ کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور غریب اور شریف فوزیہ اپنی محبت کی قربانی کا فیصلہ کر لیتی ہے!

کہانی کے اس بھونڈے کلائمکس کو تبدیل کرکے کچھ یوں کر دیا گیا:

’’صبا فوزیہ کے سامنے اپنے منصوبے کا اظہار کرتی ہے اور اسے سمجھتاتی ہے کہ جواد کا ذلیل باپ کبھی ایک غریب لڑکی کو بہ طور بہو تسلیم نہیں کرےگا اور اس کے منصوبے کا سقم، اسے دولت کی خوش بو سے ہمیشہ محروم رکھےگا، سو بہتر ہے کہ وہ اسے (یعنی صبا کو) موقع دے، جس کے بدلے، وہ فوزیہ کو موٹی رقم دےگی۔‘‘

اور کہانی میں نئے تقاضوں کے تحت آنے والی تبدیلیوں کے مطابق، فوزیہ سوچ بچار کے بعد صبا کی پیش کش قبول کر لیتی ہے اورپانچ لاکھ روپے لے کر جواد سے الگ ہو جاتی ہے۔ یوں صبا اور جواد کی شادی ہو جاتی ہے۔

کہانی کو مزید ’’جدید‘‘ بنانے کی غرض سے میں نے یہ اضافہ بھی کر دیا کہ پانچ لاکھ ختم ہونے کے بعد فوزیہ چپکے سے جواد سے پھر تعلق قائم کر لیتی ہے، جس سے مالی فائدہ بھی نتھی ہوتا ہے۔ حالاں کہ اس وقت تک اس کی ایک شریف شخص سے شادی ہو چکی ہوتی ہے۔

میری حالیہ کوشش سے کہانی میں تعلقات کی عجیب ’’بھول بھلیاں‘‘ ابھر آئیں۔

ملاحظہ فرمائیں:

صبا جواد کی بیوی ہے اور یہ خیال کرتی ہے کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ ایک خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتی کہ ایک بہ ظاہر شریف معلوم ہونے والی انتہائی چالاک فوزیہ اس کے شوہر، یعنی جواد چوہدری کی جسمانی اور مالی توانائیوں سے استفادہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب فوزیہ 151 جو بڑی ہی حرافہ ہے 151 اپنے غریب شوہر کو دھوکا دیتے ہوئے جواد سے جڑی ہوئی ہے اور کمینگی کی حدود عبور کرتے ہوئے ایک جھوٹی کہانی گڑھ کر جواد کو سُنا چکی ہے، جس کے مطابق اس کا شوہر اس پر بہت ظلم کرتا ہے۔

یوں کہانی میں انسانی تعلقات ایک چیستان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور یہ عجیب و غریب تعلقات جواد، صبا اور فوزیہ کی موت تک قائم رہتے ہے۔

اور ان کی موت بھی بہت ہی عجیب و غریب انداز میں ہوتی ہے۔۔۔

کہانی میں کی جانے والی ڈرامائی اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ تبدیلیوں کے بعد میں نے کہانی کو مزید دس برسوں کے لیے ایک بوسیدہ صندوق میں رکھ دیا، جو اس پاگل خانے میں میرا واحد اثاثہ ہے اور جس میں میں نے اپنی ہوش مندی سے پاگل پن تک کے سفر کی تمام نشانیاں محفوظ کر رکھی ہیں۔

میں اکرم ناصر شیخ، شہر کی پس ماندگی ترین بستی میں مقیم ایک غریب اسکول ماسٹر، ناصر زعیم شیخ کا بیٹا ہوں اور گذشتہ دس سال سے اس پاگل خانے میں مطمئن اور مسرور زندگی گزار رہا ہوں۔ کیوں کہ یہاں سب پاگل ہیں، یہاں کوئی تقسیم نہیں!

غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی کی بےوفائی کا گھاتک وار سہنا مجھ جیسے غریب شخص کے لیے کسی طور ممکن نہیں تھا اور اس کی بے وفائی کا عقدہ بڑے ہی عجیب انداز میں کھلا۔

میں جس ادارے میں اسسٹنٹ انجینئر تھا، اس کے مالک جواد چوہدری کی بیوی صبا جواد نے مجھے اپنے شوہر کی جاسوسی کا ذمہ سونپا۔ معقول معاوضے کا لالچ دیا گیا۔ اس خوب صورت، مغرور اور اداس عورت کا خیال تھا کہ اس کا شوہر اسے دھوکا دے رہا۔

اور وہ صحیح تھی۔۔۔ امیر زادہ واقعی اپنی پرکشش بیوی کو دھوکا دے رہا تھا۔ وہ اکثر و بیش تر، لنچ ٹائم میں شہر کی ایک پس ماندہ بستی کا رخ کرتا تھا۔

ایک دن میں نے اس کی ایئرکنڈیشنڈ کار کے پیچھے اپنی موٹرسائیکل ڈالی دی اور اس کے تعاقب میں مَیں اس سڑک سے گزرا، جس سے میں روز ہی گزرتا تھا۔ اس سگنل پر رکا، جس پر میں روز ہی رکتا تھا۔ اس محلے میں داخل ہوا، جس میں روز ہی داخل ہوتا تھا۔ کیچڑ سے بھری اس گلی کا منہ دیکھا، جسے میں روز ہی دیکھتا تھا اور پھر اس گھر میں داخل ہوا، جس میں روز ہی داخل ہوتا تھا۔ اس بیڈ روم تک گیا، جس تک میں روز ہی جاتا تھا، مگر۔۔۔، میں اپنے بیڈ تک نہیں جا سکا۔

اس دوپہر وہاں کوئی اور تھا!

اس رات میں نے اپنی شریف معلوم ہونے والی بے وفا بیوی، یعنی فوزیہ کا گلا گھونٹ دیا اورصبا جواد کو اس کے شوہر کے کالے کرتوت کی اطلاع دینے کے بہانے میں اس کے بنگلے میں داخل ہوا اور ایک تاریک گوشے میں چاقو کے وار سے اس عورت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پے درپے واروں سے اس کا مہنگا لباس تار تار ہو گیا۔ اس کا دودھ سا سفید بدن برہنہ ہو گیا اور مجھ میں ایک خواہش جاگی۔۔۔ مگر میں نے خود کو چاقو کے پے درپے واروں تک محدود رکھا۔

جب میرا باس، یعنی امیر زادہ، یعنی جواد چوہدری۔۔۔ بنگلے میں داخل ہوا، میں نے اس کی بیوی کے خون سے سَنا چاقو اس کے سینے میں اتار دیا۔

موت کی سزا یقینی تھی، لیکن خوش قسمتی سے اس واقعے نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میں جزوی طور پر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور خوش قسمتی سے جو معالج میری ذہنی صحت کے جانچ کے لیے مقرر کیا گیا تھا، اسے میری دکھ بھری کہانی بہت پراثر لگی۔ اسے شک تھا کہ اس کی شریف معلوم ہونے والی بیوی بھی اس سے بے وفائی کر رہی ہے۔

اور یوں میں ’’پاگل خانہ‘‘ نامی محفوظ پناہ گاہ میں پہنچ گیا۔

تو یہ میری کہانی ہے، جو اس کہانی میں، جو میں نے لکھی،جسے تبدیل کیا، پیوست ہے۔

***

سورج غروب ہو چکا ہے۔ روشنی تیزی سے گھٹ رہی ہے، پر مجھے پروا نہیں کہ میں کہانی مکمل کر چکا ہوں۔ میں نے دس سال پرانے مسودے کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے بعد خستہ حال صندوق میں رکھ دیا ہے، تاکہ دس سال بعد اس کہانی کو پھر نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دوبارہ لکھ سکوں۔

اس کی روح کو چھیڑے بغیر۔۔۔

مصنف:اقبال خورشید

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here