نرناری

0
126
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ مدن سندری کے بھائی اور پتی کے تن سے جدا سر مندر کے آنگن میں پڑے ہیں۔ مدن سندری دیوی سے وردان مانگتی ہے اور غفلت سے بھائی کا سر پتی کے دھڑ سے اور پتی کا سر بھائی کے دھڑ پر لگا دیتی ہے۔ رات کو بستر میں مدن سندری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ہاتھ جو اسکے جسم کا طواف کر رہے ہیں یہ اسکے پتی کے نہیں ہیں۔ اس کا پتی بار بار اسے سمجھاتا ہے کہ وہ ہی اس کا پتی ہے، لیکن مدن سندری کی دبدھا ختم نہیں ہوتی۔ اپنی اس دبدھا کے حل کے لیے وہ اپنے پتی کے ساتھ ایک رشی کے پاس جاتی ہے۔ رشی اس کی سمسیا کو سن کر کہتا ہے کہ ہر چیز کی پہچان اس کے مستک سے ہوتی ہے اور انسان کی بھی پہچان اسکے مستک سے ہے۔ دھڑ کے بدلنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، تم لوگ صرف نر اور ناری ہو، جاؤ عیش کرو۔‘‘

مدن سندری کتنی خوش تھی کہ دیوی نے اس کی سن لی، نہیں تو بھیا اور پتی دونوں ہی کو وہ کھو بیٹھی تھی۔ بھیا جب سدھارنے لگا تو اس کی خوب بلائیں لیں۔ گوپی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، دعا دی، دعالی، اور چلا گیا۔

گوپی کے چلے جانے کے بعد بھی مدن سندری دیوی کے گن گاتی رہی، دھا ول اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ دونوں نے مل کر دیوی کی اس آن بان کو یاد کیا کہ برہما وشنو اور اندر سب اس کی سیوا میں لگے رہتے ہیں او ر وہ بھی اپنے بھگتوں پر کتنی کرپا کرتی ہے کہ جب کسی بھگت پہ بپتا پڑتی ہے تو وہ ترت وہاں پہنچ کر اسے سنکٹ سے نکالتی ہے۔

بس انہیں باتوں میں دن بیت گیا۔ رات ہوئی اور دن بھر کی تھکی ہاری مدن سندری سونے کے لئے دھاول کے سنگ آ لیٹی۔ آج اس کی بانہوں میں سکھ نہ ملا۔ وہ بدن آج اسے انجانا لگ رہا تھا۔ وہ حیران کہ آج اس کے بدن کو کیا ہو گیا۔ اس بدن کو تو اس کا بدن خوب پہچانتا تھا۔ جب دونوں بدن ملتے تو کیسے گھل مل جاتے جیسے جنم جنم سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور وہ ہاتھ کیسی جانکاری کے ساتھ اس گورے گرم بدن کے بیچ یاترا کرتا جیسے اس کے سب بھیدوں کو اس نے بوجھا ہوا ہے اور اس بجلی بھرے ہاتھ کو چھو جانے سے انگ انگ میں ایک لہر دوڑ جاتی اور پورا بدن جاگ جاتا۔ پر آج ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بدن ایک دوسرے کو جانتے ہی نہ ہوں اور وہ ہاتھ جیسے پہلی مرتبہ اس بدن کے بیچ اترا ہو۔ مدن سندری وسوسے میں پڑ گئی۔ کیا یہ وہی بدن نہیں جس سے روز رات کو لگ کر وہ سویا کرتی تھی۔ پھر اتنا انجانا پن کیوں۔ اپنے وسوسے سے وہ بہت لڑی۔ اپنے آپ کو دیر تک روکتی رہی۔ پر ایک دفعہ بے قابو ہو کر بول پڑی، ’’یہ تو نہیں ہے۔‘‘ اور اس کی بانہوں سے نکل،اٹھ بیٹھی۔

دھاول حیران کہ مدن سندری کو کیا ہو گیا۔ ’’ کیا کہہ رہی ہے تو، یہ میں نہیں ہوں۔‘‘

- Advertisement -

’’نہیں،یہ تو نہیں ہے‘‘، زبان ایک دفعہ کھلی تو بس کھل گئی۔

’’سندری ہوش کی دوالے۔ میں اگر میں نہیں ہوں تو پھر کون ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے دھاول اٹھا۔ چراغ ہاتھ میں لے مدن سندری کے پاس بیٹھا اور بولا، ’’لے دیکھ لے۔ بول یہ میں نہیں ہوں۔‘‘

مدن سندری نے چراغ کی روشنی میں پتی کو دیکھا اور ایسے بولی جیسے اپنے کہے پر شرمندہ ہو۔ ’’ہاں ہے تو یہ تو ہی۔‘‘

’’اچھی طرح دیکھ۔ پھر بعد میں کسی سندیہہ میں پڑ جائے۔ تو خوب دیکھ لے۔‘‘ دھاول بھی اب اسے زچ کرنے پر اترا ہوا تھا۔

وہ زچ ہو گئی، ’’ہاں تو ہی ہے۔‘‘ پر یہ کہتے کہتے اس کی نظر دھاول کے ہاتھوں پر جا پڑی۔ چونک کر بولی، ’’پر یہ ہاتھ؟‘‘

’’ان ہاتھوں کو کیا ہوا؟‘‘

مدن سندری نے دھاول کی بات ان سنی کی۔ ان بانہوں کو تکتی رہی۔ ’’دھاول یہ ہاتھ تیرے نہیں ہیں۔‘‘

’’پھر کس کے ہیں؟‘‘ اس نے جل کر کہا۔

پھر کس کے ہیں، یہی تو وہ سوچ رہی تھی، یہ ہاتھ انجانے تو نہیں ہیں۔ مگر دھاول کے بھی نہیں ہیں۔ پھر کس کے ہیں۔ اسی آن ایک دم سے گوپی کا سراپا اس کی نظروں کے سامنے آ گیا۔ ’’گوپی کے ہاتھ؟‘‘ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا او ر وہ سناٹے میں آ گئی۔ اسے سب کچھ یاد آ گیا تھا۔ پھر تو اس کا وہ حال ہو اکہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔ گم سم ہو گئی۔ بولی تو ایسے، جیسے جرم کو قبول رہی ہو۔ ’’سوامی مجھ سے ایک چوک ہو گئی۔‘‘

’’چوک؟ کیسی چوک؟‘‘

’’بھاری چوک ہو گئی۔‘‘ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔

’’پتہ تو چلے کیا چوک ہو گئی؟‘‘

’’سر دھڑکا گھپلا ہو گیا۔‘‘

’’سر دھڑ کا گھپلا؟‘‘ وہ بہت چکرایا۔ ’’اری بھاگوان آج تو کیسی بہکی بہکی باتیں کر ہی ہے۔‘‘

وہ رو پڑی، ’’سوامی، تم مجھے بھاگوان کہتے ہو۔ مجھ سے بڑھ کر در بھاگ کس کے ہوں گے۔ ایک سنکٹ سے نکلی تو دوسرے سنکٹ میں پڑ گئی۔ پھوٹ جائیں یہ نین جنہوں نے پہلے دھرم پتی اور بھیا پیارے کے سر دھڑ کو جدا دیکھا اور اب سر دھڑکا گھپلا دیکھ رہے ہیں اور ٹوٹ جائیں یہ ہاتھ جن سے گھپلا ہوا۔‘‘

دھاول چکرا سا گیا۔ سوچ میں پڑ گیا کہ کہیں مدن سندری کا دماغ چل بچل تو نہیں ہو گیا۔ بولا، ’’اری سر تو میرا کٹا تھا پر مجھے لگتا ہے کہ سر تیر ا پھر گیا ہے۔ سیدھی بات کر نہیں تو میں سمجھوں گا کہ سچ مچ تیری مت ماری گئی ہے۔‘‘

’’ہاں میری مت ہی تو ماری گئی تھی۔ ہوا یہ کہ۔۔۔‘‘ او ریہ کہتے کہتے وہ سارا منظر اس کی آنکھوں میں پھر گیا۔ مندر کی انگنائی میں دیوی کی مورتی کے سامنے گوپی اور دھاول خون میں لت پت پڑے ہوئے اس طرح کہ دونوں کے سر الگ دھڑ الگ اس کی سدھ بدھ جاتی رہی۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ہوا کیا۔ کیسے ہوا۔ منہ پیٹنے لگی بال نوچنے لگی۔ دم بھر میں آنسوؤں کی گنگا بہہ گئی۔ روتے روتے سامنے جو نظر گئی تو دیکھا کہ خون میں سنی تلوار پڑی ہے۔ خون میں سنی اس تلوار کو دیکھ کر اس کے دماغ میں کچھ اور ہی سمائی۔ یہ میرے دربھاگیہ ہیں کہ سوامی اور بھیا دونوں جان سے گئے۔ میں ابھاگن اب جی کے کیا کروں گی۔ جس کھانڈے نے ان کا کام تمام کیا ہے، کیوں نہ اسی کھانڈے سے میں اپنا سرکاٹوں اور ان پہ واردوں، یہ سوچ کر اس نے وہ خون میں سنی تلوار اٹھائی اپنی گردن پہ مارنے لگی تھی کہ دیوی کی مورتی سے آواز آئی، ’’ناری کھانڈ پھینک دے تو سچی استری اور پکی بہن نکلی۔ میں تجھ سے پرسن ہوئی۔ سو میں نے تیرے پتی اور بھیا کو جی دان دیا، تو ایسا کر کہ منڈکو، رنڈ سے ملا۔ دونوں جی اٹھیں گے۔ ’’ یہ آواز سن کے اس کے تو خوشی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ بس اسی میں گڑ بڑا گئی۔ مت پہلے غم سے ماری گئی تھی، اب خوشی سے ماری گئی۔ ’’سوامی، میری مت سچ مچ ماری گئی تھی۔ ایسی گڑ بڑائی کہ بھیا کہ دھڑپہ تمہارا مستک لٹکا دیا۔ تمہارے دھڑ سے بھیا کا مستک چپکا دیا۔ پھر جو مجھے سدھ آئی تو میں نے سر پیٹ لیا کہ یہ میں نے کیا کیا۔ غلط کو صحیح کرنے لگی تھی پر جو ہونے والی بات ہو، ہو کر رہتی ہے۔ میں سر دھڑ کو پھر سے جوڑنے کے لئے اٹھی ہی تھی کہ تم دونوں جی اٹھے اور مروں کو جیتا دیکھ کر میں خوشی سے ایسی باؤلی ہوئی کہ یہ بات ہی میں بھول گئی۔ اب یاد آیا ہے تو گڑ بڑائی ہوئی ہوں کہ یہ تو بھیا اور پتی کا گھال میل ہو گیا۔‘‘

دھاول نے بات کو ہنسی میں اڑانا چاہا، ’’چل یہ تو اچھا ہی ہوا کہ بھیا اور پتی کا گھا ل میل ہو گیا۔‘‘

وہ تڑپ کے بولی، ’’پر مجھے یہ چنتا کھائے جا رہی ہے کہ اب میں بہن کس کی ہوں اور پتنی کس کی ہوں۔‘‘

یہ بات سن کر دھاول تھوڑا گڑ بڑا گیا۔ اب اسے سوچنا پڑا۔ مگر جلدی ہی اس نے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دیا۔ بولا، ’’اری یہ فیصلہ کرنا کون سی مشکل بات ہے۔ ندیوں میں اتّم گنگا ندی ہے، پربتوں میں اتّم سمیر و پربت، انگوں میں اتّم مستک۔ دھڑکا کیا ہے وہ تو سب ایک سمان ہوتے ہیں۔ مانو تو اپنے مستک سے پہچانا جاتا ہے۔ سو تو دھڑ پرمت جا۔ مستک کو دیکھ کہ وہ میرا ہے۔‘‘

مدن سندری قائل ہو گئی۔ دل میں کہا کہ دھاول ٹھیک کہتا ہے۔ دھڑ کے نہ آنکھ کان ہوتے ہیں، نہ ناک نہ منہ، کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو بس دھڑ ہوتا ہے۔ اس نے دھاول کے مستک کو دیکھا اور سب کچھ بھول گئی۔

وہ دونوں اس دوری کے بعد جیسے بہت پاس پاس آگئے ہوں۔ ایسے ملے جیسے ایک دوسرے میں گھل جائیں گے۔ پر جب وہ ہاتھ بدن پہ آیا تو جانے کیا ہوا کہ وہ پھر بھڑک گئی۔ بانہوں سے تڑپ کر نکل گئی۔

’’سندری، اب تجھے کیا ہوا؟‘‘

’’لجا آ رہی ہے۔‘‘

’’کس سے؟ اپنے پتی سے؟‘‘

’’نہیں، پتی سے نہیں۔‘‘

’’پھر کس سے؟‘‘

رکتے رکتے بولی، ’’دھڑ سے۔‘‘

’’ہے میری دھرم پتنی‘‘، وہ پریشان ہو کر بولا۔ ’’کیا تو پھر میرا سر اور دھڑ الگ الگ دیکھنا چاہتی ہے۔ جان لے کہ جس کا سر اس کا دھڑ۔ سوسر بھی میں ہوں، دھڑ بھی میں ہوں۔‘‘

جب دھاول نے سر اور دھڑ کے الگ الگ ہونے کی بات کی تو مدن سندی بہت دکھی ہوئی، ایک بار اس کی آنکھوں میں وہ منظر پھر گیا کہ دھڑ الگ سر الگ۔ ’’نہیں نہیں، ایسی بات منہ سے مت نکالو‘‘، اس نے تڑپ کر کہا۔ پھر اس نے من ہی من میں طے کر لیا کہ اب وہ اس سر اور اس دھڑ کو ایک جانے گی۔

مدن سندری نے تو طے کر لیا کہ اب وہ وہ اس سر اور اس دھڑ کو ایک جانے گی۔ پر یہ کچھ کہنے کے بعد دھاول دبدا میں پڑ گیا۔ اپنے انگ انگ کو دیکھا، ایک بار، دوبار، باربار، ہے رام کیا یہ میں ہی ہوں۔ پھر وہم کی ایک اور لہر اٹھی۔ ایک میں ہی ہوں یا کوئی دوسرا مجھ میں آن جڑا ہے میں دوسرے میں جا جڑا ہوں۔ تو میں اب سارا، میں نہیں ہوں۔ تھوڑا میں تھوڑا وہ۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ نہیں۔ اس نے کہ وہم میں بہہ چلا تھا اپنے آپ کو تھاما، نہیں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ تو انہونی بات ہے۔ مدن سندری نے کہا اور تو نے مان لیا۔ خیر، مدن سندری کی بات تو یہ ہے کہ اس بے چاری نے اپنے دو پیاروں کے سر اور دھڑ الگ الگ پڑے دیکھے۔ اس سے اس کا دماغ چل بچل ہو گیا ہے پر مورکھ تجھے کیا ہوا کہ انہونی کو ہونی سمجھ بیٹھا۔ یوں دل ہی دل میں اپنے آپ کو روک ٹوک کر ایک دفعہ تو وہ سنبھل گیا۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں اسے خیال آیا کہ انہونی بات تو یہ بھی ہے کہ آدمی کا سر اور دھڑ الگ الگ ہو جائیں پھر کوئی دوسرا انہیں جوڑ دے اور آدمی پھر اٹھ کھڑا ہو۔ ہاں یہ تو بالکل انہونی بات ہے۔ جی اٹھنے کے بعد اب پہلی مرتبہ اسے اس انہونی کا خیال آیا۔ اب تک تو اس نے اس بات پہ دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ ایسے اٹھ کھڑا ہوا اور مندر سے ایسی سادگی سے نکل آیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اب اسے اس بات کا دھیان آیا اور وہ حیران رہ گیا۔ اپنے آپ سے بولا کہ میں نے تو اپنے کو ایسا کھانڈا مارا تھا کہ سر بھٹے کی طرح اڑ کر دور جا پڑا تھا۔ گردن سے وہ چپکا کیسے اور مجھ میں سانس دوبارہ آیا کیسے اور پھر میں ایسے اٹھ کھڑا ہوا جیسے آدمی گر پڑے اور کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہو۔ کتنے اچرج کی بات ہے۔ اور وہ اتنا حیران ہوا کہ سکتہ میں آ گیا مگر پھر اس نے سوچا کہ مدن سندری نے آخر دیوی سے بنتی کی تھی اور دیوی میں بڑی شکتی ہے۔ انہونی کو ہونی کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ یہ سوچتے سوچتے اس نے سوچا کہ اگر ایک کرتب ہو سکتا ہے تو دوسرا کرتب بھی ہو سکتا ہے۔ اس دوسرے کرتب پر بھی اب اسے حیرانی ہوئی۔ پہلے وہ بات کو ہنسی میں اڑاتا رہا، پھر دبدا میں پڑ گیا۔ پر اب وہ حیران ہو رہا تھا کہ اچھا مجھ میں دوسرے کا دھڑ جڑ گیا۔ پر کیسے؟ اپنے آپ سے بولا کہ میری تو عقل حیران ہے کہ ایسا ہوا کیسے۔ پرمدن سندری کہتی ہے کہ ایسا ہوا۔ اور وہ سنی تھوڑا ہی کہتی ہے، آنکھوں دیکھی، خود اپنے ہاتھ سے کی ہوئی کہتی ہے۔ دونوں کرتب اسی کے ہاتھ سے ہوئے، ایک کرتب دیوی کی دیا سے، دوسرا اپنی بھول چوک سے۔ اس کے بھید وہی جانے۔ جو ہونی ہوتی ہے وہ ہو کر رہتی ہے چاہے انہونی ہو۔ کتنی انہونی بات ہے پر اب یہ ہے کہ میرا شریر میرا نہیں ہے۔ مستک میرا ہے، باقی سب کچھ دوسرے کا۔ کتنے اچرج کی بات ہے۔ حیران حیران اس نے پھر اپنے تن پہ نظر ڈالی۔ ایک بار، دوبار، بار بار۔ ہربار اس نے اپنے انگ انگ کو دیکھا اور حیران ہو اکہ اچھا یہ کسی اور کے ہیں جو مجھ میں آن جڑے ہیں۔

دھاول کتنی دیر تک اس انہونی پر حیران رہا۔ پھر حیرانی کم ہوتی چلی گئی۔ دکھ بڑھتا چلا گیا۔ وہ یہ سوچ کر کتنا دکھی ہوا کہ اس کا آپا سارا اس کا نہیں ہے۔ دکھی ہو کر پھر اس نے اپنے آپے پر نظر ڈالی ایک بار، دوبار، بار بار۔ اور اب اسے احساس ہوا کہ گردن سے نیچے تو بہت کچھ تھا۔ ایک رنگا رنگ دنیا، ایک پوری کائنات کہ اس کے پاس نے نکل گئی، کتنا کچھ تھا کہ کھویا گیا۔ اس نے ٹھنڈا سانس بھرا اور دل میں کہا، میں تو اب تنک ہی سا رہ گیا ہوں، باقی تو کوئی دوسرا ہی ہے، میرا لے دے کے ایک مستک، باقی تو یہ سب انگ پرائے ہیں۔ ڈیل ڈول اتنا، پر میں کتنا۔ لگتا ہے کہ ہوں ہی نہیں۔ اور جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ پھر دبدا میں پڑ گیا کہ اگر میں نہیں ہوں تو یہ میرے بیچ کون سمایا ہوا ہے۔

رات پڑے جب مدن سندری اس کے پاس آئی اور انگ لگی تو وہ بڑ بڑایا، ’’سندری پرے رہ۔ یہ میں نہیں ہوں۔‘‘

مدن سندری کچھ حیران کچھ پریشان کچھ کھسیائی کہ اسے دھاول نے ٹھکرا دیا۔ پھر سنبھلی اور بولی، ’’سوامی، تمہارا اس سے مطلب کیا ہے۔ تم کیسے نہیں ہو۔‘‘

وہ دکھ سے بولا، ’’سندری، سر دھڑکے گھپلے کے بعد میں رہ ہی کتنا گیا ہوں۔ لگتا ہے کہ میں ہوں ہی نہیں۔‘‘

’’نہیں سوامی، تم ہو۔‘‘

’’بھاگوان میں کہاں ہوں۔ میں تو بس مستک تک ہوں۔ مستک سے نیچے نیچے تو سارا تیرا گوپ؟‘‘ مدن سندری نے بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا اور اتنی سختی سے رکھا کہ اس کا سانس رکنے لگا۔

دیر تک دونوں چپ رہے۔ دونوں ہی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ دیر بعد مدن سندری نے زبان کھولی۔ ’’سوامی تم نے مجھے بتایا اور میں نے جانا کہ ندیوں میں اتّم گنگا ندی ہے۔ پربتوں میں اتّم سمیر و پربت، انگوں میں اتّم مستک۔ دھڑکا کیا ہے وہ تو سب ایک سمان ہوتے ہیں۔ مانو مستک سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ جس کا سراس کا دھڑ۔ سو میں نے تمہارا مستک دیکھا اور چوٹی سے ایڑی تک تمہیں ایک جانا اور اپنا سوامی سمجھا۔ پرتم مجھے بات بتا کر خود اس سے پھر رہے ہو۔‘‘

دھاول بہت کھسیانا ہوا۔ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا، دل میں کہا مدن سندری سچ کہتی ہے۔ میں نے ہی تو اسے یہ بات بتائی تھی۔ اسے بتاکر میں خود بھول گیا۔ تو چلو اب اس نے یاد دلا دیا۔ انگوں میں اتّم تو مستک ہی ہے۔ چونکہ یہ مستک میرا ہے، سو مستک تلے جتنا کچھ ہے وہ بھی میرا ہے۔ چوٹی سے ایڑی تک میں ہی میں ہوں۔ کوئی دوسرا میرے بیچ نہیں ہے۔

دھاول اپنے کہے کو زیادہ دن نہیں نبھا سکا۔ زبان سے لاکھ کچھ کہتا، اندر تو چور بیٹھا ہوا تھا۔ بس ایک پھانس سی چبھتی رہتی کہ یہ تن کسی اور کا ہے۔ سر اپنا، دھڑ پرایا، کیسا انمل بے جوڑ بات ہے۔ اور اسے اپنا پور او جود انمل بے جوڑ دکھائی پڑتا۔ جب رات پڑے مدن سندری اس کے سنگ آرام کرتی تو وہ دبدا میں پڑ جاتا کہ وہ تن کس تن سے مل رہا ہے۔ کتنی بار اس کے جی میں آئی کہ اس پورے دھڑکو اپنے آپ سے توڑ کر کاندھے پہ لاد کے لے جائے اور گوپی کے سر پہ دے مارے کہ لے اپنا دھڑ، میرا دھڑ مجھے دے۔ پر وہ دھڑ تو اس کے ساتھ جڑ چکا تھا۔ اسے الگ کرنے کی ترکیب اس کی سمجھ میں نہ آتی۔ پر پھر بھی اسے کبھی کبھی یوں لگتا کہ جیسے اس کا سر الگ پڑا ہے، اور دھڑ الگ پڑا ہے اور اسے وہ راجکماری یاد آجاتی جو ایک دشٹ راکشش کی قید میں تھی۔ روز راکشش صبح ہونے پر سرہانے کی چھڑیاں پائنتی رکھتا، پائنتی کی چھڑیاں سرہانے رکھتا۔ پھر راجکماری کی گردن مارتا اور اس کا سر چھینکے پہ رکھ باہر نکل جاتا۔ دن بھر راجکماری کا دھڑ مسہری پہ پڑا رہتا، سر چھینکے پہ رکھا رہتا۔ اس سے بوند بوند خون ٹپکتا رہتا۔ شام پڑے راکشس چلاتا دھاڑتا آتا، پائنتی کی چھڑیاں سرہانے رکھتا، سرہانے کی چھڑیاں پائنتی رکھتا۔ چھینکے سے سر اتار کر دھڑ سے جوڑتا اور راجکماری جی اٹھتی۔ راجکماری کتنے دکھ میں تھی کہ روز صبح کو اس کا سر دھڑ سے کاٹا جاتا، روز شام کو سر دھڑ سے جوڑا جاتا۔ پر وہ سوچتا کہ راجکماری کو ایک سکھ تو تھا کہ سر بھی اپنا تھا اور دھڑ بھی اپنا تھا۔

جوں جوں دن گزرے دھاول کا دکھ بڑھتا گیا۔ مدن سندری نے تو یہ سوچا تھا کہ کچھ دن گزر جائیں تو بات آئی گئی ہو جائے گی اور بھولی بسری کہانی بن جائے گی۔ مگر ہوا یہ کہ جتنے دن گزرتے گئے اتنی ہی دھاول کی دبدا بڑھتی گئی۔ مدن سندری کو دیکھ کے وہ کچھ زیادہ ہی دبدا میں پڑ جاتا۔ مدن سندری کو دیکھتا اور سوچتا کہ سندری پوری پر میں آدھا ہوں۔ آدھے سے بھی کم اور جس دھڑ کے ساتھ میں پورا بنتا ہوں وہ میرا نہیں دوسرے کا ہے اور وہ سوچ میں پڑ جاتا کہ دوسرے کو جوڑ سے پورا بن کر وہ کیا بنتا ہے اور کون بنتا ہے۔ اور مدن سندری اس کی کون بنی۔ پھر اس سوال نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس دھڑ کے ساتھ میں کون ہوں۔ مدن سندری اور اس کے بیچ جو رشتہ تھا اس میں سر دھڑ کے گھپلے سے کچھ گتھی سی پڑ گئی تھی۔ سر دھڑ کے رشتے میں گتھی پڑی ہوئی تھی کہ یہ ایک دوسری گتھی پڑ گئی۔

کتنے دن بیت گئے اور دھاول سے کوئی گتھی نہ سلجھی۔ آخر کو وہ مدن سندری کو ساتھ لے نگر سے نکل پڑا۔ جنگلوں کی خاک چھانتا پھرا۔ چلتے چلتے اس جنگل میں پہنچا جہاں دیوا نند رشی باس کرتے تھے ان کے چرن چھوئے اور بنتی کی کہ ’’مہاراج تم مہا گیانی ہو۔ سرشٹی کے کتنے بھید تم نے پائے، جیون کی کتنی گتھیاں سلجھائیں ایک گتھی میری بھی سلجھادو۔‘‘

دیوانند رشی نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ پھر بولے، ’’بچہ، کیا گتھی لے کے آیا ہے؟‘‘

’’ہے گیانی! گتھی یہ ہے کہ میں کون ہوں اور مدن سندری کون ہے‘‘، اور پھر دھاول نے اپنی ساری رام کہانی کہہ سنائی۔

رشی جی نے دھاول کو گھور کے دیکھا۔ بولے، ’’مورکھ کس دبدا میں پڑ گیا۔ سو باتوں کی ایک بات تو نر ہے، مدن سندری ناری ہے۔ جا اپنا کام کر۔‘‘

جیسے دھاول کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا کہ ایک دم سے اٹھ گیا۔ رشی جی کے چرن چھوئے اور مدن سندری کا ہاتھ پکڑ واپس ہو لیا۔

آنکھوں سے پردہ اٹھ چکا تھا۔ بیچ جنگل سے گزرتے گزرتے دھاول نے مدن سندری کو ایسے دیکھا جیسے جگوں پہلے پر جاپتی نے اوشا کو دیکھا تھا اور مدن سندری دھاول کی ان لالسا بھری نظروں کو دیکھ کر ایسے بھڑکی جیسے اوشا، پرجاپتی کی آنکھوں میں لالسا دیکھ کے بھڑ کی تھی کہ بھڑک کر بھاگی پھر پسپا ہوئی۔

مأخذ : گنی چنی کہانیاں

مصنف:انتظار حسین

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here