بھول بھلیاں

0
217
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

’’لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ۔ کویک مارچ!‘‘ اڑا اڑادھم! فوج کی فوج کرسیوں اور میزوں کی خندق اور کھائیوں میں دب گئی اور غل پڑا۔

’’کیا اندھیر ہے۔ ساری کرسیوں کا چورا کیے دیتے ہیں۔ بیٹی رفیعہ ذرا ماریو تو ان مارے پیٹوں کو۔‘‘ چچی ننھی کو دودھ پلارہی تھیں۔ میرا ہنسی کےمارے براحال ہوگیا۔ بمشکل مجروحین کو کھینچ کھانچ نکالا۔ فوج کا کپتان تو بالکل چوہے کی طرح ایک آرام کرسی اور دو اسٹولوں کے بیچ میں پچا پڑا تھا۔

’’آں۔۔۔ آں صلو بھیا نے کہا تھا فوج فوج کھیل،‘‘ رشید اپنی کاغذ کی ٹوپی سیدھی کرنے لگے اور منو اپنے چھلے ہوئے گھٹنے کو ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے گھور گھور کر بسور رہے تھے۔ اچھن، چچا جان کے کوٹ میں سے باہر نکلنے کے لیے پھڑپھڑا رہے تھے اور ان کا مفلر بری طرح پھانسی لگا رہا تھا مگر کپتان صاحب ویسے ہی ڈٹے کھڑے تھے۔

’’یہ کیا ہو رہا تھا؟‘‘ میں نےکپتان صاحب کی سیاہی سے بنی ہوئی مونچھوں کو دیکھ کر کہا۔

’’صلاح الدین اعظم رچرڈ شیردل پر چڑھائی کر رہا تھا۔ منو کو ہنسی آگئی اور وہ لیٹ گیا۔ پھر کالی کرسی کھسک گئی اور بس،‘‘ کپتان صاحب نہایت احتیاط سے مونچھیں تھپکتے ہوئے بولے۔

- Advertisement -

’’اچھا۔ اور یہ اچھن۔‘‘

’’یہی تو رچرڈ ہیں اور کیا، شیردل، یہ مفلر دیکھو ان کا، یہ شیر دل کے بال ہیں۔‘‘

’’اور جناب؟‘‘ میں نے چار فٹ کے کپتان کو نظروں سے ناپا۔

’’ہم صلاح الدین اعظم،‘‘ وہ اکڑتے ہوئے چلے۔

’’اور بھئی یہ میرا کوٹ اتار دو سیاہی لگ گئی تو خدا کی قسم ٹھوکوں گی۔‘‘

’’اوہو آپ کا کوٹ۔ بات یہ ہے کہ اس کے بالوں دار کالر کو۔۔۔ تو لیجیے نا اپنا کوٹ۔‘‘

’’رفو باجی، ذرا یہ سوال بتا دیجیے،‘‘ صلو اپنی سلیٹ میری ناک کے پاس اڑا کر بولے۔

’’نابھئی میں اس وقت سی رہی ہوں ذرا۔‘‘

’’پھر ہم آپ کو سینے بھی نہیں دیتے۔‘‘ صلو نے میرے پیروں میں گدگدیاں کرنا شروع کیں۔

میں نے پیر سمیٹ لیے تو وہ میری کمر میں سر اڑا کر لیٹ گیا اور بکنا شروع کیا، ’’پھٹ جائے اللہ کرے۔ جھر جھڑ ہوجائے یہ کرتا۔ سوال تو بتاتی نہیں لیکن کفن سیئے جارہی ہیں اپنا۔‘‘

’’چل یہاں سے پاجی ورنہ سوئی اتار دوں گی۔‘‘ اور وہ وہاں سے ہٹکر میری البم الٹ پلٹ کرنےلگا۔

’’یہ کون ہیں چڑیل جیسی۔۔۔ کالی مائی۔۔۔ اور یہ۔۔۔ یہ۔۔۔‘‘

’’صلو بھیا رکھ دے میری چیزیں۔‘‘ میں نے سوچا جن ہے یہ تو۔

’’تو پھر سوال بتاؤ،‘‘ اور وہ میرے پاس گھس کر بیٹھ گیا۔

’’ارے ذرا ہٹ کر گرمی کے مارے ویسے ہی ابلے جارہے ہیں۔‘‘

’’تو میں کیا کروں،‘‘ اور وہ مجھ سے اور لپٹا۔

’’میری باجی کیسی۔۔۔ ہاں گڑیا ذرا بتادو پھر سوال۔‘‘

مجبوراً میں نے سوال کرنا شروع کیا۔

’’اب یہ سوال سمجھ رہا ہے یا میرے بندوں کا معائنہ ہو رہاہے۔‘‘ اور وہ جلدی سے سلیٹ پر جھک گیا۔ میں بتارہی تھی اور وہ بیوقوفوں کی طرح میرا منہ دیکھ رہا تھا۔

’’اونہہ‘‘ میں چڑگئی۔ ’’پڑھ رہے ہو یا منہ تکنے آئے ہو، صلو دق نہ کرو۔ ورنہ چچی جان سے کہہ دوں گی۔‘‘

’’آپ کی تصویر بنا رہا ہوں۔ یہ دیکھیے آپ کے ہونٹ بولنے میں ایسے ہلتے ہیں جیسے۔۔۔ جیسے پتہ نہیں کیا۔ بس ہلتے رہتے ہیں۔۔۔‘‘ شرارت سے آنکھیں مٹکائیں۔

’’بھاگ یہاں سے الو۔‘‘ میں نے سلیٹ دور پھینک دی۔ وہ بڑبڑاتا ہوا الگ بیٹھ گیا اور میں اٹھ کر برآمدے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد دیکھتی ہوں کہ چلے آرہے ہیں اپنا بستر بوریا سنبھالے۔ یا اللہ خیر!

’’کیوں تم پھر آگئے یہاں۔‘‘

’’اور کیا۔ وہاں دل جو گھبراتا تھا۔‘‘ اور وہ میرے پاس بیٹھنے لگا۔

’’صلو! اگر تم مانو گے نہیں تو۔۔۔‘‘

’’تو۔۔۔ تو۔۔۔ ای۔۔۔‘‘ اس نے منہ چڑایا۔ ’’ہم تمہارے پاس بیٹھتے ہیں تو اچھا پڑھا جاتا ہے۔‘‘

’’اچھا تو چپکے بیٹھو۔‘‘

صلاح الدین میرے چچا کا اکلوتا سپوت تھا۔ پھوٹی آنکھ کایہی تو ایک تارا تھا۔ اتنی لڑکیاں پیدا ہوئیں کہ چچا چچی بولا گئے۔ اور پھر آپ تشریف لائے۔ جناب کی انگلی دکھے تو بکرے صدقے کیے جانے لگیں۔ منتیں مانی جائیں۔ گھر میں کوئی زور سے نہ بولے۔ جوتے اتار کر چلو۔ برتن نہ کھڑکے۔ لاڈلے کی آنکھ کھل جائے گی۔ گھر میں اسی لیے کوئی کتا نہ پلتا۔ مرغیاں نہ رکھی جاتیں کہ ننھے میاں کی کبھی نیند نہ خراب کردیں اور ہم بیچارے نہ لاڈ جانیں نہ لاڈ کریں۔ پھر بھی ماں بہنوں کا لاڈ اسے کڑوا لگنے لگتا تھا اور وہ سارے وقت مجھی سے الجھتا۔ لوگوں کے ’نان وائلنس‘ سے وہ تنگ آگیا تھا۔ یہی بات تھی کہ وہ جان جان کر مجھے چھیڑتا۔ کیونکہ میں اسے بری طرح ڈانٹ دیتی اور کبھی کبھی چپت بھی رسید کردیتی۔

لاڈلے پوت دبلے اور سوکھے تو ہوتے ہی ہیں اور اوپر سے پتلا بانس جیسا قد، اماں تو نظر بھر کے نہ دیکھیں۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں اونٹ صاحب کو نظر نہ لگ جائے اور یہاں یہ کہ جہاں لمبی لمبی ٹانگیں پھینکتے آئے اور چھیڑے گئے۔ یہ عادت سی ہوگئی تھی کہ کالج سے آئے اور اماں کو بلائیں دے کر اور داداکو نبض دکھاکر سیدھے میری جان پر نزول۔ کیا مجال جو گھڑی بھر نچلا بیٹھے یا بیٹھنے دے۔ بہنوں کو چھیڑنا کسی کے گدگدی کی، کسی کے گلےمیں جھول گئے، کسی کے کندھے میں کاٹ لیا۔ میرے پاس آئے اور میں نے تھپڑ دیا۔

گھنٹوں ماں بہنیں بیٹھ کر ارمان بھرے ذکر کیا کرتیں۔ ہردلچسپ اور پرمسرت بات صلومیاں کی شادی کے لیے اٹھاکر رکھ دی جاتی۔

’’صلو کی شادی میں بناؤں گی سب کی گوالیر کی چندیری کی ساڑھیاں اور بھئی میں تو دہلی جاکر کروں گی سہیل کی شادی۔‘‘

’’اور اماں اسے بلائیں گی لیلا ڈیسائی کو ناچ کے لیے،‘‘ ایک بہن بولی۔

’’بھئی ہم تو سہرا وغیرہ سب باندھیں گے۔ زرِبفت کی اچکن ماموں ابا جیسی اور۔۔۔‘‘

بہنوں کے لیے بھائی تھا گویا جگمگاتا ہوا ہیرا! میری اندھی آنکھوں میں جیسے اور چھ سات بھائی تھے یہ بھی ایک لڑنے جھگڑنے، تو تو میں میں کرنے اور بات بے بات رعب جمانے والی ایک ادنیٰ ہستی تھی، میں ان کے ارمان بھلے دلوں کے بھڑکتے ہوئے جذبات سے کملا جاتی۔ کاش میرے بھی اتنے بھائیوں کے بجائے ایک ہی ہوتا۔ ایک دبلا پتلا، آئے دن مریض چیختا، لڑاکو، کتنا رومنٹک ہوتا۔

’’باجی ذرا کرتے میں یہ بٹن ٹانک دو،‘‘ وہ اپنی پتلی گردن آگے بڑھاکر بولا۔ ’’چٹ پٹ ٹانکو، مجھے میچ میں جانا ہے۔۔۔‘‘ میں ناول کے ایسے حصے میں پہنچ گئی تھی جہاں ہیرو ہیروئن کے بازوؤں تک پہنچ چکا تھا۔ بھلا اس قدر غیر رومانی کام میں میرا کیا جی لگتا۔

’’رابعہ سے کہو وہ ٹانک دے گی۔‘‘

’’نہیں ہم تو تمہی سے ٹکوائیں گے۔‘‘

’’میرے پاس سوئی بھی نہیں۔‘‘

وہ دوڑ کر چچی جان کی بقچی اٹھا لایا، ’’لویہ سوئی۔‘‘

’’تاگہ پرو۔‘‘

’’لاؤ میں پرودوں،‘‘ چچی سروتہ چھوڑ کر بولیں۔

’’میں تو انہیں سے ٹکواؤں گے،‘‘ لو سوئی۔

مجھے ضد آگئی، ’’راشدہ سے ٹکواؤ۔‘‘ ہیرو آگے بڑھ رہا تھا مجھے آخری دو لائنیں پھر سے پڑھنا پڑیں۔

’’نہیں ہم تو تمہیں سے ٹکوائیں گے۔ رکھو کتاب ادھر، ورنہ پھاڑدوں گا۔‘‘

’’پھاڑی، بھاگ جاؤ نہیں ٹانکتے۔۔۔‘‘ میں نے کتاب دوسری طرف موڑ لی اسے بھی ضد آگئی۔

’’آج یا تو تم سے بٹن ٹکواؤں گا یا اپنا تمہارا خون بہادوں گا۔‘‘

’’چل ہٹ بڑا وہ ہے نا۔ بہاؤنا، بہاؤ اپنا خون۔‘‘

ہیرے کی کنی کے خون بہانے کے ارادہ ہی کو دیکھ کر بہنیں لرز گئیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ بٹن کی جگہ اپنی آنکھیں ٹانک دیتیں۔

’’صلولاؤ میں ٹانک دوں ذرا سی دیر میں،‘‘ راشدہ بولی۔

’’کہہ دیا صلاح الدین اعظم ایک جو کہہ دیتے ہیں وہ ٹلتی نہیں۔۔۔ دیکھو باجی ٹانکتی ہو یا۔۔۔‘‘

’’یا کیا؟‘‘ میں نے تیوریاں چڑھائیں۔

’’یہی کہ میچ دیکھنے نہیں جاؤں گا اور ایک لفظ کتاب کا نہیں پڑھنے دوں گا اور موقع ملنے پر کتاب پار کردوں گا۔‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔

’’اوہو۔ لو بس تو پھر پیاری سی بچو کی طرح ٹانک دو۔‘‘

میں نے بھی سوچا وبال کاٹو۔ میں نے تو بٹن ٹانکنا شروع کیا اور وہ مجھے دق کرنے لگا۔

’’دیکھو صلو میرا ہاتھ ہل جائے گا تو سوئی کلیجہ میں اتر جائے گی۔‘‘

’’اتر جانے دو،‘‘ اور اس نے پھر گدگدی کی۔

میں نے سوئی مذاق میں چبھونا چاہی۔ وہ جلدی سے ہٹا۔ دھکے سے نہ جانے کیسے سوئی کی نوک چبھ گئی خون بھی نکلا اور غضب یہ کہ نوک غائب۔ سنتے ہیں کہ سوئی کی نوک خون میں کھوجاتی ہے دل میں جاپہنچتی ہے۔ دم نکل جاتا ہے۔

’’ارے نوک،‘‘ میرے منہ سے پریشانی میں نکلا۔

’’میرے سینے میں اتر گئی اور اب خون میں چلی جائے گی۔ اور پھر۔۔۔ پھر دل میں آجائے گی لو اماں جان ہم تو چلے۔‘‘

چچی جان کو سکتہ ہوگیا مگر وہ سنبھلیں اور چیخیں۔ رابعہ چیخی اور راشدہ چیخی۔ میرا یہ حال کہ مجرم کی طرح سوئی پکڑے کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ صلاح الدین سرپکڑ کر بیٹھ گیا اور لاچاری سے گریبان ٹٹولنے لگا۔

پھر جوہلڑ مچاہے تو خدا ہی جانتا ہے کہ مجھ پر کیا کچھ گزری۔ ڈاکٹر، حکیم اور نمازیں اور میرا دل چاہے ڈوب مروں۔ آخر میں نے مذاق کیا ہی کیوں، اور وہ بھی اس کانچ کے گلاس سے۔۔۔

کیا بتاؤں کیسی پشیمانی ہو رہی تھی۔ ایکس رہے ہوا۔ سارے جسم میں سوئی ڈھونڈ ڈالی مگر خاک پتہ نہ چلا اور بھی مصیبت۔

چچی جان کے آنسو او رابعہ، راشد کا ٹہل ٹہل کر دعائیں مانگنا اور اوپر سے صلو کا اترا اترا کر مرنے کی دھمکیاں دینا۔ میرے آنسو نکل آئے۔ صلونے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔

’’اب تو چین آگیا ہے آپ کو۔‘‘ میں نے سرجھکا لیا۔

’’اچھا یہاں آئیے۔ ذرا میرے سر میں تیل تھپک دیجیے۔‘‘

بھلا اب مجھ میں ہمت کہاں تھی جو انکار کریں۔ چپ چاپ سر میں تیل ڈالنا شروع کیا۔ صلو فتح مندانہ انداز سے مجھے آنکھیں چڑھا چڑھا کر دیکھتا اور مسکراتا رہا۔

’’دیکھا میرا حکم نہ ماننے کا نتیجہ!‘‘ وہ میری انگلی میں چٹکی نوچ کر بولا۔ ’’سوئی تو میرے گریبان ہی میں رہ گئی تھی۔‘‘

غصہ کے مارے میرا خون کھول گیا۔

’’اچھا جانے دو۔ اماں جان کا ہے کو مانیں گی۔ میں نے سوئی پھینک بھی دی۔‘‘ میرے ہاتھ پھر ڈھیلے پڑگئے اور وہ اور ہنسا۔

’’اچھا پاجی تجھے بھی اس کی سزا نہ ملی تو۔۔۔خیر۔‘‘ میرا جی چاہا اس کے بال نوچ کر دور دھکیل دوں۔ ’’خدا سمجھے۔۔۔‘‘

’’مجھے تم سے کام کروانے میں مزا آتا ہے جب میں نوکر ہوجاؤں گا تو تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔‘‘

’’ہوش میں، میری جوتی رہتی ہے تیرے پاس۔‘‘

’’دیکھ لینا۔ میں تمہیں لے لوں گا۔۔۔ گود لے لوں گا۔۔۔ ہنستی کیوں ہو۔‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔

’’اور پھر تمہیں ہوائی جہاز میں بٹھاؤں گا۔ ہاآں۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں گھما کر بولا۔

میرے امتحان کے دن آگئے تھے اور میں کمرہ بند کرکے پڑھا کرتی تھی مگر صلو کہیں مانتا تھا جہاں میں پڑھنے چلی اور وہ بھی موجود ہیں۔ میں نے سنجیدگی سے منع کردیا کہ ’’اگر تم نے دق کیا تو میں بورڈنگ چلی جاؤں گی۔‘‘ پڑھنے کے خیال سے چچا میاں کے گھر رہنا پڑا تھا۔

وہ خاموش پڑھا کرتا۔ مگر گھنٹہ آدھ گھنٹہ بعد بے چینی ہونے لگتی۔

’’اب بھائی انٹرول ہوگا،‘‘ وہ کتاب بند کرکے میرے پاس آن گھستا اور دس منٹ تک وہ اودھم مچتا کہ خدا کی پناہ۔ شرارت میں اسے کاٹنے کا مرض ہوگیا تھا۔

’’بات یہ ہے کہ جی چاہتا ہے کہ تمہیں کھا جاؤں،‘‘ وہ ہنس کر دانت پیستا۔

’’خود اپنی بوٹیاں چباڈالو۔‘‘ مگر وہ بری طرح لپٹ جاتا اور باوجود دھکیلنے کے تنگ کیے جاتا۔ کبھی مجھے غصہ آجاتا لیکن عموماً اگر وہ کمرہ میں نہ ہوتا تو کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی۔ گھر کی ساری چہل پہل اسی ایک انسان کے دم سے تھی۔ بچوں کو چھیڑنا، بہنوں کو رلانا، کبھی پھر فوراً لپٹ کر پیار کرتا اور منالیتا۔

امتحان ختم ہوگئے اور گھر جانے کے خیال سے خوشی کے ساتھ ساتھ دکھ بھی ہو رہا تھا۔

’’کیوں جارہی ہو چھٹیوں میں،‘‘ وہ ایک دن بولا۔

’’واہ میری اماں بیچاری اکیلی ہیں۔‘‘

’’اکیلی! جیسے انہیں بڑی تمہاری پروا ہے۔‘‘

’’ہوں، اور نہیں تو تمہیں پروا ہوگی۔‘‘

وہ میرے پاس بیٹھ گیا۔ ’’سچ کہتا ہوں بجو۔۔۔ سچ کہتا ہوں تم نہ جاؤ۔‘‘ اس نے پیار سے میرے کندھے پر سر رکھ دیا اور اپنی سوکھی باہیں میرے گلے میں حمائل کردیں۔

’’ہٹو تو۔۔۔ خیر ہوگی تمہیں میری پروا۔ مگر اب تو جاؤں گی۔‘‘

’’مگر میں کہتا ہوں مت جاؤ،‘‘ وہ ذرا ہٹ کر بولا۔

’’بکواس مت کرو۔ جاؤ ذرا کسی کو بھیجو میرا سامان باندھ دے۔‘‘

’’اور میں کہتا ہوں تم نہیں جاسکتیں۔‘‘

’’ہنھ! بڑے لاٹ صاحب ہونا جو روک لوگے۔‘‘

’’یاد ہے وہ سوئی۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا۔

’’مکار ہو تم۔۔۔ کہیں کے۔‘‘

دوسرے دن صلو کو بخار چڑھا۔ سارے گھر پرجیسے آفت ٹوٹ پڑی۔ ذرا سا ملیریا اور یہ اودھم مگر دم مارنے کی اجازت نہ تھی۔

’’اماں جان بجو کو روک لیجیے آپ سےاکیلے تیمارداری نہ ہوسکےگی۔‘‘ جیسے سور کوبڑی تیمارداری کی ضرورت تھی۔

’’ارےمیاں بھلاوہ کیوں رکیں گی،‘‘ چچی اماں طعن سے بولیں۔ ’’میں حمیدہ کو تار دے کر بلالوں گی۔‘‘

’’نہیں اماں وہ اپنے بچے لے کر آن دھمکیں گی تو اورغل مچےگا۔ بجو تو خود رک رہی تھی۔ اسکول میں پارٹی ہے۔ دوسرے جب ہم اچھے ہوجائیں گے تو سنیما دیکھنے چلیں گے۔‘‘

’’رک جاؤ ناکیا ہرج ہے،‘‘ رابعہ نے رائے دی۔ اسے چڑیل کو کیا پتہ کہ یہ مکاری کر رہاہے۔ بخار تو اتفاق سےآگیا۔ ورنہ وہ کچھ اور فیل مچاتا۔ رکنا ہی پڑا۔

’’صلاح الدین اعظم کا حکم،‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا۔ ’’میرے مونچھیں نکل آئیں تب تمہارے اوپر اصلی رعب پڑا کرے گا۔ لواسی بات پر ذرا سی برف کچل کر تو کھلادو۔‘‘ چچی جان نےاس قدر ڈری ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا کہ میں جلدی سے تولیہ میں برف توڑنےلگی۔ کسی کالاڈلا ہو تو ہم کیوں بھگتیں مگر وہ تو بھگتنا ہی پڑا۔

’’بجو۔۔۔ بجو۔۔۔‘‘ کسی نے آہستہ سےمجھے پکارا۔

’’کیا ہے،‘‘ میں ڈرگئی۔

’’ذرا سا پانی،‘‘ صلو نے اپنے پلنگ سے ہاتھ ہلاکر کہا۔ میں جلدی سے اٹھی۔ اندھیرے میں تھرماس ٹٹول کرپانی نکالا۔

’’اماں تھکی ہوئی ہیں۔۔۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘ اس نے سرہانےمجھے بٹھالیا اور آہستہ آہستہ گلاس میں برف ہلانےلگا۔

اسے بری طرح پسینہ آرہا تھا اور ہاتھ پیر کانپ رہےتھے۔ پانی پی کر وہ میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔

’’بجو۔‘‘

’’کیا ہے۔‘‘

’’میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘

’’چچی جان کو جگاؤں۔‘‘ میں نے چاہا آرام سے اس کا سرتکیہ پر رکھ دوں۔

’’نہیں۔۔۔ہلو مت!‘‘اس نے اپنے پتلے پتلے ہاتھ میری کمر میں ڈال دیے۔ ’’دل گھبرا رہا ہے بجو،‘‘ وہ تیزی سے گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔ میں نے اپنے کوچھڑانے کی کوشش نہ کی اور اس کی پیشانی پوچھنے لگی۔ وہ اور بھی پریشان ہوگیا۔ اس نےجلدی جلدی میرا نام لے کر بڑبڑانا شروع کیا۔ سسکیاں! وہ سسکیاں بھرنے لگا۔ عجب سوکھی سوکھی اکھڑی ہوئی سانسیں۔ میں سمجھی نہ جانے کمبخت کو سرسام ہوگیا یا کیا اور اسے لٹانےکی کوشش کرنےلگی۔

’’بجو جاؤ مت۔۔۔ میں مرجاؤں گا۔‘‘ اور بری طرح بچوں کی طرح مجھ سے لپٹ گیا اور اس کی آنکھیں! وہ جیسے۔۔۔ نہ جانےآج مجھے ان آنکھوں میں کیا نظر آرہاتھا میرا دل بری طرح دھڑکنےلگا۔ وہ شوخی سے تھرکنےکےبجائے چڑھی ہوئی اور گہری تھیں۔ کچھ پاگل سی، کچھ عجیب! مجھے تھوڑی دیر کے لیے یہ معلوم ہوا گویا اندھیرے پیچ دار راستوں میں پریشان چکر لگارہی ہوں اور کوئی دروازہ نہیں۔

کوئی قریب کے پلنگ پر کلبلایا اور وہ جلدی سے چونک پڑا۔ ’’جاؤ۔۔۔ رابعہ جاگ گئی!‘‘ اس نے خوفزدہ ہوکر مجھے دور دھکیل دیا۔ ’’جاؤ جلدی،‘‘ وہ خود دوڑ کر چادر میں چھپ گیا۔

میں پریشان ہوگئی۔ یا اللہ کیا واقعی یہ پاگل ہو رہا ہے! ’’رابعہ جاگ گئی! تو کیا ہوا؟ مجھے چچی جان پر رحم آنے لگا۔ خدانخواستہ۔۔۔ خیر۔۔۔‘‘

اور اس کے بعد اس میں ایک غیر معمولی انقلاب ہوگیا۔ وہی رات والی پاگل گہری اور چڑھی ہوئی آنکھیں بغیر بخار اور ہذیان کے کچھ عجیب ہوتیں، وہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ چھیڑنے اور چرانے لگا ،مجھ سے ہروقت الجھتا اور پھر بالکل پاگل ہو جاتا۔ وہ میری تاک میں رہنےکےبہانے تراشتا۔ ہرجگہ ہر کمرے، ہرموڑ او رہر کونے پر وہ میری تاک میں مجھے ڈرانے اور گدگدانے کے لیے چھپا رہتا۔ میں اس کی ضرورت سے زیادہ توجہ سے کبھی بے طرح پریشان ہوجاتی اور کبھی مجھے وہ سب ایک الہڑ لڑکے کی شرارتیں معلوم ہوتیں اور یہ شرارتیں کس تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔

دوسال بعد جب میں رابعہ کی شادی پر آئی تو صلو کوصلاح الدین اعظم کہنا پڑا۔ افواہ ایک چھوٹاسا لچکتا ہوا کملایا سا پودا نوخیز درخت بن گیا تھا۔ خون کی حدت سے چہرہ سانولا ہوگیا تھا۔ اور پتلے سوکھے زرد ہاتھ سخت گٹھلیوں دارمضبوط شاخوں کی طرح جھلسے ہوئے بالوں سے ڈھک گئے تھے اور آنکھیں بخدا بالکل پاگل ہوگئی تھیں، پتلیاں ناچتی بھی تھیں اور ایک دم سے جم کر گہری ہوجاتیں کہ فوراً آنکھ جھپک جائے۔

’’بجو، کچھ میری مونچھوں کارعب پڑتا ہے۔‘‘

’’خاک! اس قدر کریہہ شکل ہوگئی ہے۔‘‘

’’اور تمہاری بڑی بھولی ہے نا۔‘‘ اس نے مجھے گدگدانا چاہا۔ میں اس کے بڑے بڑے ہاتھ دیکھ کر لرزگئی۔

ہٹو صلو۔۔۔ خداکے لیے۔ تم سے ڈر لگتا ہے ریچھ ہوگئے ہو بالکل۔‘‘

’’ہاں،‘‘ اور وہ غرور سے اورپھیل گیا۔

’’ارے میں ماروں گی صلو۔۔۔‘‘ اس نےزبردستی اپنا کھردرا گال میرے ہاتھ پر زور سے رگڑ دیا۔ سارا ہاتھ جھلا اٹھا۔ جیسے لوہے کا برش۔ کبھی تو میں آکر پچھتاتی تھی نہ جانےکیوں۔

شادی کا گھر اور وہ بھی ہندوستانی طریق۔ گھر کیا ہوتاہے ایک بھول بھلیاں کا راستہ جس میں مزے سےآنکھ مچولی کھیلو۔ سر کوپیر کی خبر نہیں رہتی اور نہ جانے کتنے کھلاڑی آنکھ مچولیاں کھیل رہے ہوتے ہیں۔کبھی دو چوروں کی کسی کونے میں ٹکر ہوجاتی ہے تو پھر جھینپ! مزہ آجاتا ہے۔

معلوم ہوتا تھا کہ گھر کے ہر کونے، ہر دیوار کی آڑ میں،ہر زینہ پر کئی کئی صلاح الدین کھڑے ہیں۔آپ کدھر بھی چلی جائیے ناممکن جو صلاح الدین نہ موجود ہوجائے، بعض وقت تو یہ معلوم ہوتا گویا آسمان ہی سے ٹپک پڑے۔ میں عاجز آکر رابعہ کے پاس گھس گئی۔ لووہ تھوڑی دیر میں لاڈلا بھیا بہن کی صورت دیکھنے کو موجود! اور پھر یہ کہ ہم دونوں رضائی میں بمشکل سما رہے ہیں کہ جناب اپنے بے ڈول ہاتھوں اور چوڑے کندھوں کے اسی رضائی میں گھسیں گے۔ کس سے شکایت کی جائے۔ کس کے آگے گلا کریں یعنی ان جگر کے ٹکڑے کلیجے کی۔ کس سے شکایت کی جائے؟ اور کیا شکایت ہو۔ گھڑک دو سنجیدگی سے ڈانٹ دو آپ ہی شرم آئے گی۔ مگر وہ سنجیدہ ہونے کا موقع بھی دے۔

’’جاؤ صلو سر میں درد ہے،‘‘ جو یہ بہانہ کیا تو۔

’’سر میں درد؟ ارے اماں جان بام کہاں ہے ڈرائیور کو بھیجیے، ڈاکٹر سےاسپرو لائے اور بھئی کوئی شور کرے گا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ چلو رشو، حمید، منی کھسکو یہاں سے بجو کے سر میں دردہے، دروازہ بند یا اللہ لیجیے سرکا درد غائب اور اماں جان سےضروری کام نکل آیا۔

’’کیوں بجو جھوٹی! کہہ رہی تھی سر میں درد ہے اور یہاں پوریاں تلی جارہی ہیں۔‘‘ لیجیے باورچی خانہ میں موجود۔ اب بھا گئے۔

کبھی آنج بگاڑدی کبھی کچھ اور، پھر وہی شرارتیں! باورچی جانتا ہے کہ میاں بے چین بوٹی ہیں۔

’’بی بی آپ بھی جائیے اور صلومیاں بھی۔ ورنہ مجھ سے کھانا پک چکا۔‘‘

’’صلو مجھے تم سے ایک بڑی ضروری بات کہنی ہے،‘‘ میں نے سوچا آج انہیں سنجیدگی سے ڈانٹوں۔

’’کس سے؟ مجھ سے؟۔۔۔ ارے میرے بھاگ!‘‘ ایسے خوش گویا تمغہ ملنے والا ہے۔

اب ضروری بات کہنے سے پہلےخود اس قدر ضروری خدمات انجام دینا شروع کیں کہ بھاگتے ہی بن پڑے۔

کیا لوگ اندھے ہوتے ہیں؟ دکھائی نہیں دیتا انہیں؟ آنکھ مچولی میں تو بڑے بڑے شاہ پکڑے جاتے ہیں اور صلوجیسا چور! دن دھاڑے ڈاکہ ڈالنے سے نہ چوکے۔ لوگ سمجھتے ہیں بچہ ہے۔

سنیما میں لوگوں کو بس عورت ہی عورت دکھائی دیتی ہے۔ خواہ ہزاروں مرد کام کر رہے ہوں اور میں بھی عورت تھی، مجھے جلد معلوم ہوگیا کہ چند ایسے غیر جانبدار بھی ہیں جو فیصلہ کرتے وقت نہ کسی کے کلیجہ کاٹکڑا دیکھیں نہ جگر کی ٹھنڈک، کھڑی دھار پڑتی ہے تلوار کی ،مجھے تو الزام دے گی دنیا! یہ تو کوئی دیکھتا نہیں کہ فتنہ۔۔۔ غصہ سے آنکھوں تلے اندھیرا آگیا۔

’’ہٹ جاؤ صلاح الدین۔ حد ہوتی ہے بے ہودگی کی۔ مجھے یہ باتیں پسند نہیں۔‘‘

’’ایں،‘‘ اس کامنہ اتر گیا۔ ’’کیا ہوا بجو؟‘‘

’’کچھ نہیں۔۔۔ تمہیں معلوم ہے لوگ کیا کہتے ہیں۔‘‘

’’میرا بولنا۔۔۔میرا۔۔۔ آپ کو برا لگتا ہے۔‘‘

’’ہاں مجھے بہت برا لگتاہے۔ اچھی بات نہیں۔ لوگ۔۔۔‘‘

’’لوگ؟ کون لوگ؟ کون لوگ ہیں وہ مجھے بھی بتاؤ ذرا۔۔۔‘‘

’’کوئی بھی ہوں وہ میری اور تمہاری بہتری چاہنے والے۔‘‘

’’بہتری۔‘‘ وہ سرخ ہوگیا۔

’’ہاں اسی میں بہتری ہے۔۔۔۔‘‘ اور میں تیزی سےچلی آئی۔ دل پر سے ایک بوجھ اترگیا۔ آخر کو میں نے کہہ ہی دیا۔۔۔ عورت کے تو ہاتھ میں ہے خواہ وہ بدراہ ہو جائے خواہ عین موقعہ پر آنکھیں کھل جائیں اور اسے عاقبت نظر آنے لگے۔۔۔ آنکھیں کھل گئیں۔۔۔ اور خوب موقعہ پر کھلیں۔ میں دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی۔

صلاح الدین آیا۔۔۔ میں حسبِ عادت چوکنی ہوگئی۔۔۔ مگر گزرا چلا گیا اس نے مجھے دیکھا تک نہیں۔۔۔ میرے دل پر گھونسہ سا لگا۔۔۔ خیر۔۔۔ اونہہ کیا ہے۔۔۔ بہتری اسی میں ہے بلا سے جان چھوٹی۔ کسی وقت سکون ہی نہ تھا۔ اب تو۔۔۔ خیر اور گھر کے ہر کونے او رہر موڑ اب کوئی بھی نہ تھا۔ گویا امن چین اور سکون! لیکن پھر یہ پریشانی کیسی؟ ایک فکر کسی ایک پستی، گویا کمان اتر گئی۔ دھار کھٹل ہوگئی گویا کچھ ہے ہی نہیں۔ اب کوئی آپ کو دیکھ کر کھینچا چلا نہیں آتا۔ اب کسی کوشرارتیں نہیں سوجھتیں۔ اب کسی کی عجیب اور پاگل آنکھیں آپ کے پیچھے نہیں دوڑتیں۔ جائیے شوق سےجائیے اندھیر کوٹھری میں بھی چلے جائیے کوئی مزاحمت نہیں کرتا۔ چور ملتا بھی ہے تو آپ کو جھک کرآداب کرتاہےاور سرجھکاکر چل دیتا ہے ایک طرف کو۔۔۔ اب کوئی آپ کے پاس گھس کر بیٹھنے کا شوقین نہیں بلکہ دور۔۔۔ وہ سامنے کمسن خوبصورت لڑکیوں کے جھرمٹ میں شرارت بھری آنکھیں نچاکر خراج تحسین وصول کر رہا ہے کبھی بھولے سے بھی اگر آنکھ مل جاتی ہے تو سر جھک جاتا ہے پہچانتا تک نہیں۔۔۔

شادی کے گھر میں معلوم ہوتا ہے موت ہوگئی ایک موت نہیں سینکڑوں موتیں، ہزاروں خیالات، سینکڑوں جذبات اور ان گنت مسکراہٹیں مردہ پڑی ہیں گھر بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔

اور چچی تو معلوم ہوتا ہے کبھی تھیں ہی نہیں کوئی اپنی۔۔۔ رابعہ اپنے دولہا کے خیال میں مست۔ حمیدہ کا بچہ ضروریات زندگی سے فارغ نہیں ہوچکتا ،جی چاہا بیچ شادی سے چل دوں کالج۔

دیکھنے والوں نے دیکھ بھی لیا اور تاڑ بھی لیا۔

’’اے یہ صلو کی اور تمہاری کیا ان بن ہوگئی ہے۔۔۔‘‘ چچی بولیں۔

’’نہیں تو۔۔۔‘‘ میں جلدی سے بولی۔

’’جھوٹ۔۔۔‘‘ صلو نے دبی آواز میں کہااور کھانے کی پلیٹ پر جھک گیا۔

’’اوئی۔۔۔ چھوٹوں سے کیا غصہ۔۔۔ چلو صلو، باجی سےمعافی مانگو۔۔۔‘‘

’’جی نہیں۔۔۔ یہ خود معافی مانگیں۔۔۔‘‘ صلو اکڑے۔

’’معافی وافی کیسی، کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔۔۔‘‘ میں نے معاملہ کو سیدھا کرنا چاہا۔۔۔

’’جی نہیں میری تو ہے لڑائی۔‘‘

’’یہ کیوں۔۔۔ آخر ہواکیا۔۔۔؟‘‘

’’ہوا یہ کہ۔۔۔ خواہ مخواہ ڈانٹنے لگیں۔۔۔‘‘

’’کچھ بھی نہیں چچی جان۔ یہ مجھے چھیڑ رہا تھا۔ میں نے کہہ دیا مجھ سے مت بولو۔۔۔ بھلا میں اس سے لڑوں گی۔۔۔‘‘ میں جلدی سے بولی۔

’’نہیں اماں جان۔۔۔ کیسی بھولی بن رہی ہیں ایسے انہوں نے نہیں کہا تھا۔۔۔‘‘

اورمیں ڈری کہ کہیں اس نے کہ کہیں اس نے کہہ دیا سب کے سامنے تو کیا ہوگا۔ مجھے خیال ہوا کہ میری غلط فہمی ہوگی شاید یہ بھی اس کی شرارتیں ہیں اور۔۔۔ اور شاید یہ شرارتیں ہی ہوں۔۔۔ لعنت ہے کہ میں اسے اس قدر ذلیل سمجھی!

’’مجھے ایسی بری طرح کہنے لگیں۔۔۔ ہونہہ جیسے میں کوئی وہ ہوں۔‘‘

’’ارے میں تو یوں ہی کہہ رہی تھی لیجیے ملاپ ہوگیا اب۔۔۔؟‘‘

’’لو۔۔۔ اسی بات پر ہاتھ ملاؤ، اوہ۔۔۔ کس قدر سردی ہے ساری رضائی آپ اوڑھے بیٹھی ہو یہ نہیں کہ کسی اور کو بھی اڑھالو۔۔۔‘‘

وہ رضائی میں گھس کر بیٹھ گیا اور میری اتنی چٹکیاں لیں کہ ملاپ کرنے کا مزہ آگیا۔

’’صلو خدا کا واسطہ پھر کہو گے میں نے یہ کہا اور وہ کہا۔۔۔‘‘ چچی جان معصومیت سے مسکرا رہی تھیں۔۔۔

’’کہا ہی کیسے تم نے۔۔۔ بولو ہاریں کہ نہیں۔۔۔‘‘

’’بابا میں تجھ سے جیتی اور نہ جیتنے کا شوق۔۔۔ بس۔۔۔‘‘ وہ ہنسا۔ دنیا کی ہر چیز ہنس پڑی۔

اور پھر وہی آنکھ مچولی! وہی بھول بھلیاں! اور عاقبت ایک دفعہ کو عاقبت بھی کھلکھلا پڑی۔ کونا کونا مسحور کن نغموں سے گونج اٹھا۔ کان گنگ ہوگئے اور آنکھوں میں ریت بھر گئی۔ میٹھی میٹھی کھٹک والی ریت۔

اور اب قصور کس کا؟۔۔۔ قصور تو ہونا ہی ہوا کسی کا۔۔۔ تقدیر کا، بچاری تقدیر۔۔۔ بات یہ ہے کہ اللہ پاک اپنےبندوں کی آزمائش کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ۔۔۔ وہ تاکہ دیکھے۔۔۔ یہی کہ بس دیکھے۔۔۔ جیسے کہ ہم تماشہ دیکھتے ہیں۔۔۔ ڈر، دھڑکا، بدنامی، ذلت، پریشانی، بربادی تباہی اور سب کچھ ایسے ہی موقعہ کی تاک میں رہتے ہیں۔۔۔ کچی شاخ میں جھولا ڈالو تو آپ ہی چرچرائے گی۔۔۔ بھئی خوب ٹھونک بجاکر دیکھ لینا چاہیے کہ گدا کمزورتو نہیں۔۔۔ رسی تو گھنی گھنائی نہیں۔۔۔ ورنہ آپ ہی پٹخنی لگے گی۔

لڑائی پر جانے سے چند دن پہلے تشریف لائے، ننھا برآمدےمیں ’’لفٹ رائٹ لفٹ رائٹ‘‘ کر رہا تھا اسے دیکھ کر ایسے سٹپٹائے کہ بس۔۔۔

’’لمبی چوڑی ہے میری فوج۔۔۔‘‘ میں نے سوچا بڑے بڑے دل دہل جاتے ہیں اسے دیکھ کر۔۔۔

’’تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔‘‘

’’کیا۔۔۔‘‘

’’یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ وہ ننھے کو گھورنے لگے۔‘‘

’’اوہ یہ۔۔۔ ہاں کوئی ایسی بتانے کی بات ہی کیا تھی۔ میں نے اسے یتیم خانہ سے لے لیا تھا۔۔۔ جی بہلتا ہے اس سے۔۔۔‘‘

’’مگر یہ۔۔۔ سچ بتاؤ۔۔۔‘‘ کتنی گھبراہٹ اور کتنی التجا تھی۔

’’کیا بتاؤں۔۔۔؟ ہاں تم اپنی کہو یہ چچی جان نے لاڈلے بیٹے کو کیسے لڑائی پر بھیج دیا۔۔۔‘‘ میں نے بات پلٹی۔

’’لڑائی پر۔۔۔ وہ۔۔۔ ہوگا۔۔۔ تم پہلے یہ بتاؤ۔۔۔ کہ۔۔۔‘‘ وہ ننھے کی طرف مڑے۔

’’سمجھ ہی میں نہیں آتا تمہاری تو۔۔۔ کیا تو یتیم خانہ۔۔۔‘‘

’’ہوں۔۔۔‘‘ صلو کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا کچھ کھوئی کھوئی سی کھسیانی صورت۔۔۔‘‘

’’جی گھبرا رہا ہے،‘‘ میں نے چھیڑا۔

اور ان کی رنگت بدلی۔۔۔ ’’بچارا بچہ! مر گیا۔۔۔ اس کا باپ شاید،‘‘ تلخی سے کہا۔

’’خاک تمہارے منہ میں۔ خدا نہ کرے۔۔۔‘‘ میں نے ننھے کو کلیجے سے لگا لیا۔

’’ٹھائیں۔۔۔‘‘ ننھے نے موقعہ پاکر بندوق چلائی۔

’’ہائیں۔۔۔ پاجی۔۔۔ ابا کو مارتا ہے۔۔۔‘‘ میں نے بندوق چھین لی اور پھر آنکھوں میں وہی شرارت تڑپی۔۔۔ پھر۔۔۔ بلا کی گہری ہوگئیں۔۔۔ کچھ پاگل۔۔۔ عجیب سی۔۔۔ ٹٹولنے کے باوجود اس بھول بھلیاں میں راستہ نہ ملا۔

مأخذ : چوٹیں

مصنف:عصمت چغتائی

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here