زلزلہ

0
92
Love Poetry in Urdu
- Advertisement -

(کوہ آتش فشاں سکون و جمود کے عالم میں ہے۔ غالباً وہ عرصۂ دراز سے خوابیدہ ہے۔ کیونکہ اس کا جسم پتھرا گیا ہے اور شگافوں میں ببول کے درخت ابھر آئے ہیں۔ البتہ اس کی زندگی کی شہادت دھوئیں کی اس مسلسل لہر سے ملتی ہے جو چوٹی کے کسی نامعلوم درز سے نکل کر دم بھر کے لئے فضا پر حلقے بناتی اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔

اس کی ترائی میں آبادی بس گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں کی قطار میں اکے دکے ایوان، سیاہ جلد پر کوڑھ کے داغوں کی طرح ، دور سے نظر آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مکان سے سیلانیوں کی ایک ٹولی جو چار مردوں اور عورتوں پر مشتمل ہے، خراماں خراماں آتش فشاں کی طرف آتی اور وادیٔ کوہ کے ایک مرغزار پر بیٹھ جاتی ہے۔

مردوں میں سے ایک اس ترائی کا زمیندار ہے کیونکہ راہ چلتے گڈریئے اور کسان اس کے ایک اشارے پر پیچھے چلے آئے ہیں اوراب دست بستہ اس کے حکم کے منتظر ہیں۔ اس کا نام رنبیر ہے۔ باقی میں سے دو کی شوقیانہ آرائش ان کے نو دولتے پن کی غمازی کر رہی ہے۔ یہ دونوں بے نام ہیں، اس جماعت کا چوتھا رفیق اپنے وطیروں میں سب سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے الجھے ہوئے بال، بڑھی ہوئی داڑھی اور بھٹکی ہوئی نظریں بتلا رہی ہیں کہ وہ کوئی مفکر ہے۔ اس کا نام سہراب ہے۔

عورتیں یوں ملبوس ہیں گویا انہوں نے اپنے آغوش میں زندگی کے راز کو چھپا لیا ہے، وہ دونوں نام سے بےنیاز ہیں۔

آسمان پر بادلوں کے آوارہ ٹکڑے گھوم رہے ہیں اور سورج اپنی متاع شب کے سپرد کر رہا ہے۔)

- Advertisement -

’’عورت: یہ آتش فشاں بظاہر کتنا معصوم اور خاموش ہے۔ کون شبہ کر سکتا ہے کہ اس کے سینے میں لاوے کے دھارے موجیں نہیں مار رہے ہیں اور چٹانیں پگھل نہیں رہی ہیں، یہاں آکر مجھے اسی قسم کی دہشت محسوس ہوتی ہے، جیسی طوفان سے پہلے پرندوں کو۔ او کسان، کچھ پتہ ہے کہ یہ پہاڑ کب سے ساکت اور بےجان ہے؟‘‘

کسان: یہ پہاڑ ہمارے ہل سے زیادہ پرانا ہے اور اس دن سے خاموش ہے۔ جب ہم نے اس کی ترائی کو جوتنا شروع کیا تھا کبھی کبھی وہ ایک گہرا سانس لیتا ہے، اس کے دہانے پر شعلے کی ایک لپک دکھائی دیتی ہے، اس کی سلیں چٹخ جاتی ہیں اور اس کی ترائی لرزنے لگتی ہے۔ پھر وہ بہت دنوں کے لئے چپ ہو جاتا ہے۔

عورت: اور زنبیر، تم اس کے پڑوس میں رہتے ہوئے ڈرتے نہیں؟ ممکن ہے کبھی یہ پھٹ پڑے!

رنبیر: جتنا زیادہ میں اس آتش فشاں کو دیکھتا ہوں، مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ عورت کا مجسمہ ہے۔ کون جانتا ہے کہ عورت کے دل میں کیا ہے۔ وہ بہتا ہوا پانی ہے، جو محبت کی سوت سے نکل کر نفرت کے آبشار کی طرف بہہ رہا ہے۔ مگر کیا پتہ کہ اس میں کب مدوجزر ہو، کب سیلاب آئے اور کب بھنور پڑے۔ یہی حال اس آتش فشاں کا ہے۔ وہ ساری دنیا کی تپش اور ہیجان کا مخزن ہے۔ پتھر کے اس سخت خول کے نیچے نہ معلوم آگ کی کتنی بھٹیاں دہک رہی ہیں اور گندھک کے کتنے چشمے پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دھوئیں کی یہ چھینی بینی چادر آگ کے کتنے بڑے ذخیرے سے نکل رہی ہے۔ مگر جوں جوں یہ خدشہ بڑھتا جاتا ہے کہ عورت کے سینے میں وحشت امنڈ رہی ہے، میری محبت شدید تر ہوتی جاتی ہے۔ میں کانپتے ہوئے دل سے اس کا انتظار کرتا ہوں، جب اس زمین میں زلزلہ آئےگا اور یہ بجلی میرے سرپرٹوٹ پڑےگی۔ بس اسی طرح اس زرخیز زمین سے نفع حاصل کرتے ہوئے میں تباہی کے اس پرچم کو دیکھتا رہتا ہوں جو دھوئیں کی شکل میں ہوا میں اڑ رہا ہے۔

سہراب: دوستو، جس دن اس جوالا مکھی پر پہلے پہل نظر پڑی، اسی رات کو میں نے ایک دلچسپ خواب دیکھا۔ میں اسے بھول چکا تھا مگر آپ کی باتوں نے اس کی یاد تازہ کر دی۔ میں نے دیکھا کہ کسان اپنے کھیتوں کو صاف کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے نیچے دبی ہوئی ہڈیوں سے ٹکرا ٹکرا کر ہل بیکار ہو جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انہوں نے ہڈیوں کو یکجا کرنا شروع کیا حتٰی کہ ان کا ایک انبار لگ گیا۔ انبار اونچا ہوتا گیا اور بالآخر یہ پہاڑ بن گیا۔ دھوپ اور بارش میں یہ ہڈیاں پستی گئیں اور ان میں پوشیدہ آتشِ انتقام بوند بوند کر کے تہہ میں جمع ہوتی گئی۔ وقت اس آگ میں ایندھن کا کام کرتا گیا اور رفتہ رفتہ دھوئیں کی چادر زیادہ اور گہری ہو گئی۔ معلوم نہیں کیوں کر میں اس پہاڑ کے اندر پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ خون کے پرنالے کھول رہے ہیں۔ آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا ہے مگر اس میں اس بلا کی حدت ہے کہ چٹانیں پارے کی طرح عرق عرق ہوئی جارہی ہیں۔ صدہا سال کے انسانوں کے پنجر ایک دوسرے سے لپٹے پڑے ہیں اور تپش انہیں لاوے کی شکل میں تبدیل کرتی جاتی ہے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ جب ان خولوں میں جہاں زندہ انسان کی آنکھیں ہوتی ہیں، آگ کے دو لرزتے ہوئے شعلے گھس جاتے تھے تو کیا کیفیت ہوتی تھی۔ ان پسلیوں میں جہاں گوشت ہوتا ہے جلتے ہوئے سنگ ریزے چمکنے لگتے تھے۔ تو میرا کیا حال ہوتا تھا اور میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا مگر یہ کہنے سے نہ چوکوں گا کہ عورتوں کے پنجر صاف پہچانے جاتے تھے کیونکہ وہ جہنم بہ داماں تھے گویا دمدار ستارے کی دم کا ایک ایک بال جل رہا ہو۔ یہ تو تھا مگر سب سے زیادہ حیرت انگیز منظر اور ہی تھا۔

سب: وہ کیا؟

سہراب: وہ یہ کہ ایک شخص لوہے کی لمبی چھڑ سے اس آگ کو کرید رہا ہے جن چٹانوں تک آگ نہ پہنچتی، انہیں مشعل دکھاتا اور جن میں آگ دمک رہی ہے انہیں ایندھن دیتا ہے۔ پہلے تو میں سمجھا کہ یہ منکر نکیر کے قسم کی چیز ہوگی مگر میرا قیاس غلط تھا۔

نو دولتا: پھر کیا یہ انسان تھا؟

سہراب: ہاں یہ انسان تھا۔ یہ ابدی انسان تھا جسے مظلومیت نے پیدا کیا تھا اور جواب انتقام کی چھڑی سے انسانیت کی آگ کو کرید رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو یہاں کیوں ہے، یہ خون کیسا ہے، یہ ہڈیاں کس کی ہیں؟ اور اس کا جواب دراصل وحشت انگیز تھا!

(سننے والوں کے چہرے فق ہیں۔ کسانوں اور گڈریوں کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ اندھیرا بڑھتا جاتا ہے اور تاڑ کے درخت پر بیٹھا ہوا ایک الو اپنے مہیب نغموں سے شب کا خیر مقدم کر رہا ہے۔)

رنبیر: اس نے کیا کہا؟ واقعی، یہ خواب اتنا دلچسپ ہے کہ اس پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے۔

سہراب: جب وہ میری طرف متوجہ ہوا تو اس کی چھڑی ایک پنجر کی کھوپڑی میں پیوست تھی، جو کسی کونے میں دبک گیا تھا۔ یہ کھوپڑی ہنس رہی تھی، نہ جانے زندگی پر یا موت پر۔ جب وہ پیکر مظلومیت میری طرف دیکھنے لگا تو محسوس ہوا کہ میں نے اسے ایک نہیں ہزار بار دیکھا ہے۔ میں نے اسے سڑکوں پر روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لئے کتوں سے لڑتے دیکھا ہے۔ میں نے اسے مسجد کی سیڑھیوں پر ایک ایک پیسے کے لئے نمازیوں کے آگے سجدے کرتے دیکھا ہے۔ میں نے کارخانوں میں مشین کو اس پر ہنستے دیکھا ہے۔ اس وقت جب مزدور بےخبری کے عالم میں شام کی روٹیوں کے تصور میں مگن ہوتا ہے اور ایک تیزپرزہ قہقہہ مار کر اس کے ہاتھوں پر گرتا ہے ایک لمحہ اپنی بے بصر آنکھوں سے اس کے کرب، الم کو د یکھتا ہے، پھر اوجھل ہو کراس کے جسم کے دوسرے حصے پر گرتا ہے اور میں نے اس ابدی مظلوم کو چند ٹکوں کے لئے متاع نسوانیت بیچتے دیکھا ہے۔

میں اسے اچھی طرح پہچانتا تھا، اتنی اچھی طرح کہ مجھے اسے دیکھ کر ڈر معلوم ہونے لگا۔ اس نے کہا یہ انسانوں کا خون ہے جسے مٹی پی گئی تھی اور اب اسے اگل رہی ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ زندہ انسانوں کے پنجر ہیں۔ یا مردہ کے ہیں۔ انہیں آگ میں جھونکتا ہوں کہ ’’اس میں تپ کر اپنا امتحان کر لیں۔ انہیں تباہی کا پیغام پہنچانا ہے۔ ان محلوں اور ایوانوں میں جہاں جا کر ہوا بھی ہچکی لینے لگی ہے اور جب تمام دنیا ریگستان ہو جائے تو انہیں اس مندر میں ایک نئی دنیا کا گیت گانا ہے۔‘‘

دوستو میں نے فلسفہ کے کوچۂ خار زار میں ایک عمر جھک ماری ہے۔

لیکن سچ کہتا ہوں کہ یہ فلسفہ اس قدر انوکھا تھا کہ میں چیخ کر اٹھ بیٹھا اور میں نے دیکھا کہ لمپ کسی طرح فرش پر الٹ گیا ہے۔ اس کے دھوئیں سے کمرہ بھر گیا ہے، اخباروں کے انبار میں آگ سلگ رہی ہے اور میرانوکر لوہے کہ پچکاری سے مجھ پر پانی انڈیل رہا ہے۔

(کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہے۔ سب خاموش ہیں۔)

عورت: اف اوہ، سہراب، تم نے کیسا بھیانک خواب سنایا۔ تمہاری عادت ہے کہ دونوں وقت ملتے اسی قسم کے منحوس واقعات سنایا کرتے ہو۔ توبہ میرا دل دھڑکنے لگا۔

نو دولتا: سہراب، اس خواب کی تعبیر پر بھی تم نے غور کیا؟

سہراب: کوئی وجہ نہ تھی جو میں ان مہملات پر غور کرتا۔ روح و مادہ کے تنازع سے مجھے اتنی فرصت کہا کہ انسان اور اس کی لوہے کی چھڑ پر سر کھپاؤں۔ البتہ کسی کتاب میں میں نے ایسے ہی ایک خواب کا ذکر پڑھا ہے۔ زمانۂ قدیم میں کوہ آتش فشاں دسیودس کے نواح کے ایک غلام نے خواب دیکھا کہ ایسا زلزلہ آیا کہ تمام مکان گر گئے، شہر تباہ ہو گئے اور ہر طرف بربادی پھیل گئی۔ مگر اس کی تعبیر یہ تھی کہ غلاموں نے اپنے آقاؤں کے خلاف بغاوت کر دی۔ ان کی ملکیت پر قبضہ کر لیا اور الٹے انہیں اپنی خدمت کے لئے مجبور کر دیا۔ سو اتفاق کہ خواب دیکھنے والا ان غلاموں کا سردار تھا۔

(کوہ آتش فشاں ایک پر اسرار ہیولے کی طرح جلد جلد سانس لے رہا ہے۔ عورت زندگی کی لکیر کی طرح کف خاک پر لیٹ گئی ہے)

سہراب: اب اندھیرا ہو رہا ہے اور شفق کے دامن کا آخری چھور، جوتپتے ہوئے لوہے کی طرح سرخ ہے، گویا اس سیال سے رنگا گیا ہے جوابھی پوری طرح خون نہیں بنا ہے۔ اس سرخی کے پس منظر اور کہر کے نقاب کے درمیان پہاڑ کتنا عجیب معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے دراز قد پر ابھرے ہوئے دونوں سرے گویا گھن کے دو پھل ہیں اور ان دونوں کے بیچ میں ایک منحوس ستارہ آنکھ کے اشارے سے دنیا کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ یوں سمجھو کہ سرخ کاغذ پر کسی نے سیاہ لفظوں کا یہ خاکہ بنا دیا ہے۔

عورت: ذرا تم زمین سے کان لگاکر سنو کہ یہ پہاڑ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا پیغام بھیج رہا ہے۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ زمین دل ہی دل میں کچھ بڑبڑا رہی ہے۔ کبھی یہ آواز مرد کے دل کی دھڑکن کی طرح دھیمی ہو جاتی ہے، کبھی عورت کے دل کی طرح مضطرب ہو کر زور زور سے صدا دینے لگتی ہے۔ اپنے محبوب کا ہاتھ لگتے ہی میرے جسم میں جس قسم کی سنسنی دوڑ جاتی ہے۔ وہی سنسنی میں زمین کے اندر محسوس کر رہی ہوں اور پہلے بوسہ کے وقت سانس جتنا تیز و تند ہو جاتا ہے اس کی صدائے باز گشت میں بخوبی سن سکتی ہوں۔ رنبیر ذرا تم بھی کان لگا کر سنو کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟

رنبیر: مجھے تو کچھ نہیں سنائی دیتا۔ کبھی کبھی میراجی چاہتا ہے کہ ان الفاظ اور صداؤں کو سنوں جن سے زمین کی خاموشی بنتی ہے۔ اس کوہ آتش فشاں کی چٹانوں پر لیٹ کر میں نے اس آواز کو سننے کی کوشش کی ہے، جو زلزلوں کی نقیب ہوتی ہے، مگر زمین کو میں نے ہمیشہ کسانوں کی طرح بے زبان پایا ہے۔ پرانے لوگوں کا بیان ہے کہ ایک بار اس پہاڑ نے کچھ بولنے کی آرزو ظاہر کی تھی، مگر مجھے اس قصہ پر یقین نہ آیا۔

نو دولتا: وہ کب اور کیسے؟

رنبیر: کسی زمانے میں یہ سارا علاقہ ایک بڑے نواب کے قبضہ میں تھا جو نگر پار کہیں رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایسا قحط پڑا کہ دور دور تک کہیں کچھ پیدا نہ ہوا۔ برسوں زمین پیاسی رہی اور بھوک پیاس سے ہزاروں لاکھوں غریب مر گئے۔ ماؤں نے مامتا سے منہ موڑ کر بچوں کو بیچ دیا اور جوان بوڑھوں کو کھا گئے۔

پہلے تو کسانوں نے قرض لے کر اور اپنا اثاثہ بیچ کر لگان ادا کیا مگر تابہ کے؟ ایک دن ایسا آیا کسی کے پاس کچھ نہ رہا۔ نواب کے کارندوں نے انہیں جھونپڑیوں سے نکال دیا اور وہ آسمان کے نیچے آکر بیٹھ گئے۔

اتنے میں انہوں نے سنا کہ نواب اپنی رعایا کا حال دیکھنے کے لئے آ رہا ہے۔ یہ سن کر وہ مطلق خوش نہ ہوئے کیونکہ نواب کو ان کے دکھ سکھ کی پروا نہ تھی، ہر دوسرے تیسرےسال وہ اسی طرح حسین لڑکیوں کی تلاش میں نکلا کرتا تھا۔

جب وہ نواب اس قطار کا معائنہ کرنے لگا جس میں کارندوں نے فاقہ زدہ عورتوں کو کھڑا کر دیا تھا، تو اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو ڈر کے مارے اس پہاڑ کی ایک کھوہ میں چھپ گئی تھی۔ نواب کے آدمی اسے پکڑنے کے لئے دوڑے اور وہ ان سے بچنے کے لئے چٹانوں پر دوڑنے لگی۔ یکایک اس کے پیر ڈگمگائے اور وہ ایک عمیق غار میں گر پڑی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت یہ زمین لرزنے لگی، ایک ہیبت ناک آواز سے فضا گونج اٹھی اور جب یہ پہاڑ پھٹا تو اس کے ابلتے ہوئے چشموں میں ہستی گم ہو گئی۔ آقا اور غلام، کسان اور زمیندار کی کوئی تفریق نہ رہی، ہر طرف بربادی کے پھریرے اڑنے لگے، جب سناٹا ہوا تو زمین نے دیکھا کہ انسان کی تہذیب اونچے اونچے محلوں کے نیچے اور اس کی زندگی تنگ و تاریک جھونپڑیوں کے نیچے مدفون ہے اس کے باوجود۔

نو دولتا: (چلا کر) دیکھو دیکھو، اس کے دہانے پر یک بیک یہ مشعل سی کیسی جل رہی ہے اور اس کا دھواں سارے آسمان پر چھا گیا ہے۔

عورت: اور یہ زمین آپ ہی آپ گرم کیوں کر ہو گئی؟

رنبیر: ہم سب کو بھاگنا چاہیئے۔ زمین میں رہ رہ کر خفیف سی حرکت ہو رہی ہے اور اس کی تہہ میں بیٹھ کر جیسے کوئی کرا رہا ہے۔

(سب میدان کی طرف بھاگتے ہیں۔ زمین زور زور سے ہل رہی ہے۔ آتش فشاں کی چوٹی پر بجلیاں سی کوند رہی ہیں، دھواں زہر آلود ہو رہا ہے جس میں سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی ہے۔ زمین کے اندر جیسے توپیں چل رہی ہیں۔ آبادی کی طرف سے شور و غوغا کی صدا آ رہی ہے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جاتی ہے۔)

سہراب: اب ہمیں ذرا دیر ٹھہرجانا چاہیئے کیونکہ میرا سانس رک رہا ہے۔

(سب بیدم ہو کر گر پڑتے ہیں)

نو دولتا: یہ کیا غضب ہو رہا ہے! شہر کے لوگ بجائے اس کے کہ جان کی امان کے لئے میدان کی طرف بھاگیں مشعلیں لئے ہماری حویلیوں کی طرف جا رہے ہیں، ماتم اور کہرام کے بجائے مسرت کے ترانے گا رہے ہیں۔ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟

سہراب: عقل کے اندھو! اب بھی نہیں سمجھے کہ کیا ہو رہا ہے! یہ زلزلہ ہے زلزلہ! جب زور کا جھٹکا آئےگا تو یہ جھونپڑیاں اور حویلیاں سب گر پڑیں گی اور ان کے نیچے غربت اور امارت دونوں دفن ہو جائیں گی۔ پھر بہت دنوں زمیں سورج کے ارد گرد گھومے گی، تب کہیں آفرینش کی نئی سوت پھوٹےگی۔

رنبیر: یہ مصیبت قیامت سے کیا کم ہے۔ آتش فشاں کے پرخچے ہوا میں اڑنے لگے ہیں۔ ہمارے مکان جس ٹیلے پر تھے، وہاں اب آگ کے شعلے اڑ رہے ہیں یا تو اس پہاڑ کا ایک دھکتا ہوا پتھر ان پر گر پڑا ہے اور یا بھک منگوں نے انہیں آگ کے سپرد کر دیا۔

(زمین ، آسمان اور تحت الثریٰ۔ ہر طرف شو ر بپا ہے کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہے، آسمان پر دل بادل امنڈ آئے ہیں اور اندھیرا گھپ ہو گیا ہے۔ صرف آتش و برق کی لپک ایک آن کے لئے اجالا کر دیتی ہے۔ ہوا بہت تیز ہو گئی ہے۔)

سہراب: اب بھاگنا لا حاصل ہے موت سے کہیں نجات نہیں مل سکتی؟ آؤ یہیں بیٹھ کر اس ساعت کا انتظار کریں جب زندگی خیرباد کہےگی۔ زیادہ دیر نہیں ہے کیونکہ پہاڑ ایڑی سے چوٹی تک سلگ رہا ہے اور اس کی روشنی میں پگھلے ہوئے سنگ ریزوں کے وہ چشمے صاف نظر آ رہے ہیں جو حسین اژدہوں کی طرح دھیرے دھیرے ہماری طرف رینگ رہے ہیں۔ تم ہوا کی زبان نہیں سمجھ سکتے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ جب سب کچھ مٹ جائےگا تو یہ عورت اپنی قبر سے اٹھے گی اور آسمان پر جو اکیلا ستارہ رقص کرتا رہےگا وہ نئی زندگی کے راز اسے بتا دےگا۔ پھر ایک نیا انسان پیدا ہوگا جو حدیث حیات کے نئے باب کا آغاز کرےگا۔

جینا نام ہے کھونے اور پانے کا۔ جب ہم نے اس دنیا سے بہت کچھ لیا، تو اسے واپس لوٹاتے ہوئے کیوں دلگیر ہوں۔ آؤ اب مرتے مرتے ہم اس زمین کو آخری سلام کر لیں۔

(سب پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو گھور رہے ہیں۔ گہرے اندھیرے میں آگ کے پر تو نے ہلکی سی چاندنی پھیلا دی ہے لاوے کے چشمے بڑھتے آتے ہیں، زلزلہ کی شدت تیز ہوتی جاتی ہے۔)

مأخذ : محبت اور نفرت

مصنف:اختر حسین رائے پوری

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here