سمے کا بندھن

0
112
Urdu Story Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’ایک طوائف کی روحانی زندگی کے گرد گھومتی کہانی، جو کوٹھے پر مجرا کیا کرتی تھی۔ مگر ایک روز جب وہ ٹھاکر کے یہاں بیٹھک کے لیے گئی تو اس نے وہاں خواجہ پیا موری رنگ دے چنریا گیت گایا۔ اس گیت کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اس کی پوری زندگی کو ہی بدل دیا۔ وہ بےقرار رہنے لگی۔ اس بیقراری سے نجات پانے کے لیے اس نے ٹھاکر سے شادی کر لی۔ مگر اس کے بعد بھی اسے سکون نہیں ملا اور وہ خود کی تلاش میں نکل گئی۔‘‘

آپی کہا کرتی تھی، سنہرے، سمے سمے کی بات ہوتی ہے۔ ہر سمے کا اپنا رنگ ہوتا ہے، اپنا اثر ہوتا ہے۔ اپنے سمے پہچان، سنہرے۔ اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔ جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔

اب سمجھ میں آئی آپی کی بات۔ جب سمجھ لیتی تو رستے سے نہ بھٹکتی۔ آلنے سے نہ گرتی، سمجھ تو گئی۔ پر کتنی قیمت دینی پڑی سمجھن کی۔ آپی مجھے سنہرے کہہ کر بلایا کرتی تھی۔ کہتی تھی تیرے پنڈے کی جھال سنہری ہے۔ جب رس آئے گا تو سونا بن جائے گی، کٹھالی میں پڑے بنا۔ پھر یہ جھال کپڑوں سے نکل نکل کر جھانکے گی۔

پتا نہیں میرا نام کیا تھا۔ پتا نہیں میں کس کی تھی، کہاں سے آئی تھی۔ کوئی لایا تھا۔ بالپن ہی میں آپی کے ہاتھ بیچ گیا تھا۔ اسی کی گود میں پلی۔ اسی کی سرتال بھری، بیٹھک کے جھولنے میں جھول جھول کر جوان ہوئی۔ پھر سنہر ا امڈ امڈ آیا۔ چھپائے نہ چھپتا تھا۔ آپی بولی، نہ دھیے، چھپا نہ۔ جو چھپائے نہ چھپے اسے کیا چھپانا۔

کبھی کھڑکی سے جھانکتی تو آپی ٹوکتی، ’’یہ کیا کررہی ہے بیٹی؟ سیانے کہتے ہیں، جس کا کام اسی کو ساجھے۔ تیرا کام دیکھنا نہیں۔ دکھنا ہے۔ تو نظر نہ بن، منظر بن۔ اور جو دیکھے بھی تو تو دکھنے کا گھونگھٹ نکال۔ اس کی اوٹ سے دیکھ۔ پھر سمے دیکھ سنہرے۔ ابھی تو شام ہے۔ یہ سمے تو اداسی کا سمے ہے۔ دکھ کا سمے ہے۔ شام بھئی گھن شام نہ آئے۔‘‘ آپی گنگنانے لگی ’’یاد ہے نا یہ بول؟ شام تو نہ آنے کا سمے ہے۔ تیرا آنے کا سمے ہے۔ پگلی ذرا رک جا۔ اندھیرا گاڑھا ہونے دے۔ پھر تیرا ہی سمے ہوگا۔ پچھلے پہر تک۔‘‘

- Advertisement -

ایک دن آپی کا جی اچھا نہ تھا۔ مجھے بلایا۔گئی۔ لیٹی ہوئی تھی۔ سرہانے تپائی پر سوڈ ے کی بوتل دھری تھی۔ ساتھ نمک دانی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب سوڈے کی بوتل کے گلے میں شیشے کا گولہ پھنسا ہوتا تھا۔ ’’ٹھا‘‘ کرکے کھلتا تھا۔ بولی، ’’سنہرے، بوتل کھول، گلاس میں ڈال۔ چٹکی بھر نمک گھول اور مجھے پلادے۔‘‘ میں نے نمک ڈالا تو جھاگ اٹھا۔ بلبلے ہی بلبلے۔ آپی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ بولی، دیکھ لڑکی، یہ ہمارا سمے ہے۔ ہمارا سمے وہ ہے جب جھاگ اٹھے۔ ہم میں نہیں۔ دوجے میں اٹھے۔ دوجے میں جھاگ اٹھانا یہی ہماراکام ہے۔ خود شانت دوجا بلبلے ہی بلبلے۔ اور جب سمے بیت جائے تو دھیرج پاؤں دھرنا۔ ٹھمک نہ کرنا۔ ٹھمک کا سمے گیا۔ چمک نہ مارنا۔ چمک کا سمے گیا۔ پائل نہ جھنکارنا۔ پائل کی جھنکار بیرن بھئی۔‘‘

پھر وہ لیٹ گئی۔ بولی، ’’سنہرے، میری باتیں پھینک نہ دینا۔ دل میں رکھنا۔ یہ بھیتر کی باتیں ہیں، اوپر کی نہیں، سنی سنائی نہیں، پڑھی پڑھائی نہیں۔ وہ سب چھلکے ہوتے ہیں، بادام نہیں ہوتے۔ جان لے بیٹی بات وہ جو بھیتر کی ہو۔ گری ہو، چھلکا نہ ہو۔ جو بیتی ہو۔ جگ بیتی نہیں۔ آپ بیتی ہو۔ ہڈبیتی۔ باقی سب جھوٹ۔ دکھلاوا۔ بہلاوا۔‘‘

آج مجھےباتیں یاد آرہی ہیں۔ بیتی باتیں۔ بسری باتیں۔ سانپ گزر گیے۔ لکیریں رہ گئیں۔ لکیریں ہی لکیریں۔ سانپ تو صرف ڈراتے ہیں۔ پھنکارتے ہیں۔ لکیریں کاٹتی ہیں۔ ڈستی ہیں، پتا نہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لکیروں نے مجھے چھلنی کر رکھا ہے۔ چلتی ہیں۔ چلے جاتی ہیں۔ جیسے دھار چلتی ہے۔ ایک ختم ہوتی ہے دوجی شروع ہوجاتی ہے۔

آپی کی بیٹھک میں ہم تین تھیں۔ پیلی، روپہ اور میں۔ پیلی بڑی، روپہ منجھلی اور میں چھوٹی۔ پیلی میں بڑی آن تھی پرمان نہ تھا۔ اس آن میں چھب تھی۔ سندرتا بھرا ٹھہراؤ تھا۔ یوں رعب سے بھری رہتی جیسے مٹیار رس بھری رہتی ہے۔ مورتی سمان۔

روپہ سر ہی سر تھی۔ تاروں سے بنی تھی۔ اس کے بند بند میں تارلگے تھے۔ سرتیاں سمرتیاں۔ اور وہ گونجتے مدھم میں گونجتے۔ اور پھر سننے والوں کے دلوں کو جھلا دیتے۔ تیجی میں تھی۔ آپی کہتی تھی سنہرے، تجھ میں دکھ کی بھیگ ہے۔ تو بھگو دیتی ہے۔ خود بھی ڈوب جاتی ہے دوجے کو بھی ڈبو دیتی ہے۔ پگلی دوجے کو ڈبویا کر، خود نہ ڈوبا کر۔ مجھے تجھ سے ڈر آتا ہے سنہرے۔ کسی دن تو ہم سب کو نہ لے ڈوبے۔

آپی کی بیٹھک کوئی عام بیٹھک نہ تھی کہ جس کا جی چاہا منہ اٹھایا اور چلا آیا۔بیٹھک پر دھن دولت کا زور تو چلتا ہی ہے بیٹھک پر آپی نے برتاؤکا ایسا رنگ چلا رکھا تھا کہ خالی دھن دولت کا زور نہ چلتا تھا۔ نو دولتیے آتے تھے۔ پر ایسے بدمزہ ہو کر جاتے کہ پھر رخ نہ کرتے۔ آپی کی بیٹھک میں نگاہیں نہیں چلتی تھیں۔ اس نے ہمیں سمجھا رکھا تھا کہ لوگ نگاہوں پر اچھالیں گے تو پڑے اچھالیں۔ لڑکیو تم نہ اچھلنا۔ جو نگاہوں پر اچھل جاتی ہیں وہ منہ کے بل گرتی ہیں۔ اورجو گر گئی وہ سمجھ لو، نظروں سے گر گئی۔ پھر نہ اپنے جوگی رہی نہ دوسروں جوگی۔ آپی کی بیٹھک میں نظریں نہیں چلتی تھیں۔ کان لگے رہتے تھے۔ دل دھڑکتے تھے۔ وہاں ملاپ کا رنگ نہ ہوتا تھا۔برہاکا ہوتا۔ رنگ رلیاں نہیں ہوتی تھیں۔ نہ وہاں تماشا ہوتا نہ تماش بین۔

مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب ہمارے ہاں ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تھی۔دو مہینے میں ایک بار ضرور لگتی تھی۔ ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تو کوئی دوجانہیں آسکتاتھا۔ صرف ٹھاکر کے سنگی ساتھی۔ ٹھاکر بھی توعجب تھا۔ اوپر سے دیکھو تو ریچھ۔ طاقت سے بھراہوا۔ اندرجھانکو تو بچہ۔ نرم نرم، گرم گرم۔ ویسے تھا آن بھرا۔ سنگت کارسیا۔ یوں لگتا جیسے بھیتر کوئی لگن لگی ہو۔ دھونی رمی ہو۔ آرتی سجی ہو۔ ٹھاکر کی ہمارے ہاں بڑی قدرتھی۔ آپی عزت کرتی تھی۔ بھروسا کرتی تھی۔ ٹھاکر نے بھی کبھی نظر اچھالی نہ تھی۔ جھکائے رکھتا۔ پیتا ضرورتھا، پر ایسی کہ جوں جوں پیتا جاتا الٹا مدھم پڑتا جاتا۔ آنکھ کی چمک گل ہو جاتی۔ آواز کی کڑک بھیگ جاتی۔ اس کا نشہ ہی انوکھا تھا۔ جیسے بوتل کا نہ ہو، بھیتر کاہو۔ بوتل ایک بہانہ ہو۔ بوتل چابی ہو بھیتر کے پٹ کھولنے کی۔

ڈرو سکھیو ڈرو۔ بھیتر کے نشے سے ڈرو۔ بھیتر کے نشے کے سامنے بوتل کا نشہ یوں ہاتھ جوڑے کھڑا ہے جیسے راجہ کے روبرو نیچ کھڑا ہو۔ بوتل کا خالی سر چکراتا ہے۔بھیتر کا من کا جھولنا جھلا دیتا ہے۔ ڈرو سکھیو ڈرو بھیتر کے نشے سے ڈرو۔ بوتل کا تو کام کاج جوگا نہیں چھوڑتا۔ بھیتر کا کسی جوگا نہیں چھوڑتا۔ خود جوگا بھی نہیں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ ٹھاکر کے نشے کا ریلا مجھے بھی لے ڈوبے گا۔

ہاں تو اس روز ٹھاکر کی بیٹھک ہورہی تھی۔ بول تھے، ’’گانٹھری میں کون جتن کر کھولوں۔ مورے پیا کے جیا میں پڑی رہی۔‘‘ گیت نے کچھ ایسا سماں باندھ رکھا تھا کہ ٹھاکر جھوم جھوم جارہا تھا۔ پھر کہو، پھر بولو کا جاپ کیے جارہا تھا۔ نہ جانے کس گرہ کو کھولن کی آرزو جاگی تھی۔ اپنے من یا محبوب کے من کی۔ سمے بیتا جا رہا تھا۔ سمے کی سدھ بدھ نہ رہی تھی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ سمے جیون سے نکل جاتا ہے کہ کون ہیں، کہاں ہیں، کیا کررہے ہیں۔ کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہتی۔ اس روز وہ سمے ایسا ہی سمے تھا۔‘‘

دفعتاً گھڑی نے تین بجائے۔ آپی ہاتھ جوڑے اٹھ بیٹھی۔ بولی، ’’شما کرو ٹھاکر جی۔ معافی مانگتی ہوں۔ ہمارا سمے بیت گیا۔ اب بیٹھک ختم کرو۔‘‘ ٹھاکر پہلے تو چونکا پھر مسکایا، ’’نہ آپی‘‘ وہ بولا، ابھی تو رات بھیگی ہے۔ آپی بولی ٹھاکر ہم سوکھے پروں والے پنچھی ہیں۔ جب رات بھیگ جاتی ہے تو ہمارا سمے بیت جاتا ہے۔ جو ہمارے پر بھیگ گیےتو اڈاری نہ رہے گی۔ فن کار میں اڈاری نہ رہے تو باقی رہا کیا؟‘‘ ٹھاکر نے بڑی منتیں کیں۔ آپی نہ مانی۔ محفل ٹوٹ گئی تو ہم تینوں آپی کے گرد ہو گئیں۔ ’’آپی یہ سمے کا گورکھ دھندا کیا ہے؟‘‘

آپی بولی، ’’لڑکیو سمے بڑی چیز ہے۔ ہر کام کا الگ سمے بنا ہے۔ رات کو گاؤ بجاؤ۔ پیو۔ پلاؤ۔ ملو ملاؤ۔ موج اڑاؤ۔ بس تین بجے تک۔ پھر بھور سمے اس کا سمے ہے۔ اس کا نام جپو۔ اسے پکارو۔ فریاد کرو۔ دعائیں مانگو۔ سجدے کرو۔ اس سمے میں تم عیش نہیں کر سکتے۔ گناہ نہیں کر سکتے۔ قتل نہیں کر سکتے۔ یہ دھندا جو ہمارا ہے اس کے سمے میں نہیں چل سکتا۔ اس کے سمے میں پاؤں نہ دھرنا۔ اس نے برا مانا تو ماری جاؤ گی۔ جو وہ راضی ہو گیا تو بھی ماری جاؤ گی۔ اور دیکھو اس کے سمے کے نیڑے نیڑے بھی ایسا گیت نہ گانا جو اسے پکارے۔ بھجن نہ چھیڑنا۔ ڈرو کہیں وہ تمہاری پکار سن کر ہنکارا نہ بھر دے۔

پھر وہ دن آگیا جب میں نے ان جانے میں سمے کا بندھن توڑ دیا۔ اس روز ٹھاکر آئے۔ آپی سے بولے، ’’بائی کل خواجہ کا دن ہے۔ خواجہ کی نیاز سارے گاؤں کو کھلاؤں گا۔ آج رات خواجہ کی محفل ہو گی ادھر حویلی میں۔ صرف اپنے ہوں گے، گھرکے لوگ۔ تجھے لینے آیا ہوں۔ چل میرے ساتھ میرے گاؤں۔‘‘

آپی سوچ میں پڑ گئی۔ بولی، ’’روپہ ماندی ہے۔ وہ تو نہیں جا سکے گی۔ کسی اور دن رکھ لینا نذر نیاز۔‘‘

’’خواجہ کا دن میں کیسے بدلوں؟‘‘ وہ بولا۔

’’تو کسی اور منڈلی کو لے جا۔‘‘

’’اونہوں۔‘‘ ٹھاکر نے منہ بنا لیا۔ ’’خواجہ کی بات نہ ہوتی تو لے جاتا۔ ان کا نام لینے کے لائق مکھ تو ہو۔‘‘

’’میں کس لائق ہوں جو ان کانام منہ پر لاؤں۔‘‘

’’بس اک تیری ہی بیٹھک ہے بائی جہاں پوترتا ہے۔ جہاں جسم کا نہیں من کا ٹھکانا ہے۔‘‘

آپی مجبور ہو گئی۔ اس نے روپہ کا دھیان رکھنے کے لیے پیلی کو وہاں چھوڑا اور مجھے لے کر ٹھاکر کے گاؤں چلی۔ رات بھر وہاں حویلی میں خواجہ کی محفل لگی۔ وہ تو گھریلو محفل تھی۔ ٹھاکر کی بہنیں، بہوویں، بیٹیاں، ٹھاکرانی سب بیٹھے تھے۔ وہ تو سمجھ لو بھجن منڈلی تھی اور خواجہ کے گیت، ’’خواجہ میں تو آن کھڑی تورے دوار‘‘ سے شروع ہوئی تھی۔

آدھی رات کے سمے محفل اتنی بھیگی کہ سب کی آنکھیں بھر آئیں۔ دل ڈولے۔ آپی کا ڈوب ہی گیا۔ ٹھاکر اسے محفل سے اٹھا کر اندر لے گیا، شربت شیرا پلانے کو۔ پھر وہیں لٹا دیا۔ پھر خواجہ کے گیت چلے تو میں بھی بھیگ گئی۔ آنکھیں بھر بھر آئیں۔ میں حیران میں تو کچھ مانگ نہیں رہی۔ میں تو التجا نہیں کر رہی۔ میں تو اک تاجر ہوں۔ پیسہ کمانے کے لیے آئی ہوں۔ میری آنکھیں کیوں بھر بھر آئیں خواہ مخواہ۔ سو میں بنا سوچے گائے چلی گئی۔ آنکھیں بھر بھر آتی رہیں۔ دل کو کچھ کچھ ہوتا رہا۔ پر میں بھیگ بھیگ کر گاتی رہی۔ سمے بیت گیا اور مجھے دھیان ہی نہ آیا کہ میں اس کے سمے میں پاؤں دھر چکی ہوں۔ آپی تھی نہیں جو مجھے ٹوکتی۔

اور پھر مجھے کیا پتا تھا کہ خواجہ کون ہے۔ میں نے تو صرف نام سن رکھا تھا۔ اس کے گیت یاد کر رکھے تھے۔ میں تو صرف یہ جانتی تھی کہ وہ غریب نواز ہے۔ میں توغریب نہ تھی۔ مجھے کیا پتاتھا کہ مجھے بھی نواز دے گا۔ خواہ مخواہ، زبردستی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ اس میں اتنی بھی سدھ بدھ نہیں کہ کون پکاررہا ہے۔ کون گارہا ہے۔ کون منگتا ہے۔ کون خالی جھولی پھیلا رہا ہے۔ کون بھری جھولی سمیٹ رہا ہے۔ میں تو یہی سنتی آئی تھی کہ دکھی لوگ پکار پکار کر ہار جاتے ہیں، پر کوئی سنتا نہیں۔ مجھے کیا پتاتھا کہ اتنا دیالو ہے۔ اتنا نیڑے ہے۔ اتنے کان کھڑے رکھتاہے۔

پھر ٹھاکر بولا، ’’سنہری بائی، بس اک آخری فرمائش، خواجہ پیاموری رنگ دے چنریا۔ ایسی بھی رنگ دے رنگ نہ چھوٹے۔ دھوبیا دھوئے جائے ساری عمریا۔‘‘

پھر مجھے سدھ بدھ نہ رہی۔ ایسی رنگ پچکاری چلی کہ میں بھیگ گئی۔ اور میں ہی نہیں ساری محفل رنگ رنگ ہوگئی۔ انگ انگ بھیگا۔ خواجہ نے رنگ گھاٹ بنا دیا۔ گھر پہنچی تو گویا میں، میں نہ تھی۔ دل رویا رویا۔ دھیان کھویا کھویا۔ کسی بات میں چت نہ لگتا۔ بیٹھک بے گانہ دکھتی۔ ساز میں طرب نہ رہا۔ سارنگی روئے جاتی۔ استاد نکو خاں بجاتے پروہ روئے جاتی۔ طبلہ سر پیٹتا۔ گھنگھرو کہتے پاؤں میں ڈال اور بن کو نکل جا۔ وہاں اس کا جھومر ناچ جو پتے پتے ڈال ڈال سے جھانک رہا ہے۔

روز دن میں تین چار بار ایسی رقت طاری ہوتی کہ بھیں بھیں کر روتی۔ پھر حال کھیلنے لگتی۔ پیلی حیران، روپہ کا منہ کھلا، آپی چپ، یہ کیا ہورہا ہے۔ جب آٹھ دن یہی حالت رہی بلکہ اور بگڑ گئی تو آپی بولی بس پتر، تیرا اس بیٹھک سے بندھن ٹوٹ گیا۔ دانا پانی کھتم ہوگیا۔ تونے اس کے سمے میں پاؤں دھر دیا۔ اس نے تجھے رنگ دیا۔ اب تو اس دھندے جوگی نہیں رہی۔

’’پر کہاں جاؤں آپی؟ اس بیٹھک سے باہر پاؤں دھرنے کی کوئی جگہ بھی ہو میرے لیے۔‘‘

’’جس نے بلایا ہے اس کے دربار میں جا۔‘‘ روپہ بولی۔

’’اس بھیڑ میں جائے۔‘‘ آپی بولی، ’’یہ لڑکی جائے جس کا سنہری پنڈا کپڑوں سے باہر جھانکتاہے۔ نہیں، یہ کہیں نہیں جائے گی۔ اسی کوٹھری میں رہے گی۔ بیٹھک میں پاؤں نہیں دھرے گی۔‘‘

پھر پتا نہیں کیا ہوا۔ رقت ختم ہوگئی۔ دل میں اک جنون اٹھا کہ کسی کی ہو جاؤں۔ کسی ایک کی۔ تن من دھن سے اسی کی ہو جاؤں۔ ہورہوں۔ وہ آئے تو اس کے جوتے اتاروں۔ پنکھا کروں۔ پاؤں دابوں۔ سر میں تیل کی مالش کروں۔ اس کے لیے پکاؤں۔ میز لگاؤں۔ برتن رکھوں۔ اس کی بنیانیں دھوؤں۔ کپڑے استری کروں۔ آرسی کا کول بناؤں پھر سرہانے کھڑی رہوں کہ کب جاگے، کب پانی مانگے۔

ایک دن آپی بولی، ’’اب کیا حال ہے دھیے؟‘‘ میں نے رو رو کے ساری بات کہہ دی کہ، ’’کہتے ہیں کسی ایک کی ہوجا۔‘‘

بولی، ’’وہ کون ہے؟ کوئی نظرمیں ہے کیا؟‘‘

’’اونہہ۔ کوئی نظر میں نہیں۔‘‘

’’ناک نقشہ دکھتا ہے کبھی؟‘‘

’’نہیں آپی۔‘‘

’’کوئی بات نہیں‘‘ وہ بولی، ’’جو کھونٹی پر لٹکانا مقصود ہے تو آپ کھونٹی بھیجے گا۔‘‘

دس ایک دن کے بعد جب بیٹھک راگ رنگ سے بھری ہوئی تھی تو میری کوٹھری کا دروازہ بجا۔آپی داخل ہوئی بولی، ’’خواجہ نے کھونٹی بھیج دی۔ اب بول کیاکہتی ہے؟‘‘

’’کون ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کوئی زمیندار ہے۔ ادھیڑ عمر کاہے۔ کہتا ہے بس ایک بار بیٹھک میں آیاتھا۔ سنہری بائی کو سنا تھا۔ جب سے اب تک اس کی آوازکانوں میں گونجتی ہے۔ دل کو بہت سمجھایا۔ توجہ بٹانے کے بہت جتن کیے۔ کوئی پیش نہیں گئی۔ اب ہارکے تیرے در پر آیا ہوں۔ بول تو کیا کہتی ہے؟ منہ مانگا دوں گا۔‘‘

میں نے کہا، ’’دے دے۔ سال کے لیے بخش دے۔ جیسی تیر ی مرضی۔‘‘ آپی ہنسنے لگی۔ پھر بولی، ’’چل بیٹھک میں اسے دیکھ لے ایک نظر۔‘‘

’’اونہوں‘‘ میں نے سرہلایا، ’’نہیں آپی۔ انہوں نے بھیجا ہے تو ٹھیک ہے۔ دیکھنے کا مطلب۔‘‘

’’کتنی دیر کے لیے مانگوں؟‘‘

’’جیون بھر کے لیے۔‘‘

’’سوچ لے، جوا وباش نکلا تو؟‘‘

’’پڑا نکلے۔ کیسا بھی ہے جیسا بھی نکلے۔‘‘

اگلے دن بیٹھک میں ہمارا نکاح ہوگیا۔ زمیندار نے پیسے کا ڈھیر لگا دیا۔آپی نے رد کر دیا لوٹا دیا۔ بولی، ’’سودا نہیں کررہی۔ اپنی دھی وداع کر رہی ہوں۔ اور یاد رکھ یہ خواجہ کی امانت ہے۔ سنبھال کر رکھیو۔‘‘

حویلی یوں اجڑی تھی جیسے دیو پھر گیا ہو۔

ویسے تو سبھی کچھ تھا۔ سازو سامان تھا۔ آرائش تھی۔ قالین بچھے ہوئے تھے۔ صوفے لگے ہوئے تھے۔ قد آدم آئینے۔ جھاڑ فانوس سبھی کچھ۔ پھر بھی حویلی بھائیں بھائیں کررہی تھی۔ برآمدے میں آرام کرسی پر چھوٹی چودھرانی بیٹھی ہوئی تھی۔ سامنے تپائی پر چائے کے برتن پڑے تھے۔ مگر اسے خبر ہی نہ تھی کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی ہے۔ اسے تو خود کی سدھ بدھ نہ تھی کہ کون ہے، کہاں ہے، کیوں ہے۔ اوپر سے شام آرہی تھی۔ سمے کو سمے ٹکراتی۔ اداسیوں کے جھنڈے گاڑتی۔ یادوں کے دیےجلاتی۔ بیتی باتوں کے الاپ گنگناتی۔ دبے پاؤں۔ مدھم۔ یوں جیسے پائل کی جھنکار بیرنیا ہو۔

دور، اپنے کوارٹر کے باہر کھاٹ پر بیٹھے ہوئے چوکیدار کی نگاہیں چھوٹی چودھرانی پر جمی ہوئی تھیں۔ حقے کا سونٹا لگاتا اور پھر سے چھوٹی چودھرانی کو دیکھنے لگتا۔ یو ں جیسے اسے دیکھ دیکھ کر دکھی ہواجارہا ہو۔ دوسری جانب گھاس کے پلاٹ کے کونے پر بوڑھا مالی پودوں کی تراش خراش میں لگا تھا۔ ہر دو گھڑی کے بعد سراٹھاتا اور چھوٹی چودھرانی کی طرف ٹکٹکی باندھ کر بیٹھ جاتا۔ پھر چونک کر لمبی ٹھنڈی سانس بھرتا اور پھر سے کاٹ چھانٹ میں لگ جاتا۔

جنت بی بی، جو چھوٹی چودھرانی کا کھانا پکاتی تھی، دو تین بار برآمدے کے پرلے کنارے پر کھڑی ہو کر اسے دیکھ گئی تھی۔ جب دیکھتی تو اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی تھیں۔ پلو سے پونچھتی پھر لوٹ جاتی۔ ارے نوکر کمین چھوٹی چودھرانی پر جان چھڑکتے تھے۔ اس کے غم میں گھلے جارہے تھے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس پر سخت ناراض بھی تھے۔ اس نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی کیوں ماری تھی؟ کیوں خود کو دوجوں کا محتاج بنا لیا تھا؟ کیوں؟ اپنی اولاد ہوتی تو پھر بھی سہارا ہوتا۔ اپنی اولاد بھی تو تھی نہیں۔

جب چودھری مرنے سے پہلے بقائمی ہوش و ہواس اپنی آدھی غیر منقولہ جائیداد چھوٹی چودھرانی کے نام گفٹ کر گیا تو اسے کیا حق تھا کہ اپنا تمام حصہ بڑی چودھرانی کے دونوں بیٹوں میں تقسیم کردے۔ اگر ایک دن بڑی چودھرانی نے اسے حویلی سے نکال باہر کیا تو وہ کیا کرے گی؟ کس کا در یکھے گی؟

ایک طرف تو اتنی بے نیازی کہ اتنی بڑی جائیداد اپنے ہاتھ سے بانٹ دی اور دوسری طرف یوں سوچوں میں گم تصویر بن کر بیٹھ رہتی ہے۔ سارے ہی نوکر حیران تھے کہ چھوٹی چودھرانی کس سوچ میں کھوئی رہتی ہے۔ چودھری کو مرے ہوئے تین مہینے ہو گیے تھے۔ جب سے یونہی حواس گم قیاس گم بیٹھی رہتی ہے۔ اور پھر ٹوٹتی رات سمے اس کے کمرے سے گنگنانے کی آواز کیوں آتی ہے؟ کس خواجہ پیا کو بلاتی ہے؟ خواجہ پیا موری لیجو خبریا۔ کون خبر لے؟ کیسی خبر لے؟ چھوٹی چودھرانی پر انہیں پیار ضرور آتا تھا۔ پر اس کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ کس سوچ میں پڑی رہتی ہے۔

چھوٹی چودھرانی کو صرف ایک سوچ تھی۔ اندر سے ایک آواز اٹھتی۔ بول تیرا جیون کس کام آیا؟ وہ سوچ سوچ ہار جاتی، پر اس سوال کا جواب ذہن میں نہ آتا۔ الجھے الجھے خیال الجھاتے۔ مجھے چمن سے اکھیڑا۔ بیل بنا کر اک درخت کے گرد گھما دیا اور اب اس درخت کو اکھیڑ پھینکا۔ بیل مٹی میں مل گئی۔ اب یہ کس کے گرد گھومے؟ بول میرا جیون کس کام آیا؟ دفعتاً اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کے روبرو کھڑا ہے۔ سر اٹھایا۔ سامنے گاؤں کا پٹواری کھڑا تھا۔

’’کیاہے؟‘‘ وہ بولی۔

’’میں ہوں پٹواری، چھوٹی چودھرانی جی!‘‘

’’توجا، جا کر بڑی چودھرانی سے مل۔ مجھ سے تیرا کیا کام؟‘‘

’’آپ ہی سے کام ہے۔‘‘ وہ بولا۔

’’تو بول کیا کہتا ہے؟‘‘

’’گاؤں میں دو درویش آئے ہیں۔ گاؤں والے چاہتے ہیں انہیں چند دن یہاں روکا جائے۔جو آپ اجازت دیں تو آپ کے مہمان خانے میں ٹھہرا دیں۔‘‘

’’ٹھہرا دو۔‘‘ وہ بولی۔

’’نوکر چاکر، بندوبست۔۔۔‘‘ وہ رک گیا۔

’’سب ہوجائے گا۔‘‘

پٹواری سلام کرکے جانے لگا تو پتا نہیں کیوں اس نے سرسری طور پر پوچھا، ’’کہاں سے آئے ہیں؟‘‘

پٹواری بولا، ’’اجمیر شریف سے آئے ہیں۔ خواجہ غریب نواز کے فقیر ہیں۔‘‘ اک دھماکہ ہوا چھوٹی چودھرانی کی بوٹیاں ہوا میں اچھلیں۔ اگلی شام چھوٹی چودھرانی نے جنت بی بی سے پوچھا، ’’جنت یہ جو دو درویش ٹھہرے ہوئے ہیں یہاں، ان کے پاس گاؤں والے آتے ہیں کیا؟‘‘ جنت بولی، ’’لو چھوٹی چودھرانی وہاں تو سارا دن لوگوں کا تانتا لگا رہتاہے۔ بڑے پہنچے ہوئے ہیں۔ جو منہ سے کہتے ہیں ہو جاتا ہے۔‘‘

’’تو تیارہوجا۔ جنت ہم بھی جائیں گے۔ تو اور میں۔‘‘

’’چودھرانی جی وہ مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے۔‘‘

’’توچل تو سہی۔‘‘ چودھرانی نے خود کو چادر میں لپیٹتے ہوئے کہا، ’’اور دیکھ وہاں مجھے چودھرانی کہہ کرنہ بلانا۔ خبردار!‘‘

جب وہ مہمان خانے پہنچیں تو دروازہ بند تھا۔ جنت نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کون ہے؟ اندر سے آواز آئی۔ جنت نے پھر دستک دی۔ سفید ریش بوڑھے خادم نے دروازہ کھولا۔ جنت زبردستی اندر داخل ہو گئی۔ پیچھے پیچھے چودھرانی تھی۔ سفید ریش گھبرا گیا۔ بولا، ’’سائیں بادشاہ مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے۔ وہ اس کمرے میں مشغول ہیں۔‘‘

’’ہم سائیں بادشاہ سے ملنے نہیں آئے۔‘‘ چھوٹی چودھرانی بولی۔

’’تو پھر؟‘‘ سفید ریش گھبرا گیا۔

’’ایک سوال پوچھنا ہے۔‘‘ چودھرانی نے کہا۔

’’سائیں بابا اس سمے سوال کا جواب نہیں دیں گے۔‘‘

’’سائیں بابا نے جواب نہیں دینا۔ انہوں نے پوچھناہے۔‘‘ وہ بولی۔

’’کس سے پوچھناہے؟‘‘ خادم بولا۔

’’اس سے پوچھنا ہے جس کے وہ بالکے ہیں۔‘‘ یہ سن کر سفید ریش خادم سن ہو کر کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔

’’ان سے پوچھو۔۔۔‘‘ چھوٹی چودھرانی نے کہا، ’’ایک عورت تیرے دوار پر کھڑی پوچھ رہی ہے اے غریب نواز بتا کہ میرا جیون کس کام آیا؟‘‘

کمرے پر منوں بوجھل خاموشی طاری ہو گئی۔

چھوٹی چودھرانی بولی، ’’کہو وہ عورت پوچھتی ہے تو نے بیٹھک کے گملے سے اک بوٹا اکھیڑا۔ اسے بیل بنا کر ایک درخت کے گرد لپیٹ دیا کہ جا اس پر نثار ہوتی رہ۔‘‘ وہ رک گئی۔ کمرے کی خاموشی اور گہری ہوگئی، ’’اب تونے اس درخت کو اکھیڑپھینکا ہے۔ بیل مٹی میں رل گئی۔ وہ بیل پوچھتی ہے بول میرا جیون کس کام آیا؟‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئی۔

’’تیرا جیون کس کام آیا۔ تیرا جیون کس کام آیا۔‘‘ سفید ریش خادم کے ہونٹ لرزنے لگے۔

’’تو پوچھتی ہے تیرا جیون کس کام آیا؟‘‘ وہ رک گیا۔ کمرے کی خاموشی اتنی بوجھل ہوگئی کہ سہاری نہیں جاتی تھی۔

’’میری طرف دیکھ۔‘‘ سفید ریش خادم نے کہا، ’’سنہری بائی، میری طرف دیکھ کہ تیرا جیون کس کام آیا۔ مجھے نہیں پہچانتی؟ میں تیرا سارنگی نواز تھا۔ دیکھ میں کیا تھا کیا ہو گیا۔‘‘

چھوٹی چودھرانی کے منہ سے ایک چیخ نکلی، ’’استاد جی، آپ؟‘‘ وہ استاد کے چرن چھونے کے لیے آگے بڑھی۔ عین اسی وقت ملحقہ کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک بھاری بھرکم نورانی چہرہ برآمد ہوا۔

’’سنہری بی بی!‘‘ وہ بولا، ’’مجھ سے پوچھ تیرا جیون کس کام آیا؟‘‘

چھوٹی چودھرانی نے مڑ کر دیکھا، ’’ٹھاکر!‘‘ وہ چلائی۔

ٹھاکر بولا، ’’اب ہمیں پتاچلا کہ سرکارنے ہمیں ادھر آنے کاحکم کیوں دیا تھا۔‘‘ اس نے سنہری بی بی کے سامنے اپنا سرجھکا دیا۔ بولا، ’’بی بی ہمیں آشیر باددے۔‘‘

مصنف:ممتاز مفتی

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here