عجیب لطف محبت کی داستان میں ہے

0
117
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

عجیب لطف محبت کی داستان میں ہے

وفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہے

نہ وہ زمیں پہ کہیں ہے نہ آسمان میں ہے

پرندہ اس لیے محفوظ ہے اڑان میں ہے

نشاط سایہ نے معذور کر دیا اس کو

- Advertisement -

وہ کیسے دھوپ میں نکلے جو سائبان میں ہے

نصیب دیکھیے مالک تو ہو گیا بے گھر

کرایہ دار ابھی تک اسی مکان میں ہے

خلوص و مہر و وفا کی نہیں کوئی قیمت

وہ مال بکتا نہیں جو مری دوکان میں ہے

فلاں کی بات فلاں نے سنی فلاں سے کہی

بس اتنی بات پہ ہنگامہ خاندان میں ہے

ظفرؔ بتا تو سہی کیوں ہے اتنی بے خبری

دماغ کون سے دل کون سے جہان میں ہے

مأخذ : ٹک ٹک دیدم

شاعر:ظفر نسیمی

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here