تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

0
134
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

اس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی

تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میں

کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

زاویہ کیا ہے جو کرتا ہے تجھے سب سے الگ

- Advertisement -

کیوں ترے بعد کسی اور کی حسرت نہیں کی

آئے اور آ کے چلے بھی گئے کیا کیا موسم

تم نے دروازہ ہی وا کرنے کی ہمت نہیں کی

اپنے اطوار میں کتنا بڑا شاطر ہوگا

زندگی تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی

ایک اک سانس کا اپنے سے لیا سخت حساب

ہم بھی کیا تھے کبھی خود سے بھی مروت نہیں کی

شاعر:ظفر گورکھپوری

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here