نئی بہوکے نئے عیب

0
146
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

لوآج صبح ہی سے انہوں نے پھرشورمچانا شروع کردیا۔

’’اے بہن کیاپوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہورہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ہرآئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کربیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری۔ پھوہڑمیں۔ بچوں کورکھنا میں نہیں جانتی۔ اپنے بچوں سے مجھے دشمنی۔ میاں کی میں بیری۔ غرض کہ کوئی برائی نہیں جو مجھ میں نہیں اورکوئی خوبی نہیں جوان میں نہیں۔ اگر میں کھانا پکاؤں تو زبان پررکھ کرفوراً تھوک دیں گی اور وہ نام رکھیں گی کہ خدا کی پناہ کہ دوسرا بھی نہ کھاسکے۔

شروع شروع میں تومجھے کھانا پکانے میں کافی دلچسپی تھی۔ تم جانتی ہو کہ اپنے گھرپربھی اکثرپکالیتی تھی اورمیری اماں کواتنا اچھا کھاناپکانا آتاہے کہ اپنے رشتے داروں میں ہرجگہ مشہور ہیں۔ یہاں توجوپکایا اس میں برائی نکلی کہ نمک تودیکھو زہر۔ مزاایساکہ مٹی کھالو۔ ایک دن خودد ہی بڑے پکائے۔ اتنے برے پکائے کہ ہمارے سسر نے کہاکہ ایسے واہیات بڑے کس نے بنائے ہیں۔ خوب بڑبڑائیں کہ بس تمہیں توبہو کے ہاتھ کی چیزیں اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ ساری عمریہی توپکاپکاکرکھلاتی رہی ہے۔ اب میں کیابولتی۔ خوب ہنسے کہ لوتمہارا صبرپڑا۔ میں نے سوچا کہ کام کرو اور باتیں بھی سنو تو اس سے بہترنہ ہی کرو۔ کھانے پکانے پرہی کیاہے۔

سینے پرونے میں جوکبھی کبھار ایک آدھ چیزدرزی سے سلوالوں توبس پھرسنو۔ مہینوں ہرآئے گئے کے سامنے تذکرہ ہوتاہے کہ ہماری بہوصاحب تومیم صاحب ہیں۔ وہ تودرزی سے سلواتی ہیں۔ ہرچیزدرزی سے سلواتی ہیں۔ ہرچیز اپنی، بچوں کی، ان کے کرتے پاجامے خود ہی سیتی ہوں لیکن کبھی کبھار کسی نئی قسم کی بلاؤز یا کوٹ کودل چاہنے لگے تو درزی کودے دیتی ہوں۔ چھپاکردیتی ہوں۔ پھربھی ان کے اتنے مخبر میرے پیچھے لگے رہتے ہیں کہ ہربات کی خبر کرہی دیتے ہیں۔ جب میں نئی نئی آئی تھی توان کاایک چکن کاکرتا میں نے سی دیاتھا۔ ہرایک کودکھایاگیا اور برائی کی گئی۔ جودیکھے چپ ہوجائے۔ اچھے خاصے کرتے کی کوئی کیسے برائی کردے۔

جب کسی نے برائی نہ کی تواس کوسارے کو ادھیڑڈالا گیااور پھرکسی اور سے سلوایا۔ دل تومیرا بھی چاہا کہ اب سب کو دکھاؤں لیکن میں یہ کیسے کرسکتی تھی۔ وہ بڑا ہونے اور ساس بننے کافائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہروقت پڑھالکھاہونے کا طعنہ ہے۔ کوئی کتاب میرے ہاتھ میں دیکھیں تو جل جاتی ہیں۔ کسی کو خط لکھتادیکھ لیں تو سمجھتی ہیں کہ ان ہی کی برائی میں لکھ رہی ہوں۔ کوئی بات ہی ان کومیری پسندنہیں۔ اورسب سے بری بات جولگتی ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی کبھی خوش نہ رہیں۔ کبھی اگریہ کچھ میرے لیے لے آئیں اورخبر ہوجائے تو جل بھن کر رہ جاتی ہیں اوراٹھتے بیٹھتے ان کوطعنے ہیں کہ ’’تم توبیوی کے غلام ہو۔‘‘ہروقت میری برائی ان کے سامنے کرتی ہیں۔ وہ سن کرٹال جاتے ہیں۔ کبھی ماں سے بگڑبھی جاتے ہیں اورکبھی ہنس کرکہہ بھی دیتے ہیں کہ ’’ہاں بہت بری ہے اماں، میری دوسری کردو۔‘‘

- Advertisement -

اس وقت تو ان کو باتیں سناتی ہیں کہ ’’جو تمہارے میں یہ ہمت ہوتی تو یہ سرہی کیوں چڑھتی۔‘‘اور دوسروں کے سامنے کہتی پھرتی ہیں کہ میرا لڑکا تواپنی قسمت کوروتاہے۔ مجھ سے کہتاہے کہ دوسری کردو۔ وہ تومیں ہی ہوں کہ اپنے بچے پر ان بیوی کے لیے ظلم کررہی ہوں۔ کوئی دوسری والی ہوتی تو کبھی کاکردیتی۔ نہ اِس کروٹ چین ہے نہ اُس کروٹ۔

بچوں کے اوپرلو۔ بالکل ناس ہوگیاہے۔ جس بات کو میں ناکہوں گی یہ نا۔ جس بات کومنع کروں گی یہ ضرور کرکے دیں گی۔ باہرکوئی سودے والا پکارے۔ بچے توضرور مانگیں گے۔ مجھے یہ سودے والوں سے مکھیوں کابھنکتا سودا بچوں کولے کر دیناپسندنہیں۔ میری ضد میں ضرور لے کردیں گی۔ پچھلے سال برسات میں بڑے لڑکے کوملائی کی برف کھاکروہ زورکا بخار چڑھا، دومہینے لیے بیٹھی رہی۔ اس میں ہروقت لڑائی کہ بچے کوبھوکامارے دے رہی ہے۔ انجکشن لگوالگواکر کر چھید کردیے۔ روزنئے نئے تعویذ آتے تھے اور ساتھ ہی مولوی صاحب جھاڑپھونک کے واسطے لائے جاتے تھے۔ جب کسی طرح نہیں مانیں تو میں بیماربچے کواٹھاکرہوسپٹل لے گئی کہ کچھ آرام ملے۔ وہ توکہو بے چاری ڈاکٹرنی میری دوست ہے۔ ورنہ کون کسی کی بات سنتا ہے۔ یہ وہاں بھی جاکرچارباتیں ڈاکٹروں، نرسوں کو اوردس مجھ کوسناآتی ہیں۔

بچوں کووقت پردودھ دینے کی ہماری ساس ایسی دشمن ہیں کہ کیا بتاؤں۔ وہ کہتی ہیں کہ ماں ہوکر بچوں کی دشمن ہوں۔ بچے پھڑکتے رہیں اور میں بیٹھی دیکھتی رہتی ہوں اورمیرا دل پتھرکاہے۔ میں بچوں کو پیداہوتے ہی کسی پھل کاعرق یعنی نارنگی یا سیب کادیتی ہوں۔ جب پہلے بچے کومیں نے دیاتوکھڑی اوربیٹھی پیٹتی تھیں کہ میں ہرگزنہیں دینے دوں گی۔ یہ تو بچے کو نمونیا کرکے مارناچاہتی ہے۔ ہمارے سسر بے چارے بڑے نیک ہیں۔ انہوں نے سمجھایا۔ جب یہ کسی طرح نہیں مانیں تو مجھے میرے میکے چھوڑآئے۔ چھ مہینے وہاں رہی۔ پھریہ جاکرلے آئے۔ مہینوں بات نہیں کی۔ رات کوکہتی تھیں کہ بچے کواپنے پاس سلاؤ۔ میں الگ سلاتی ہوں تو ظلم کرتی ہوں۔ میرے توتین بچے ہیں۔ سب پہلے دن سے الگ سوتے ہیں کہ کوئی بھوت پریت چمٹ جائے گا۔ بچے کو اٹھاکراپنے پاس سلاتی تھیں۔ اورتواور۔۔۔ رات کودیکھو تودودھ کٹوری سے بتی ڈال کر پلارہی ہیں۔ جومیں منع کروں تو اٹھواروں کی ٹھن جاتی ہے۔ ہربچے پراسی طرح دق کرتی ہیں۔

مجھ کوگندہ، پھوہڑ نہ معلوم کیا کیا کہتی ہیں۔ ذرا ان کی طرف جاکردیکھو۔ ہرطرف پیک پڑی ہوئی، مکھیاں بھنکتی ہوئیں۔۔۔ اس کا نام صفائی ہے۔ اگال دان پاس رکھاہے لیکن صحن میں جب تھوکیں گی تو زمین پر۔ پاس بیٹھتے ہوئے گھن آتی ہے۔ لیکن میں جوہرچیز جگہ پررکھتی ہوں، چلمن مکھیوں کی وجہ سے ڈالتی ہوں توگندی ہوں۔

اب سال بھر سے یہ خفگی کہ چولھاالگ کرلیا۔ اب کوئی کسی وقت بھی دونوں باورچی خانے جاکے دیکھ لے۔ میرے ہاں کبھی نہ ترکاری پھیلی ملے گی نہ برتن۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میرے ہاں ایک بھی مکھی نہ ملے گی۔ ان کے ہاں ہروقت مکھیوں کی بارات لگی ہے۔ کہتی ہیں کہ میں ہرجگہ میں فنائل ڈال ڈال کر نحوست پھیلاتی ہوں۔ ان کے خیال میں توسلیقہ کے یہ معنی ہیں کہ نوکروں کوخوب تنگ کرو۔ پیٹ بھرکھانے کونہ دو۔ ہرایک کی روٹی اورچاول اوردال کو بیٹھے بیٹھے گناکرو۔ نوکربھی تو آدمی ہوتے ہیں۔ دوروزمیں گھبراکربھاگ جاتے ہیں۔ میں نوکروں کے لیے کپڑے بناتی ہوں۔ زبردستی نہلواکربدلواتی ہوں توکہتی ہیں کہ میاں کے روپے کادرد نہیں۔ نوکروں کوبادشاہ بنارکھا ہے اورایک الزام یہ بھی ہے کہ ان کے نوکرمیرے نوکروں کو دیکھ کر خراب ہوئے ہوجاتے ہیں۔ میں گھر کے سب آدمیوں کوبگاڑدیتی ہوں۔

اورتواور۔۔۔ گھرمیں کوئی آجائے تو خفاہوتی ہیں کہ سامنے کیوں ہوتی ہو۔ پردہ کیوں نہیں کرتیں۔ اب ان کے کئی دوست ہیں، جن سے بے تکلفی ہے۔ بھابی بھابی کرتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ یہ گھرپرنہ ہوئے، بس قیامت اٹھالی کہ میم بن گئی ہے۔ مردوں سے ملتی ہے۔ بے شرم ہے۔ نہ معلوم کیاکیاکہا۔ جومیں نے کہاکہ آپ کی لڑکی بھی توبے پردہ نکلتی ہے۔ اس کامیاں توزبردستی نکالتاہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ تو اتنی نیک ہیں کہ ان کانکلنے کوجی نہیں چاہتا اور میاں کے ظلم سے باہر نکلتی ہیں۔ میں اتنی خراب ہوں کہ میاں کے مرضی کے خلاف نکلتی ہوں۔ ہرایک کے سامنے یہی کہتی ہیں کہ اپنی شرم کو غصہ کا گھونٹ پی کرچپ ہوجاتاہے۔

ہماری نند توکسی مدرسے میں بھی نہیں پڑھیں۔ شادی کے بعدمیاں نے پڑھوایالکھوایا۔ ہرجگہ آتی جاتی ہیں اور ہماری ساس کوبھی اچھی طرح معلوم ہے لیکن چھپاجاتی ہیں۔ پچھلی دفعہ جب آئیں تو میں نے اماں کے سامنے ہی پوچھا کہ سچ بتاؤ کیا زبردستی کی جاتی ہے جب باہر نکلتی ہو یااپنی مرضی سے۔ وہ بولیں کیوں کیا بات ہے؟ میں تواپنی مرضی سے نکلتی ہوں۔ اب مجھے کوئی پردے میں رکھنا بھی چاہے تو نہ رہوں۔ توہماری ساس سن کرکیاکہتی ہیں کہ میرے لڑکے کو تومجھ سے چھڑالیاہے۔ اس کے دل میں میری نفرت بٹھادی۔ اب میرے دوسرے بچوں پربھی ہاتھ صا ف کرو۔ میرے ہربچے کے سامنے میری برائی کیاکرو۔ الٹ بھی ان کاپلٹ بھی ان کا۔ وہی کام میں کروں تو برا ہوجاتاہے اوران کی لڑکی کریں تو اچھا ہوجاتاہے۔

ان کوکبھی میرے سے ہنس کربات کرتے تودیکھ ہی نہیں سکتیں۔ انہیں سب سے زیادہ رنج اس بات کا ہے کہ یہ مجھ سے کیوں محبت کرتے ہیں۔ میں کمرے میں آئی اورجویہ خوش ہوکرمجھ سے بول لیے توغضب ہوجاتاہے۔ اور تواور۔۔۔ ہروقت میری صورت کی برائی ان کے سامنے ہوتی ہے۔ ان کوبھی شرارت سوجھتی ہے توکہہ دیتے ہیں کہ اماں اور توسب عیب ہیں لیکن شکل توبہت اچھی ہے۔ کہنے لگتی ہیں کہ شرم نہیں آتی جورو کی تعریف میرے سامنے کرتا ہے۔ پھرتووہ میری تعریف کرتی ہیں۔ ان کوہنسی آتی رہتی ہے۔ میرادل جل جاتاہے۔ میں چپکی اٹھ کرچلی آتی ہوں۔

ہروقت میرا اپنا مقابلہ بیٹے کے سامنے کرتی رہتی ہیں۔ بھلاکہاں ماں کہاں بیوی۔ ان کاتو اس دن کلیجہ ٹھنڈا ہوجس دن یہ مجھے یاتوماریں یاگھرسے نکال دیں یادوسری شادی کرلیں۔ اوربھی جومیری دیورانیاں، جٹھانیاں ہیں وہ الگ الگ شہروں میں ہیں۔ جب وہ آجاتی ہیں تو تھوڑے دن تو ان کی خاطرہوتی ہے، پھران میں بھی عیب نکلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اورپھریہ ہوتا ہے کہ میں نے سب کوبلاکر ان کے خلاف ’’مس کوٹ‘‘ بنائی ہے۔ بری توسب ہی بہوئیں ہیں لیکن سب سے بری میں ہوں اور بدقسمتی سے تھوڑی پڑھی لکھی ہوں تومیم صاحب کا خطاب مل گیاہے۔ میں تو جب یہ اپنی بڑبڑاہٹ شروع کرتی ہیں تومیں ادھر جاکرکواڑبند کرکے کچھ کام کرنے لگتی ہوں کہ نہ سنوں گی نہ برالگے گا۔ اب صبح سے اس بات پربڑبرارہی ہیں کہ بچوں کو میں نے کل ٹائیفائڈ کے ٹیکے لگوادیے۔ ان کوتھوڑا بخار ہے۔ بڑا لڑکا بہت لاڈلا ہے۔ وہ جاکرپاس لیٹ گیا۔ اس کے سرپر ہاتھ رکھ کر جوباتیں سنانی شروع کی ہیں، اب دوگھنٹے توہوگئے۔ ابھی دیکھوکب تک سلسلہ چلتاہے۔

مصنف:سجاد ظہیر

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here