دستخط

0
218
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

وہ نشے میں د ھت مسلسل رم پیے جا رہا تھا۔ پا ر ٹی ختم ہو چکی تھی۔ سب رقص و سرور سے مدہوش جا چکے تھے۔ایک وہ اور ایک لڑکا جو اس کا سا تھ دے رہا تھا۔۔۔ وہ خود تو ریڈ بئیر تک محدود تھا اور بہت کم لے رہا تھا مگر اپنے باس کا ساتھ زر خرید غلام کی طرح سے دے رہا تھا۔

بس ایک بار۔۔۔

ایک بار۔۔۔

وہ مجھے مل جائے تو۔۔۔

کسی بھی قیمت پر۔۔۔

- Advertisement -

ایک بار۔۔۔، بس ایک بار۔۔۔ کسی بھی قیمت پر۔۔۔

تو زند گی میں لو ٹ۔۔۔ لوٹ آؤں گا

کسی بھی قیمت پر۔۔۔

وہ نشے کی حالت میں بس یہی الفاظ دہر ائے جا رہا تھا۔ اس لڑکے کو سمجھ آ گیا کہ اس شریف باس کی اس کمزوری سے بہتر اب کوئی اور شے نہیں۔ وہ اسے سنتا رہا ۔۔۔ سمجھتار ہا۔۔۔ باس کو تسلی دیتا رہا۔

سر جی۔۔۔’’ چھوڑیے، ایسی تو آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔‘‘

’’چھوڑئے سر۔۔۔‘‘

’’حکم کریں تو دنیا کی سب سے حسین ہاٹ گرل آپ کے قدموں میں لے آؤں، ایک دفعہ حکم تو کریں۔۔۔‘‘

اس کے لہجے میں اتنا اعتبار تھا جیسے وہ مس یونیورس کو بھی اپنے باس کے قدموں کی خاک بنا سکتا ہو۔

’’نہیں کے جے نہیں یار۔۔۔

بس، وہ۔۔۔ تجھے پتا نہیں۔۔۔

وہ کیا چیز ہے۔۔۔

اپنا دل، پہلی بار دھڑکا ہے کے جے۔۔۔

وہ بھی عمر کے اس حصے میں۔۔۔ جب لوگوں کو دل کے دورے۔۔۔ دورے پڑتے ہیں۔۔۔

اپنا دل دھڑکا ہے۔۔۔

اس میں سورج جیسی گرمی ہے اور چاند سی ٹھنڈک۔۔۔ کے جے وہ ناقابل بیان سراپا ہے۔۔۔ ناقابل بیان۔۔۔ اس میں سے جیسے کوئی لہریں اٹھتی ہیں اور سا منے والوں کو۔۔۔ اپنی لپیٹ میں لے۔۔۔ لے لیتی ہیں۔ یہ وصف تمہیں پتا کن کو ودیت ہوتا ہے۔۔۔۔؟ چھوڑو۔۔۔ کے جے۔۔۔ دل دھڑکا ہے۔۔۔ یار

وہ سمجھ گیا کہ باس سچ میں اب باس وہ نہیں رہا، کچھ ہوا ضرو رہے۔ کہیں کوئی زلزلہ آیا ہے۔ کوئی بڑا جغرافیائی، سمندروں کو ہلا دینے والا طوفان آیا ہے جو اپنے اثرات بہت گہر ے چھوڑ گیا ہے۔ اس کے اندر اک ہلچل سی ہوئی آخر ہے کون؟ جس کو ہر قیمت پر پانے کے لیے۔۔۔

باس کی یہ حالت تو میں نے تب بھی نہیں د یکھی تھی جب انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور بچے چھوڑے تھے۔ اپنی ماں کے بعد اگر انہیں محبت تھی تو وہ اپنے بچوں سے تھی۔ مگر بچوں کو محبت اپنی ماں سے تھی۔ لہٰذا وہ پیسوں کی مشین بنا رہا۔سٹیٹس کا بت، گریڈ ٹونٹی ون کا آفیسر۔ جس پہ معاشرہ رشک کرتا ہے۔

اسے یہ سب سو چتے سوچتے، پیتے پیتے پھر اپنا گریڈ یاد آنے لگا۔ صر ف نائینٹین پلس۔۔۔ اس کی رکاوٹ بھی تو یہی باس تھا۔ یہی اس کا یار، شریف باس، ایک فائل کے سا ئین ہی کی تو با ت ہے۔۔۔

اس کا دھیان پھر اس لڑکی کی طرف چلا گیا

کو ن ہو سکتی ہے وہ پری وش؟

میں بھی تو اس شہر کی ہر پارٹی میں جاتا ہوں تو پھر کیوں نہیں جانتا۔۔۔؟

میری نظروں سے کیوں نہیں گزری؟

اس کے باس نے گلاس میز پر رکھنا چاہا تو اچانک وہ گر کر ٹوٹ گیا۔ اس نے خاموشی سے باس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا۔ اسے ان پر رحم آنے لگا۔

سر چلتے ہیں؟

چلو۔۔۔ لے چلو جہاں چاہو۔۔۔

اس نے انہیں سہا را د یا اور ہو ٹل سے با ہر لے گیا۔ ڈرائیور کو فون کیا وہ پارکنگ سے گاڑی پاس لے آیا۔ دونو ں پچھلی سیٹ پر بیٹھے۔ وہ باس کو اپنے گیسٹ ہوم میں لے گیا۔ اس نے انہیں کمرے تک پہنچایا۔

وہ اسے بھو لنے کے لیے ابھی اور پینا چاہ رہا تھا مگر حالت اب ایک گھونٹ کی اجازت بھی نہیں دے رہی تھی۔

کے جے نے ہمت کی اور پو چھ ہی لیا سر وہ ہے کون؟

’’ہے یار۔۔۔ ایک سنجیدہ لڑکی۔۔۔ گولڈ میڈل دینے گیا تھا اس کو۔۔۔

سنجید ہ ہے، اپنے آپ میں رہنے والی

اپنے گھر میں ر ہنے والی، گھر کی اونچی چار دیواری کے بیچ۔۔۔

ہے یار۔۔۔ وہ ہے۔۔۔

مگر نہیں ہے۔۔۔‘‘

سر وہ کرتی کیا ہے؟ کہاں ملےگی؟

ارے یار نہیں معلوم، کچھ نہیں معلوم۔۔۔ نہیں۔۔۔

میری گاڑی میں ایک رسالہ پڑا ہے

ایک رسالہ۔۔۔

وہ دیکھ۔۔۔ لو۔۔۔

ظالم اپنے ملک کے لیے لکھتی بھی نہیں۔۔۔

’’سر اپنے ملک میں کوئی پڑھتا بھی تو نہیں‘‘ وہ د ھیرے سے بڑبڑایا

اس نے باس کے ڈرائیور کو فون کیا۔ وہ کچھ دیر میں گھر پہنچ چکا تھا۔ کے جے نے اپنے ملازم کو باس کی گاڑی سے رسالہ لا نے کو کہا۔

اتنی دیر میں وہ اپنے و زیٹنگ کارڈ کو غو ر سے د یکھتا رہا، کامران جواد۔۔۔ مگر باس ہمیشہ کے جے ہی کہتا تھا۔ وہ مسکرایا۔۔۔ باس بستر پر دراز ہو چکا تھا۔

اس نے رسالہ غور سے دیکھا، اسے کوئی لڑکی سمجھ نا آئی، وہا ں تو آدھے آرٹیکل لڑکیوں کے تھے اور سب ہی اسے حسین لگ رہی تھیں کیونکہ اس کا ذاتی خیال بھی یہی تھا کہ عورت بدصورت نہیں ہوتی بس کچھ زیادہ حسین ہوتی ہیں کچھ کم۔۔۔

یہاں بھی اسے یہی معمہ نظر آیا

اس نے باس کی طرف دیکھا

’’سر کون سا آرٹیکل؟

وہ جو مشرقی و مغربی تہذیب پر ہے

اس نے پھر سے رسالہ کھولا تو وہی صفحہ اس کے سامنے تھا

’’اوہ‘‘

اوہ لڑکی تو سچ میں حسین ہے مگر گھریلو نہیں لگتی، باس کو چکمہ دے گئی ہے۔۔۔ وہ یہ سوچ کر مسکرانے لگا

جوان ہے حسین ہے۔۔۔ ہاٹ مین چاہتی ہوگی

اسے اپنی جوانی پہ مان ہونے لگا۔ اس نے وہاں سے اس کا ای میل آ ئی ڈی اپنے موبائیل میں نوٹ کر لیا۔ لڑکی کی تصویر میں ایک غرور حسن بھی تھا۔ جو اسے بھا گیا۔ وہ عورت کو تب تک عورت سمجھتا تھا جب تک کہ اس کے غرور کو توڑ نا دے۔ اس کے بعد کوئی عورت اس کے قابل نہیں رہتی۔

’’یک نا شد، دو شد ‘‘

وہ زیرلب مسکرایا۔ با س نیم غنودگی کے عالم میں وقفے وقفے سے وہی جملے دہرا رہا تھا۔ اس نے ہمددردانہ باس پہ ایک نظر ڈالی۔ اٹھا اور ایک سائیڈ لیمپ جلا دیا۔ باقی کی تما م روشنیاں گل کر دیں اور آہستگی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر کھڑے ملازم کو آ نکھو ں کے اشارے سے سمجھایا کہ صاحب کا خیال رکھنا اور رسالہ اٹھائے باہر نکل گیا۔ اسے دیکھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹاٹ کی۔ وہ بےنیازی سے، سوچوں میں گم پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

’’گھر چلو ‘‘

بس اس نے انہی دو الفاظ کا سہارا لیا۔ سارے رستے اسے لڑکی کے حسن کا غرور دکھائی دیتا رہا، جو اس کا اصل حسن تھا۔ حسن بھی کیا شے ہے، غرور کے بنا سجتی ہی نہیں، ٹوٹے بنا بنتی بھی نہیں۔

عجب فلسفے اس کے اندر گردش کرتے رہے۔ کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کب گھر آ گیا اور گھر کا دروازہ بھی کھل گیا، گاڑی گیراج میں بھی پہنچ گئی ’’صا حب جی۔۔‘‘

ڈرائیور کی آواز نے اسے چونکایا’’ہوں‘‘

’’اوہ‘‘۔۔۔ ’’اچھا‘‘ یار تم بھی کمال کے انسان ہو، بس اسی لیے مجھے اچھے لگتے ہو‘‘

وہ اس کا دل رکھتے ہوئے گاڑی سے اتر گیا اور اندر گیا۔ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ نیم تاریکی تھی۔ گویا بیوی سو چکی تھی۔ آج تو اسے کلب بھی جانا تھی۔ تھک گئی ہوگی۔ وہ یہ سوچتے ہو ئے ڈرسنگ روم کی طر ف بڑھ گیا۔ کپڑے اتاڑے اور نہانے چلا گیا۔ اب نائٹ سوٹ میں وہ خود کو آزاد پنچھی محسوس کر رہا تھا۔ اپنے قد کے برابر آئینے کے سامنے کھڑے اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنا چاہا۔ مگر وقت کا سفر کافی سفر ہو چکا تھا۔ اب ان ریشمی گھنے بالوں کی جگہ ریشم کے چند تار رہ گئے تھے۔ وہ مسکرایا، اپنا موبائیل اٹھایا اور سٹڈی روم چلا گیا۔

لیپ ٹاپ آن کیا اس پری وش کو ایک روایتی تعریفی ای میل کیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کے لفظوں کا جادو چلےگا کیونکہ وہ اس کی تحریر پڑھ کا سمجھ چکا تھا کہ وہ ملائم اور ریشمی زبان کی رسیا، کسی خیالی پرستان کی دیوی ہے۔

آج وہ بہت تھکن محسوس کر رہا تھا۔ مسلسل کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔ اس ناکامی نے اسے تھکن سے چور کر دیا تھا۔ بس ایک دستخط کی دیر تھی۔ مگر بس یہی یار باس اس کو بےایما نی سمجھ رہا تھا۔

وہ کمرے میں لیٹتے ہی سو گیا۔ بوجھ تو وہ شاید پری وش کی ای میل میں اتار آیا تھا۔ محبت کے لفظ، محبت کے جذبے بھی تو کبھی باجھ بن جاتے ہیں۔ انہیں بھی کبھی کوئی کاندھا چاہئے ہوتا ہے۔ کوئی خالی کاندھا۔۔۔

صبح دفتر کے کام دھندوں۔ سپہر کلب میں میٹنگ تھی۔ ادھر چلا گیا۔ ابھی وہ کچھ لمحے کسی سے ملنا نہیں چاہ رہا تھا۔ سردی کی سنہری دھوپ میں باہر کسی درخت کے نیچے سجی میز کرسیوں کی طرف بڑھ گیا۔ اپنا ٹیب نکالا اور ای میل چیک کر نے لگا۔ پری وش کا شکریہ کے پھولوں سے بھرا ای میل آیا ہوا تھا۔ وہ سمجھ گیا بات بن گئی۔ وہ مسکر ایا اور اس کو جوابی بہار رنگ ای میل کر دیا۔ اس نے اب اپنا موبائیل نمبر، اپنے عہد ے کے ساتھ ایک اضا فی سرکاری ذمہ داری کا اعزازیہ بھی رقم کر دیا۔ جس کے مطا بق وہ خواتین کے حقوق کا باسبان بھی مقرر تھا۔

بات میل سے فو ن تک آ گئی۔ وہ عورت کو عزت دینا جانتا تھا۔ اس کی عزت بھی کرتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عورت کو محبت کے جال سے پہلے عزت کے جال میں پھا نستے ہیں۔عورت جتنی مظلوم ہوگی اتنا جلد عزت کے سنہری جال میں آ جائےگی۔ وہ عزت ہی کی تو پیاسی ہوتی ہے۔ اس سے اس کا اعتبار بحال ہو جائے تو محبت کا جال اس کے بعد پھینکا جاتا ہے اور پھر جال خود بخود کٹ پھٹ جاتا ہے۔

کے جے نے اسے اپنی باتوں، اپنے لفظوں، اپنے لہجے سے ایسے ایسے شاہی لباس پہنائے کہ وہ خود بخود محبت کی ڈوری میں بندھتی چلی گئی۔

زمینداروں کے مذہبی روایتی رواجوں کی پابند سلجھی، پڑھی لکھی حسینہ جو محافظوں بنا گھر سے نکل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس سے ملنے ایک بار ملنے کا وعدہ کر بیٹھی اور آخر ٹوٹی کانچ کی راہو ں پہ چل کر اسے ملنے آ گئی اس نے اسے ایک عالیشان ہوٹل میں بڑی شان سے بلایا تھا۔ دھیمی موسیقی اور خوابی روشنیوں میں وہ اور زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ بت تراشنے والوں جیسے تھے۔ جائے پیتے ہو ئے وہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔ جو نظریں کہہ رہی تھیں ’’آؤ تمہیں بانہوں میں بھر لوں‘‘

دوسری طرف دل کہہ رہا تھا ’’کاش ابھی۔۔۔‘‘

وہ ان نگاہوں کی گر می سے ٹپ ٹپ ہو نے لگی۔ وہ نگاہیں جس میں ہوس نہیں تھی۔ تکریم ذات تھی، مان تھا، تمنا تھی، بلاوا تھا۔ اس سے قبل اس نے یہ سب کسی کی نادان آنکھوں میں نہیں د یکھا تھا۔ وہ جاتے جاتے دل کے ساتھ جان بھی دے گئی۔ وہ محبت سے اگلی منزل پہ خود قدم رکھ چکی تھی۔

بات ہوتی رہی۔ وہ سمجھ گیا۔ وہ آسمانوں پہ اڑنا چاہتی ہے۔ جینا چاہتی ہے، اپنے حصے کی زندگی آپ گزارنا چاہتی ہے۔ کے جے کا خیال بھی یہی تھا کہ یہ پری وش کا حق ہے۔ اسے ملنا چاہیے۔ کے جے نے اسے زند گی اور زندگی کا سا تھ دینے کا وعدہ کر لیا۔ اس نے بھی کے جے کی آنکھو ں سے ٹپکتے جذبوں کا اعتبار کر لیا۔ کے جے نے اسے دور۔۔۔ یہاں سے بہت دور لے جانے کا وعدہ کیا اور یقین دلایا کہ عمر بھر ساتھ دےگا اور کوئی اس تک نہیں پہنچ سکےگا۔ اس کے پاس اتنی طا قت و قوت ہے کہ وہ اس کے خاندانی غرور کی تلواریں اس تک نہیں پہنچنے دےگا۔

چند دن بعد وہ کے جے کے کہنے پر اسی ہو ٹل آ گئی۔ یہیں سے کے جے اسے اپنی گاڑی میں بٹھاکر نجانے کو ن سے جہان کی اور چل پڑا۔ گھنٹوں کے سفر کے بعد جب گاڑی رکی تو یہ و یرا نے میں بنا ایک طویل و عر یض بنگلہ تھا۔ بڑے رقبوں، اونچی دیواروں کی ر ہنے والی وہ خود بھی تھی۔ یہ مادیت اسے متاثر نا کرسکی۔ اس کا مان تو وہ ساتھ تھا، جو اس کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی، ساتھ نا تھا۔ اندر اچانک اک گھن سا تھا جو لگ گیا تھا۔ کے جے نے تو شرعی ساتھ کا وعدہ کیا تھا۔۔۔ شر عی ساتھ کے بنا اینٹو ں کی یہ قبر اس کے لیے تنگ ہور ہی تھی۔

اسے اب بھی کے جے کی آنکھوں اور لہجے میں ہوس نظر نہیں آر ہی تھی۔ وہ اسے ایک پر تکلف کمرے میں چھوڑ کر خود باہر نکل گیا۔ وہ سہمی ہوئی تھی۔

رات کو جب وہ لوٹا تو اس کی نگاہوں میں وہی مان، وہی عزت، وہی آس، وہی تمنا ٹمٹما رہی تھی۔ وہ ان جگنوؤں کے سا منے بےبس ہو گئی۔ جوں جوں رات گہری ہوتی گئی، اس کی یہ بےبسی بڑھتی گئی اور آخرکار شب کا ذب پری وش اور کے جے کے درمیان سب پر دے اٹھ گئے۔

زندگی وہ جینا چاہتی تھی۔ مگر جب ہو ش میں آئی تو اسے لگا زندگی کے عوض وہ مر چکی تھی۔ کے جے کی آنکھوں اور رویے میں اب بھی ہوس نہیں تھی۔ اس کی نرم و ریشمی باتوں کے ساتھ اس کے لمس میں بھی لطا فت کا احساس تھا۔ اک مان تھا جس کے سامنے وہ بےبس تھی۔

یہ انسانوں کی کیمسٹری بھی کیا شے ہے۔ کسی کے سامنے سیسے کی دیوار ہے تو کسی کے سامنے پانی کا بہاؤ۔۔۔

کئی دن یونہی گزر گئے۔ کے جے صبح چلا جاتا اور رات کو آ تا۔ یونہی ایک ماہ گزر گیا اور اسے محسوس ہو ا کہ اس کے جسم کے اندر جیسے اک اور جسم نے جگہ بنالی ہے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کے جے کو بتایا۔ وہ یہ سنتے ہی خوشی سے اسے لپٹ گیا۔ لیکن اس کی قبر کی د یواریں اس کے اپنے ہی گرد اور تنگ ہو رہی تھیں۔ اب تو پسلیو ں کی ہڈیاں بھی آپس میں کڑکڑانے لگی تھیں۔ ’’یہ روح کس کے نام سے منسو ب ہوگی‘‘ یہ سوال اس کو اندر ہی اندر گھول رہا تھا۔ بظاہر وہ زیادہ حسین ہوتی جا رہی تھی۔ مگر اندر۔۔۔ اس عالیشان عمارت کے اندر گھن کا کیڑا گھس گیا تھا۔

کے جے بہت خو ش تھا۔ پری وش کو اس بات پہ بھی حیرت تھی کہ کے جے کی محبت بڑھتی جا رہی تھی۔ کالے شیشوں کی گاڑی میں لیڈی ڈاکٹر بھی آ نے لگی۔ اس کا چیک اپ کرتی، مسکر اتی، مبارک دیتی، چلی جاتی۔

وہ اڑنا چاہتی تھی۔ وہ اڑ تو رہی تھی۔ پرواز کہاں کو تھی۔ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کے جے اسے سوال کرنے کا مو قع ہی نہیں دیتا تھا۔ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا۔ میں خو ش ہوں ناں۔۔تو تمہیں بھی خو ش ہونا چاہیے۔ میں تمہیں چھوڑکر تو نہیں جا رہا ناں۔۔۔ عمر بھر ساتھ کا وعدہ کیا ہے تو نبھاؤں گا۔

ابھی تک اس نے ایک وعدے کے سوا سب وعدے نبھا ئے بھی تھے۔ زبان کا پکا نکلا۔۔۔ اس لیے پری وش بےبس ہوکر خاموش ہو جاتی۔ یوں بھی اب وہ بےبس ہو چکی تھی۔ سب کشتیاں جل چکی تھیں۔ موت آگے تھی، تو پیچھے بھی موت ہی تھی۔

نو ماہ یونہی آنکھ مچولی میں ہی گزر گئے۔ ڈاکٹر گھر پہ ہی رہنے لگی اور ایک رات کے جے کی صورت کا ایک بچہ اسی پرلطف کمرے میں لیڈی ڈاکٹر کے ہاتھوں میں رو رہا تھا۔

آج اس کو کے جے کی ضرورت تھی مگر آج کے جے کہاں تھا؟ آج وہ کے جے کے ساتھ اپنی خو شی بانٹنا چاہتی تھی لیکن آج کے جے آیا ہی نہیں۔ پری وش رات بھر اس کی منتظر رہی۔ مگر وہ نہیں آیا، ایک دن۔۔۔ دو دن۔۔۔ تین دن۔۔۔ ڈاکٹر بھی پھر آنے کا کہہ کر چلی گئی۔ رابطے کی کوئی صورت نہیں تھی، نا فون تھا، نا سیل تھا، نا انٹرنیٹ وہ کس جگہ تھی اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا، اتنے عرصہ میں کے جے اتنے دن اس سے دور رہا بھی نہیں تھا۔ اس کا دل گھبر انے لگا۔

کے جے آج پھر اسی ہوٹل میں اپنے باس کے ساتھ تھا اور باس آج بھی یہی کہہ رہا تھا

ایک بار۔۔۔ بس ایک بار

کسی بھی قیمت پر۔۔۔

زندگی اس کے قدموں میں۔۔۔

قدموں میں نچھاور کر دوں گا۔۔۔

اس نے

پہلی بار۔۔۔ یار پہلی بار۔۔۔

کسی نے میری روح کو۔۔۔

روح کو چھو ا۔۔۔ ہے۔۔۔

سر اور اگر آپ اس کی زندگی کے پہلے مرد نا ہوئے تو؟ کے جے نے سنجیدگی سے پو چھا

’’تو ہمیں۔۔۔ اپنے والی۔۔۔ کون سی۔۔۔ کون سی۔۔۔ پہلی جگہ ملی تھی۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ عورت جس نے منسوب۔۔۔ منسوب ہوتی ہے۔۔۔ اس کی نا بھی ہو تو ۔۔۔اسی کی کہلاتی ۔۔۔کہلاتی ہے‘‘

سر میں کوشش کر رہا ہوں۔ اسے آپ کے قدموں کی دھول بنا دوں۔۔۔ کر رہا ہوں کوشش۔۔۔

گلاس آج بھی گر کر ٹوٹ گیا تھا۔ آج بھی کے جے انہیں اپنے گھر لے گیا تھا۔ آج بھی وہ نیم تاریک کمر ے میں غنودگی کے عالم میں تھے۔ آج بھی کے جے ڈرائیور کے ساتھ گھر چلا گیا تھا۔

صبح یار باس کے دفتر کے باہر کے جے کی گاڑی رکی۔ اس نے اپنے ڈرائیور کے ہاتھ ایک فائل باس تک پہنچائی۔

یار باس نے فائل کھولی۔ اس میں ایک کاغذ پہ مختصر تحریر رقم تھی

’’میں نے اس لڑکی کو ایک گروہ سے بازیا ب کروا لیا ہے۔ وہ میری تحویل میں ہے۔ سرکاری طور پر یہ بات ابھی خبر نہیں بنی۔ میں اس مجبور لڑکی کو سمجھا کر آپ تک پہنچا سکتا ہوں۔ وہ سچ میں محبت کے قابل ہے اور اگر آپ مظلو م کو پنا ہ دے بھی د یتے ہیں تو الزام آپ پہ نہیں آئےگا بلکہ کریڈٹ ہوگا کیونکہ وہ کئی ماہ سے گھر سے غائب تھی۔ مگر ایک فائل آپ کی میز پر بھی دستخط کی منتظر ہے۔‘‘

یار باس نے پڑ ھا تو بےچین ہو گیا۔ ساری عمر نہیں کیا میں نے یہ سب۔ اب آخری سال میں۔۔۔ جاب کے آخری سال میں۔۔۔ اس نے اپنے ویسٹ انڈین ڈرنک میں پناہ تلاش کی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کیا کرے۔۔۔ ساری رات تاروں میں بیت گئی۔ اگلی صبح وہ دفتر جلدی چلا گیا اس نے فا ئل پر دستخط کر دئیے۔ فائل کو آج پیر لگ گئے تھے۔

رات کو کے جے کا ڈرائیور یار باس کو اس بڑی سی قبر میں لے گیا۔ جہا ں اک محبت مسکرا رہی تھی۔ یار باس گاڑی سے اتر نے لگا تو ڈرائیور نے ایک لفافہ ان کی طرف بڑ ھا دیا بڑے صاحب یہ صاب جی نے دیا تھا کہ آپ کو دے دوں۔ یار باس نے لفافہ پکڑ لیا اور باہر نکلا۔ ٹھنڈی ہوا محو رقص تھی۔ یار باس نے لفافہ کھولا۔ کاغذ پہ دو جملے مسکرا رہے تھے ’’سر عورت کو ہمیشہ آنکھوں کے پانیوں میں سنبھالتے ہیں۔ اسے سنبھال کے رکھئےگا، بہت قیمتی ہے‘‘

مصنف:رابعہ الربا

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here