مس پدما

0
144
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

پدما کار سے اترکر اپنی بہن سے گلے ملی تو اسے خوشی کے بجائے روحانی صدمہ ہوا۔ یہ وہ رتنا نہ تھی جسے اس نے سال بھر پہلے جیجا جی کے ساتھ خوش خوش گھر آتے دیکھا تھا۔ شگفتہ اور مخمور اور متبسم۔ وہ پھو ل مرجھا گیا تھا۔ بہن کے خطوں سے پدما کو اتنا ضرور معلوم ہوا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہے اور ا سکی زندگی تلخ ہوگئی لیکن اس کی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے اس کا اسے گمان نہ تھا جیسے تصویر مٹ گئی ہو صرف اس کا خاکہ باقی ہو۔

اس نے پوچھا، ’’یہ تمہاری کیا حالت ہے بہن؟ کیا تم بیمار ہو؟ اپنی بیماری کی اطلاع تم نے کبھی نہ دی۔‘‘ رتنا حسرتناک تبسم کے ساتھ بولی، ’’کیا کرتی لکھ کر۔ تقدیر میں جو تھا ہوا اور آئندہ ہوگا۔ تمہیں اور ماں کو اپنی داستانِ غم سناکر خواہ مخواہ کیوں رنجیدہ کرتی۔ تجھ سے ملنے کو دل بہت بے قرار تھا اور تو اتنی شیطان ہے کہ بار بار آنے کا وعدہ کر کے ٹال جاتی تھی۔ ایسا غصہ آتا تھا کہ تجھے پاجاؤں تو خوب پیٹوں۔ مہینوں کا غبار جمع ہے۔ چل کر ہاتھ دھولے۔ کچھ پی کر مضبوط ہوجا۔‘‘

مگر پدما کو مطلق بھوک نہیں ہے۔ دوپہر کو اس نے صرف ایک پیالہ کھایا تھا۔ سہ پہر کو ایک سنترا اور اب شام ہوگئی ہے۔ گاڑی سے اتری تو اس کا جی کچھ کھانے کو چاہتا تھا۔ لیکن اب جیسے بھوک غائب ہوگئی ہے۔ اب تو رتنا سے اس کے دل کی باتیں سننے کی بھوک جاگ گئی ہے۔ اس نے کرسی پر لیٹ کر کہا، ’’جیجا جی تو تم سے بہت محبت کرتے تھے۔ یکایک کیوں برہم ہوگئے؟‘‘

رتنا نے بے نور آنکھوں سے تاکتے ہوئے کہا، ’’اب میں کسی کے دل کا حال کیا جانوں۔ شاید میں اتنی حسین نہیں ہوں یا اتنی سلیقہ دار نہیں ہوں یا اتنی غلام نہیں ہوں کیونکہ اب مجھے تجربہ ہوا ہے کہ عورتوں کا دم بھرنے والے مرد بھی نامردوں سے کچھ بہتر نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی فراخ دلی کے معاوضہ میں اور بھی کامل بے زبان طاقت چاہتے ہیں۔‘‘

پدما نے حقیقت کو واضح کرنے کے ارادہ سے پوچھا، ’’لیکن تم دونوں ایک دوسرے سے خوب واقف تھے۔‘‘

- Advertisement -

رتنا تھکی ہوئی سی بولی، ’’یہی تو رونا ہے۔ ہماری شادی بزرگوں کی طے کردہ نہ تھی۔ ہم ایک دوسرے کے مزاج اور عادات سے اور خیالات سے خوف واقف تھے۔ برسوں ہمسائے رہے۔ ایک دوسرے کے عیب و ہنر پہنچاننے کے جتنے موقع ہمیں ملے بہت کم کسی کو ملتے ہوں گے۔ ہم نے گھڑے کو خوب ٹھونک بجاکر اطمینان کرلیا تھا۔ ظرف میں کہیں شگاف یا دراز تو نہیں۔ آواز اس کی سچی تھی۔ ٹھوس دھات کی آواز کی طرح ترنم۔ لیکن ظرف میں پانی پڑتے ہی نہ جانے کدھر سے بال نکل آئے اور سارا پانی بہہ گیا اور اب گھرا پھوٹی تقدیر کی طرح خشک پڑا ہوا ہے۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ عورت کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ شادی کو لعنت کا طوق سمجھے اور مطلق العنان رہ کر زندگی بسر کرے۔ عورت کے لئے ہی کیوں مرد کے لئے بھی شادی کو اتنا ہی مہلک سمجھتی ہوں۔ اگر شیامو کی طبیعت مجھ سے سیر ہوگئی تو میری طبیعت بھی ان سے کچھ کم سیر نہیں ہوئی۔ ان کی جن اداؤں اور خوش فعلیو ں پر فدا تھی اب ان سے مجھے نفرت ہے۔ کیوں دل کی یہ حالت ہے کہہ نہیں سکتی۔ لیکن اب میں ان کے ساتھ ایک دن بھی نہیں رہنا چاہتی۔ وہ ہنستے ہیں تو مجھے ان کی ہنسی میں چھچھورے پن کی بو آتی ہے۔ باتیں کرتے ہیں تو ان میں بناوٹ کار نگ جھلکتا ہے۔ اچکن اور پاجامہ پہنتے ہیں تو میرا ثنوں جیسے لگتے ہیں۔ کوٹ اور پتلون پہنتے ہیں توجیسے کوئی کرنٹا ہو۔ ان کے ساتھ جتنی دیر رہتی ہوں دل پر بہت جبر کر کے رہتی ہوں لیکن ہم دونوں میں یہ فرق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے بادشاہ ہیں میں ان کی مرضی کی غلام ہوں۔ ان کے لئے میرے جیسی اور مجھ سے بدرجہا حسین دل بستگی کے لئے موجود ہیں، کوشاں ہیں طالب ہیں۔ میرے پاؤں میں زنجیر ہے قانون کی بھی، احساسات کی بھی اور وقار کی بھی۔ وہ آزاد ہیں اس لئے خوش ہیں، متحمل ہیں، ظاہردار ہیں۔ میں مقید ہوں۔ میرا یک ایک ذرہ ایک ایک نقطہ نفی ہے۔ ستم یہ ہے کہ میں ظاہر داری کبھی نہیں کرسکتی۔ میں خلوص چاہتی ہوں، خلوص کا غصہ میں برداشت کرسکتی ہوں۔ تصنع کی دلجوئی بھی برداشت نہیں کرسکتی اور جب خلوص باقی نہیں تو حلوص دوں کہاں سے۔ تجھے میں یہی صلاح دوں گی کہ کبھی یہ بیڑی اپنے پاؤں میں نہ ڈالنا۔ عورتوں نے شادی کو ذریعہ معاش سمجھ لیا ہے۔ میں نے بھی وہ غلطی کی۔ اپنے کو کسی پیشے کے لئے تیار نہ کیا۔ لیکن تیرے لیے ابھی بہت وسیع موقع ہے۔ توذہین ہے زود فہم ہے، ذی حوصلہ ہے۔ تو اگر وکالت کرے تو مجھے یقین ہے تھوڑے ہی دنوں میں تیرا رنگ جم جائے۔ مرد حسن پرست ہوتے ہیں۔ حسن ان کے دل کی ازلی بھوک ہے۔ کیوں نہ ہم اس کی حماقت سے فائدہ اٹھائیں۔ جس مقدمہ میں مرد وکیل ایک پائے اس میں تو یقیں کے ساتھ دو پاسکتی ہے۔ یہ پیارا چاند سا مکھڑا کس مرد کی نظر میں نہ بس جائے گا۔ لیکن وہی شخص جو ابھی تیرے قدموں پر سر رکھے اور تیری اداؤں پر قربان ہوگا تجھ سے شادی ہوجانے پر ستر غمزے کرے گا۔ تجھ پر رعب جتائے گا۔‘‘

بیوقوف رتنا لینا سب کچھ چاہتی تھی، دینا کچھ نہیں، محض اپنی نسائیت کے بوتے پر، اپنے حسن اور انداز کے بل پر وہ حسین ہے، خوش ادا ہے، نازک اندام ہے اس لئے خلوص پانے کا حق ہے، وفا کا حق ہے، تسلیم کا حق ہے۔ کوڑیاں دے کر جواہر پارے لینا چاہتی ہے۔

مسٹر شیام ناتھ جھلائے ہوئے نظر آئے۔ پدما نے کمرے سے نکل کر ان سے ہاتھ ملایا۔

پدما خود انہیں خیالات کی لڑکی تھی اور بہن کی تاکید نے اس کے خیالات اور بھی مستحکم کردیے۔ بی اے میں تو تھی ہی۔ امتحان میں اس نے اول درجہ حاصل کیا۔ قانون کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دو سال میں اس نے قانون بھی اول درجہ میں پاس کرلیا۔ اور وکالت شروع کردی۔ اس کی ذہانت اور ذکاوت نے اس کے حسن کے ساتھ مل کر سال بھر تک اسے جونیر وکیلوں کی صف اول میں بٹھا دیا۔ وہ جس اجلاس میں پہنچ جاتی ایک ہنگامہ مچ جاتا۔ نوجوان وکلا چاروں طرف سے آآکر بیٹھ جاتے اور سائلانہ نظروں سے اسے دیکھتے۔ عدالت بھی اس کی رعنائیوں اور شیریں بیانوں سے بے نیاز نہ رہ سکی۔ زہد طبیعت ججوں کی نظریں بھی مسرور ہوجاتیں۔ چہروں پر رونق آجاتی، سبھی اس کے ایک نظر کے متمنی تھے۔ اور ا سکی وکلات کیوں نہ کامیاب ہوتی۔ وہ شکستوں سے ناآشنا تھی۔ ان میں بھی فتح کا پہلو چھپا ہوا تھا۔ اس کے موکل ملزم کو الزام ثابت ہوجانے پر بھی نرم سزا ملتی یا اس کا مقدمہ کمزور ہونے پر بھی فریقِ مخالف کا شدید ترین مواخذہ ہوتا۔ اس کے خلاف ڈگریاں بھی ہوتیں تو اس سے عدالت کا خرچہ نہ لیا جاتا۔ شرح سود میں معقول ڈگریاں میں فریقِ ثانی کی شامت آجاتی۔ اس کے حسن کا جادو نامعلوم طور پر اپنا اثر ڈالتا رہتا تھا لیکن اس کی دھاک بندھی اس استغاثہ کی پیروی میں جو ا س کی بہن رتنا نے مسٹر جھلا پر علیحدگی کے لئے دائر کیا، میاں بیوی کے تعلقات اس درجہ کشیدہ ہوگئے تھے کہ رتنا کو اب قانون کے سوا چارہ نہ رہا۔ اس کا مقدمہ ہر ایک پہلو سے کمزور تھا۔ علیحدگی کے لئے جن قانونی اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان کا یہاں نام و نشان نہ تھا۔ لیکن پدما نے کچھ ایسی دقت نظری سے کام لیا کہ مقدمہ کچھ سے کچھ ہوگیا۔ جس وقت پدما اجلاس میں آکر کھڑی ہوتی اور پنے موثر لہجہ میں خطب کمال کی روانی اورانہماک اور استدلال کی وضاحت اور جامعیت کے ساتھ اپنی تقریر شروع کرتی تو سامعین چشمِ حیرت سے دیکھتے رہ جاتے اور آپس میں کہتے یہ قدرت کی دین ہے۔ بلاشک اس کی بحث میں استدلال کے مقابلہ میں جذبات کا پہلو غالب ہوتا لیکن اس میں نفسیات کی جگہ صداقت اور خلوص کا اتنا پختہ رنگ ہوتا کہ عدالت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ رتنا کی ڈگری ہوئی اور پدما کے لئے عروج کے دروازے کھل گئے۔

دونوں بہنیں اب ایک ساتھ رہنے لگیں۔ اس شہر میں یہ خاندان ممتاز تھا۔ پدما کے والد پنڈت اٹاکول کامیاب بیرسٹر تھے اور اگرچہ ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور عین عالمِ شباب میں دو یتیم لڑکیاں چھوڑ کر رحلت فرما گئے لیکن اتنا اثاثہ چھوڑ گئے کہ بیوہ ماں کو لڑکیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی دقت نہ ہوئی۔ رماناتھ خود شوقین، آزاد مشرب، رنگین مزاج آدمی تھے، لیکن ان کی متاہل زندگی پرسکون تھی۔ باہر وہ کچھ کریں گے گھر کے اندر ان کی بیوی کا راج تھا اور وہ خوش تھی۔ بدمزگیاں ہوتیں لیکن سوال جواب تک رہ جاتیں۔ سخت زبانیوں کی نوبت نہ آتی۔ کول صاحب جابہ سپرانداختن کے اصول سے واقف تھے۔ انھیں یقین تھا وہ کتنی ہی بے عنوانیاں کریں، بیوی کی وفا، خلوص اور اعتماد پر اس کا کوئی اثرنہیں پڑتا اور آج ان کو مرے بیس سال ہوگئے مگر وہ دیوی ابھی تک ان کی پرستش کرتی جاتی تھی۔ وہ صرف ایک بار کھانا کھاتی اور وہ بھی بے نمک، زمین پر سوتی اور مہینے کے آدھے دن برت رکھتی، جیسے کوئی سنیاسی ہو۔ دونوں لڑکیوں کی اس روش پر اسے روحانی کوفت ہوتی تھی۔ پر انہیں سمجھانے کی اس کے پاس عقل نہ تھی نہ ہمت۔ وہ دونوں اپنی ماں کا مضحکہ اڑاتیں اور اسے سادہ لوح، بے زبان، فرسودہ خیال سمجھ کر اس پر رحم کرتی تھیں۔ ان میں سے کسی کو ایسا نفس پرور بے وفا، سرد مہر شوہر ملا ہوتا تو اسے ٹھوکر مارتیں اور اس کی صورت نہ دیکھتیں اور اسے دکھادیتیں کہ اگر تم کجروی کرسکتے ہو تو ہم بھی تم سے کم نہیں۔ نہ جانے اماں کیوں کر ایسے وحشی، بے درد ناشناس آدمی کے ساتھ رہ سکی تھیں اور اب بھی اس کا احترام کرتی ہیں۔ تعلیم نہ پانے کی یہی برکت ہے۔ وہی طوفانِ نوح کے زمانے کے خیالات ہیں، دنیا کتنی دور نکل گئی ہے، اس غریب کو کیا خبر۔

پدما نے وکالت شروع کرتے ہی علیحدہ مکان لے لیا تھا۔ ماں کے ساتھ اسے بہت سی قیدوں کی پابندی، شرما حضوری اس کے پاس خاطر سے کرنا پڑتی اور وہ آزاد رہنا چاہتی تھی۔ وہ کسی کے روبرو جوابدہ کیوں ہو؟ وہ اپنے نیک و بد کی مختار ہے۔ کسی کو اس کے معاملہ میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ بیوہ اسی پرانے مکان میں رہتی تھی۔ تنہا مرحوم شوہر کی یاد کی پرستش کرتی ہوئی۔ رتنا شوہر سے علیحدہ ہوکر پدما کے ساتھ رہنے لگی۔ لیکن چند ہی مہینوں میں اسے معلوم ہوگیا کہ اس کا یہاں نباہ نہیں ہوسکتا۔۔۔ پدما نے خود ہی کوشش کر کے متصل کے ایک شہر میں ایک مدرسہ میں جگہ دلوادی۔ پدمانے تعلیم سے جو فیض اٹھایا تھا اس میں نفسانی خواہشات کی تکمیل ہی حیات کا مقصد تھا۔ روح کی بالیدگی اس کے لئے زہر تھی۔ فرائڈ اس کا معبود تھا اور فرائڈ کے نظریے اس کی زندگی کے لئے مشعلِ ہدایت۔ کسی عضو کو باندھ دو۔ تھوڑے ہی دنوں میں دورانِ خون بند ہوجانے کے باعث بے کار ہوجائے گا۔ فاسد مادہ پیدا کر کے زندگی کو معرضِ خطر میں ڈال دے گا۔ یہ جو جنون اور مراق اور اختلال دماغ کی اتنی کثرت ہے۔ محض اس لئے کہ خواہشات میں رکاؤ ڈالا گیا۔ نفسیات کی یہ نئی تنقیح پدما کی زندگی کا مسلمہ اصول تھا۔

اور وہ آزادی سے اپنی پرسونالٹی کی تکمیل کر رہی تھی۔ پیشہ کی انتہائی کشمکش ختم ہوجانے کے بعد اب اس کی وکالت اس طرح تھی جیسے مچھلی کے لئے پانی۔ بیشتر مقدمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے یکساں ہوتے تھے۔ صرف جزئیات میں کچھ امتیاز ہوتا تھا۔ ان کی پیروی کے لئے کسی قسم کی تیاری یا تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ محرر ضابطے کی تکمیل کردیتا وہ اجلاس میں۔۔۔ جاکھڑی ہوتی اور وہی ہزار با رکی دہرائی ہوئی دلیلیں اور منجھے ہوئے الفاظ۔ اس لیے اب اسے فرصت بھی کافی تھی۔ اس کے ہوا خواہوں میں کئی نوجوان رئیس تھے جو محض اس کے قرب سے محظو ظ ہونے کے لئے نئے نئے مقدمات لاتے رہتے تھے۔ اور وکالت کے مندر کی وہ دیوی اور کتنے ہی نوجوان وکیل اس کی چوکھٹ پر جبہ سائی کرتے رہتے تھے۔ نوجوان ہی کیوں، جہاں دیدہ بھی۔ پکے ہوئے بال اور پکی ہوئی عقل والے جس پر اس کی نظر ِکرم ہوجاتی وہ پارس ہوجاتا۔

مگر انسان کوشش کرنے پر بھی بالکل حیوان نہیں ہوسکتا۔ پدما شباب کی پہلی امنگ میں تو دلوں سے کھیلتی رہی۔ ناز و ادا، رعنائی اور دلربائی، کے کرشمے اور مرد افگنی کی گھاتیں، مگر رفتہ رفتہ اسے خرمستیوں سے نفرت سی ہونے لگی اور دل ایک وجود کی تلاش کرنے لگا، جس میں درد ہو، وفا ہو، گہرائی ہو، جس پر وہ تکیہ کرسکے۔ ان شہدو ں میں بھی سبھی بھونرے تھے۔ پھول کا رس لے کر اڑ جانے والے اس کے رسوخ و اثرو کرم کے لئے اس کے عاشق بنے ہوئے تھے اور اب ایسا چاہنے والا چاہتی تھی جو اس کے لئے زندگی قربان کرسکے، جو اس کی محبت کو اپنی زندگی کی آرزو بنائے اور جس پر وہ خود اپنے کو مٹا سکے۔

اتفاق سے ایک دن مسٹر جھلاّ نظر آگئے۔ اس نے اپنی روک لی اور بولی، ’’آپ تشریف لائیے۔ رشتہ ٹوٹ جانے پر کج اخلاقی تو نہ کرسکتی تھی۔‘‘

جھلّا نے اشتیاق سے کہا، ’’آج ہی آیا تھا اور تم سے ملنا چاہتا تھا۔ جب سے تمہاری وہ بحث سنی ہے اور تمہارا وہ انداز دیکھا ہے تمہارا مداح ہوگیا ہوں۔ کسی وقت تمہیں فرصت ہو تو آؤں؟‘‘

پدما کو ان سے ہمدردی ہوئی۔ وہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ گو میں نے اپنی بہن کی حمایت میں تمہارے خلاف بہت سی غلط بیانیاں کیں، غلط الزامات لگائے لیکن وہ پیشہ کی بات تھی۔ اس میں مجھے تم سے مطلق ملال نہیں ہے۔ بولی شوق سے آئیے۔ میرے ساتھ ہی چلیے۔ میں گھر چل رہی ہوں۔

جھلّا آکر بیٹھ گئے اور اس مختصر سی ملاقات میں پدما کو معلوم ہوا کہ جھلاّ روشن خیال اور صاف گو آدمی ہیں۔

دونوں چائے پر بیٹھے تو جھلاّ نے شکایت آمیز تبسم کے ساتھ کہا، ’’آپ نے تو بحث کے دوران میں مجھے پورا شیطان بناکر کھڑا کردیا۔‘‘

پدما ہنس کر بولی، ’’اس کا ذکر نہ کیجئے۔ وہ پروفیشنل معاملہ تھا۔‘‘

’’تو کیا میں یہ باور کرلوں کہ آپ فی الواقع مجھے اتنا مکروہ انسان نہیں سمجھتیں۔‘‘

’’آپ کے برعکس میں آپ کے اخلاق سے بہت متاثرہوئی۔ مجھے تعجب ہے کہ آپ کی رتنا سے کیوں نہ پٹی۔‘‘

’’اگر آپ انسان کو انسان نہ سمجھ کر فرشتہ دیکھنا چاہیں تو یقینا مایوسی ہوگی۔‘‘

’’شادی کر کے خوش رہنے کے لئے جس بے حسی کی ضرورت ہے اتنی شاید رتنا میں نہ تھی۔‘‘

’’اب مجھے یہی تجربہ کرنا ہے۔ آزاد رہ کر خوشی مل سکتی ہے یا نہیں۔ شادی کر کے دیکھ لیا۔‘‘

’’میری ہمدردی آپ کے ساتھ ہے۔‘‘

’’انسانی ہمدردی کی میری نگاہوں میں کوئی وقعت نہیں۔‘‘

پدما نے عشوہ طراز نظروں سے دیکھا، ’’ایسے بے وفاؤں کو زبانی ہمدردی کے سوا او رکیا مل سکتا ہے؟‘‘

’’یہ نہ بھول جائیے کہ یہ عدالت نہیں ہے۔‘‘

’’صفائی کا بار آپ کے اوپر ہے۔‘‘

’’مجھے موقع عطا کیجئے۔‘‘

دوسرے دن جھلاّ پھر آئے اور زیادہ دیر تک رہے اور اس کے بعد روزانہ کسی نہ کسی وقت ضرور آجاتے۔ پدما روز بروز ان کی طرف ملتفت ہوتی جاتی تھی۔ ان میں وہ سارے اوصاف نظر آتے تھے جن کی اسے بھوک تھی۔ ان میں خیالات کی مناسبت تھی، نیک نیتی تھی، ایثار تھا، جذبات تھے اور کوئی ذاتی غرض نہیں تھی۔ ایک دن جھلاّ نے کہا، ’’میرا جی چاہتا ہے کہ یہیں آکر پریکٹس کروں۔ مجھے اب محسوس ہورہا ہے کہ میں تم سے دور نہیں رہ سکتا۔‘‘

پدما خوش ہوکر بولی، ’’ضرور آجائیے۔ میری بھی یہی تمنا ہے اور اسی مکان میں ٹھہریے۔‘‘

’’یعنی آپ کے سایہ میں، غیر ممکن۔‘‘

’’مجھ سے محبت اور میرے سایہ سے نفرت۔‘‘

’’آپ کی آزادی میں مخل ہونا نہیں چاہتا۔‘‘

’’یوں کہیے کہ آپ کو میری جانب سے اپنی آزادی میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔‘‘

’’میں تو تائب ہوچکا۔‘‘

’’دل سے۔‘‘

’’تو مجھ سے معاہدہ کرلیجئے۔‘‘

’’دل سے۔‘‘

’’ہاں دل سے۔‘‘

رتنا نے پدما کو غصہ اور تنبیہ سے بھرا ہوا خط لکھا۔ تو نے یہ کہاوت نہیں سنی آزمودہ را آزمودن جہل است۔ مجھے حیرت ہوتی ہے تو اس شخص کے ساتھ کیوں ملتفت ہوئی۔ یہ شخص دغا دے گا، مکار ہے، نفسانیت سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن پدما پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جھلاّ کو وہ خط دکھا دیا۔ جھلاّ بولے، ’’تم لکھدو۔ میں ان سے شادی نہیں کر رہی ہوں اور طلاق کی نوبت نہ آئے گی۔‘‘ پدما نے شوخی کے ساتھ کہا، ’’میں تو لکھ دوں گی میں ان سے شادی کر رہی ہوں اور کبھی طلاق نہ لوں گی۔‘‘

جھلاّ کی ڈاکٹری پریکٹس برائے نام تھی۔ ایک کمرہ ان کے لئے مخصوص تھا۔ دروازہ پر اپنا سائن بورڈ لگا دیا تھا اور صبح کو دو تین گھنٹے اپنے کمرہ میں بیٹھے ناول پڑھا کرتے تھے جس کا انہیں بے حد شوق تھا۔ مریض عنقا تھے۔ پدما ان پر ایسی فریفتہ ہوگئی تھی کہ وہ جتنا چاہیں خرچ کریں اور جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ وہ مطلق معترض نہ ہوتی۔ ان کے لئے ایک نہ ایک تحفہ روز ہی لاتی رہتی تھی۔ ایسی بیش قیمت گھڑی شہر کے بڑے سے بڑے رئیس کے پاس نہ ہوگی۔ ان کے لئے علیحدہ کار تھی۔ دوسرے الگ، نوکروں کو سخت تاکید تھی کہ ان کے کسی حکم کی تکمیل میں دیر نہ ہو۔ ذرا سی شکایت ہوئی اور تم گئے۔ روز ان کے لئے اچھی اچھی شرابیں آتیں اور پدما کو بھی شراب کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جنت کے مزے لوٹے جارہے تھے۔

اور اتنا ہی نہیں پدما جھلاّ کی رضا۔۔۔ کی چیری تھی۔ جھلاّ کا نام ہی جھلاّ نہ تھا۔، مزاج کے بھی جھلے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر برانگیختہ ہوجاتے اور پدما ان کا مناون کرتی۔ ان کا عتاب اس کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔ جھلاّ کو اپنی طاقت کا علم تھا وار اس کا اظہار کرتے تھے۔ پدما کو اپنی کمزوری کا علم نہ تھا۔ وہ اسے دلجوئی سمجھتی تھی۔ محبت میں جبر کرنے کی بے انتہا قوت ہے اور صبر کرنے کی بھی بے انتہا قوت ہے۔ جھلاّ جبر کرتے تھے۔ پدما صبر کرتی تھی۔ جھلاّ کا تبسمِ شکریہ کا ایک لفظ یا محض مسرتِ خاموش اسے باغ باغ کرنے کے لئے کافی تھی۔ سیاسیات کی طرح آئینِ محبت میں ایک حاکم ہوتا ہے دوسرا محکوم۔ محکوم پسینہ نکالتا ہے، مرتا ہے، سہتا ہے اور زبان نہیں کھول سکتا۔ حاکم سزائیں دیتا ہے۔ رعب جماتا ہے، رلاتا ہے اور ابروؤں کا شکن بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ دیکھنے والے دیکھتے تھے اور حیرت میں آجاتے تھے۔ یہ وہی پدما ہے، وہی غرور کی پتلی، وہی نازک مزاج، فسوں طراز، مگر کتنی متحمل ہوگئی ہے۔ اس طرح تو کوئی بوالہوس مر دبھی کسی حسینہ کی ناز برداری نہیں کرتا۔ کوئی بوٹی سنگھادی ہے، اس ڈاکٹر کے دل جلے حاسد پدما پر آوازے کستے۔ پدما ہنس کر رہ جاتی۔ اس کے روندے ہوئے جو عشاق تھے انہیں اس کی زبان حلقہ بگوش دیکھ کر مسرت ہوتی تھی کہتے تھے جیسے کو تیسا۔

ایک دن جھلاّ کا ایک خط پدما نے غلطی سے کھول ڈالا۔ جھلاّ نے غضب ناک ہوکر پوچھا، ’’میرا خط کس نے کھولا؟‘‘

پدما شاید اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرسکی، ’’شاید محرر کی غلطی ہوگئی۔‘‘

’’میں تمہیں اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں اور تمہیں اس کا جرمانہ دینا ہوگا۔‘‘

’’حاضر ہوں سر جھکائے ہوئے۔‘‘

جھلاّ نے اسے آغوش میں لے لیا۔ اور پدما پر گھڑوں نشہ چڑھ گیا۔ دنیا اس کی نظروں میں حقیر تھی۔

دو سال گزر گئے اور پھول مرجھانے لگا۔ اس میں پھل آرہا تھا۔ نازک پدما لاغر ہوگئی۔ زرد رخسار، بے رنگ آنکھوں میں تکان، جسم میں ڈھیلاپن، فکر مغموم، اس پر ایک ہیبت سے طاری رہتی۔ متوحش خواب دیکھتی، آئینہ میں اپنی صورت دیکھتی اور آہ ِسرد کھینچ کر رہ جاتی۔ ساری دنیا کے رنگ روغن اور بہترین مقویات اور ممات فطرت کے اس تغیر کے سامنے ہیچ تھے۔ آنکھوں کے گرد حلقے، غذا کی اشتہا غائب مگر اسی تناسب سے پیا ر کی بھوک تیز۔ اب وہ ناز برداری چاہتی تھی۔ کوئی اسے پان کی طرح پھیرے۔ اسے سینے سے لگائے۔ کبھی علیحدہ نہ کرے۔ اپنے اوپر جو اعتماد تھا وہ رخصت ہوگیا۔ مگر جھلاّ اس تغیر سے بے خبر اور بے اثر اپنی روش پر چلے جارہے تھے۔ وہی طنطنہ تھا وہی دماغ، پدما کیوں انھیں ڈنر کے لئے بلانے نہیں آئی۔ انہیں بھوک نہیں ہے۔ وہ کیوں خود پان لے کر ان کے پاس نہیں آئی۔ یہ مزاج ِحسن تو غائب ہوگیا۔ وہ ادائیں ہیں نہ وہ شوخی نہ وہ ملاحت اور دماغ آسمان پر ہے۔ وہ چاہتے تھے پدما ظاہر کی ان پامالیوں کو مزید التفات سے پورا کرے، ان پر قربان ہو، بلائیں لے۔ اس طرح دونوں میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ پدما سوچتی کتنا بے درد آدمی ہے۔ جھلاّ سوچتا کتنی بے اعتنائی ہے۔ اب اس سے گریز ہوتا تھا۔ ان کے لئے اب یہاں دل بستگی کا کوئی سامان نہ تھا۔ جانتے تھے ہی کہ پدما ان کی لونڈی ہے۔ پھر کیوں نہ لطفِ زندگی اٹھائیں، کیوں نہ رنگ رلیاں منائیں۔

پدما اپنے کمرے میں اداس بیٹھی رہتی۔ وہ سیر کو نکل جاتے اور آدھی رات کو آتے۔ وہ ان کا انتظار کیا کرتی۔

ایک دن اس نے شکایت کی، ’’تم اتنی رات تک کہاں غائب رہتے ہو۔ تمہیں خیال بھی نہیں ہوتا مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔‘‘

جھلاّ نے منھ بنایا، ’’اچھا اب آپ کو ذرا سا میرا انتظار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ بے اعتنائی سے بولے، ’’تو کیا چاہتی ہو کہ میں تمہارے آنچل سے بندھا رات دن بندھا بیٹھا رہوں۔‘‘

’’کچھ ہمدردی تو چاہتی ہوں۔‘‘

’’میں اپنی عادتوں کو تبدیل نہیں کرسکتا۔‘‘

پدما خاموش ہوگئی۔ بدمزگی ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ وہ اپنے تئیں اب اور بھی ان کی محتاج پاتی تھی۔ کہیں ناراض نہ ہوجائیں۔ اس خیال سے ہی اسے وحشت ہوتی تھی۔ رتنا کا خوف تھا۔ وہ آج بھی رقیبانہ نظروں سے اسے دیکھ رہی ہے۔ جھلاّ کہیں چلے گئے تو وہ کتنے طعنے دے گی، اسے کتنا ذلیل کرے گی۔ وہ رتنا کو دکھانا چاہتی تھی تو جہاں ناکام ہوئی میں وہاں کامیاب ہوں۔ تو نے جھلاّ کو حسن سے باندھنا چاہا ناکام ہوئی۔ میں نے انہیں اپنی محبت سے باندھا اور باوجود کسی رسمی و قانونی یا روحانی معاہدہ نہ ہونے کے اب تک باندھے ہوئے ہیں۔ وہ سب کچھ جھیل کر بھی محبت کی فتح دکھانا چاہتی۔ اسے اپنے سے زیادہ فکر اس نظریے کی فتح کی تھی۔

وہ درد سے بے چین تھی۔ لیڈی ڈاکٹر آئی، نرس آئی، دایا آئی، جھلا کا کہیں پتہ نہ تھا۔ باربار جی ڈوب جاتا۔ کرب سے بے ہوش ہوجاتی۔ روتی تھی، تڑپتی تھی، بدن پسینے میں تر معلوم ہوتا تھا۔ جان نکل جائے گی۔ جھلاّ کوبار بار پوچھتی جیسے انہیں کے پاس اس درد کا علاج ہے۔ ہاں اگر وہ آکر کھڑے ہوجاتے، اس کا سر سہلاتے، اسے پیار کرتے تو وہ اس سے بھی جانگزا درد جھیل لیتی۔ لیکن وہ کہاں ہیں؟ اب تک نہیں آئے اب تو بارہ بجے ہوں گے۔

لیڈی ڈاکٹر نے کہا، ’’ساڑھے بارہ ہیں۔‘‘

’’اور وہ ابھی تک نہیں آئے ہیں کوئی ذرا جاکر انہیں بلا لائے۔‘‘

’’کہاں گئے، کچھ آپ کو معلوم ہے؟‘‘

’’نہیں مجھے معلوم نہیں مگر کسی کو بھیج دو تلاش کر لائے۔‘‘

لیڈی ڈاکٹر نے کہا، ’’اپنے کو اس طرح پریشان نہ کریں۔ اس سے درد بڑھتا ہے۔‘‘ پدما چپ ہوگئی پھر تڑپنے لگی اور بے ہوش ہوگئی۔ جب ہوش آیا تو بولی، ’’میں اب نہ بچوں گی۔ یہ درد میری جان لے کر رہے گا۔ شیام بابو آئیں گے تو کہہ دینا میں نے انہیں معاف کیا۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں۔ بچہ آپ انہیں دے دیجئے گا اور میری طرف سے کہنا اسے پالو۔ یہ تمہاری بدنصیب پدما کی نشانی ہے۔‘‘

اور اسے معلوم ہوا کہ جیسے تاریک نزع کا پہاڑ اس کے سر پرٹوٹ پڑا۔ اس کی آنکھیں کھلیں تو کہاں کہاں، کہاں! خوش آیند پیاری میٹھی جان بخش ضیا بار صدا کانوں میں آئی۔ لیڈی ڈاکٹر نے بچہ کو اس کے سامنے کردیا جیسے اس کی آنکھوں میں ٹھنڈک آگئی اور وہ ٹھنڈک حلق سے ہوتی ہوئی دل جگر تک پہنچ گئی۔ اس نے ہاتھ بڑھاکر بچے کو گود میں لے لیا اور بولی، ’’شیام بابو آگئے۔ ایں ابھی تک نہیں آئے۔‘‘

اس کا چہرہ افسردہ ہوگیا جیسے چراغ بجھ جائے۔ زندگی کی سب سے بڑی مسرت جس کے سامنے اور سب کچھ ناچیز تھا۔ نازودادا، بناؤ سنگار، بوس و کنار کہیں یہ لطف نہیں۔ وہ اس سے محروم ہوگئی۔ وہ نوزائیدہ فرشتہ گود میں اٹھاکر آنکھوں میں غرور اور تشکر بھرے ہوئے جذبات کے ساتھ اسے جھلاّ کی گود میں نہ دے سکی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔

صبح ہوئی جھلاّ نہیں آئے۔ شام ہوئی، رات ہوئی، پھر صبح ہوئی، پھر شام ہوئی یہاں تک چھ صبحیں آئیں اور گئیں جھلاّ نہ آئے نہ کچھ کہہ گئے، نہ کوئی خط دے گئے۔ پدما مارے فکر و خوف کے سوکھی جاتی تھی۔

ساتویں دن اس نے منشی جی کو بینک بھیجا۔ کچھ روپے نکالنے تھے۔ منشی جی بینک سے ناکام لوٹے۔ بینک کے سب روپے ڈاکٹر جھلاّ نکال لے گئے۔ پدما نے انہیں بینک سے لین دین کرنے کا اختیار دے رکھا تھا۔

اس نے تعجب سے پوچھا، ’’مگر میرے بیس ہزار جمع تھے۔‘‘

’’جی ہاں سب کا سب نکال لے گئے۔‘‘

’’اور کچھ معلوم ہوا کہاں گئے؟‘‘

پدما اسی طیش سے جھلاّ کے کمرے میں گئی اور اس کی قدِ آدم تصویر کو جو ایک ہزار میں بنوائی تھی اٹھاکر اتنے زور سے پٹکا کہ شیشہ چور ہوگیا۔ پھر اس تصویر کو دونوں ہاتھوں سے پھاڑ ا اور اسے پیروں سے خوب کچلا اور دیا سلائی لگا دی۔ پھر جھلاّ کے کپڑے، کتابیں، صندوق، جوتے، سگریٹ کیس اور صدہا سامان جو وہاں رکھے ہوئے تھے سب کو ایک جگہ کر کے اس پر مٹی کا تیل چھڑکا اور آگ لگا دی اوربلند آواز میں بولی، ’’شہدا، بدمعاش، حرام خور، خردماغ، خرنفس۔۔۔ ایں جھلاّ! تم تم!‘‘

’’ہاں،‘‘ ڈاکٹر جھلاّ جانے کہاں سے ٹپک پڑے تھے اور دروازے پر کھڑے یہ تباہ کاریاں دیکھ رہے تھے اور دلچسپ اور غیرفانی نظروں سے۔

پدما حیرت اور خفت اور غصہ میں ڈوبی ہوئی کھڑی ہوگئی اور پوچھا، ’’تم اب تک کہاں تھے؟ اور تم نے میرے روپے کیوں اڑا لیے؟ شہدا، بے ایمان!‘‘

جھلاّ نے ظرافت آمیز انداز سے کہا، ’’دل کا بخار اترگیا یا باقی ہے۔‘‘

پدما جھلاّ کر بولی، ’’تم نے میرے روپے چرا لیے۔ احسان فراموش۔ میں تمہیں جیل کی سیر کراکے ہی چھوڑوں گی۔ دغاباز!‘‘

جھلاّ نے نوٹوں کا ایک پلندا اس کی طرف حقارت سے پھینک دیا اور بولے، ’’یہ لو اپنے روپے اور میرا سلام قبول کرو۔ یہ تھی تمہاری محبت جس کا اس شدو مد سے اظہار کیا جارہا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے تم اپنے بلڈاگ کے ساتھ کرتی ہو۔ اسے گود میں کھلاتی ہو، چومتی ہو۔ ساتھ لے کر سیر کو جاتی ہو۔ اپنی بغل میں بیٹھاکر خوش ہوتی ہو۔ اسے اپنے ہاتھوں سے نہلاتی ہو، ڈارلنگ اور خدا جانے کیا کیا کہتی ہو، لیکن کتا ذرا دانت دکھا دے تو اس پر ہنٹروں کی بارش کردوگی اور شاید گولی ماردو۔ میں بھی تمہارا بلڈاگ تھا۔ اتنا ہی عزیز اور اتنا ہی حقیر۔ میں دیکھتا تھا اور امتحان لینا چاہتا تھا۔ اور اب مجھے اطمینان ہوگیا کہ یہ میرا خیال صحیح تھا۔ ایک ہفتہ تک غائب رہنا اتنا بڑا جرم نہ تھا، نہ بیس ہزار روپیوں کی کوئی حقیقت ہے۔‘‘

’’مگر تمہاری محبت دیکھ لی۔ رتنا مجھ سے علیحدہ ہے مگر محض قانوناً۔ اس کا مجھ سے روحانی رشتہ ہے اور وہ ٹوٹ نہیں سکتا کیوں کہ وہ آج بھی مسز جھلا ہے اور میں جانتا ہوں جس وقت میں نادم ہوکر اس کے سامنے جاؤں گا وہ پھر میری بیوی ہوگی اورمیں ا سکا غلام شوہر۔ تمہاری آزادی تمہیں مبارک۔ دیکھنا چاہتی ہو رتنا کے خطوط۔ یہ لو دیکھو اور شرماؤ۔ وہ آج بھی میرے نام پر بیٹھی ہوئی ہے اور تم کل ہاں کل کوئی دوسرا طائر پھانسو گی ا ور پھر اس پر اپنی محبتوں کی بارش کروگی اوربدمزاج اور غصہ ور اور سخت گیر رتنا یونہی مجھ سے جتی رہے گی اور میری رہے گی۔‘‘

پدما بت کی طرح کھڑی تھی۔ جھلاّ چلے جارہے تھے جیسے قید سے چھوٹ گئے ہوں۔

مأخذ : پریم چند کے نمائندہ افسانے

مصنف: پریم چند

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here