ہم تو اس جینے کے ہاتھوں۔۔۔

0
186
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

حیرت کا طلسم فضا پر طاری ہو چکا تھا، ہر کسی کی نگاہ اسٹیج پر مرکوز تھی۔ اسٹیج پر سارے معزز مہمان موجود تھے اور وہ بھی دم بخود تھے، غالباً ان کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ چشم زدن میں یہ کیا ہوگیا۔ لوگ کاناپھوسی کرنے لگے، میری طرح شاید وہ لوگ بھی یہ جاننے کے لئے بےچین تھے کہ ابھی ابھی یہاں سے جو شخص خطاب کرکے گیا ہے کیا واقعی وہ سچ تھا، فریب نظر تھا یا پہلے سے کوئی طے شدہ ڈرامہ۔ آجکل اس قسم کے ڈرامے بہت ہوتے ہیں۔ پروگرام ابھی ختم نہیں ہوا تھا، دراصل پروگرام تو ابھی شروع ہوا تھا اور شروع کرنے والا جا چکا تھا۔ بعد کے مقررین توحسن تلافی کی کوشش کر رہے تھے۔

اس پروگرام میں میرے لئے دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تھی، مجھے خیال نہیں کہ کب اور کیسے غیرارادی طور پر میں نہ صرف تنہائی کی اسیر ہو گئی تھی بلکہ یہ مجھے کچھ راس بھی آنے لگی تھی، بکس، میوزک، موویز، گیمز، دیواریں، خلاء، تنہائی اور۔۔۔ یہ سب یادوں کےایک بت کو توڑنے کے سامان تھے ،ایک زخم تھا جسے اب تک بھرجانا چاہئے تھا اورمجھے اتنا یاد ہے کہ میں عارضی طور پر اپنے گردوپیش سے ،خود سے،ہرچیز سےلاتعلق رہنا چاہتی تھی لیکن جب امی کا فون آیا’ عینی! رامش کی بک ریلیز ہو رہی ہے، میں شہر میں نہیں ہوں اس لئے تم چلی جانا۔‘ تب جاکر مجھے اپنے ہونے کا اندازہ ہوا۔ 

اکثر کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک نظر مقرر پر ڈالتے اور پھر اپنے شناساؤں یا مصاحبین کے ساتھ سرگوشیوں میں مصروف ہو جاتے۔ میں بہت پیچھے بیٹھی ہوئی تھی، میری عادت ہے کہ میں عموماً پروگرام میں اپنے وقت پر پہنچتی ہوں اور بالکل پیچھے کی قطار میں کوئی ایک نشست محفوظ کر لیتی ہوں۔ مجھے آپ بیک بنچر کہہ سکتے ہیں لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ پیچھے سے سب دکھائی دیتا ہے۔ میری نشست کے بائیں جانب کی قطار میں ایک متوسط عمر اور ایک درمیانے قد کا شخص بیٹھا ہوا تھا، اوسط قامت والے شخص کی داڑھی قدرے بڑھی ہوئی، تو ند تھوڑی نکلی ہوئی اور مونچھیں اس قدر بےترتیب، گندی اور مٹ میلی تھیں کہ دیکھ کر عجیب سی کراہیت پیدا ہوئی، وہ کبھی کبھی کنکھیوں سے میری طرف دیکھتا، میرے لئے یہ طے کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ تعارف یا تجسس کے انداز میں دیکھ رہا ہے یا پھر آنکھوں آنکھوں۔۔۔ میں سوچنے لگی کہ یہ شخص یہاں پر کیوں موجود ہے؟

کیا اس کا بھی تخلیقی دنیا سے کوئی تعلق ہے اور اگریہ کوئی شاعر، ناقد یا فسانہ نویس ہوا تویہ اپنی تخلیق میں ایستھیٹک سینس (ذوق جمال) کہاں سے لاتا ہوگا کیوں کہ اس کے ظاہری پیکر میں ذوق لطیف کے برعکس کراہیت کی ساری شکلیں نظر آ رہی تھیں۔ یکبارگی سوچا کہ اپنی نشست بدل دوں، پھر مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر کا نیم خوابیدہ ایلیٹ کلاس زندہ ہو رہا ہے، یہ غلط رویہ ہے اور پھر میں نے خود ہی اپنے خیال کی نفی کرنا شروع کر دیا کہ تخیل کا حسن ظاہری پیکر سے مشروط نہیں۔ میں یوں ہی سامعین کی خموشی کا جائزہ لے رہی تھی کہ اتنے میں اس کی اپنے بغل میں بیٹھے ہوئےایک معمر شخص کے ساتھ گفتگو سنائی دی۔ 

’استاد! بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ آخر ایک اتنا بڑا ادیب اور اتنا مشہور وکیل کسی گمنام شخص کو اپنی توہین کرنے کے لئے کیوں مدعو کرےگا، میرے خیال میں یہ منتظمین کی ہی کوئی شرارت ہے۔‘ معمر شخص نے اپنے شاگرد کی بات سے جزوی طور پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ’میرابھی یہی خیال ہے کہ یہ کوئی ایک طے شدہ ڈرامہ تھا۔ آجکل لوگ اس قسم کے پروپیگنڈے کرتے رہتے ہیں جن سے یہ باور ہو کہ وہ بہت اعلیٰ ظرف، شریف النفس اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے والا وسیع القلب شخص ہے ۔یہ پہلے اپنے خلاف خوب چھپواتے ہیں، خامشی سے ردعمل دیکھتے ہیں اور آخر میں ایک بیان جاری کرتے ہیں کہ مختلف الرائے نے اپنی آزادیٔ اظہار رائے کا حق استعمال کیا ہے جس کا وہ احترام کرتے ہیں‘۔

- Advertisement -

ان دونوں صاحبان کے برعکس میرے خیالات محفوظ تھے، میرا خیال تھا کہ کہیں کچھ گڑبڑی ضرور واقع ہو گئی ہےکیوں کہ جس خوف آمیز انداز میں وہ بول رہا تھا اس سے ایسا بالکل ظاہر نہیں ہو رہا تھا کہ یہ پہلے سے طے شدہ کوئی ڈرامہ ہے اس لئےمیں کتاب پڑھنے سے قبل کوئی رائے نہیں قائم کرنا چاہتی تھی۔جب پروگرام ختم ہوا تو اکثر کھانے پر ٹوٹ پڑے اور کچھ دستخط شدہ کاپی خریدنے میں مصروف ہو گئے، ایک کاپی میں نے بھی خریدی اور گھر کے لئے روانہ ہو گئی۔ 

جب باہر نکلی تو سڑک ویران نہیں تھی۔ وہی دن کا شور رات کی خامشی میں بھی حلول کر گیا تھا۔ گاڑیاں، راہ گیر اور سڑک سب اپنے اپنے سفر پر رواں تھے، میں بھی۔ میں سوچنے لگی کہ اسے خوابوں کا شہر کیوں کہا جاتا ہے، میں نے کبھی اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا، یہ سوتا نہیں ہے تو پھر خواب کب دیکھتا ہے؟ اس شہر کے بطن میں ہزاروں خواب دفن ہیں، کچھ میرے کچھ آپ کے اور کچھ اس گمنام کے، یہ روز جتنے خواب قتل کرتا ہے اتنے پیدا کرتا ہے، کچھ دل زدگان کے خواب، کچھ مراعات یافتگان کے خواب، کچھ مرتے ہوؤں کی آخری حسرت کےخواب، کچھ جیتے ہوؤں کی آخری محبت کے خواب۔ یہ خوابوں کا شہر نہیں، یہ خواب گر ہے، خواب کش ہے۔ نیم آباد فٹ پاتھ، سڑکیں، کھمبے، روشنیاں، دکانیں اور ویرانیاں تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگ رہی تھیں اور میں بھی۔ 

وہ گمنام شخص پورے سفر میں میرے ذہن پر حاوی رہا، ایک ’نامعلوم‘ کی مسلسل یاد دلاتا ہوا۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر اس نے خودکشی نہ کی ہوتی تو دس پندرہ سال بعد وہ ایسا ہی ہوتا۔۔۔ ضائع شدہ، رائگاں اور ضرر رسیدہ۔۔۔ ’دو رائگاں افراد‘ کے بارے میں سوچتی ہوئی جب تھکی ماندی گھر پہنچی تو ابو جاگ رہے تھے۔ڈائننگ ہال سے متصل نسبتاً ایک چھوٹے کمرے کو انہوں نے اپنی لائبریری بنا رکھی تھی اور اسے پار کئے بغیر میں اپنے کمرے تک نہیں جا سکتی تھی، میں جیسے ہی چوروں کی طرح کوئی آواز کئے بغیر وہاں سے گزرنا چاہا تو ابو کی آواز آئی ’عینی!‘ 

میں اپنے بارے میں بتانا بھول گئی ہوں،میں ایک اپر مڈل کلاس (اعلیٰ متوسط طبقے) فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، میرے والدین بہت اچھے ہیں، والد بینکر ہیں، امی محکمہ صحت و خاندانی بہبود میں ایڈمنسٹریٹر ہیں اور میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں جو اپنی زندگی اپنی شرطوں پر جینے کے لئے آزاد ہوں، average lovers (اوسط پسندوں) کی تہذیب میں اسے’ بوہیمین لائف‘ کہتے ہیں لیکن میں اتنی بھی آزاد خیال نہیں ہوں کہ ذات میں گم ہو جاؤں یا سماج سے لاتعلق ہو جاؤں۔ ابو اپنی چھوٹی سی لائبریری میں کوئی کتاب پڑھ رہے تھے، کوئی کتاب نہیں بلکہ میرے کمرے میں پڑی ہوئی کتابیں اٹھا لائے تھے۔ تو کیا وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کی جوان بیٹی آجکل حجرے میں قید کیا کر رہی ہے؟ 

انہوں نے پروگرام کے بارے میں پوچھا اور میں نے پورا ماجرا سنا دیا۔ رامش صاحب کےبارے میں ابو کا خیال تھا’ یہ جینئوئن نہیں ہیں۔ تمہاری امی نے انہیں ’اوورریٹ‘ کیا ہے‘۔ میں نے بھی مسکراتے ہوئے مذاقاً کہا’ابو آپ بینکر ہیں اور آپ بھی لوگوں کو بہت خواب دکھاتے ہیں، کچھ پورے ہوتے ہوں گے اور کچھ خوبصورت الفاظ کی قبر میں دفن ہو جاتے ہوں گے۔‘وہ مسکرانے لگےاور دیر تک مسکراتے رہے، پیشانی پر مسکراہٹ کی لکیروں میں اطمیان کم کسی ملال، کسی پشیمانی کی خلیج زیادہ نظر آ رہی تھی۔۔۔ یوں گویا ماضی کے کسی نوجوان لمحے کا جرم کاٹا بن کر پتلیوں کو چھید کرنے لگا ہے۔‘ وہ اپنا چشمہ درست کرنے لگے، مجھے فوراً احساس ہوا کہ میں بے خیالی میں کچھ زیادہ ہی سخت بول گئی ہوں، میں نے سوری کہا، ان کے پاس کچھ وقت تک بیٹھی رہی لیکن وہ کہیں اور جاکر بیٹھ گئے تھے، جب میں اپنے کمرے میں جانے لگی تو ان کی خودکلامی سنائی دی ’میری بیٹی میرے پیشے کو خوبصورت الفاظ کی قبر کہتی ہے، اسے معلوم نہیں کہ اس قبر میں کتنے گھروں کے چراغ روشن ہیں‘ 

میں جلدی سے فریش ہوئی اور کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن نظر ورق پر نہیں اس آدمی پر تھی جسے منتظمین نےصاحب کتاب ہی کا کوئی مہمان مقرر سمجھ کر بولنے دیا تھا۔ وہ سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے دوڑنے لگتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کاغذا ت ہیں، اس نے ایک نظر سامعین کو دیکھا ہے اور پھر کاغذات کو الٹنا پلٹنا شروع کر دیا ہے، اس کی بوکھلاہٹ ،بدحواسی یا جلد بازی دیدنی ہے یوں گویا مائک اس کے ہاتھ سے کوئی چھین نہ لے، کوئی اسے پکڑ کر باہر نہ پھینک دے۔ وہ خود کو مجتمع کرتا ہے اور بولنا شروع کرتا ہے۔ 

’محترم احباب: السلام علیکم۔ خاکسار اور منتظمین پروگرام کی طرف سے آداب قبول کریں، صاحب کتاب کو بھلا کون نہیں جانتا، معروف بیرسٹر، محقق اور ادیب ہیں، موصوف کی معتبریت کسی سے پوشیدہ نہیں، اقلیتوں کےکئی نہایت حساس مقدمات جیت کر انہیں انصاف دلانے میں سرفہرست رہے ہیں، کئی خیراتی اداروں کی انتظامی کمیٹی میں بھی شامل ہیں، اہم مقدمات کے علاوہ موصوف کی اب تک پانچ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں تین ریسرچ ورک ہیں اور دو ناول ہیں۔ فی الحال جو ناول آپ کے سامنے ہے اس پر تفصیلی گفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس پر تبادلۂ خیال کے لئے ادبی دنیا کی عظیم شخصیتیں یہاں پر موجود ہیں۔

میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی بیش قیمت چیز، معذرت چاہتا ہوں، بیش قیمت چیز نہیں بلکہ ایسی کوئی ذات جو آپ کے سارے رشتے ہو، اچانک یوں ہی ایک دن کوئی وجہ بتائے بغیر آپ کی زندگی سے نکل جائے اور پھر آپ کو کچھ خبر ہی نہ ہو کہ وہ کہاں ہے توآپ کی دلی اور ذہنی کیفیت کیا ہوگی؟ خاص طور سے ایسی حالت میں جب موت دبے پاؤں آپ کی جانب بڑھ رہی ہو کیا کوئی ملال ہوگا؟ جینے کی کوئی چاہ ہوگی؟ زندگی کے پھسلتے ہوئے کربناک لمحوں میں بےیقینی کی کسک، انتظار کی خلش اور موت کی آمد کی کیفیت کیا ہوگی کبھی آپ نے محسوس کرنے کی کوشش کی ہے؟

اس نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا’ میں اس کو یوں rephrase کرتا ہوں، فرض کر لیں کہ آپ اپنی زندگی کے بدترین دنوں سے گذر رہے ہوں، آپ روز سرکتے ہوئے دو چار گام قبر کی طرف بڑھ رہے ہوں اور رائگانی کے گردباد سے باہر نکلنے کی سبیل تلاش کر رہے ہوں لیکن کوئی روشنی نظر نہ آرہی ہو اور پھر اسی دوران کوئی ایسا سانحہ رونما ہو جاتا ہے کہ آپ سب کچھ بالائے طاق رکھ کر ان بدترین دنوں کے ساتھ رومانس شروع کر دیتے ہیں کہ اب مرنا ہی مقدر ٹھہرا تو پھر کیوں نہ موت کو مار کر مریں لیکن پھر ایک دن وہ سارے رشتے یوں ہی ختم ہو جاتے ہیں کہ موت کو مارنے کی مہلت ہی نہیں ملتی ،موت کا سارا رومانس جینے کی نذر ہو جاتا ہے کہ بحران کی محبت کے دن ہی کتنے ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ موت کو بھلا کون مار پایا ہے۔ میں نہیں مار پایا لیکن وہ مجھے ضرور مار رہی ہے، روز مار رہی ہے، لمحہ بہ لمحہ، سانس بہ سانس، پل پل گھٹ رہا ہوں، سانسیں اکھڑنے لگی ہیں، رگیں اینٹھنے لگی ہیں۔۔۔ اس کتاب میں جو اصل کردار ہے وہ میں ہوں اور اس کا خالق بھی میں ہی ہوں۔‘ 

اس سے قبل کہ لوگ ماجرے کی اصل تہہ تک پہنچتے وہ مائک چھوڑ چکا تھا۔ ڈائس پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی انگشت بدنداں تھے، ہر کوئی استعجاب و استفہام کا آئینہ بنا ہوا ایک دوسرے کو دیکھنے لگا۔ صاحب کتاب انکل رامش اسدی کےچہرے پررنگ یوں آ جا رہے تھے گویا چھپکلیاں رینگ رہی رہوں۔اس نے شوروغل اور بھیڑ کی بےترتیبی کا فائدہ اٹھایا اور چپکے سے بیک اسٹیج سے باہر نکل گیا۔ جب شور و ہنگامہ کچھ تھما، حواس بحال ہوئے تو پتہ چلا کہ وہ شخص ان کے درمیان سے جا چکا ہے۔ 

میں اس آدمی کے بارے میں سوچتی ہوں اورپھر اس کے بارے میں بھی سوچتی ہوں جو دس پندرہ سال بعدشاید کچھ اس جیسا ہی ہوتا۔۔۔ خراب وخستہ، رائگاں، زخم خوردہ۔۔۔ میں کتاب کا سرسری جائزہ لینے لگتی ہوں لیکن میری نظر کتاب پر نہیں اس آدمی پر ہوتی ہے جو بہت آسانی سے یہ کہتے ہوئےمحفل کو ورطۂ حیرت میں چھوڑ کر غائب ہو جاتا ہے ’میں ہی اصل کردار ہوں اور میں ہی اس کا خالق ہوں‘۔ میں کتاب کو پہلے تو یہاں وہاں سے دیکھتی ہوں،جگہ جگہ کچھ تخلیقی جملوں پر نظر پڑتی ہے ’لسٹ Lust اور لو میں بہت فرق ہے، لو (love) میں مسام اندام کے ساتھ ساتھ روح کی بھی تسکین ہوتی ہے‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’جہاں vibes باہمی شدت کے ساتھ تعامل کرتی ہیں معاملہ وہیں رگ جاں تک پہنچتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ’بایسے سوچ لو۔۔ ارہر کے چھوٹے چھوٹے پیڑ، سبز پتے اور اس کے سائے میں تمہارا گیہواں بدن اور اس کے رنگ ورامش کو زبان دیتا ہوا ایک برش اور اس کے’ فائنل ٹچز ‘سے نکھرنے والی ایک نئی دوشیزگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ حسن پہلے اتنا حسین نہیں تھا جتنا اب ہے‘‘ 

ڈکشن کچھ نیا ہے،تجسس بڑھتا ہے اور میں پڑھنا شروع کردیتی ہوں، ۲۸۰ صفحات کی کتاب تین دن کے اندر مکمل کر دیتی ہوں۔ کتاب شروع کرتے وقت ہی مجھے یقین ہونےلگتا ہےکہ وہ شخص سچ کہہ رہا تھا، رامش انکل کے ڈکشن سے میں واقف ہوں، میں نے ان کی ساری کتابیں پڑھ رکھی ہیں لیکن اس کتاب میں جو رنگ ہے وہ رامش انکل کی زندگی اور غالباً قوت متخیلہ میں بھی نہیں ہے۔ انکل بنیادی طور پر اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، سپریم کورٹ میں لائر ہیں، ان کے پاس ایک جمبو ٹیم ہے، ریسرچ ورک کی لگژری وہ افورڈ کر سکتے ہیں

لیکن تخلیق کی کیفیت نہیں۔ مگر یہ شخص ابھی تک تھا کہاں، او مائی گاڈ! ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو شکوے شکایتوں سے دور زندگی کے بدترین لمحوں میں بھی حسن و جمال کی کائنات تلاش کر لیتے ہیں۔ اس نے تین ماہ کے اندر جو زندگی جی لی ہے، محبتوں کی جو شدت، جو رنگ، جو شیڈس اور نشیب وفراز اس نے بیان کیا ہے، کیا یہ ممکن ہے؟میں بھی تو ایسی ہی ایک زندگی جینا چاہتی تھی پھر کیوں نہیں جی سکی؟ کیا میں واقعی نفسانی طور پر اذیت پسند ہو گئی ہوں؟ یہ سادی کا کردار کہیں میں تو نہیں ہوں؟ میں بھی تو بھاگ رہی ہوں، لیکن کیوں یہ مجھے بھی نہیں معلوم۔میں یہ نہیں مان سکتی کہ اس نے میری وجہ سے خودکشی کی ہے،

وہ میری وجہ سے زندہ بھی تو رہ سکتا تھا لیکن پھر میرا دل مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟ دل چاہتا ہے کہ اپنی پور ی کیفیت من وعن اتار دوں لیکن میرے لئے یہ بہت مشکل ہے، میں اپنی کیفیت کو وہ زبان عطا کرنے سے قاصر ہوں جو کردار کی روح کی سرشاری نے عطاکئے ہیں۔ کچھ اقتباس میں نے اپنے لئے محفوظ کرلئے ہیں اور انہیں بار بار پڑھ رہی ہوں، انہیں اپنے طور پر جینے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن یہ جینا بہت یکطرفہ اور میکانکی سا ہے، اگر وہ ’نامعلوم‘ شخص ہوتا جو دس پندرہ سال بعد اس جیسا ہوتا تو شائد۔۔۔۔ فی الحال وہ شدت نہیں پیدا ہو رہی ہے جو کشفی کا محض خیال آتے ہی سادی کے اندر خود بخود پیدا ہو جاتی تھی، اس لئے میں اب خود سادی میں تحلیل ہو گئی ہوں اور ان تمام لمحات کو ویسے ہی جینے کی کوشش کر رہی ہوں جو سادی اپنے معشوق کے ساتھ جی کر مکمل ہو جاتی ہے یا جو میں اس ’نامعلوم‘ کے ساتھ بغیر کسی تحفظ و اندیشے کے جینا چاہتی تھی۔

ایسی زندگی تین ماہ تو کیا اگر تین دن ہی مل سکے تو بہت ہے۔ اس کا مرنا بھی ایک فسوں ہے، موت کو رومانٹیسائز کرنا بھی اس کے جینے کے ہنر سے عبارت ہے۔ یہ رامش کے بس کی بات نہیں ہے، یہ یقیناً اسی کوزہ گر کا معجزہ ہے جو بھرے مجمع میں بڑے وثوق سے کہہ رہا تھا کہ جب مرنا ہی مقدر ٹھہرا تو کیوں نہ موت کو مار کر مریں۔ رامش جیسے سوکھے ذہن بھلا وحشت کا جمال کہاں پیش کر سکتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ کو بھی اس کیفیت میں شریک کروں جو جستہ جستہ اوراق پر پریشاں ہیں اور جہاں آجکل میں پناہ گزیں ہوں۔ 

’تمہارےساتھ وصال کی حدت میں جمال کی دوشیزگی نکھرتی ہے اور ایک نئے وجود، استعارے اور تمثال میں رونما ہوتی ہے۔ عورت ویجائنا پر ختم نہیں ہوتی۔دراصل ساری فنتاسی اور عشق کے سارے تخیلات وہیں سے جنم لیتے ہیں لیکن وہ تو محض ایک ابتدا اور ایک آغاز ہے، تمہارا جسم بالکلیہ سیکس ہے۔ مسامِ اندام، سانسوں کی مہک، پسینوں کی چمک، کولھے کی اٹھکھیلیاں، لب لعلیں کا رس، پستانوں کی روشنی، زلفوں کی تیرگی، رانوں کا ریگزار، کہاں نہیں ہے یہ ۔یہ ایک ’مقدس‘ کیفیاتی عمل ہے مشینی نہیں اور تم بہت معصوم کیفیت ہو ایک مجذوب کی کیفیت‘ 

’تم اب تک کہاں تھیں، مجھے پہلے کیوں نہیں ملیں، روح کو سرشار کرنے کا جو حسن تمہارے پاس ہے وہ مجھے کہیں اور نظر نہیں آیا۔‘ 

’میں تو آس پاس ہی کہیں تھی۔۔۔ ایک نظم کی طرح۔۔۔ کسی درخت کی اوٹ میں چھپی ہوئی۔۔۔ آپ ہی دریافت نہیں کر پائے‘ 

’ہاں۔۔۔۔ نہیں کر پایا۔ اپنی کج فہمی کا اعتراف ہے مجھے‘‘ 

’اور مجھے اپنی بدبختی اکا اعتراف ہے‘ 

’’نہیں آپ تو جس کو بھی ملیں وہ شاہ بخت ہو جائے۔ تم نے پوچھا ہے کہ اس وقت میں جس رنگ میں ہوں اس میں تمہارا کیا رنگ ہے تو سنئے آپ ہی کے رنگ میں ہوں۔۔۔ خود ہی سوچو اس روپ کا کیا جلوہ ہوگا جس میں تم ہو، وہ ایک الگ ہی وادی ہے محبت کی، رومانس کی، خمار اور جنون کی، شوریدگی اور بدن دریدگی کی۔۔۔ وہ مقام تحلیل ہے۔۔۔ 

پھر وہی مٹی، وہی پانی اور وہی کوزہ گری ہے، کبھی تم زندہ ہوتی ہو کبھی میں مرتا ہوں، کبھی تم بے حجاب ہوتی ہو اور میں بے کنار ہوتا ہوں اور پھر ایک آوازبدن کے سارے مسام سے نکلنے لگتی ہےاور پھر وہی جسم کی ہذیانی، وہی روح کی طغیانی، وہی شورش جنوں۔ 

’سادی! جب فنا بقا کی نوید ہو تو ہر کوئی باقی رہنا چاہےگا، کچھ اپنے طربیوں کے لئے کچھ اپنی مہہ وشوں کے لئے اور کچھ قدسیوں کے لیے 

’’مہارے جملوں میں بہت شدت ہے اور بہت سکون ،ایسا سکون کہ مر جانے کو دل چاہتا ہے‘‘ 

مرنے میں جو مزہ ہے وہ جینے میں کہاں ہے اور پھر موت اگر محبت کی ہو تو سیکڑوں زندگیاں قربان، تمہارے یہ ہونٹ یہ گردن یہ زلف یہ آنکھیں یہ پستان، کون کافر زندہ رہنا چاہتا ہے 

ہر جگہ حرارت ہے، کچھ تمہارے لمس کی ہے اور کچھ میری بدن پیمائی کی، حرارت قطروں میں تبدیل ہو گئی ہے اور ایک نئی زندگی کی نوید دے رہی ہے۔فنا سے بقا کی نوید، آسودگی کی نوید، جسم کی تپش کے مطمئن ہو جانے کی نوید۔ کچھ قطرے جذب نہیں ہونا چاہتے، تمہاری طرح بہت سرکش ہیں، انکی خوشبو سے فضا معطر ہے، یہ انجذاب کی خوشبو ہے، مجذوبیت کی خوشبو۔‘ 

کتاب دونوں کرداروں کی تین سال کی زندگی پر مشتمل ہےاور اس کا بیشترحصہ شروع کی تین ماہ کی زندگی پر محیط ہے، جب دونوں کردار چوبیس گھنٹے ساتھ ہوا کرتے تھے، اس کے بعد دھوپ چھاؤں اور ہجرو وصال کا کھیل شروع ہوتا ہے جو بالآخر غیر اعلانیہ فراق پر ختم ہو جاتا ہے۔ مجھے اس وقت بہت غصہ آیا جب سادی ایک دن اچانک سین سے غائب ہو جاتی ہے اور پھر پلٹ کر کوئی خبر نہیں لیتی۔ رابطے کے سارے سلسلے منقطع کر دیتی ہے، فون، گھر سب تبدیل بس ایک ای میل ہے جس سے کبھی کوئی جواب نہیں آیا۔لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ میں بھی تو اب تک یہی کرتی آئی ہوں۔کتنے سارے رشتوں کو ٹھکرا چکی ہوں، کسی بھی تعلق کی عمر سال ڈیڑھ سال سے زیادہ نہیں رہی اور مجھے کوئی افسوس بھی نہیں ہے تو پھر مجھ میں اور سادی میں کیا فرق ہے؟ کیا یہ وجہ کافی ہوگی کہ مجھے کشفی جیسا کوئی نہیں ملا؟ کیا پتہ ملا بھی ہو لیکن میں ہی اندر سے بند رہی ہوں جیسا کہ کشفی خود کہتا ہے You will never know love until you live it۔۔۔ سادی نے میری زندگی کے کچھ پریشان زخموں کے دھاگے کھول دیئے ہیں اور میں اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں جس کے ساتھ رشتے کو میں کوئی نام نہیں دینا چاہتی کیوں کہ وہ بے نام ہی ٹھیک تھا اور اگر وہ زندہ ہوتا تو شائد دس پندرہ سال بعد کشفی جیسا ہی ہوتا۔۔۔ رائگاں سا، گم کردہ راہ، منتشر، بکھرا ہوا۔۔۔ توکیا اس کی خودکشی یا اس کا قتل ٹھیک تھا؟ میں نے تو بس اتنا ہی کہا تھا کہ میں اس سے شادی نہیں کر سکتی اور اس کو بھی معلوم تھا کہ معاشرے کی دو مخالف انتہاؤں میں شادیاں بمشکل ہوتی ہیں اور وہ شروع دن سے یہ بات جانتا تھا کہ یہ بس جب تک چل رہا ہے چل رہا ہے کا معاملہ ہے۔ اتنی سی بات پر کوئی جان سے تو نہیں جاتا۔ بات کچھ اور رہی ہوگی، ایک نوجوان کی مشتبہ حالت میں موت کو خودکشی اور قتل دونوں قرار دیا جا سکتا ہے، اس فائل پر دبیز گرد پڑ چکی ہے، گرد صاف کرنے کی ہمت نہیں لیکن جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں فائل پر پڑی ہوئی دبیز گرد آنکھوں کی پتلیوں پرملال و ملامت کی صورت چمکنے لگتی ہے۔ میں شادی، کشفی اور اس ’نامعلوم‘ کے بارے میں سوچتی ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ ہماری زندگی میں جینے اور مرنے کے درمیان کا لمحہ نہیں ہونا چاہئے۔ 

’ڈیئر سادی! آج ۵۹ دن ہو گئے ہیں، یونہی ایک دن، بہت جلددن نکلنا بند ہو جائےگا۔ مجھے معلوم ہے تم میری وجہ سے نہیں گئی ہو، اگر میری وجہ سے جانا ہوتا تو بہت پہلے جا چکی ہوتیں۔ سب کچھ میرے سامنے ہے لیکن کیا کروں دل ہی نہیں مان رہا ہے۔ میں تو بس یہ سوچ سوچ کر مر رہا ہوں کہ میرا جرم کیا تھا۔ وہ کون سا لمحہ تھا جب میں تمہارے ساتھ نہیں تھا، میں نے تمہیں کہیں مایوس نہیں کیا، تمہارے ساتھ میں نے کسی بھی قسم کی کوئی خیانت نہیں کی، مجھے زندگی بھر اس بات کا افسوس رہےگا کہ نہ میں تمہارا یقین جیت سکا اور نہ ہی تمہیں مغالطوں سے باہر نکال سکا۔ تمہارے دل میں میرے لئے کوئی جگہ ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن تم اگر نہیں رہیں تو دنیا میں ایک ہی شخص زندگی بھر روئےگا اور وہ میں ہوں اور پھر اب زندگی ہی کتنی بچی ہوئی ہے بمشکل ایک دو ماہ۔ میری ایک دس سال کی بیٹی ہے اور ایک بوڑھی ماں، خدا معلوم میرے بعد ان کا کیا ہوگا۔۔۔ کشفی‘ 

یہ وہ خط ہے جو پوسٹ نہیں ہوتا اور اس کے بعد دن نکلنا بند ہو جاتا ہے، کتاب یہیں پر ختم ہو جاتی ہے، خلش کی بے کراں حاصلی کے ساتھ۔ میں کرداروں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہوں اور جب ہرطرف وہی دونوں نظر آنے لگتے ہیں تو میں بھی انہیں کا حصہ ہو جاتی ہوں اور ان تمام جگہوں کواس ’نامعلوم‘ کے ساتھ جینے کی کوشش کرتی ہوں جو دونوں کرداروں نے عالم وصال میں جئے تھے، وہ گلیاں، وہ سڑک، وہ ساحل، وہ پارک، وہ ریستوران، میں انہیں دونوں کے نقش کف پا پر چلتی ہوں جہاں جہاں سے یہ لوگ گزرے ہیں۔ اسے ہر ممکنہ مقام پر تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، چار ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس گمنام شخص کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔ میں اس سے ملنا چاہتی ہوں اور جاننا چاہتی ہوں کہ ریان کشفی وہ خود ہے یا پھر اس کے تخیل کی تخلیق ہے۔ اگر وہ خود ہے تو کردار کے ساتھ اسے بھی مر جانا چاہئے تھا، لیکن نہیں بھلا ایسے کردار کہاں مرتے ہیں، جینے والے کردار کبھی نہیں مرتے، نہ سادی مری ہے اور نہ ہی کشفی دونوں زندہ ہیں میرے اندر، میں انہیں باہر لانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اسی کوشش میں ایک دن رامش انکل سے ملاقات کرتی ہوں لیکن وہ بھی کسی قسم کا تعاؤن کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ 

’تمہاری امی بتا رہی تھیں کہ تم میرے ناول پر کچھ کام کر رہی ہو؟‘ 

’انکل! مجھے اس گمنام شخص کے بارے میں جاننا ہے جس نے آپ کے پروگرام میں کہا تھا کہ وہ ہی کردار ہے اور وہی خالق ہے۔‘ 

’اوکے، اس شخص میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟‘ 

’مجھے یقین ہے کہ وہ سچ بول رہا تھا، میں آپ کا ڈکشن جانتی ہوں، یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔‘ 

’آپ میرے بس کی بات نہ کریں، کوئی اور بات ہے تو میری خدمات حاضر ہیں، 

’جی نہیں! اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ،میں تو بس اتنا جاننا چاہتی تھی کہ کن حالات سے مجبور ہوکر اس نے ایسا کیا۔‘ 

’ینگ لیڈی! تمہاری عمر جینے کی ہے، یہ کس چکر میں پڑی ہو، فکشن کے کردار فکشن میں ہی زیب دیتے ہیں۔‘ 

’اکسپلائٹ کرکے کیسے جیا جاتا ہے، وہی دیکھنے آئی تھی۔‘ 

’یہ دنیا اتنی سیدھی نہیں جتنی نظر آتی ہے، مجھے مرنے کے بعد امر نہیں ہونا ہے،مجھے سب کچھ اپنی زندگی میں ہی دیکھنا ہے اور اس کے لئے پروپیگنڈہ بہت ضروری ہے! تم بھی آہستہ آہستہ سیکھ جاؤگی۔ وہ گمنام شخص ہمارا ہی آدمی تھا، جو جوش جذبات میں غلط ڈائلاگ بول گیا تھا۔‘ 

’جی نہیں! اگر آپ کا آدمی تھا تو اسے سامنے لانے میں کیا حرج ہے؟‘ 

’واقعہ افک کے بار ے میں آپ نے سنا ہے؟ جو کچھ آپ کہہ رہی ہیں کیا وہ بہتان عظیم کے زمرے میں نہیں آتا؟‘ 

یہ افک کیا ہے مجھے نہیں معلوم، لیکن اگر آپ کو ئی مذہبی جواز تلاش کر رہے ہیں تو میں اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ 

’ابھی اللہ کو بیچنے کی نوبت نہیں آئی ہے‘ اور یہ کہتے ہوئے میں اٹھ آئی۔ 

پیچھے سے ان کی طنزیہ آواز آ رہی تھی ’عینی بیٹا! اپنے باپ سے پوچھنا کہ وہ کس کس کو بیچتا ہے‘ 

رامش انکل کی کسی بھی بات پر یقین کرنے کا جواز نہیں کیوں کہ وہ پروپیگنڈے والے ادیب ہیں ،میں جب ان کے دفتر سے نکل رہی تھی تو میں نے محسوس کیا کہ ان کے عملے کا ہر فرد مجھے عجیب سی مشتبہ نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ میں جب نیچے آئی اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی تو عین اسی وقت ایک شخص عقب سے اچانک نمودار ہوا اور میرے کندھے کو ہلکا سا مس کرتا ہوا آگے نکل گیا، میں اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی، غصے سے دل ہی دل میں اول فول بکنے کے ساتھ ساتھ اپنا پرس بھی چیک کرنے لگی، نیچے ایک کارڈ پر نظر پڑی، میں نے اسے اٹھا لیا۔ میں واپس اس شخص کو دیکھنے لگی جو ابھی ابھی ہوا کے تیز جھونکے کی طرح یہاں سے گزرا ہے، وہ دور نکل چکا ہے، اتنی دور کہ اب آواز نہیں دے سکتی، لیکن مجھے یوں گمان ہوتا ہے کہ جیسے یہ وہی گم نام شخص ہے جو فرط جذبات میں غلط ڈائلاگ بول گیا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میں اپنے مطلوبہ پتے پر پہنچ جاتی ہوں، شام کے سات بج چکے ہیں، یہاں سورج ڈوبتا اور نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، ہم جہاں رہتے ہیں وہاں سیاہ رات میں آسمان کو دیکھے ہوئے زمانہ ہو گیا، سورج کب نکلتا ہے اور کب ڈوبتا ہے یہ ہمیں نظر نہیں آتا بس دن اور رات سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ یہ گھرشہر سے دور ایک پسماندہ علاقے کی پسماندہ بستی کےایک غیرقانونی بلڈنگ کے پانچویں فلور پر واقع ہے، لفٹ نہیں ہے، سیڑھیاں تنگ و تاریک ہیں، دروازے پر کوئی نیم پلیٹ نہیں ہے، فلیٹ نمبر بھی لکھے ہوئے نہیں ہیں، میں اپنی سانسیں جمع کرتی ہوں اور اسی دوران اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہوں کہ کونسافلیٹ اس کا ہوگا۔ اندازاً ایک دروازے پر دستک دیتی ہوں، ایک بچی دروازہ کھولتی ہے۔ رسمی تعارفی سوال جواب سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام ’حیرت‘ ہے اور وہ کشفی کی بیٹی ہے۔ 

’کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟‘ 

’دادی نماز پڑھ رہی ہیں ،میں ان کو بلاکر لاتی ہوں‘ 

کسی انجانے کو یوں ہی گھر میں داخل نہیں ہونے دیتے، بچی اپنےاعتماد اور ذہنی موجودگی سے مجھے متاثر کرکے اندر چلی جاتی ہے۔ سفید شلوار قمیص میں اور سفید رنگ کا دوپٹہ اوڑھے ہوئے ایک بزرگ خاتون تسبیح کےدانے گنتی ہوئی نمودار ہوتی ہیں، موٹی عینک پہن رکھی ہے، پیشانی روشن ہے، بیچ میں سجدے کا نشان ہے لیکن خمیدہ کمر اور نحیف و لاغر جسم ان کے اندرسے ٹوٹ جانے کی کہانی بیان کر رہے ہیں، کھڑکی کے پردوں پر گرد نہیں ہے لیکن وہ بہت میلے ہیں، دیواریں غربت کا پتہ دے رہی ہیں، پلاسٹر اکھڑ چکے ہیں، کسی کی کوئی تصویر کہیں آویزاں نہیں ہے، چاروں طرف کتابوں کی شیلف ہے، بڑی بی سے بات چیت کے دوران پتہ چلتا ہے کہ ان کے بیٹے کو دل کا عارضہ تھا اور جب دن کا حساب کتاب کرتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا انتقال پروگرام کے ہفتہ عشرہ بعد ہوا ہے۔ یعنی کہ وہ گمنام شخص اسٹیج مینجڈ (stage mangaed) پروپیگنڈہ نہیں تھا بلکہ واقعی سچ تھا۔ میں بہت ہمت کرکے پوچھ بیٹھتی ہوں کہ گھر خرچ کیسے چلتا ہے، وہ کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیتی ہیں، خدا کاشکر ادا کرتی ہیں۔ 

’آنٹی، دیکھیں میں چاہتی ہوں کہ میں آپ کے کچھ کام آ سکوں اور اگر ایسا ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوگی، لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ زیربار نہ ہوں اس لئے میں نے ایک طریقہ نکالا ہے۔‘ 

’بیٹی یہ اس کی نشانیاں ہیں، میں اس کے ساتھ سودا نہیں کر سکتی، تم ایسے ہی دیکھ سکتی ہو، ہمارے گھراب کوئی نہیں آتا۔‘ 

اور پھر میرا آنا جانا شروع ہو گیا، مہینے میں ایک آدھ چکر لگا لیتی ہوں، ایک دن آنٹی نہیں تھیں، صرف حیرت گھر پر تھی، اس نے مجھے بتایا کہ آنٹی ہر جمعہ کو کہیں جاتی ہیں اور دیر سے گھر آتی ہیں، مکان مالک گھر بیچ رہا ہے کیوں کہ کئی ماہ سے کرایہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب آنٹی جمعہ جمعہ مسجدوں کے باہر کوئی ایک کونہ پکڑ کر نہیں بیٹھتی ہیں اور نہ ہی مکان مالک ان سے کرایہ مانگنے آتا ہے۔میں اس ’نامعلوم‘ کے کا بوس سے باہر اور اپنی زندگی میں واپس آگئی ہوں، اب جب کہ اس اثناء میں مطلع بہت حد تک صاف ہو چکا ہے اس ’نامعلوم ‘ کی تفصیلات کو اسکین کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جسم کے تقاضوں کی شدت نے کبھی یہ خیال ہی نہیں پیدا ہونے دیا کہ میں بادیٔ النظر میں ایک مذہبی جنونی کی آلۂ کار بن گئی تھی جو میرے ساتھ رہتے ہوئے ’ہائی ‘ فیل کرتا تھا۔ 

میرا تھیسس مکمل ہو چکا ہے،ایک سال ہو گئے ہیں، کشفی کے پرائیویٹ کلکشن میں اس کی زندگی سے متعلق کوئی قابل ذکر چیز نہیں ملی، ایک نوٹ بک پر لکھا ہوا تھا ’میں بجھ رہا ہوں، امید کا چراغ نہیں۔ عمر بھر کو تونے پیمان وفا باندھا تو کیا۔۔۔‘ کئی خالی صفحوں کے بعد ایک ورق پر لکھا ہوا تھا 

and then I had to sell three manuscripts, got paid for one. 

جس کا مطلب ہوتا ہے ’اور پھر مجھے تین مسودے بیچنے پڑے ۔پیسہ ایک کا ملا ‘ 

کوئی دن، تاریخ و دیگر لازمی تفصیلات کا ذکر نہیں ہے۔ میرا خیال رامش انکل کی طرف جاتا ہے کہ غالباً انہوں نے دو مسودوں کے پیسے نہیں دیئے تھےجس کی وجہ سے وہ اسٹیج پر۔۔۔ 

’آنٹی آپ سادی نام کی کسی لڑکی کو جانتی ہیں؟‘ 

اس گھر میں پہلی بار میں نے سادی کا ذکر کیا تھا، اس کا نام سنتے ہی آنٹی خاموش ہو گئیں، بہت دیر تک انہوں نے کچھ نہیں کہا، پھر مجھے یوں دیکھنے لگیں کہ کہیں میں ہی سادی تو نہیں۔

مصنف:محمد ہاشم خان

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here