جوار بھاٹا

0
127
Urdu Stories Afsana
- Advertisement -

کہانی کی کہانی:’’شجرہ نسب کے ذریعہ ایک کبابی کے خاندان کے عروج و زوال کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تعلیم و دولت کے ساتھ اس خاندان کے افراد نے بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کیا لیکن وقت کے ساتھ وہ اپنی نسبتیں بھی بدلتے رہے۔ پھر ایک نسل ایسی بھی آئی جس نے اپنے آباء و اجداد کی دولت پر تکیہ کر کے تعلیم سے منہ پھیر لیا اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اسی خاندان کا ایک فرد ایک چھوٹے سے ہوٹل کی معمولی سی آمدنی پر گزر اوقات کرنے پر مجبور ہوا۔‘‘

ایک شجرہ نسب

چھجو، باپ کا نام باوجود تحقیق بسیار معلوم نہ ہو سکا۔ کسی گاؤں میں کبابی کی دکان کرتے تھے۔

شیخ مسیتا، چھجو کے بیٹے۔ شہر میں پان سگرٹ کی دکان تھی پھر عطاری کرنے لگے۔

حکیم عمر دراز، شیخ مسیتا کے بیٹے۔ ان پڑھ تھے مگر ساری عمر حکمت کرتے رہے۔ بلا کے زیرک تھے۔ اگر تعلیم سے بہرہ یاب ہوتے تو نہ جانے کیا کیا کمالات ان کی ذات سے ظہور میں آتے۔ کہتے ہیں انہیں کیمیا بنانے کا شوق تھا جو جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ جو کچھ کماتے اسی کی نذر ہو جاتا مگر آخری عمر میں انہوں نے کیمیاگری سے توبہ کر لی۔

- Advertisement -

چودھری شمس الدین، حکیم عمر دراز کے بیٹے۔ پرائمری کی تین جماعتوں تک تعلیم پائی۔ ان کا شمار شہر کے بڑے ٹھیکہ داروں میں ہوتا تھا۔ خاصی دولت کمائی اور صاحب جائیداد بھی ہوئے۔

حاجی شفاعت احمد، چودھری شمس الدین کےبیٹے۔ انٹرنس تک تعلیم پائی۔ مدتوں ایک سرکاری دفتر میں کلرکی کرتے رہے۔ اسی دفتر میں ترقی کرتے کرتے سپرنٹنڈنٹ ہو گئے۔ پنشن ملی۔ حج کو گئے۔ (نوٹ ان کے وقت سے اس خاندان کے ہاتھ سے کاروبار نکل گیا۔ اور اس کے افراد ملازمت کے رشتے میں منسلک ہونے لگے۔ )

قاری غوث محمد، حاجی شفاعت احمد کے بیٹے۔ ابھی کالج میں زیر تعلیم ہی تھے کہ حاجی صاحب نے اپنے رسوخ سے کام لے کر انہیں ریلوے گارڈ کی نوکری دلوا دی۔ بڑے خوش الحان واقع ہوئے تھے۔ کالج کے زمانے میں قرأت بھی سیکھی تھی جس کی وجہ سے قاری کہلائے۔ نماز کبھی قضا نہ ہونے دی۔ اس کی وجہ بعض لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ ریل کی نوکری نے انہیں وقت کا بہت پابند بنا دیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب!

خان صاحب غضنفر علی شاہ انسپکٹر پولیس، قاری غوث محمد کے بیٹے۔ بی اے تک تعلیم پائی۔ بعد میں پھلور جا کر پولس کی ٹریننگ حاصل کی۔ بہت بارعب اور وجیہ تھے۔ مزاج بلا کا غصیلا تھا۔ بات بات پر ماتحتوں پر لال پیلے ہوتے تھے۔ بڑے دلاور اور من چلے تھے۔ بڑے بڑے نامی ڈاکوؤں کو کمال شجاعت سے گرفتار کیا تھا۔ شہر کے سارے بدمعاش اور اٹھائی گیرے ان کے نام سے کانپتے تھے۔ ان کی دلاوری کے قصے اکثر تھانے کے سپاہیوں کے گھروں میں مشہور تھے۔ مگر ان کی بدمزاجی اور کثرت شراب نوشی کے باعث افسران بالا ان سے ناخوش رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تھانیداری سے آگے ترقی نہ کر سکے۔ ان کی قومیت ہمیشہ ایک عقدہ بنی رہی۔ جہلا انہیں ’’غضنفر علی شاہ سید بادشاہ‘‘ کہہ کر پکارتے جس کی وہ کبھی تردید نہ کرتے۔ خود وہ اپنے دستخط ’’خان صاحب غضنفر علی‘‘ کیا کرتے تھے۔

شیخ تراب علی چشتی صابری بی اے ایل ایل بی ایڈوکیٹ، خان صاحب غضنفر علی شاہ سب انسپکٹر پولیس کے بیٹے۔ شہر کے قابل ترین وکلاء میں گنے جاتے تھے۔ بڑے خوش طبع اور بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ ظریفانہ اشعار بھی کہا کرتے تھے۔ قابلیت سے کہیں زیادہ ان کی بذلہ سنجی ان کی کامیابی کا باعث ہوئی۔ انہوں نے اپنے پیشے کی مصلحتوں کو نظر میں رکھ کر اپنے نام کے ساتھ شیخ لکھنا زیادہ مناسب سمجھا۔ ایک اہل حال بزرگ کی نظرکرم نے چشتی صابری بھی بنا دیا۔

ڈاکٹر تحسین علی ایم۔ بی۔ بی۔ ایس فزیشین اینڈ سرجن، شیخ تراب علی صابری، بی اے، ایل ایل بی ایڈوکیٹ کے بیٹے۔ ہر چند والد کا پیشہ وکالت تھا مگر انہوں نے ڈاکٹری کو ترجیح دی۔ شاید وجہ یہ ہو کہ ان کے جد امجد حکیم عمر دراز حکمت میں بڑا نام پیدا کر چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے مورث اعلیٰ کے نقش قدم پر چل کر خلق خدا کی خدمت میں عمر بسر کر دی۔

مسٹر الیاس ہارون بارایٹ لا، ڈاکٹر تحسین علی ایم۔ بی۔ بی۔ ایس فزیشن اینڈ سرجن کے بیٹے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ پہلے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ پھر ولایت جاکر بیرسٹری پاس کی۔ خاندان کو عزت اور شہرت دینے کا موجب ہوئے۔ دولت بھی خوب کمائی۔

خان بہادر میاں رکن الدین ممبر لیجسلیٹو کونسل، مسٹر الیاس ہارون بارایٹ لا کے بیٹے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ سیاسی جدوجہد میں گزرا۔ ہرچند زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر اپنی خداداد ذکاوت و ذہانت کے باعث خاندان کا نام خوب روشن کیا۔ ابھی نوعمر ہی تھے کہ خدمت وطن کا جذبہ ایک جنون بن کر سر میں سما گیا اور وہ کالج کو خیرباد کہہ ایک اصلاحی جماعت میں بطور رضا کار بھرتی ہو گئے اور دیہات میں جا جا کر تقریریں کرنے لگے۔ اس طرح چار پانچ برس میں خطابت کی بہت اچھی مشق بہم پہنچالی۔ شہر واپس آئے تو پورے لیڈر بن چکے تھے۔ آواز قدرتی طور پر گمبھیر اور سریلی تھی۔ اپنی تقریروں میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے اردو فارسی کے موزوں اشعار بڑی خوش الحانی سے پڑھا کرتے تھے۔ ان کا یہ انداز خطابت سامعین کو بہت متاثر کرتا تھا۔

اتفاق سے اس زمانے میں ملک میں لیڈری کا بازار کچھ سرد سا پڑ گیا تھا۔ بیکار مباش کچھ کیا کر، کے مصداق میونسپل کمیٹی کے ممبری کے لیے کھڑے ہوئے۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ہرچند ووٹ خاصے حاصل کر لیے تھے۔ اس سے دل میں قدرے مطمئن تھے۔ اگلی مرتبہ پھر الیکشن کے لیے اپنا نام پیش کیا۔ اب کے حفظ ماتقدم کے طور پر تین ماہ قبل ایک ہفتہ وار اخبار نکال لیا تھا جس میں اپنے حریفوں پر خوب خوب چوٹیں کیں اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ پھر کیا تھا اللہ نے کامیاب کر دیا۔ ہوتے ہوتے لیجسلیٹو کونسل کے ممبر بھی ہو گئے۔ سرکار نے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب دیا۔ مربعے بھی ملے۔ (نوٹ، ان کے وقت سے اس خاندان کے افراد سرکاری خطابات سے نوازے جانے لگے۔ )

آنریبل سردار اشکوہ چیف جسٹس ہائی کورٹ، خان بہادر میاں رکن الدین ممبر لیجسلیٹو کونسل کے صاحبزادے۔ ان کا زمانہ نسبتاً پر امن رہا۔ انہیں زیادہ جدوجہد نہ کرنی پڑی کیوں کہ خاندان کی شہرت اور باپ کی خدمات کے باعث انہیں ہر جگہ ہردل عزیزی حاصل ہوئی اور سرکار نے بھی ان کی قدر و منزلت کی۔ ان کے زمانے میں خاندان کی دولت و ثروت میں قابل قدر اضافہ ہوا۔

رائٹ آنریبل سر جمشید جاہ بہادر پی۔ سی، کے۔ سی۔ ایس آئی، کے۔ سی۔ آئی ای۔ گورنر، آنریبل سردار اشکوہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کے فرزند ارجمند۔ انہوں نے خاندان کے نام کو شہرت و جلال کے اوج کمال پر پہنچا دیا۔

خان بہادر صوفی بیدار بخت بی۔ اے۔ جاگیردار، رائٹ آنریبل سر جمشید جاہ بہادر پی سی، کے۔ سی۔ ایس آئی، کے۔ سی۔ آئی۔ ای، کے فرزند دل بند۔ بی اے تک تعلیم پائی۔ بچپن ہی سے عزلت پسند اور منکسر المزاج واقع ہوئے تھے۔ مذہب کی طرف رجحان زیادہ تھا۔ خدا کا دیا سب کچھ تھا۔ نہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ جانے کی ضرورت تھی نہ ملازمت کی حاجت۔ عمر بھر گوشہ نشین ہو کر یاد الٰہی میں مصروف رہے۔ سرکار نے ان کی امید اور مرضی کے خلاف انہیں ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب دے دیا۔ اسی میں رضائے الٰہی سمجھ کر خاموش ہو رہے۔

صاحب زادہ نسیم عرف چھوٹے مرزا رئیس اعظم، خان بہادر صورفی بیدار بخت بی۔ اے۔ جاگیردار کے بیٹے۔ انٹرنس تک تعلیم پائی۔ پھر اپنی جاگیر کا انتظام کرنے لگے۔ باپ کی طرح انہوں نے بھی کسی قسم کی ملازمت کو اپنے لیے حرام جانا اور آخر ضرورت بھی کیا تھی۔ خوب رئیسانہ ٹھاٹھ سے رہے۔ بہت خوش وضع اور نفاست پسند تھے۔ کہتے ہیں جیسا کھانا انہوں نے کھایا اور جیسا کپڑا انہوں نے پہنا، کم ہی کسی رئیس کو نصیب ہوا۔ اپنے نام میں ’’مرزا‘‘ کا اضافہ سب سے پہلے انہوں نے ہی کیا۔

ابوالخیال مرزا بیکل، صاحب زادہ نسیم عرف چھوٹے مرزا رئیس اعظم کے بیٹے۔ آٹھویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد دل تعلیم سے ایسا اچاٹ ہوا کہ پھر اسکول کارخ نہ کیا۔ شاعری سے بچپن سے لگاؤ تھا۔ دوچار شاعر ہر وقت ان کی مصاحبت میں رہتے تھے۔ خود بھی شعر کہتے تھے۔ مشہور تھاکہ فیضان شعر کی حالت میں چادر اوڑھ کر چارپائی پر لیٹ جاتے اور گھنٹوں لوٹتے پوٹتے رہتے اور جب تک غزل پوری نہ ہو جاتی، چارپائی سےنہ اٹھتے۔ ’’نوائے بیکل‘‘ کے نام سے ایک دیوان بہت سا روپیہ خرچ کر کے اعلیٰ آرٹ پیپر پر سنہری روشنائی سے چھپوایا، جس میں عربی، فارسی، اردو اور بھاشا چاروں زبانوں کا کلام جمع کیا گیا تھا۔ یہ دیوان اب ناپید ہے۔ خدا مغفرت کرے ، بڑے مرنجا مرنج علم دوست بزرگ تھے۔ اپنی زندگی میں قلمی کتب اور پرانی تصاویر کا بڑا نادر ذخیرہ جمع کیا تھا۔ نہ معلوم ان کے انتقال کے بعد اس کا کیا حشر ہوا۔

ننھے مرزا، ابوالخیال مرزا بیکل کے صاحب زادے۔ واجبی تعلیم پائی۔ انگریزی سے بالکل کورے رہے۔ والد کی بے حد خواہش تھی کہ انہیں بھی شعروسخن سے لگاؤ پیدا ہو تاکہ خاندان میں شمع سے شمع روشن ہوتی رہے۔ مگر ان کو شاعری سے مس نہ تھا۔ ان کا رجحان بچپن سے موسیقی کی طرف تھا۔ باپ کی مخالفت کے باوجود ملک کے نامی گرامی گویوں کو بلوا کر ان سے فن موسیقی سیکھتے رہے۔ سات مرتبہ گوالیار کا سفر اختیار کر کے تان سین کی قبر پر گئے اور ہر مرتبہ اس املی کے درخت کا پتا توڑ کر کھایا جو اس کی قبر پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ پہلے کئی برس تک گانا سیکھتے رہے۔ مگر چونکہ آواز بہت اچھی نہ تھی اس لیے استادوں کے مشورے سے گانا ترک کر کے ستار کا شوق کرتے رہے۔ انہیں لے اور تال کا بڑا گیان تھا۔ کہتے ہیں کہ سوتے میں ان کے دہنے پاؤں کا انگوٹھا تال دیتا رہتا تھا۔

ان کے پاس پرانے وقتوں کا ایک طنبورہ تھا، جس کے متعلق مشہور تھا کہ محمد شاہی دربار کے گویے نعمت علی خاں سدا رنگ کا ہے۔ پیرانہ سالی میں انہوں نے موسیقی کے بارے میں ایک کتاب بھی ’’صدائے دل نشیں‘‘ کے نام سے تصنیف کی تھی مگر چھپنے سے پہلے ہی اس کا مسودہ شاید ان کا کوئی دوست چرا لے گیا۔ اس صدمے نے مرزا کی کمر توڑ ڈالی اور یہ چند ہی روز بعد انتقال کر گئے۔

لاڈلے مرزا، ننھے مرزا کے فرزند دل بند۔ صرف قاعدہ پڑھ کر رہ گئے۔ بہت لا ابالی طبیعت کے آدمی تھے۔ ایک دفعہ ایک فلم دیکھنے گئے۔ اس میں لبنیٰ نامی ایک حسین اور طرحدار ایکٹرس نے کام کیا تھا۔ یہ اس پر ریجھ گئے اور اسے اپنے عقد میں لانے کی تدبیریں کرنے لگے۔ بہت سی دولت خرچ کر کے اس تک رسائی حاصل کی۔ بڑے بڑے گراں قدر تحائف اسے پیش کیے۔ یہاں تک کہ اس کے نام سے ایک فلم کمپنی بھی قائم کر ڈالی۔ آخر لبنی شادی پر آمادہ ہو گئی۔ شادی کے دوسرے ہی برس فلم کمپنی فیل ہوگئی اور لبنی کسی ایکٹر کے ساتھ بھاگ گئی۔ لبنی کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جسے وہ مرزا ہی کے پاس اپنی نشانی کے طور پر چھوڑ گئی تھی۔ اس کی پرورش کے لیے نرس رکھی گئی۔ مرزا کی بیشتر جائیداد لبنی کے عشق کی نذر ہو گئی تھی۔ بس لے دے کر ایک مکان اور چند دکانیں رہ گئی تھیں۔ ان کے کرائے پر گزر اوقات کرنے لگے تھے۔

محمد شفیع، لاڈلے مرزا کے بیٹے۔ اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹے سے ہوٹل کے مالک ہیں۔ بڑی مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ اب انہوں نے چوری چھپے شراب بھی بیچنی شروع کر دی ہے۔ اللہ بس باقی ہوس۔

مأخذ : کلیات غلام عباس

مصنف:غلام عباس

مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here