ملکہ نر یمان کا معاشقہ

0
330
urud-story
- Advertisement -

جب میرے خاوند مصر کے جلا وطن بادشاہ نے یہ سنا کہ میں اپنی داستان بیان کرنے والی ہوں تو وہ توقہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ انہوں نے کہا تمہاری عمر مشکل سے انیس سال ہوگی ۔ تم کتاب زندگی کے متعلق کیا بتا سکوگی جبکہ تم نے خوداسکے صرف چند صفحات پڑھے میرے شوہر کی یہ بات درست ہے ابھی میں نے نندگی کی اتنی بہاریں نہیں دیکھیں کہ میں پحتگی کا دعوی کر سکوں۔ اس سال۳۰ اکتوبرکومیری عمر۱۹ برس ہوئی تھی لیکن ان۱۹ برسوں میں بیوی اورماں بن چکی ہوں میری تین پیاری اور سوتیلی بیٹیاں ہیں ایک میرا اپنا بیٹیا ہے جوخدا کے فضل سے کسی دن مصركا تاجدار بنے گا۔ میں خود بھی مصرکی ملکہ رہ چکی ہوں۔ میرے گردشاہی محلات میں لوگوں کا ہجوم لگا رہتا تھا میں نےاپنی خفاظت میں آدمیوں کو اپنی جانیں قربان کرتے دیکھا ہے میں اپنے خاوند کے پہلو میں تخت پربھی بیٹھی ہوں اوربڑی خوشی سے انکی جلاوطنی میں شامل ہوں اس مختصرسی زندگی میں میں نے اپنا بچپن قاہرہ کے مضافات میں بڑی خوشی سے بسرکیا۔ اس کے بعد دنیا کے محلات کے دروازے بھی مجھ پربند کر دیئے گئے تھے میرے خون میں مصرشاہی خاندان کا خون مل چکا ہے۔ اوراب یہ ایک أنمٹ حقیقت ہے میں نے مختلف ممالک میں سفرکیا ہے۔ میں نے اپنے ماہ عسل کے زمانے میں کئی داالحکومتوں کی سیاحت کی۔ میں نے یہ سفردنیا کی ایک خوبصورت ترین کشتی میں کیا میرے شوہر زندگی کےتمام فنون سے پوری طرح بہرہ درہیں۔ جس طریق سے میں نے محبت حاصل کی اس کی مجھے کبھی توقع نہیں تھی۔ یہ بات ان لوگوں کومبتلائے حیرت کردے گی جنہوں نے اخبارات میں اس قسم کی اطلاعات پڑھی تھیں کہ مجھے شاہ فاروق سے شادی کرنے پرمجبو ہونا پڑا تھا ان اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ میں ایک آدمی ذکی ہاشم سے محبت کرتی تھی۔ اورجب شاہ فاروق نے مجھے پہلی بار دیکھا اس وقت میں ذکی ہاشم کے ساتھ منگنی کی انگوٹھی خریدنے کے لئے ایک جوہری کی دکان پر تھی شاه فاروق حکم دیا کہ وہ مجھے اپنی بیوی بنائیں گے، زکی ہاشم کو سفارت کی پیش کش کی گئی تھی۔ اسے یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ وہ بلاتا خیر کسی دوسری عورت سے شادی کرلے افسوس کہ یہ سب اطلاعات صرف زہنی اختراعات ہیں ایسی بات کبھی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس واقعہ میں دو دنیاوں مشرق ومغرب کو خلط خلط کردیاگیا تھا میں ایک نوجوان مسلمان عورت ہوں اور میرے والدین بڑے راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔یہ بات ہمارے تردیک اخلاق کے خلاف تصور کی جاتی ہے کہ میں ایک ایسے آدمی کے ساتھ بازارمیں اپنی منکنی کی انگشتری خریدنے جاتی۔ مسلمانوں میں نوجوان عورت اپنے منگیتر کوشاذونادر ہی دیکھ پاتی ہے ہوسکتا ہے کہ کبھی آپس میں مختصر ملاقات کی نوبت آجاۓ یادونوں ایک جگہ کھانا کھائیں لیکن یہ ملاقاتیں لڑکی کے والدین کے گھر پر اس کے والدین کی موجودگی میں ہوتی ہیں۔ہم مسلمان عورتیں اس بات کےلئے ہوٹلوں اور رقص گاہوں میں نہیں جاتیں کہ شاید خوش قسمتی سے وہاں ہم اپنے لئے شوہر تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اپنے سفروں کے دوران میں نے مغرب میں رومانی زندگی کے متعلق جو افسانے پڑھے ہیں ہماری معاشرت میں ان کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا جب شاہ فاروق مجھ سے شادی کرنے کے خیال میں مجھ سے ملاقات کرتے تھے تو انہیں بھی میرے والد کے مکان پر آنا پڑنا تھا یہ بات ہمارے یہاں کے رواج میں شامل ہے وہ بادشاہ تھے اور میرے والد کا دربار سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن میں اس بات کا کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا کہ میں شاوفاروق سے اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسری جب ملاقات کروں۔ شاہ فاروق خود ہمارے ہاں آیا کرتے تھے اور ایک سچے مسلمان کی طرح انہوں نے میرے والد کی موجودگی میں منگنی ا تک کے تمام رومانی مراحل طے کئے جس آدمی کومیرے والد نے میرے ہونے والے شوہر کی حیثیت سے منتخت کیا تھا اس کے ساتھ کھلے بندوں قاہرہ کے بازار میں دروہ بھی اپنی منگنی کی، انگوٹھی خریدنے کے لئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مصرمیں ایسی عورتیں بھی موجود ہیں۔ جوان رسوم کوملحوظ نہیں رکھتیں۔ ان میں ایسی عورتیں بھی ہیں جو اپنی مرضی سے غیرمزہب کے غیرملکیوں سے شادیاں کرلیتی ہیں لیکن جن عورتوں کو مسلمان عورتوں کی طرح زندگی بسرکرنے کی تربیت دی جاتی ہے انہیں ان رسوم نہ آداب کا احترام ملحوظ رکھنا پڑتا ہے یہ حقیقت ہے کہ میں ذکی ہاشم کو اچھی طرح سے نہیں جانتی تھی میرے والد کی موجودگی میں وہ چند بارمجھ سے ملا تھا اور ہمارے اورہمارے درخیال نہایت مختصربات چیت ہوئی تھی ، یہ فیصلہ کرنے کا حق ذکی باشم کو تھا کہ وہ مجھے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے یا نہیں۔ اور یہ طے کر نے حق میرے والد کو تھا کہ ذکی باشم میرے لئے موزوں اور مناسب شوہر ہے یا نہیں۔ مجھے اس پر پورا یقین تھا کہ اس سلسلے میں میرے والد جو فیصلہ کرتے دہ ہر حالت میں درست اور تدبرو دانش کا آئینہ دارہوتا لیکن میرے گرد غلط فہمیوں کا اس قدر جال بنا گیا ہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مجھے اغواکیا گیا تھا۔ پہلے میرے والد اس بات کے خواہشمند تھے کہ میں ذکی ہاشم سے شادی کرلوں کیونکہ اس کا مستقبل کا فی روشن نظر آتا تھا اور میرے والد کی یہ خواہش تھی کہ میں نہایت اچھی جگہ شادی کروں ۔ ۔ ذکی باشم بہت سے مشکل امتحانات میں کامیاب رہا تھا۔ مجھے ان امتحانات کی تعداد یاد نہیں رہی میرا خیال ہے کہ وہ معاشرت اور دوسرے بہت سے مضامین میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکا تھا اور وہ مجھے ان امتحانات کے متعلق واقعات سنانے میں بڑی مسرت محسوس کرتا تھا۔ وہ مجھے اپنی علمی قابلیت کے ذکر سے اس بات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا تھاکہ مستقبل میں وہ بہت بڑا آدمی بن جائے گا۔ میرے لئے یہ بات بہت پر جوش تھی کہ ذکی ہاشم جیسا آدمی مجھ سے شادی کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر چہ میرے والد وزارت مواصلات میں انڈر سکریٹری تھے لیکن درباری حلقوں میں ہمیں رسائی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ ذکی باشم کو اقوام متحدہ میں ایک اہم منصب حاصل تھا اور وہ مجھے بڑے فخر سے بتایاکرتا تھاکہ وہ بہت جلد سفیر بننے والا ہے اور میں اس کی بیوی ہونے کی حیثیت سے دنیاکے کسی دارالحکومت میں شان وشوکت سے زندگی بسر کروں گی۔مجھےاب تک مصر سے باہر جانے کاکوئی موقعہ نہ ملا تھا ۔ میرے لئے یہ بات طلسمی کشش رکھتی تھی کہ میں ذکی ہاشم کی بیوی کی حیثیت سے کسی دن نیو یارک، لندن پیرس یامبڑڈ کی سیاحت کر سکوں گی ۔ میری عمراس وقت ۱۶ برس تھی اور مجھے اسکول چھوڑے ہوۓ تھوڑاعرصہ ہوا تھا۔ دنیا کی تمام دوسری نوجوان لڑکیوں کی طرح میں بھی اپنے ہونے والے شوہر کے متعلق ہوائی قلعے تعمیر کیا کرتی تھی۔ میری یہ خواہش ہوتی تھی کہ میرا شوہر کوئی بہت بڑا آدمی ہو صحت مند ہوہنس مکھ ہو جو مجھے پالتو جانور کی طرح عزیز رکھے گا اور چند سال کے بعد جب میں سیانی ہوجاوں گی اوروہ میرے ساتھ اپنے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیالات کرئے گا اور اپنی اولار۔ کی تعلیم وتربیت اور پرورش میں میں اس کا ہاتھ بتاؤں گی مجھے ہنسی مزاق اور موسیقی ، اچھی خوراک اور خوش مذاق لوگوں کی محبت اور دنیا کی خوبصورت چیزیں بے حد پسند ہیں لوگوں کے چہروں کا مطالعہ کرنے اور ان کی تصاویر تیار کرنے میں بڑی دلچسپی لیتی ہوں۔ مجھے فطری مناظر سے کبھی خاص دلچسپی نہیں ہوئی۔ لیکن ایک غیر معمولی چہرہ میرے لئے اپنے اندر ایک بے پناہ کشش رکھتا ہے ذکی ہاشم مجھے اپنی تصویر بنانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ وہ کہتا تھا۔کہ یہ بات وقار کے خلاف ہے کہ کوئی آدمی اپنی ہونے والی بیوی سے تصریر تیارکرائے۔میں یہ بات جانتی تھی کہ وہ بہت ہوشیارآدمی ہے۔ وہ زندگی میں بہت کامیاب رہے گا۔ اوراپنی ازدواجی زندگی میں پسند یده اشیاء خریدنے کے لئے مجھے روپے پیسے کی کمی کا کبھی سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ وہ ہمیشہ سنجید ہ متین رہتا تھا اور اس سے اس کی کشش اور جازبیت میں خاص اضافہ ہو جاتا تھا لیکن میری یہ انتہائی خواہش ہوتی تھی کیونکہ وہ اتنے دھان پان جسم کا اور پستہ قد نہ تھا۔ اس کا قدرمجھ سے قدرے زیادہ تھا میرا قدربھی کوئی زیادہ نہیں ہے۔ اور میں اکثرسوچتی تھی کہ اگروہ مجھے اٹھانےکی کوشش کرے تووہ میرے پاوں زمین سے نہیں اٹھا سکے گا جب میرے والد ذکی ہاشم کو اپنے ساتھ گھرلائے اور اپنے خاندان سے اس کا تعارف کرایا کہ وہ مجھ سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میرے چچا مصطفے صادق کواس بات پربے حد غصہ آیا میرے چچا کی عمر زکی ہاشم جتنی ہی تھی اوروہ مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے ۔ اب اس جرم میں وہ قید خانہ میں محبوس ہیں وہ نہ صرف طویل القامت تھے بلکہ نہایت مضبوط اور صحت مند تھے۔وہ ایک ممتاز طیارہ داں تھے اور جنگ میں حصہ لے چکے تھے۔ وہ شوقین مزاج نہیں تھے بلکہ نہایت رحم دل آدمی تھے۔ میرے چچا یہ کہتے تھے کہ زکی باشم سے میری شادی نہیں ہونی چاہئے خواہ اس کامستقبل کتنا ہی روشن کیوں نہ ہو کیونکہ ذکی ہاشم سچا مسلمان نہ تھا بلکہ ایک کمیونسٹ تھا جو اسلام اور بادشاہت کے خاتمہ کے لئے سرگرم عمل تھا مجھے اس بات کی مطلق فکرنہ تھی کہ میرے چچا کی یہ بات درست تھی یا نہیں کیونکہ ذکی ہاشم مجھ سے سیاسیات اور عالمی صورت حال کے متعلق تبادلہ خیالات نہیں کرتا تھا لیکن اتنی بات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے مجھے کہا تھا تم مجھ سے شادی کر کے بہت خوش قسمت ہوسکتی ہو سکتی ہو۔کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ کسی دن میں جمہوریہ مصرکا صدر بن جاوگا ناجب میں نے پو چھا کہ یہ بات کسطرح ممکن ہوسکتی ہے کیونکہ مصرمیں جمہوریت نہیں بادشاہت قا ئم ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اگر آدمی اس بات کا ارادہ کرلیں اور عزم وحوصلہ سے اس بات پر ڈٹے رہیں تو یہ بات ممکن ہوسکتی ہے، ذکی ہاشم نے یہ بات مجھ سے ۴۹میں کی تھی۔ یہ مصرمیں فوجی انقلاب اورشاه فاروق کی جلاوطنی سے تین سال قبل کاواقعہ ہے شاه فاروق نے شادی کے بعد بتایا تھا جب میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی تھی تومیں نے اپنے بعض قریبی دوستوں سے کہا تھا کہ میں اب دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اگرکسی اچھے خاندان کی لڑکی ہو تو مجھے مطلع کرنا شاہ فاروق نے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا میں نے اپنے دوستوں سے کہا تھاکہ ضروری نہیں کہ طبقہ امرا سے متعلق ہو یا درباری حلقوں اور اعلی مصری سوسائٹی سے وابستہ ہو کیونکہ اچھی بیوی کے لئے یہ حلقے ہرگز لازمی نہیں تھے لیکن وہ ایسی لڑکی ہونی چاہیے جس کے چہرے پر تبسم کی کرنیں فراخدلی سے بکھرتی رہتی ہوں اور اگر کوئی اس طرت کی عورت مل جائے جوخوشی ومسرت کی زندگی بسرکرنا پسند کرے تواسے شہزادیوں پرترجیح حاصل ہوگی اسطرح شاہ فارون کو میرے متعلق بتایا گیا تھا۔ یہ کام قاہرہ کے ایک جوہری احمد نجیب پاشا نے انجام دیا تھا۔ قاہرہ کے متوسط درجہ کے خاندانوں سے اس کے قافی تعلقات تھے۔ وہ میرے والد کو جانتا تھا اور ہمارے گھرمیں کئی بار آبھی چکا تھا۔ اس نے ہی شاہ فاروق سے میرے متعلق ذکر کیا۔ شاہ فاروق نے نجیب سے کہا میرے لیےیہ بات ناممکن ہے کہ اس لڑکی سے اس کے گھرپر ملاقات کروں کیونکہ اس کا باپ دربار سے وابستہ نہیں ہے لیکن اس لڑکی کی تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت ہے اور اگر اس سے ملاقات کا انتظام کر دیا جائے تو مجھے اس بات کی خوشی ہوگی ۔اس طرح مجھ سے خفیہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ میرے والد آویزے پسند کرنے کے بہانے مجھے نجیب جوہری کی دوکان پر لے جائیں گے۔ دوکان میں شاہ فاروق بھی موجود ہوں گے کیونکہ وہ قیمتی جواہرات خریدنے کے لئے اکثروہاں آتے رہتے ہیں۔ اس طرح بادشاہ کو میرے برتاؤ کے دیکھنے اور میری باتوں کو سننے کا موقع مل جائے گا اور وہ فیصلہ کر سکے گاکہ اسے مجھ سے ملاقات کرنی چاہئے۔یا اپنی تلاش جاری رکھنی چاہئے ۔ مجھے ان انتظامات کا مطلق علم نہ تھا اور یہ بات بہت اچھی تھی کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ بصورت دیگر اس بات کا قوی امکان تھا کہ بادشاہ کے رعب دربدبہ سے میں پریشان ہوجاتی اور شاہ فاروق میرے متعلق کوئی اچھا اثر قبول نہ کرتے ، جوہری کی دوکان پرمیں بہت خوش و خرم داخل ہوئی میرے لئے یہ بات بڑی مسرت کا موجب تھی کرمیرے والد میرے لئے تحفہ خرید رہے ہیں ۔ احمد نجیب نے ہمیں بے شمار آویزے دکھائے اور ایسی باتیں کیں کہ میں کئی بار ہنسنے پرمجبور ہوگئی چند لمحوں کے بعد وہ ہمیں چھوڑ کر دوکان کے دوسرے حصے میں گیا اور واپسی پر کہنے لگا کہ دوسرے حصے میں خاص اشیاہیں ۔ دوکان کے دوسرے حصے میں جانے کے بعد مجھے معلوم ہواکہ ایک تنومند اور طویل قامت آدمی میرے قریب کھڑا مسکرا رہا ہے۔ میں نے ایک نظر ڈالتے ہی محسوس کر لیا کہ وہ شاہ فاروق ہیں ۔شاہ فاروق بہت خوش مذاق تھے۔ ان کی ذات پرکشش تھی اور انہوں نے ہمیں وہاں سکون واطمینان سے بٹھانے کی پوری کوشش کی میں بہت شرمیلی ہوں اور نئے لوگوں سے ملاقات کے وقت میں کافی دیر تک اپنی خوش طبعی کھوبیٹھتی ہوں لیکن چند لمحوں کے بعد میں شاہ فاروق سے اس طرح بائیں کرنے لگی جیسے میں انہیں بڑی دیر سے جانتی تھی ہم آپس میں باتیں کرتے وقت ہنستے جاتے تھے۔ وہ دوسروں کی باتیں سننے میں خاص لطف لیتے ہیں۔ اس سے پہلے جولوگ میرے ساتھ شادی کرنے کے خواہشمند تھے مجھے ان کی باتیں سننی پڑتی تھیں لیکن شاہ فاروق نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے باتیں کرنے کا موقع دیا ۔ وہ برابر مجھے یہ احساس دلانے میں کوشاں رہے کہ میری باتیں نہایت اچھی اور خوش مزاقی کی آئنہ وارہیں۔مجھے اس وقت اس بات کارتی بھراحساس بھی نہیں تھا کروہ میرے ساتھ شاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ایسا احساس میرے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا میں ان کی مضبوط بازوون اور چوڑے شانوں بے حد مرعوب ہوئی تھی۔ ان کی کلائیاں بڑی مضبوط دکھائی دیتی تھیں مشرق وسطی کے اکثرآدمی اسی طرح تواناہوتے ہیں۔شاہ فاروق کو دیکھنے کے بعد میں یہ محسوس کئے بغیرنہ ره سکی کہ ذکی ہاشم ان کے مقابلےمیں بالکل حفیرحیثیت رکھتا ہے۔ شاید سارے مشرق میں عورتوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ صحتمند آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے کو نرم و نازک اور دلنوازمحسوس کریں تاکہ وہ ان پر نازک جربوں اور دوسرے پرفریب ذرائع سے قابو پاسکیں۔اسلام میں شوہر کوآقا اور مالک کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اورجب جسمانی طور پروہ اس کے مستحق ہوں تو یہ بات بہت اچھی ہوتی ہے۔ نصف گھنٹہ کی گفت وشنید کے بعد شاه فاروق نے مجھ سے مصافحہ کیا۔ ان کے مضبوط ہاتھ کے مقابلےمیں مجھےاپنا ہاتھ بہت چھوٹا اور حقیر نظرآيا۔جب میں گھر پہنچی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے مجھ پر طلسم کردیا ہے میں سارے راستے شاہ فاروق ان کی شخصیت اورمضبوط ہاتھ کے متعلق سوچتی رہی میرے لئے اس بات کااحساس کرنا بہت مشکل تھا کہ وہ بادشاہ ہیں اگر چہ وہ بادشاہ تھے لیکن انہوں نے ذکی ہاشم کی طرح تکلف اور لئے دئیے رہنے رہ کا مظاہرہ نہیں کیا ؟ انہوں نے میرے لئے کرسی رکھی تھی اور خود بیٹھنے سے پہلے مجھے بیٹھنے کے لئے کہا تھا۔بہر حال مجھے امید یہ تھی کہ ہم آپس میں پھر ملیں گے۔

مصنف :ناریمان

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here