- Advertisement -
Home شاعری زندگی کو اک کہانی دے گیا

زندگی کو اک کہانی دے گیا

0
334
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

زندگی کو اک کہانی دے گیا

ہم سفر اپنی نشانی دے گیا

ابر رویا آنسوؤں سے اس قدر

سوکھے دریا کو بھی پانی دے گیا

رکھ گیا ویرانیٔ گلشن کو پاس

- Advertisement -

اور مجھ کو باغبانی دے گیا

جاگتی آنکھوں میں رکھ کر خواب سا

زندگانی کو روانی دے گیا

بوڑھا برگد پی گیا سورج کی آگ

دھوپ کیسی سائبانی دے گیا

اپنے بچوں کی شرارت سے لگا

میرا بچپن دور ثانی دے گیا

اب ظفرؔ بس ایک موسم یاد ہے

پیار کی جو اک نشانی دے گیا

مأخذ : کتاب : خموش لب (Pg. 45) Author : ظفر محمود مطبع : عرشیہ پبلی کیشنز دہلی۔95 (2019)

شاعر:ظفر محمود ظفر

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

ٹیکسٹ کو کاپی نہیں کر سکتے۔