پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

0
184
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

کس قدر بے بس و مجبور ہیں ہم بھی تم بھی

آج بھی اندھی سرنگوں میں بسر کرتے ہیں

اور اجالوں سے بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

کون قاتل ہے یہاں سب کو خبر ہے لیکن

- Advertisement -

گونگے بہرے بڑے مجبور ہیں ہم بھی تم بھی

جھک کے ملنا ہمیں عزت میں کمی لگتی ہے

کتنے کم ظرف ہیں مغرور ہیں ہم بھی تم بھی

سانس بھی اس کی ہے یہ جسم اسی کا تابع

اے ظفرؔ لاغر و معذور ہیں ہم بھی تم بھی

مأخذ : خموش لب

شاعر:ظفر محمود ظفر

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here