محبت کی پیدائش

0
161
Urdu Drama Story
- Advertisement -

(خالد سیٹی بجارہا ہے۔سیٹی بجاتا بجاتا خاموش ہو جاتا ہے پھر ہولے ہولے اپنے آپ سے کہتا ہے)

خالد: اگر محبت ہاکی یا فٹ بال کے میچوں میں کپ جیتنے‘تقریر کرنے اور امتحانوں میں پاس ہو جانے کی طرح آسان ہوتی تو کیا کہنے تھے۔۔۔مجھے سب کچھ مل جاتا۔۔۔سب کچھ(پھر سیٹی بجاتا ہے)نیلے آسمان میں ابا بیلیں اُڑ رہی ہیں اس چھوٹے سے باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے پر میں خوش نہیں ہوں۔ میں بالکل خوش نہیں ہوں۔

حمیدہ: (دھیمے لہجے میں) خالد صاحب!

(خالد خاموش رہتا ہے)

حمیدہ: (ذرا زور سے)خالد صاحب!

- Advertisement -

خالد: (چونک کر) کیا ہے؟کوئی مجھے بُلا رہا ہے؟

حمیدہ: میں ہوں!۔۔۔مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے؟

خالد: اوہ حمیدہ۔۔۔کہو یہ ضروری کام کیا ہے۔۔۔ میں یہاں یونہی لیٹے لیٹے اونگھنے لگ گیا تھا۔ کیا کسی کتاب کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟۔۔۔ مگر تم نے مجھے اتنا قابل کیوں سمجھ رکھا ہے۔۔۔ فلسفے میں میں اتنا ہوشیار نہیں جتنی کہ تم ہو۔۔۔عورتیں فطرتاً فلسفی ہوتی ہیں۔

حمیدہ: میں آپ سے فلسفے کے بارے میں گفتگو کرنے نہیں آئی۔ افلاطون اور ارسطو اس معاملے میں میری اتنی مدد نہیں کر سکتے جتنی آپ کر سکتے ہیں

خالد: میں حاضر ہوں۔

حمیدہ: میں بہت جرأت سے کام لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ آپ یقین کیجئے کہ میں نے بہت بڑی جرأت کی ہے۔۔۔ بات یہ ہے۔۔۔مجھے شرم محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔اس میں شرم کی کون سی بات ہے۔۔۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ پرسوں رات میں نے ابا جی کو امی جان سے یہ کہتے سُنا کہ وہ آپ سے میری شادی کر رہے ہیں۔

خالد: (خوش ہو کر)سچ مچ؟

حمیدہ: جی ہاں۔۔۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ بات پکی ہو گئی ہے۔۔۔ اور اس فائنل کے بعد ہم بیاہ دئیے جائیں گے۔

خالد: (خوشی کے جذبات کو دبانے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے)حد ہو گئی ہے ۔۔۔مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں۔۔۔یہ چپکے چپکے انہوں نے بڑا دل چسپ کھیل کھیلا۔۔۔ دراصل بات یوں ہوئی ہے کہ میں نے اپنی امی جان سے ایک دو مرتبہ۔۔۔تمہاری تعریف کی تھی او رکہا تھا کہ جو شخض حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی ۔۔۔حمیدہ جیسی۔۔۔حمیدہ جیسی پیاری لڑکی کا شوہر بنے گا وہ کس قدر خوش نصیب ہو گا(ہنستا ہے) حد ہو گئی ہے۔۔۔ میں یہاں اس فکر میں گُھلا جا رہا تھا کہ تم کہیں کسی اور کی نہ ہو۔ جاؤ(خوب ہنستا ہے)۔۔۔دیکھو نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں۔۔۔ اس باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے۔۔۔اور میں بھی خوش ہوں۔۔۔ کس قدر خوش ۔۔۔ہنستا ہے)حمیدہ اب تمہیں ہم سے پردہ کرنا چاہیئے۔۔۔ہم تمہارے ہونے والے شوہر ہیں۔

حمیدہ: مگر مجھے یہ شادی منظور نہیں!

خالد: شادی منظور نہیں۔۔۔پھر تم نے یہ بات کیوں چھیڑی؟۔۔۔میں تمہیں ناپسند ہوں کیا؟

حمیدہ: خالد صاحب! ۔۔۔میں اس معاملے پر زیادہ گفتگو کرنا نہیں چاہتی میں آپ سے صرف یہ کہنے آئی تھی کہ اگر ہماری شادی ہو گئی۔ تو یہ میری مرضی کے خلاف ہو گی۔۔۔ہماری دونوں کی زندگی اگر ہمیشہ کے لیئے تلخ ہو گئی تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔۔۔ میں نے اپنے دل کی بات آپ سے چھپا کر نہیں رکھی جو فرض میرے ماں باپ کو ادا کرنا چاہیئے تھا۔ میں نے ادا کر دیا ہے آپ عقل مند ہیں۔ روشن خیال ہیں۔ اس لیئے میں آپ کے پاس آئی۔ ورنہ یہ راز قبر تک میرے سینے میں محفوظ رہتا۔

خالد: یہ جھوٹ ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

حمیدہ: ہو گا‘ مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔

خالد: اس میں میرا کیا قصور ہے؟

حمیدہ: اور اس میں میرا کیا قصور ہے؟

خالد: حمیدہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں جھوٹ نہیں بولا کرتا میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل تہاری اور صرف تمہاری محبت سے بھرا ہے۔

حمیدہ: لیکن میرا دل بھی تو آپ کی محبت سے بھرا ہو۔۔۔میرے اندر سے بھی تو یہ آواز پیدا ہو کہ حمیدہ آپ کو چاہتی ہے۔۔۔ میں بھی تو آپ سے جھوٹ نہیں کہہ رہی۔۔۔ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی محبت اس وقت مجھ پر کیا اثر کر سکتی ہے جب میرا دل آپ کی محبت سے خالی ہو۔

خالد: ایک دیا دوسرے دئیے کو روشن کر سکتا ہے۔

حمیدہ: صرف اس صورت میں جب دوسرے دئیے میں تیل موجود ہو۔۔۔یہاں میرا دل تو بالکل خشک ہے۔ آپ کی محبت کیا کر سکے گی۔ میں نے آج تک آپ کو اُن نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھا جو محبت پیدا کر سکتی ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی خاص بات بھی تو نہیں ہوئی جس سے یہ جذبہ پیدا ہو سکے۔۔۔ لیکن میں آپ کے بارے میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ اچھے نوجوان ہیں ،بااخلاق ہیں۔ کالج میں سب سے زیادہ ہوشیار طالب علم ہیں۔ آپ کی صحت آپ کی عِلمیت‘آپ کی قابلیت قابل رشک ہے۔آپ ہمیشہ میری مدد کرتے رہے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میرے دل میں آپ کی محبت ذرا بھر بھی نہیں ہے۔۔۔میرا خیال ہو سکتا ہے کہ درست نہ ہو۔ پر یہ تمام خوبیاں جو آپ کے اندر موجود ہیں ضروری نہیں کہ وہ کسی عورت کے دل میں آپ کی محبت پیدا کر دیں۔

خالد: تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مجھے اس کا احساس ہے۔

حمیدہ: تو کیا میں اُمید رکھوں کہ آپ مجھے اس بے مرضی کی شادی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔

خالد: مجھ سے جو کچھ ہو سکے گا۔ضرور کروں گا۔

حمیدہ: تو میں جاتی ہوں۔ بہت بہت شکریہ!

(چند لمحات تک خاموشی طاری رہتی ہے۔۔۔خالد درد ناک سُروں میں سیٹی بجاتا ہے۔۔۔)

خالد: (سسکیوں میں) نیلے آسمان میں ابا بیلیں اُڑ رہی ہیں اس چھوٹے سے باغیچے کی پتی پتی خوش سے تھرتھرا رہی ہے پر میں خوش نہیں۔۔۔بالکل خوش نہیں ہوں۔

(اسی روز شام کو خالد کے گھر میں)۔

ڈپٹی صاحب: خالد کا باپ۔دروازے پر آہستہ سے دستک دے کر)بھئی میں ذرا اندر آسکتا ہوں۔

خالد آئیے‘آئیے‘ابا جی!

ڈپٹی صاحب: میں نے بہت مشکل سے تمہارے ساتھ چند باتیں کرنے کی فرصت نکالی۔ یوں کہو کہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ تم بھی گھر میں موجود ہو اور مجھے بھی ایک آدھ گھنٹے تک کوئی کام نہیں۔۔۔بات یہ ہے‘کہ تمہاری ماں نے تمہاری شادی کی بات چیت پکی کر دی ہے لڑکی حمیدہ ہے جس کو تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تمہاری کلاس فیلو ہے اور میں نے سُنا ہے کہ تم دل ہی دل میں اس سے ذرا ۔۔۔محبت بھی کرتے ہو چلو اچھا ہوا۔۔۔ اب تمہیں اور کیا چاہیئے۔۔۔ امتحان پاس کرو اور دلہن کو لے آؤ۔

خالد: پر ابا جی میں نے تو یہ سُن رکھا تھا کہ حمیدہ کی شادی مسٹر بشیر سے ہو گی جو پچھلے برس ولایت سے ڈاکٹری امتحان پاس کر کے آئے ہیں۔

ڈپٹی صاحب: شادی اس سے ہونے والی تھی مگر حمیدہ کے والدین کو جب معلوم ہوا کہ وہ شرابی اور آوارہ مزاج ہے تو انہوں نے یہ خیال موقوف کر دیا لیکن تمہیں ان باتوں سے کیا تعلق۔۔۔ حمیدہ تمہاری ہو رہی ہے۔

ہورہی ہے کیا‘ہو چکی ہے!

خالد : حمیدہ راضی ہے کیا؟

ڈپٹی صاحب: ارے وہ راضی کیوں نہ ہو گی؟ جب ڈپٹی ظہور احمد کے بیٹے خالد کی شادی کا سوال ہو‘تو اس میں رضا مندی کی ضرورت ہی کیا ہے۔

خالد: مجھے بنا رہے ہیں آپ؟

ڈپٹی صاحب: چلو ہٹاؤ‘اب اس قصے کو‘مجھے اور بہت سے کام کرنا ہیں۔۔۔۔اچھا تو میں چلا۔۔۔ پر اک اور بات بھی تو مجھے تم سے کرنا تھی۔ تمہاری ماں نے ایک لمبی چوڑی فہرست بنا کر دی تھی۔۔۔ہاں یاد آیا۔۔۔دیکھو بھئی نکاح کی رسم پرسوں یعنی اتوار کو ادا ہو گی۔ اس لیئے کہ حمیدہ کا باپ حج کو جانے سے پہلے اس فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہتا ہے۔۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے‘ایسا ہی ہونا چاہیئے اور جب تمہاری ماں کہہ دے تو پھر اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں رہتی۔۔۔ میں نے ان لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ ہم سب تیارہیں۔ تمہیں جن لوگوں کو(Invite) کرنا ہو گا کر لینا مجھے اس دردسری میں مبتلا نہ کرنا بھئی‘میں بہت مصروف آدمی ہوں۔

خالد: بہت اچھا ابا جی!

ڈپٹی صاحب: ہاں ایک بات اور۔۔۔ ممکن ہے کہ میں تم سے کہنا بھول جاؤں اس لیئے ابھی سے کان کھول کر سُن لو۔۔۔(راز دارانہ لہجے میں)شادی کے بعد اپنی بیوی کو سر پر نہ چڑھا لینا۔ورنہ یاد رکھو بڑی آفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اپنی ماں کی طرف دیکھ لو‘ کس طرح مجھے نکیل ڈالے رکھتی ہے۔

خالد: (ہنستا ہے)۔۔۔نصیحت کا شکریہ!

ڈپٹی صاحب: شکریہ وکریہ کچھ نہیں۔ تم سے جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا خیال رکھنا اور بس۔۔۔تو میں چلا۔۔۔ نکاح کے ایک روز پہلے مجھے یاد دلا دینا۔۔۔تاکہ میں کہیں اور نہ چلا جاؤں۔

خالد: بہت اچھا ابا جی!

(دروازہ بند کرنے کی آواز)

خالد: (ہولے ہولے گویا گہری فکر میں غرق ہے)بہت اچھا ابا جی۔۔۔بہت اچھا ابا جی۔۔۔میں نے کتنی جلدی کہہ دیا کہ بہت اچھا ابا جی۔۔۔بہت اچھا۔۔۔جو کچھ کہا ہوا ہے۔۔۔اب اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے۔۔۔ نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑتی رہیں گی۔ باغیچوں میں پتیاں خوشی سے تھرتھراتی رہیں گی اور یہ دل ہمیشہ کے لیئے اجڑ جائے گا۔۔۔اُجڑ جائے گا!!!

(تیسرے روز کالج میں پرنسپل کا دفتر)

(گھنٹی بجائی جاتی ہے پھر دروازہ کھولا جاتا ہے)

چپڑاسی: جی حضور!

پرنسپل: خالد کو اندر بھیج دو۔

چپڑاسی: بہت اچھا حضور!

(دروازہ کھولنے اور بند ہونے کی آواز‘پھر خالد کے آنے کی آواز)

پرنسپل: (کھانستا ہے) تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟

(خالد خاموش رہتا ہے)

پرنسپل: (بارعب لہجے میں)تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟

خالد: کچھ نہیں۔ میرا دل کوڑے کرکٹ سے صاف ہے۔

پرنسپل: تم گستاخ بھی ہو گئے ہو؟

خالد: کالج میں اگر کوئی گئی گستاخ لڑکا نہ ہو تو پرنسپل اپنی قوتوں سے بے خبر رہتا ہے اگر اس کمرے کو جس میں آپ رہتے ہیں ترازو فرض کرالیا جائے تو میں اس ترازو کی وہ سُوئی ہوں جو وزن بتاتی ہے۔

پرنسپل: تم مجھے اپنی اس بیہودہ منطق سے مرعوب نہیں کرسکتے۔

خالد: یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔

پرنسپل: (زور سے) تم خاک بھی نہیں جانتے۔

خالد: آپ بجا فرما رہے ہیں۔

پرنسپل: میں بجا نہیں فرما رہا۔ اگر میرا فرمانا بجا ہوتا۔ تو کل تم ایسی بیہودہ حرکت کبھی نہ کرتے، جس نے تمہیں سب لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل کر دیا ہے۔ اب تم میں اور ایک بازاری غنڈے میں کیا فرق رہا ہے۔

خالد: آپ سے عرض کروں؟

پرنسپل: کرو‘کرو‘ کیا عرض کرنا چاہتے ہو۔ میں تمہاری یہ نئی منطق بھی سُن لوں!

خالد: بازاری گنڈا چوک میں کھڑا ہو کر جو اس کے دل میں آئے کہہ سکتا ہے مگر میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ مجھ میں اتنی قوت نہیں ہے کہ اپنے دل کا تالا کھول سکوں جو تہذیب آج سے بہت عرصہ پہلے لگا چکی ہے۔بازاری غنڈا مجھ سے ہزار درجے بہتر ہے۔

پرنسپل: جو تھوڑا بہت تم میں اور اس میں باقی رہ گیا ہے اب پورا کر لو۔۔۔ میں تمہیں اپنے کالج سے باہر نکال رہا ہوں۔

خالد: مگر۔۔۔

پرنسپل: مگر وگر کچھ نہیں۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں میرے کالج میں ایسا لڑکا ہرگز نہیں رہ سکتا۔۔۔ جو بدچلن ہو‘آوارہ ہو‘کالج میں شراب پی کر آنا ایسا جُرم نہیں کہ سزا دئیے بغیر تمہیں چھوڑ دیا جائے۔

خالد: اپنے آپ پر دوبارہ غور فرمائیے۔ اتنی جلدی نہ کیجئے۔۔۔آپ مجھے اپنا کالج سے ہمیشہ کے لیئے باہر نہیں نکال سکتے۔

پرنسپل: (غصے میں)کیا کہا؟

خالد: میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے اپنے کالج سے کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔۔۔ آپ کو۔۔۔آپ کو۔۔۔ میرے چلے جانے سے کیا آپ کو نقصان ہو گا؟

پرنسپل: نقصان؟تمہارے چلے جانے سے مجھے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔تم جیسے دو درجن لڑکے میرے کالج سے چلے جائیں۔ خس کم جہاں پاک!

خالد: آپ میرا مطلب نہیں سمجھے پرنسپل صاحب! مجھے افسوس ہے کہ اب مجھے خودستائی سے کام لینا پڑے گا آپ کے سامنے یہ کالا بورڈ جو لٹک رہا ہے اس پر سب سے اوپر کس کا نام لکھا ہے۔ آپ بتانے کی تکلیف گوارانہ کیجئے۔ یہ اسی آوارہ اور بد چلن کا نام لکھا ہے‘ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی اے میں وہ صوبے بھر میں اوّل رہا۔ اس بورڈ کے ساتھ ہی ایک اور بورڈ لٹک رہا ہے جو آپ کو بتا سکتا ہے کہ ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کا ہوشیار سے ہوشیار طالب علم بھی آپ کے کالج کی بھیڑ خالد کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ تقریر میں اس نے تین سال تک کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ آپ کے پیچھے ایک اور تختہ لٹک رہا ہے اگر آپ کبھی اس پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ خالد جب سے آپ کی ہاکی ٹیم کا کپتان بنا ہے شکست ناممکن ہو گئی ہے۔فٹ بال کی ٹیم میں مجھ سے بہتر گول کیپر آپ کہاں تلاش کریں گے؟ اخبار لکھتے ہیں کہ میں لوہے کا مضبوط جال ہوں سیسہ پلائی دیوار ہوں۔۔۔اور پچھلے برس میچ میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا تو آپ کو بچانے کے لیئے کس نے آگے بڑھ کر ڈھال کا کام دیا تھا اس خاکسار نے۔ آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کیجئے۔

پرنسپل: کیا اب احسان جتلا کر تم مجھے رشوت دینے کی کوشش کر رہے ہو۔

خالد: پرنسپل صاحب آج کل دنیا کے سارے دھندے اسی طرح چلتے ہیں‘بچہ جب روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں مگر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ پڑوس میں اگر بن ماں کا یتیم بچہ رونا شروع کر دے تو میری ماں دودھ کی بوتل لے کر اُدھر کبھی نہیں دوڑے گی۔۔۔ آپ نے آج تک مجھ پر اتنی مہربانیاں کی ہیں تو محض اس لیئے کہ مجھ میں خوبیاں تھیں اور آپ مجھے پسند کرتے تھے اور میں نے اس روز آپ کو اس لیئے بچایا تھا کہ وہ میرا فرض تھا۔ میں آپ کو رشوت نہیں دے رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سزا دے کر رہیں گے۔ میں خود سزا چاہتا ہوں۔ مگر کڑی نہیں۔۔۔رشوت تو وہاں دی جاتی جہاں بالکل اجنبیت ہو۔

پرنسپل: تم تقریر کرنا خوب جانتے ہو۔

خالد: (ہنس کر) یہ کالا بورڈ بھی جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے یہی کہتا ہے۔

پرنسپل: خالد۔۔۔میں حیران ہوں کہ تم نے کالج میں شراب پی کر اُودھم کیوں مچایا۔۔۔تم شریر ضرور تھے‘مگر مجھے معلوم نہ تھا۔ تم شراب بھی پیتے ہو۔۔۔تمہارے کیریکٹر کے بارے میں مجھے کوئی شکایت نہ تھی۔ ‘مگر کل کے واقعہ نے تمہیں بہت پیچھے ہٹا دیا ہے۔

خالد: جب کھائی پھاندنا ہو تو ہمیشہ دس بیس قدم پیچھے ہٹ کر کوشش کی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک گہری کھائی پھاندنے کی کوشش کی ہو۔

پرنسپل: مجھے افسوس ہے کہ تم اس کوشش میں اوندھے مُنہ اس گہری کھائی میں گر پڑے ہو۔

خالد: ایسا ہی ہو گا۔ مگر مجھے افسوس نہیں۔

پرنسپل: تو اب تم کیا چاہتے ہو؟

خالد: میں کیا چاہتا ہوں؟۔۔۔کاش کہ میں کچھ چاہ سکتا۔۔۔ آپ سے میری صرف یہ گزارش ہے کہ سزادیتے وقت پرانے خالد کو یاد رکھیے۔بس!

پرنسپل: تمہیں ایک سال کے لیئے کالج سے خارج کر دینے کا حکم میں لکھ چکا ہوں یہ سزا تمہاری ذلیل حرکت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس لیئے تم معلوم کر سکتے ہو کہ پرانے خالد کو میں نے ابھی تک دل سے محو نہیں کیا۔

خالد: میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ ایک سال کے بعد خالد پھر آپ کے پاس آئے گا۔ تو وہ پرانا ہی گا۔

پرنسپل: اب تم چُپ چاپ یہاں سے چلے جاؤ اور دیکھو۔اس غم کو دُور کرنے کے لیئے کہیں شراب خانے کا رُخ نہ کرنا۔

خالد: (ایک بار جو میں نے پی ہے۔ وہی عُمر بھر کے لیئے کافی ہے آپ بے فکر رہیں)

(دروازہ کھلنے اور بند کرنے کی آواز)

(دروازہ بند کرنے کے ساتھ ہی دس پندرہ لڑکوں کی آوازوں کا شور پیدا کیا جائے یہ لڑکے خالد سے طرح طرح کے سوال پوچھیں۔)

۱۔کیوں خالد کیا ہوا؟

۲۔ سال بھر کے لیئےEXPEL کر دئیے گے۔

۳۔ پر میں پوچھتا ہوں۔ شراب پی کر تمہیں کالج میں آکر اُودھم مچانا تھا؟

۴۔ تم نے سخت غلطی کی شراب تو میں بھی پیتا ہوں مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

۴۔ کیا جانے اس کے سر پر کیا وحشت سوار ہوئی۔

۶۔ پہلی دفعہ پی اور بُری طرح پکڑے گئے میرے یار!

۷۔ اب کیا ہو گیا؟

خالد: (تنگ آکر) بکواس نہ کرو۔ جو کچھ ہو چکا ہے تمہارے سامنے ہے جو کچھ ہو گا وہ بھی تم دیکھ لو گے۔ دنیا کی نگاہوں سے کوئی چیز پوشیدہ بھی رہی ہے؟

(کالج کے گھنٹے کی آواز ٹن ٹن ٹن ٹن)

خالد: جاؤ جاؤ اپنی کلاس ATTENDکرو۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو

(چند لمحات کے بعد خاموشی طاری ہو جاتی ہے)

خالد: بڑے بڑے معرکہ خیز میچوں میں حصہ لیا ہے بڑی بڑی چوٹیں کھائی ہیں مگر یہ تھکن جو اس وقت محسوس ہو رہی ہے آج تک کبھی طاری نہیں ہوئی۔ باغیچے کی اس جھاڑی کے پاس حمیدہ نے میرے دل کے ٹکڑے کیئے تھے۔ اب یہیں تھوڑی دیر بیٹھ کر ان کو جوڑتا ہوں۔۔۔ دل ٹوٹا ہوا ہو مگر پہلو میں ضرور ہونا چاہیئے۔۔۔اس کے بغیر زندگی فضول ہے۔۔۔

(وقفہ)

۔۔۔اس وقت مجھے کسی ہمدرد کی کتنی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔مگر۔۔۔

گیت

کون کسی کا میت منوا۔۔۔کون کسی کا میت!

راگ سبھا ہے دنیا ساری۔۔۔جیون دُکھ کا گیت

منوا کون کسی کا میت

رام بھر وسے کھینے والے۔۔۔نیاّکو منجدھار

اپنے ہاتھوں آپ ڈبو دے۔۔۔کیوں ڈھونڈے پتوار

ڈبو دی۔۔۔اپنے ہاتھوں سے آپ ڈبو دی۔۔۔

حمیدہ: خالد صاحب

(خالد خاموش رہتا ہے)

حمیدہ: (ذرا بلند آواز سے)خالد صاحب۔

خالد: (چونک کر )کیا ہے؟۔۔۔اوہ!حمیدہ تم ہو۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔ شاید گا رہا تھا۔

حمیدہ: میں سُن رہی تھی۔

خالد: سُن رہی تھیں۔۔۔کیا سچ مچ؟۔۔۔ تو معلوم ہو گیا نا تمہیں کہ میں کتنا بے سُرا ہوں ۔۔۔ اور یہ گیت جو میں گا رہا تھا کتنا اُوٹ پٹانگ تھا۔۔۔ہاں تو ۔۔۔کیا تمہیں کسی بات کے بارے میں کچھ پوچھنا ہے؟

حمیدہ: میں یہ پوچھنے آئی ہوں کہ کل آپ نے میری غیر حاضری میں کیا کیا؟

خالد: اوہ ۔۔۔ تم کل کی بات پوچھ رہی ہو۔ مگر وہ جو کل کی بات ہو چکی۔۔۔ اس کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گی؟

حمیدہ: کیا آپ نے سچ مچ کل شراب پی کر یہاں شوروغل مچایا؟

خالد: یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟

حمید: مجھے یقین نہیں آتا

خالد: کہ میں نے تمہارے کہے پر عمل کیا ہو گا؟

حمیدہ: (حیرت سے)میرے کہے پر؟۔۔۔میں نے آپ سے شراب پینے کو کبھی نہیں کہا۔

خالد: تو کیا زہر پینے کو کہا تھا؟

حمیدہ: اور اگر میں نے کہا ہوتا تو؟

خالد: میں کبھی نہ پیتا۔

حمیدہ: کیوں؟

خالد: اس لیئے کہ میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر میں اس محبت کی شکست پر اس کو ہلاک کرنے کے لیئے تیار نہیں۔ پرانے دل عاشقوں کا فلسفہ میری نگاہوں میں فرسودہ ہو چکا ہے جب تک میں زندہ رہ سکوں گا تمہاری محبت اپنے میں دبائے رہوں گا۔۔۔تم میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تو میرے زخم ہمیشہ ہرے رہیں گے۔۔۔ جب ایک روگ اپنی زندگی کو لگایا ہے تو کیوں نہ وہ عمر بھر تک ساتھ رہے۔۔۔۔تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی محبت کا گلا گھونٹ دُوں۔

حمیدہ: تو آپ نے صرف میری محبت کی خاطر اپنے آپ کو رسوا کیا؟

خالد: ظاہر ہے۔

حمیدہ: لیکن کیا آپ کو اس رسوائی کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آیا؟

خالد: کئی راستے تھے لیکن مجھے یہی اچھا نظر آیا۔۔۔تم خود دیکھ لو گی کہ ہینگ پھٹکڑی لگے بغیر رنگ چوکھا آئے گا۔۔۔آج شام ہی کو جب تمہارے گھر میرے کالج سے نکال دینے کی خبر پہنچے گی تو تمہارا وہ کام فوراً ہو جائے گا۔ جس کے لیئے تم نے مجھ سے امداد طلب کی تھی۔ نہ میں نے اپنے والدین کی عدل حکمی کی اور نہ تمہیں اپنے ماں باپ کو ناراض کرنے کا موقع ملا۔ بتاؤ کیا میں نے غلط راستہ منتخب کیا۔

حمیدہ: لیکن یہ بد نامی یہ رسوائی جو آپ نے مول لی؟

خالد: مجھے اب شادی نہیں کرنا ہے۔۔۔ جو یہ رسوائی اور بد نامی میرے حق میں غیر مفید ہو گی۔

حمیدہ: اور اگر آپ کو شادی کرنی پڑی تو؟

خالد: پاگل ہو گئی ہو۔۔۔جب تم ایسے مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہو جس سے تم محبت نہیں کر سکتیں تو میں کیونکر ایسی عورت سے شادی کر سکتا ہوں جس سے میں محبت نہیں کرتا؟

حمیدہ: ممکن ہے آپ کو کسی سے محبت ہو جائے!

خالد: یہ ناممکن ہے جس طرح تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی اسی طرح میرے دل میں اور کسی کی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔۔۔مگر اس گفتگو سے کیا فائدہ۔۔۔میری رُوح کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے۔

حمیدہ: آپ نے کیسے کہہ دیا کہ میرے دل میں محبت پیدا نہیں ہو سکتی؟

خالد: میں نے یہ کہا تھا کہ تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی ؟

حمیدہ: اگر ہو جائے؟

خالد: (حیرت زدہ ہو کر)یعنی کیا؟

حمیدہ: میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو جائے۔۔۔ایکا ایکی مجھے ایسا محسوس ہونے لگے کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا۔

خالد: اپنے دل سے پوچھو۔

حمیدہ: ایسی بات پوچھی نہیں جاتی اپنے آپ کو معلوم ہو جایا کرتی ہے۔۔۔ پڑوسی کے مکان میں اگر آگ لگ جائے تو کیا آپ دوڑے ہوئے اسی کے پاس جا کر پوچھیں گے کیوں صاحب!کیا واقعی آپ کا مکان جل رہا ہے؟

خالد: میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔

حمیدہ: میں ٹھیک سمجھا نہیں سکتی۔ پراب سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہی کیا ہے جو کچھ آپ چاہتے تھے اور جس کے متعلق مجھے وہم وگمان بھی نہ تھا۔ آج ایکا ایکی ہو گیا ہے۔

خالد: کیا ہوگیا ہے؟

حمیدہ: میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گئی ہے۔۔۔اتوار کو ہمارا نکاح ہو رہا ہے۔

خالد: محبت؟میں۔۔۔تم۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔نکاح۔۔۔کیسے؟

حمیدہ: مجھے آپ سے شادی کرنا منظور ہے۔ جب گھر میں آپ کے کالج سے نکال دئیے جانے کی بات شروع ہو گی‘ تو میں سارا واقعہ بیان کر دُوں گی۔۔۔۔ اس طرح کوئی بدگمانی پیدانہ ہو گی۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ کا ایک برس ضائع ہو گیا۔

خالد: ایک برس ضائع ہو گیا۔۔۔ میں تمہیں اپنا بنانے کے لیئے اپنی زندگی کے سارے برس۔۔۔پر میں کیا سُن رہا ہوں۔

حمیدہ: میں اب جاتی ہوں۔ مجھے پرنسپل صاحبہ سے مل کر یہ کہنا ہے کہ میں اس سال امتحان میں شریک نہیں ہو رہی۔ اگلے برس ہم اکٹھے امتحان دیں گے۔

(چند لمحات خاموشی طاری رہتی ہے)

خالد: نیلے آسمان میں ابابیلیں اُڑ رہی ہیں۔ اس باغیچے کی پتّی پتّی خوشی سے تھر تھرارہی ہے اور میں کس قدر حیرت زدہ ہوں۔۔۔کس قدر حیرت زدہ ہوں۔

فیڈ آؤٹ

مأخذ : کتاب : کروٹ اشاعت : 1946

مصنف:سعادت حسن منٹو

مزید ڈرامے پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here