- Advertisement -
Home شاعری ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

0
289
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

حوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہے

بپھری موجوں سے الجھنے کا سلیقہ ہے اگر

یہ سمندر کبھی پایاب بھی ہو سکتا ہے

عمر تپتے ہوئے صحرا میں بسر کی جس نے

- Advertisement -

تو سرابوں سے وہ سیراب بھی ہو سکتا ہے

آپ دریا کی روانی سے نہ الجھیں ہرگز

تہہ میں اس کے کوئی گرداب بھی ہو سکتا ہے

لاکھ موتی ہی سہی وقت کی گردش میں کبھی

قیمتی کتنا ہو بے آب بھی ہو سکتا ہے

جس کو مجبور ہوا ہے تو کھرچنے پہ ظفرؔ

تیری آنکھوں کا حسیں خواب بھی ہو سکتا ہے

شاعر:ظفر محمود ظفر

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

ٹیکسٹ کو کاپی نہیں کر سکتے۔