- Advertisement -
Home شاعری چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

0
308
Romantic Poetry in Urdu
- Advertisement -

چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے

خموش لب ہے جو دریا تو خیر ہے سب کی

بگڑ گیا تو وہ بستی نگل بھی سکتا ہے

چلو اے تشنہ لبو ہم اٹھائیں دست دعا

- Advertisement -

کہ آسمان دعا سے پگھل بھی سکتا ہے

مناؤ جشن مکمل بہار آنے پر

ابھی نیا سا ہے موسم بدل بھی سکتا ہے

وہ پھول جیسا بدن چاندنی سے ہے ڈرتا

کہ چاندنی میں بدن اس کا جل بھی سکتا ہے

تمہیں تو شوق ہے پھولوں کے ساتھ رہنے کا

ہمارا عزم جو کانٹوں پہ چل بھی سکتا ہے

ہے آسماں کی بلندی میں گھر ظفرؔ جس کا

زمیں کی حد سے وہ باہر نکل بھی سکتا ہے

مأخذ : کتاب : خموش لب (Pg. 76) Author : ظفر محمود مطبع : عرشیہ پبلی کیشنز دہلی۔95 (2019)

شاعر:ظفر محمود ظفر

مزید غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

ٹیکسٹ کو کاپی نہیں کر سکتے۔